میں آپ کی بہن ہوں

ایک عورت نہایت پریشانی کے عالم میں ایک مال دار شخص کے دروازے پر پہنچی۔ گھر کے حالات ایسے تھے کہ اب کسی سے مدد مانگے بغیر گزارا ممکن نہ تھا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ صاحبِ ثروت شخص ہر آنے والے کو محض سوالی کی نظر سے دیکھتا تھا، اور عورت اپنی حاجت بیان کرتے ہوئے اپنی عزتِ نفس بھی مجروح نہیں کرنا چاہتی تھی۔

اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔

ایک خادم باہر آیا۔

اس نے پوچھا:

"کیا کام ہے؟"

عورت نے کہا:

"میں تمہارے آقا سے ملنا چاہتی ہوں۔"

خادم نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پوچھا:

"آپ کون ہیں؟"

عورت نے بڑے اطمینان سے کہا:

"ان سے کہو، میں ان کی بہن ہوں۔"

خادم ایک لمحے کے لیے خاموش رہ گیا۔

وہ اپنے آقا کے خاندان کو اچھی طرح جانتا تھا۔ اس کی کوئی ایسی بہن نہیں تھی۔

وہ جلدی سے اندر گیا اور بولا:

"حضور! باہر ایک عورت آئی ہے اور کہتی ہے کہ وہ آپ کی بہن ہے۔"

صاحبِ خانہ نے حیرت سے پوچھا:

"میری بہن؟"

"جی ہاں!"

"اچھا، اسے اندر لے آؤ۔"

عورت اندر آئی۔ اس شخص نے غور سے اسے دیکھا اور پوچھا:

"آپ میری کون سی بہن ہیں؟"

عورت نے مسکرا کر جواب دیا:

"آدمؑ کی طرف سے آپ کی بہن ہوں۔"

ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔

پھر وہ شخص مسکرا دیا اور بولا:

"واقعی! یہ تو ایسا رشتہ ہے جس سے دنیا کا کوئی انسان باہر نہیں۔"

پھر ذرا رک کر کہا:

"اور اگر یہ رشتہ ہے تو پھر یہ ٹوٹا ہوا رشتہ ہے۔ اللہ کی قسم! میں اسے جوڑنے والا پہلا شخص بنوں گا۔"

عورت سمجھ گئی کہ بات بن گئی ہے، مگر اس نے فوراً اپنی حاجت نہیں بتائی۔ پہلے اس نے ایک ایسی بات کہی جس میں فقر کی پوری داستان بھی تھی اور سوال بھی:

"بھائی جان! شاید آپ کے لیے یہ سمجھنا آسان نہ ہو کہ فقر کتنا تلخ ہوتا ہے۔ اسی فقر نے مجھے اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے تک پہنچا دیا ہے۔ اگر آپ کے پاس کچھ ایسا ہو جو آج ہمارے کام آجائے اور کل اللہ کے ہاں بھی کام دے تو عنایت فرمائیے۔"

پھر اس نے نہایت خوب صورت انداز میں کہا:

فما عندكم ينفد، وما عند الله باق۔

"جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔"

صاحبِ خانہ نے اس کی طرف دیکھا اور کہا:

"یہ بات دوبارہ کہو۔"

عورت نے دوبارہ وہی جملہ دہرایا۔

اس نے پھر کہا:

"ایک مرتبہ اور۔"

عورت نے تیسری بار بھی دہرا دیا۔

پھر اس شخص نے کہا:

"پھر کہو۔"

اب عورت نے سر جھکا کر کہا:

"مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے میری بات نہیں سمجھی۔ مگر اپنی حاجت کو بار بار دہرانا میرے لیے باعثِ شرم ہے۔ میں نے اپنی زبان کو اللہ کے سوا کسی کے سامنے بار بار پھیلانے کی عادت نہیں ڈالی۔"

یہ جواب سنتے ہی اس شخص کے چہرے کا انداز بدل گیا۔

اس نے کہا:

"اللہ کی قسم! مجھے تمہاری حاجت سے زیادہ تمہاری گفتگو نے متاثر کیا ہے۔ اگر تم یہی بات ہزار مرتبہ بھی دہراتیں تو میں ہر مرتبہ کے بدلے تمہیں ایک ہزار درہم دیتا۔"

پھر اس نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ عورت کی ضرورت کے مطابق اسے مال دیا جائے اور اس کے گھر کا انتظام کیا جائے۔

یوں ایک عورت جو دروازے پر "سوالی" بن کر آئی تھی، اپنی زبان کی دانائی اور خودداری کے باعث عزت کے ساتھ واپس لوٹی۔

اس حکایت کا سب سے خوب صورت پہلو شاید اس کا پہلا جملہ ہے:

"میں آپ کی بہن ہوں۔"

اس ایک جملے نے اجنبی کو رشتہ دار بنا دیا، سوال کو حقِ قرابت میں بدل دیا، اور مدد کو صدقۂ احسان کے بجائے ایک انسانی رشتے کی ذمہ داری بنا دیا۔

اور آخر میں قرآن کی وہ حقیقت سامنے آتی ہے جس کے سامنے دنیا کی ساری دولت عارضی ہے:

مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا، مگر جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔

اصل سخاوت یہ نہیں کہ انسان کسی کو اپنے مال میں سے کچھ دے دے؛ اصل سخاوت یہ ہے کہ دیتے وقت سامنے والے کی عزت بھی بچا لے۔


 


Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post