چیزوں کی قدر قیمت سے نہیں، ضرورت سے ہوتی ہے
کہتے ہیں کسی بادشاہ کے دربار میں ایک دانا کنیز کا ذکر ہوا۔ بادشاہ کو بتایا گیا کہ اس کنیز کی قیمت عام کنیزوں سے کہیں زیادہ ہے۔ بادشاہ کو تعجب ہوا کہ آخر اس میں ایسی کون سی خوبی ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمت اتنی زیادہ مقرر کی گئی ہے۔
بادشاہ نے اسے اپنے دربار میں بلایا اور اس کی عقل و فہم کو آزمانے کا ارادہ کیا۔ اس نے کہا:
"اگر تم میرے سوالوں کے مناسب جواب دے دو تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔"
کنیز خاموشی سے کھڑی رہی۔ بادشاہ نے پہلا سوال کیا:
"دنیا کا سب سے خوبصورت لباس کون سا ہے؟"
کنیز نے جواب دیا:
"وہ لباس جو کسی غریب کے پاس واحد لباس ہو۔ وہی اس کے لیے گرمی میں سایہ اور سردی میں پردہ ہے۔"
بادشاہ نے دوسرا سوال کیا:
"سب سے اچھی خوشبو کون سی ہے؟"
کنیز نے کہا:
"ماں کی خوشبو۔ دنیا کی بڑی سے بڑی خوشبو بھی اس خوشبو کا مقابلہ نہیں کرسکتی جو ماں کی آغوش سے آتی ہے۔"
بادشاہ نے تیسرا سوال کیا:
"سب سے لذیذ کھانا کون سا ہے؟"
کنیز نے فوراً جواب دیا:
"بھوک کے بعد ملنے والا کھانا۔"
بادشاہ نے کہا:
"اور سب سے آرام دہ بستر؟"
کنیز نے کہا:
"وہ بستر جس پر انسان اطمینانِ قلب اور سکونِ ضمیر کے ساتھ سوئے۔ جس دل میں بے چینی اور خوف ہو، اس کے لیے نرم سے نرم بستر بھی آرام کا سبب نہیں بن سکتا۔"
بادشاہ اس کے جوابات سے متاثر ہوا، لیکن اس نے آخری سوال باقی رکھا:
"سب سے خوبصورت ملک کون سا ہے؟"
کنیز نے جواب دیا:
"وہ ملک جہاں انسان کو امن حاصل ہو، جہاں اسے اپنی عزت اور آزادی کی حفاظت کا اطمینان ہو، اور جہاں وہ اپنے پیاروں کے ساتھ سکون سے زندگی گزار سکے۔"
بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا۔ اسے احساس ہوا کہ جن چیزوں کو انسان اپنی دولت سے حاصل کرنا چاہتا ہے، ان میں سے بہت سی چیزیں دراصل دولت سے نہیں ملتیں۔
غریب کے لیے ایک سادہ لباس بھی نعمت ہے، بھوکے کے لیے خشک روٹی بھی نعمت ہے، ماں کی خوشبو دنیا کے عطر سے بڑھ کر ہے، اور جس شخص کا ضمیر مطمئن ہو، اس کے لیے سادہ بستر بھی محل کی آرام گاہ بن جاتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ چیز کی قیمت ہمیشہ اس کی ظاہری شان سے نہیں ہوتی، بلکہ انسان کی ضرورت اسے قیمتی بناتی ہے۔
زندگی کا ایک بڑا سبق یہ ہے کہ ہم نعمتوں کی قدر اس وقت سمجھتے ہیں جب وہ ہم سے دور ہوجاتی ہیں۔ صحت ہو تو انسان کو اس کی قیمت معلوم نہیں ہوتی، گھر میں ماں ہو تو اس کی آغوش کی قدر نہیں ہوتی، دسترخوان پر کھانا ہو تو بھوک کا احساس نہیں ہوتا اور امن میسر ہو تو اس کی عظمت کا اندازہ نہیں ہوتا۔
نعمت کی اصل قدر اکثر اس وقت معلوم ہوتی ہے جب اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

Post a Comment