گھر سے بھاگ کر شادی: محبت، آزادی اور ذمہ داری کا سوال

شادی انسان کی زندگی کا ایک اہم فیصلہ ہے۔ اس سے صرف دو افراد کی زندگی نہیں بدلتی، بلکہ دو خاندانوں کے تعلقات، معاشرتی روابط اور آنے والی نسلوں کی تربیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے شادی کے معاملے میں جذبات کے ساتھ عقل، پسند کے ساتھ ذمہ داری اور آزادی کے ساتھ اخلاقی حدود کو بھی اہمیت حاصل ہے۔

ہمارے معاشرے میں جب کوئی نوجوان اپنی پسند کی شادی کے لیے گھر چھوڑ دیتا ہے تو عموماً دو طرح کے ردِعمل سامنے آتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے محبت اور آزادی کی کامیابی سمجھتے ہیں، جب کہ بعض اسے والدین کی نافرمانی اور خاندانی عزت کی پامالی قرار دیتے ہیں۔ دونوں رویّوں میں اس وقت خرابی پیدا ہوتی ہے جب کسی ایک پہلو کو پورے معاملے کا فیصلہ سمجھ لیا جائے۔

سب سے پہلے تین باتوں میں فرق سمجھنا ضروری ہے: اپنی پسند کا رشتہ منتخب کرنا، والدین کی مرضی کے خلاف نکاح کرنا اور شادی کے لیے گھر سے بھاگ جانا۔ یہ تینوں صورتیں ایک نہیں۔ اپنی پسند کا رشتہ اختیار کرنے والا شخص ضروری نہیں کہ گھر سے بھاگے، اور گھر چھوڑنے والے ہر شخص کے حالات بھی یکساں نہیں ہوتے۔ کہیں وقتی جذبات فیصلہ کرتے ہیں، کہیں والدین کا غیر مناسب رویہ، اور کہیں جبر یا تشدد کا خوف بھی اس کا سبب بن سکتا ہے۔

اس لیے اس مسئلے کا منصفانہ جائزہ لینے کے لیے نہ نوجوانوں کو پہلے ہی قصوروار ٹھہرانا درست ہے، نہ والدین کے ہر فیصلے کو درست مان لینا، اور نہ محبت کو ہر اقدام کا کافی جواز سمجھنا۔

۱۔ محبت اور جذبات: کیا پسند ہی کافی ہے؟

نوجوانی میں اپنی پسند، شناخت اور مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی خواہش پیدا ہونا فطری بات ہے۔ کسی شخص کی طرف قلبی میلان بھی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ لیکن کسی کو پسند کرنا اور اس کے ساتھ کامیاب ازدواجی زندگی گزار سکنا دو الگ باتیں ہیں۔

محبت کے ابتدائی دور میں انسان دوسرے شخص کی گفتگو، توجہ، ظاہری کشش اور اچھے رویے سے بہت متاثر ہو سکتا ہے۔ کبھی وہ اس کی خامیوں کو نظرانداز کرتا ہے، کبھی مستقبل کے مسائل پر غور نہیں کرتا، اور کبھی یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ موجودہ جذبات ہمیشہ اسی شدت سے قائم رہیں گے۔ حالاں کہ ازدواجی زندگی میں صرف خوش گوار ملاقاتیں نہیں ہوتیں؛ اختلاف، بیماری، مالی پریشانی، گھریلو ذمہ داریاں اور بچوں کی تربیت بھی اس کا حصہ ہیں۔

شریکِ حیات کے انتخاب میں ظاہری حسن اور جسمانی کشش کو بالکل بے اہمیت قرار دینا بھی حقیقت پسندانہ نہیں۔ البتہ حسن کے ساتھ کردار، دیانت، مزاج، ذمہ داری اور اختلاف برداشت کرنے کی صلاحیت کو دیکھنا ضروری ہے۔ جو شخص محبت کے اظہار میں بہت پرجوش ہو، ضروری نہیں کہ وہ غصے، اختلاف اور مشکلات کے وقت بھی اتنا ہی ذمہ دار ثابت ہو۔

اسی طرح محبت کے نام پر کسی کو دھمکانا، بلیک میل کرنا، خود کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا یا یہ مطالبہ کرنا کہ وہ ہر حال میں خاندان سے تعلق توڑ دے، صحت مند محبت کی علامت نہیں۔ محبت میں دوسرے شخص کی عزت اور آزادی کا احترام بھی شامل ہے۔

لہٰذا نوجوانوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کا فیصلہ محض وقتی جذبات کا نتیجہ تو نہیں، اور والدین کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ اولاد کے جذبات کو حقارت سے رد کرنے کے بجائے سننا اور سمجھنا زیادہ مفید ہے۔

۲۔ خاندان کا ماحول اور نوجوانوں کی فیصلہ سازی

اولاد کی تربیت کا اثر شادی کے فیصلے کے وقت اچانک ظاہر نہیں ہوتا؛ اس کی بنیاد بچپن ہی سے پڑتی ہے۔ جس گھر میں بچوں کی بات سنی جاتی ہو، انہیں عمر کے مطابق ذمہ داری دی جاتی ہو اور اختلاف کی صورت میں تحقیر کے بجائے گفتگو کی جاتی ہو، وہاں مسائل بیان کرنے اور مشورہ لینے کے مواقع نسبتاً بہتر ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر ہر سوال کو گستاخی، ہر اختلاف کو نافرمانی اور ہر ذاتی رائے کو والدین کی توہین سمجھا جائے تو بعض نوجوان اپنی بات چھپانے لگتے ہیں۔ پھر وہ اپنے مسائل ایسے دوستوں یا افراد کے سامنے رکھتے ہیں جن کے تجربے، نیت اور مشورے کی صحت کا اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں ایک تحقیقی مطالعہ قابلِ ذکر ہے۔ جیکب براؤن اور لیون مان نے 1990ء میں آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں 12 سے 18 سال کی عمر کے 585 نوجوانوں کا مطالعہ کیا۔ تحقیق میں خاندانی ہم آہنگی، والدین اور اولاد کے درمیان بہتر گفتگو اور اختلاف حل کرنے کی صلاحیت کا نوجوانوں کی محتاط فیصلہ سازی سے تعلق سامنے آیا۔ اس تحقیق کا موضوع گھر سے بھاگ کر شادی کرنا نہیں تھا، لیکن اس سے یہ بات سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ خاندانی ماحول نوجوانوں کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

والدین کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اولاد کی ہر خواہش قبول کرنا ضروری نہیں، مگر ہر خواہش کو سنے بغیر رد کر دینا بھی دانش مندی نہیں۔ اگر کسی رشتے پر اعتراض ہے تو اس کی وجہ واضح ہونی چاہیے۔ کردار، بددیانتی، تشدد، نشے یا ذمہ داری سے فرار جیسے قابلِ تصدیق مسائل ایک نوعیت کے اعتراضات ہیں، جب کہ محض ذات، برادری، زبان یا لوگوں کی رائے کی بنیاد پر کسی کو مسترد کرنا دوسری نوعیت کا معاملہ ہے۔

اولاد کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ والدین کے تجربے اور خدشات کو یکسر نظرانداز نہ کرے۔ خود مختاری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دوسروں کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چھوڑ دے۔

۳۔ معاشرتی دباؤ، خاندانی عزت اور حقیقی مسائل

ہمارے معاشرے میں شادی کے فیصلوں پر خاندان، برادری، معاشی حیثیت اور لوگوں کی رائے کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ بعض اوقات والدین مناسب رشتے کو صرف اس لیے قبول نہیں کرتے کہ خاندان کا سماجی مرتبہ متاثر ہوگا یا رشتہ دار ناراض ہوں گے۔ اس طرح اصل سوال، یعنی متعلقہ افراد کے کردار، رضامندی اور مستقبل کی مناسبت، پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

خاندانی عزت یقیناً اہم ہے، لیکن عزت کا معیار صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ عزت کا تعلق دیانت، انصاف، کردار اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت سے بھی ہے۔

دوسری طرف نوجوانوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ان کے فیصلے سے خاندان کے دوسرے افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ والدین کی پریشانی، بہن بھائیوں کے تعلقات اور باہمی اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے اختلاف کے باوجود ایسا راستہ تلاش کرنا بہتر ہے جس سے ممکن حد تک رشتے محفوظ رہیں۔

سندھ میں کم عمری کی شادی سے متعلق 2023ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں نوجوانوں کی شادی کے فیصلوں، بڑوں کے اختیار اور لڑکیوں کے محدود فیصلہ سازی کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں 26 انفرادی انٹرویوز اور 12 گروپ مباحثوں سے مواد حاصل کیا گیا۔ اس کا موضوع کم عمری کی شادی تھا، نہ کہ بالغ افراد کی پسند کی شادی یا گھر سے بھاگنے کے تمام واقعات؛ اس لیے اس کے نتائج کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔

یہ مطالعہ اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ بعض معاشرتی حالات میں نوجوانوں، خصوصاً لڑکیوں، کی رائے کو مناسب اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس کا حل خاندان کو غیر اہم قرار دینا نہیں، بلکہ خاندانی مشاورت میں اولاد کی آواز کو بھی جگہ دینا ہے۔

۴۔ شادی کی عملی حقیقت: تعلیم، صحت اور معاشی ذمہ داریاں

شادی کے فیصلے میں جذبات کے ساتھ زندگی کے عملی تقاضوں پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔ رہائش، خوراک، لباس، علاج، تعلیم، روزگار اور روزمرہ کے اخراجات ازدواجی زندگی کا حصہ ہیں۔ اگر بچے پیدا ہوں تو ان کی نگہداشت اور تربیت کی ذمہ داریاں بھی سامنے آتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف امیر یا اپنا مکان رکھنے والے افراد کو شادی کرنی چاہیے۔ محدود آمدنی کے باوجود بہت سے خاندان محنت، قناعت اور باہمی تعاون سے اچھی زندگی گزارتے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ دونوں افراد اپنی مالی حالت کو سمجھتے ہوں اور مستقبل کے بارے میں حقیقت پسندانہ منصوبہ رکھتے ہوں۔

گھر سے اچانک نکل کر شادی کرنے والے نوجوانوں کو بعض اوقات رہائش، آمدنی اور تعلیم جاری رکھنے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ پہلے والدین پر مکمل انحصار کرتے رہے ہوں تو خاندان سے تعلقات خراب ہونے کے بعد مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے شادی سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ رہائش کہاں ہوگی، اخراجات کیسے پورے ہوں گے اور تعلیم یا ملازمت کا سلسلہ کس طرح جاری رکھا جائے گا۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ۔

ترجمہ: ’’اور تم میں سے جو بے نکاح ہوں ان کے نکاح کر دو، اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کے بھی۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔‘‘ (النور، 24:32)

یہ آیت غربت کو شادی کی راہ میں مطلق رکاوٹ بنانے کی حوصلہ شکنی کرتی ہے، لیکن اسے معاشی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہونے کا جواز بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ توکل کے ساتھ مناسب تدبیر اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔

جسمانی صحت، ذہنی سکون اور باہمی مناسبت بھی ازدواجی زندگی میں اہم ہیں۔ بیماری یا معذوری کسی انسان کی قدر کم نہیں کرتی اور نہ اسے شادی کے قابل ہونے یا نہ ہونے کا واحد معیار بنایا جا سکتا ہے۔ البتہ متعلقہ افراد کے لیے ضروری ہے کہ جہاں صحت سے متعلق امور مستقبل کی زندگی پر اثر انداز ہو سکتے ہوں، وہاں دیانت داری سے گفتگو کریں اور ضرورت کے مطابق طبی مشورہ لیں۔

۵۔ نکاح میں رضامندی اور والدین کا احترام: دینی رہنمائی

اسلام میں نکاح ایک سنجیدہ عہد ہے جس کے ساتھ حقوق اور ذمہ داریاں وابستہ ہیں۔ قرآن مجید ازدواجی زندگی کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً۔

ترجمہ: ’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔‘‘ (الروم، 30:21)

اس آیت میں ازدواجی تعلق کے تین اہم پہلو سامنے آتے ہیں: سکون، محبت اور رحمت۔ نکاح محض ایک خواہش پوری کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی زندگی کی بنیاد ہے جس میں دونوں افراد ایک دوسرے کے لیے سکون اور رحمت کا ذریعہ بنیں۔

نکاح میں رضامندی: حضرت خنساء بنت خِذامؓ کا واقعہ

صحیح بخاری میں حضرت خنساء بنت خِذام انصاریہؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا، لیکن وہ اس نکاح کو ناپسند کرتی تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے رجوع کیا تو آپ ﷺ نے اس نکاح کو رد فرما دیا۔

أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَرَدَّ نِكَاحَهَا۔

حوالہ: صحیح البخاری، کتاب النکاح، حدیث 5138۔

یہ واقعہ نکاح میں عورت کی رضامندی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ والدین کی خیر خواہی کا مطلب یہ نہیں کہ اولاد کی رضامندی کو نظرانداز کر دیا جائے۔ تاہم اس روایت کو گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کے ہر طریقے کی تائید سمجھنا درست نہیں؛ اس کا تعلق ناپسندیدہ نکاح کے مخصوص معاملے سے ہے۔

محبت اور اختیار: حضرت بریرہؓ اور حضرت مغیثؓ کا واقعہ

صحیح بخاری میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت بریرہؓ کے شوہر حضرت مغیثؓ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ وہ ان کے پیچھے روتے ہوئے پھرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بریرہؓ سے ان کے پاس واپس جانے کی سفارش فرمائی۔ جب انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ حکم ہے تو آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ یہ صرف سفارش ہے۔ حضرت بریرہؓ نے واپسی قبول نہیں کی۔

حوالہ: صحیح البخاری، کتاب الطلاق، حدیث 5283۔

اس واقعے سے محبت اور رضامندی کے فرق کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ کسی شخص کی شدید محبت، بے قراری یا رونا دوسرے شخص کی رضامندی کا متبادل نہیں بن سکتا۔ البتہ یہ واقعہ نکاح کے بعد حضرت بریرہؓ کے اختیار کے مخصوص سیاق سے متعلق ہے؛ اسے موجودہ دور کی پسند کی شادی کے تمام فقہی مسائل کا براہِ راست فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

والدین کی اطاعت اور اختلاف کی حدود

قرآن مجید والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کرتا ہے۔ سورۃ لقمان میں فرمایا گیا ہے کہ اگر والدین کسی ایسی بات پر مجبور کریں جو اللہ کی نافرمانی ہو تو ان کی اس بات میں اطاعت نہ کی جائے، لیکن دنیا میں ان کے ساتھ اچھا برتاؤ برقرار رکھا جائے۔ (لقمان، 31:14–15)

اس سے ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: والدین کا احترام اور ہر معاملے میں ان کی رائے سے اتفاق کرنا ایک ہی بات نہیں۔ اسی طرح اپنی رائے پر قائم رہنے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان والدین کی توہین کرے یا ان کے حقوق فراموش کر دے۔

یہاں ایک ضروری شرعی فرق بھی ملحوظ رہنا چاہیے۔ بالغ مرد اور عورت کے نکاح، ولی کے کردار، گواہوں اور نکاح کی دوسری شرائط کے بارے میں فقہی تفصیلات موجود ہیں۔ ان مسائل میں فقہی مذاہب کی آرا اور متعلقہ حالات کو سامنے رکھے بغیر کوئی عمومی جملہ تمام صورتوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ کسی مخصوص معاملے میں مستند عالم سے اس کی مکمل تفصیلات کے مطابق رہنمائی لینی چاہیے۔

۶۔ اخلاقی اور روحانی تربیت: آزادی کے ساتھ جواب دہی

انسان کی آزادی اہم ہے، لیکن آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے فیصلوں کے نتائج سے بے نیاز ہو جائے۔ نوجوان اگر اپنی پسند کا رشتہ اختیار کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس انتخاب کے تقاضے سمجھنے چاہییں۔ انہیں اپنی تعلیم، روزگار، رہائش، شریکِ حیات کے حقوق اور خاندان سے تعلقات کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔

اسی طرح والدین کو بھی اپنی ذمہ داری کو محض اختیار کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کا تجربہ اور خیر خواہی قیمتی ہیں، مگر ان سے فائدہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ اولاد کے حالات کو سمجھیں، اپنے اعتراضات کی معقول وجوہات بیان کریں اور محض خاندانی تعصب کی بنیاد پر فیصلہ نہ کریں۔

صبر کا مطلب ظلم کو خاموشی سے برداشت کرنا نہیں، اور توکل کا مطلب ضروری تدابیر اختیار کیے بغیر قدم اٹھا لینا بھی نہیں۔ اگر کسی نوجوان کو زبردستی شادی، تشدد یا جان کا حقیقی خطرہ ہو تو اس کی سلامتی کو مقدم رکھنا چاہیے اور قابلِ اعتماد افراد یا متعلقہ حفاظتی و قانونی اداروں سے مدد حاصل کرنی چاہیے۔

اس کے برعکس اگر اختلاف کی وجہ محض رائے کا فرق ہے اور کسی کی سلامتی کو خطرہ نہیں تو بات چیت، خاندان کے سمجھ دار افراد کی مدد اور غیر جانب دار ثالثی سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش بہتر ہے۔ کسی بھی فریق کو دھمکی، بلیک میلنگ یا جذباتی دباؤ کے ذریعے فیصلہ منوانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

۷۔ گھر سے بھاگ کر شادی کے بعد کیا ہونا چاہیے؟

اگر کوئی نوجوان گھر چھوڑ کر شادی کر چکا ہو تو اس کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ حالات کو مزید خراب ہونے سے کیسے بچایا جائے۔ ہر واقعے کا پس منظر الگ ہوتا ہے، اس لیے ہر معاملے کے لیے ایک ہی حل تجویز نہیں کیا جا سکتا۔

اگر نوجوانوں نے جلد بازی کی ہو تو انہیں اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور، جہاں محفوظ و مناسب ہو، والدین سے رابطہ بحال کرنے اور اعتماد دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ والدین کو بھی غصے، خاندانی دباؤ یا لوگوں کی باتوں میں آ کر ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے کسی کی جان یا سلامتی خطرے میں پڑ جائے۔

اگر والدین کا اعتراض کسی حقیقی مسئلے پر مبنی ہے تو اسے سنجیدگی سے جانچنا چاہیے۔ اگر اعتراض صرف ذات، برادری یا معاشرتی مرتبے کی بنیاد پر ہے تو والدین کو اپنی رائے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اور اگر تشدد یا جبر کا خطرہ موجود ہو تو مصالحت سے پہلے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

نوجوانوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے انتخاب کے بارے میں ان سوالات پر غور کریں: کیا میں نے دوسرے شخص کے کردار کو سمجھا ہے؟ کیا ہم مالی ذمہ داریوں اور مستقبل کے بارے میں متفق ہیں؟ کیا اختلاف کے وقت ایک دوسرے کی بات سن سکتے ہیں؟ کیا میرے فیصلے میں کوئی دباؤ یا دھوکا شامل ہے؟ کیا میں نے ایسے شخص سے مشورہ کیا ہے جو صرف میری تائید کرنے کے بجائے میری غلطی بھی بتا سکے؟

یہ سوالات محبت کے خلاف نہیں، بلکہ اسے ایک ذمہ دار رشتے میں بدلنے کے لیے ہیں۔

۸۔ معاشرے اور دینی رہنماؤں کی ذمہ داری

اس مسئلے کی اصلاح صرف نوجوانوں کو نافرمانی سے ڈرانے یا والدین کو ان کے حقوق یاد دلانے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے خاندان، تعلیمی اداروں، دینی رہنماؤں اور معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

دینی رہنماؤں کو نکاح کے احکام کے ساتھ رضامندی، حسنِ معاشرت، عدل اور جبر سے اجتناب کی تعلیم بھی واضح کرنی چاہیے۔ والدین کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ اولاد کی بات سننا ان کے مقام کو کم نہیں کرتا، بلکہ خاندانی اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔

تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو جذباتی تربیت، فیصلہ سازی، مالی نظم اور ازدواجی ذمہ داریوں کے بارے میں مناسب رہنمائی دی جا سکتی ہے۔ معاشرے کو بھی مہنگی شادیوں، غیر ضروری جہیز، برادری کے تعصب اور سماجی نمائش کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔

قانونی معاملات میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ کم عمری، نکاح کی قانونی حیثیت، رضامندی اور تحفظ سے متعلق سوالات کے لیے متعلقہ صوبے کے موجودہ قانون اور مخصوص حالات کے مطابق مستند قانونی مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔

۹۔ قانونی پہلو: نکاح، رضامندی اور قانون کی نظر میں ذمہ داری

گھر سے بھاگ کر شادی کے معاملے میں شرعی، اخلاقی اور قانونی سوالات کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ کسی شخص کا گھر چھوڑ دینا، اپنی پسند کا نکاح کرنا اور کسی کو اغوا یا زبردستی شادی پر مجبور کرنا مختلف صورتیں ہیں؛ ان سب پر ایک ہی قانونی حکم لاگو نہیں ہوتا۔

پاکستان میں نکاح اور شادی سے متعلق قانونی معاملات میں فریقین کی عمر، رضامندی، نکاح کی شرائط اور متعلقہ صوبے کے نافذ قوانین اہمیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر سندھ میں سندھ چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ ایکٹ 2013ء کے تحت لڑکے اور لڑکی، دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر ہے۔ دوسرے صوبوں میں کم عمری کی شادی سے متعلق قوانین مختلف رہے ہیں، اس لیے کسی معاملے میں متعلقہ صوبے کا موجودہ قانون دیکھنا ضروری ہے۔

اسی طرح پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 498-B عورت کو زبردستی شادی پر مجبور کرنے کے جرم سے متعلق ہے۔ لہٰذا والدین یا خاندان کا کسی عورت کو اس کی مرضی کے خلاف نکاح پر مجبور کرنا محض خاندانی معاملہ نہیں رہتا، بلکہ قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔

دوسری طرف، اگر بالغ افراد اپنی آزادانہ رضامندی سے شادی کرنا چاہتے ہوں تو ان کے معاملے کو محض اس بنیاد پر اغوا یا جرم قرار نہیں دیا جا سکتا کہ خاندان اس شادی سے متفق نہیں۔ البتہ کسی مخصوص واقعے میں اغوا، ناجائز حراست، دھوکے، دباؤ یا دوسرے جرم کا الزام ہو تو اس کا فیصلہ شواہد اور قانون کے مطابق ہوگا۔ اسی طرح گھر چھوڑ دینے سے نکاح خود بخود درست یا غلط ثابت نہیں ہو جاتا؛ نکاح کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ شرائط اور حالات کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔

نکاح کی باقاعدہ رجسٹریشن بھی اہم ہے۔ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ء کے تحت نکاح کی رجسٹریشن کا قانونی نظام موجود ہے۔ اس لیے نکاح کے خواہش مند افراد کو چاہیے کہ قانونی تقاضے پورے کریں اور کسی ایسے شخص کے مشورے پر انحصار نہ کریں جو انہیں قانون سے بچنے یا ضروری دستاویزات چھپانے کی ترغیب دے۔

اگر کسی نوجوان کو گھر میں تشدد، جبری شادی یا جان کا خطرہ ہو تو اسے محض خاندانی عزت کے نام پر غیر محفوظ ماحول میں رہنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں قابلِ اعتماد افراد، متعلقہ حفاظتی اداروں اور مستند قانونی ماہر سے مدد لینا مناسب ہے۔

قانون کا مقصد نہ والدین کی ہر خواہش کو قانونی حق بنا دینا ہے، نہ نوجوانوں کی ہر خواہش کو درست قرار دینا؛ بلکہ حقوق کا تحفظ، جبر کی روک تھام اور ہر معاملے کا فیصلہ قانون اور شواہد کی بنیاد پر کرنا ہے۔

اختتامیہ

گھر سے بھاگ کر شادی کا مسئلہ صرف محبت یا نافرمانی کا مسئلہ نہیں۔ اس کے پیچھے انسانی جذبات، خاندانی تربیت، معاشرتی دباؤ، معاشی حالات، دینی احکام اور باہمی حقوق جیسے کئی عوامل کام کرتے ہیں۔ کسی واقعے کا منصفانہ فیصلہ کرنے کے لیے ان تمام پہلوؤں کو دیکھنا ضروری ہے۔

نوجوانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اپنی پسند کا حق ذمہ داری سے الگ نہیں۔ والدین کو سمجھنا چاہیے کہ خیر خواہی کا مطلب اولاد کی رضامندی کو نظرانداز کرنا نہیں۔ خاندان کی عزت اسی وقت قائم رہتی ہے جب اس کے اندر انصاف، احترام اور اعتماد موجود ہو۔

محبت کی کامیابی صرف اپنی خواہش پوری کر لینے میں نہیں، بلکہ ایسا رشتہ قائم کرنے میں ہے جس میں دونوں افراد ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں، مشکلات میں ذمہ داری سے کام لیں اور اختلاف کے باوجود اخلاقی حدود قائم رکھیں۔

اگر غلطی ہو چکی ہو تو اسے مزید غلطیوں کا سبب بنانے کے بجائے اصلاح کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ والدین اور اولاد دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ضد سے بلند ہو کر ایک دوسرے کی بات سنیں۔ آخرکار ایک مضبوط خاندان صرف اختیار سے نہیں، اعتماد سے بنتا ہے؛ اور ایک کامیاب ازدواجی زندگی صرف محبت سے نہیں، محبت کے ساتھ انصاف، سمجھ داری اور ذمہ داری سے قائم رہتی ہے۔

 

بنیادی مراجع

1.      القرآن الكريم: سورۃ الروم، آیت 21؛ سورۃ النور، آیت 32؛ سورۃ لقمان، آیات 14–15۔

2.      صحیح البخاری، کتاب النکاح، حدیث 5138: حضرت خنساء بنت خذامؓ کا واقعہ۔

3.      صحیح البخاری، کتاب الطلاق، حدیث 5283: حضرت بریرہؓ اور حضرت مغیثؓ کا واقعہ۔

4.      Brown, J. E., & Mann, L. (1990). “The Relationship Between Family Structure and Process Variables and Adolescent Decision Making.” Journal of Adolescence, 13(1), 25–37.

5.      Kakal, T., Kok, M., & Jawad, M. (2023). “‘You are a child and this is not your business’: Decision-making on child marriage in Sindh, Pakistan.” PLOS ONE, 18(9), e0266865.


Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post