تفسیر ضیاء القرآن اور تفسیر نور القرآن میں مسیحی مباحث کا تحقیقی و تقابلی جائزہ

اسلام اور مسیحیت کے درمیان تعلق ایک قدیم اور اہم مذہبی و فکری موضوع ہے۔ قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مریم علیہا السلام، بنی اسرائیل، اہلِ کتاب اور مسیحی عقائد کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ اسی وجہ سے تفسیری ادب میں بھی مسیحیت سے متعلق مباحث کو نمایاں جگہ حاصل رہی ہے۔ اردو تفسیری روایت میں پیر محمد کرم شاہ الازہری کی تفسیر ضیاء القرآن اور پیر منظور احمد شاہ کی تفسیر نور القرآن اس اعتبار سے خاص اہمیت رکھتی ہیں کہ دونوں تفاسیر میں قرآن مجید کی آیات کی تشریح کے ضمن میں مسیحی عقائد، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت اور عیسائی فکر سے متعلق اہم مباحث سامنے آتے ہیں۔

ان دونوں تفاسیر کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ اگرچہ دونوں کا بنیادی مقصد قرآن مجید کی تفسیر اور اسلامی عقائد کی وضاحت ہے، تاہم مسیحی مباحث پیش کرنے کا انداز ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ضیاء القرآن میں یہ مباحث زیادہ تفصیل، تاریخی شواہد، عقلی استدلال اور مسیحی مصادر کے حوالے سے زیرِ بحث آتے ہیں، جب کہ نور القرآن میں یہی موضوعات زیادہ اختصار، سادگی اور براہِ راست قرآنی استدلال کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔

ضیاء القرآن کا علمی مزاج

پیر محمد کرم شاہ الازہری کی تفسیر ضیاء القرآن پانچ جلدوں پر مشتمل ایک وسیع تفسیری کاوش ہے، جس کی تکمیل ایک طویل عرصے میں ہوئی۔ اس تفسیر میں قرآن مجید کے ترجمے کے ساتھ لغوی، نحوی، صرفی، فقہی، حدیثی، تاریخی اور فکری مباحث سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ مختلف قدیم و جدید تفاسیر کے اقوال نقل کرنے کے ساتھ جدید مسائل کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

مسیحیت کے موضوع پر پیر کرم شاہ الازہری کی دلچسپی صرف تفسیر ضیاء القرآن تک محدود نہیں تھی۔ ان کی معروف تصنیف ضیاء النبی کی آخری جلدوں میں عیسائی مستشرقین کے اعتراضات اور ان کے جوابات بھی تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اس پس منظر کی وجہ سے ضیاء القرآن میں مسیحی مباحث محض سرسری تعارف کی صورت میں نہیں بلکہ ایک وسیع مطالعے کے نتیجے میں سامنے آتے ہیں۔

قرآن مجید میں جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا مسیحی عقائد کا ذکر آتا ہے، وہاں مفسر نے متعلقہ مسئلے کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ بالخصوص تثلیث، الوہیتِ مسیح، ابنیتِ مسیح، کفارہ اور حلول و تجسد جیسے بنیادی عقائد پر قرآن کی روشنی میں گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ مسیحی مصادر اور عیسائی علماء کی کتب سے بھی استدلال کیا گیا ہے، تاکہ بحث صرف اسلامی موقف کے بیان تک محدود نہ رہے بلکہ مسیحی مذہبی لٹریچر کے حوالے سے بھی مسئلے کی وضاحت ہو۔

ضیاء القرآن میں عقیدۂ تثلیث کے ضمن میں خاص طور پر یہ سوال زیرِ بحث آتا ہے کہ تثلیث کا تصور مسیحی فکر میں کس طرح پیدا ہوا اور اس کی مذہبی بنیاد کیا ہے۔ مفسر نے اس بحث میں قرآن مجید کی آیات کے ساتھ بائبل اور مسیحی مصنفین کے حوالوں سے بھی استدلال کیا ہے۔ یوں بحث کا ایک اہم پہلو یہ بنتا ہے کہ مسیحی عقیدے کا جائزہ خود اس کے مذہبی مصادر کی روشنی میں لیا جائے۔

اسی طرح عقیدۂ کفارہ اور حلول و تجسد کو بھی قرآن مجید کے بنیادی عقیدۂ توحید کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں قرآن کا موقف واضح کرتے ہوئے ان کے رسول اور بندۂ خدا ہونے کو نمایاں کیا گیا ہے۔ قرآن مجید کی آیت ﴿مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُوْلٌ﴾ اس پورے تصور کی بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ مسیح علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں، معبود نہیں۔

ضیاء القرآن کے مسیحی مباحث کی ایک نمایاں خصوصیت ان کا تفصیلی اور تحقیقی انداز ہے۔ تاریخی پس منظر، مختلف مسیحی فرقوں، مذہبی اصطلاحات اور عقائد کے ارتقا کو بھی بحث کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس طریقۂ کار سے قاری کو صرف اسلامی موقف معلوم نہیں ہوتا بلکہ اس مسئلے کا تاریخی اور فکری پس منظر بھی سامنے آتا ہے۔

نور القرآن کا اندازِ بیان

پیر منظور احمد شاہ کی تفسیر نور القرآن بھی اردو تفسیری ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ یہ تفسیر چھ جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں قرآن مجید کا سلیس اور بامحاورہ ترجمہ اختیار کیا گیا ہے۔ تفسیر کے مقدمے میں علومِ قرآن و تفسیر، تاریخِ تفسیر، مشہور مفسرین، وحی، جمع و تدوینِ قرآن، محکم و متشابہ اور ناسخ و منسوخ جیسے متعدد مباحث کو جامع انداز میں سمیٹا گیا ہے۔ یہ مقدمہ خود علومِ تفسیر کے کئی بنیادی مباحث کا مختصر تعارف فراہم کرتا ہے۔

مسیحی مباحث میں نور القرآن کا انداز ضیاء القرآن کے مقابلے میں زیادہ مختصر ہے۔ جہاں قرآن مجید کی کسی آیت میں عیسائیت یا اس کے بنیادی عقائد کا ذکر آتا ہے، وہاں مفسر براہِ راست قرآنی موقف کو واضح کرتے ہیں اور غیر ضروری طوالت سے گریز کرتے ہیں۔ اس انداز میں قاری کو مسئلے کا بنیادی اسلامی تصور جلد اور واضح طور پر سمجھ میں آجاتا ہے۔

مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن مجید کا ارشاد ہے:

﴿لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوا إِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ﴾

اس آیت کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف مسیحی تصورات کا ذکر کرنے کے بعد بنیادی نتیجہ واضح کر دیا جاتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کو الوہیت یا ابنیت کا مقام دینا اسلامی عقیدۂ توحید کے منافی ہے۔ اس طرح نور القرآن میں تفصیل کے بجائے اختصار، وضاحت اور نتیجہ خیزی کو ترجیح دی گئی ہے۔

دونوں تفاسیر میں بنیادی مسیحی مباحث

دونوں تفاسیر کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیحی مباحث میں چند بنیادی موضوعات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت، تثلیث، الوہیت و ابنیتِ مسیح، کفارہ، حلول و تجسد، صلیب، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ آسمانی سے متعلق مسائل ہیں۔

اسلامی نقطۂ نظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر رسول اور برگزیدہ نبی ہیں۔ قرآن مجید ان کی ولادتِ معجزانہ، ان کے معجزات اور ان کی نبوت کو بیان کرتا ہے، مگر ساتھ ہی ان کی بندگی اور رسالت کو واضح کرتا ہے:

﴿قَالَ إِنِّيْ عَبْدُ اللّٰهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِيْ نَبِيًّا﴾

یہ آیت مسیح علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں اسلامی تصور کی بنیادی وضاحت کرتی ہے۔ اسی طرح قرآن مجید مسیح علیہ السلام کو رسول قرار دیتے ہوئے ان کے بارے میں غلو سے روکتا ہے۔

تثلیث کے بارے میں قرآن مجید نے واضح طور پر فرمایا:

﴿وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ﴾

اور:

﴿لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوا إِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ﴾

دونوں تفاسیر میں ان آیات کی روشنی میں توحید اور تثلیث کے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ تاہم ضیاء القرآن میں اس بحث کو تاریخی اور تقابلی شواہد کے ساتھ زیادہ تفصیل سے پیش کیا گیا ہے، جبکہ نور القرآن میں قرآنی دلائل اور مختصر توضیح کو زیادہ نمایاں رکھا گیا ہے۔

عقیدۂ کفارہ بھی مسیحی مباحث کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صلیبی موت کو انسانوں کے گناہوں کے کفارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسلامی تصور اس سے مختلف ہے۔ قرآن مجید انسان کو اس کے اپنے اعمال کا ذمہ دار قرار دیتا ہے اور کسی دوسرے شخص کے گناہ کا بوجھ اٹھانے کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ اسی بنیادی اصول کی روشنی میں کفارے کے مسیحی تصور کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

اسی طرح حلول و تجسد کے مسئلے میں مسیحی تصورِ الوہیت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی انسانی صورت اختیار کرنے کے عقیدے کو اسلامی تصورِ توحید کے مقابل رکھا گیا ہے۔ دونوں تفاسیر میں اس مسئلے کی وضاحت قرآن مجید کی ان آیات سے کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی یکتائی، بے نیازی اور مخلوق سے اس کی ذات کے امتیاز کو بیان کرتی ہیں۔

عیسائیت کی تاریخ اور اصلاحی تحریک

مضمون میں مسیحی عقائد کے ساتھ عیسائیت کی تاریخی تشکیل اور مختلف فرقوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ مسیحیت کے تاریخی ارتقا میں مختلف مذہبی اختلافات کے نتیجے میں متعدد فرقے وجود میں آئے، جن میں کیتھولک، آرتھوڈوکس اور پروٹسٹنٹ روایتیں نمایاں ہیں۔ بعد کے ادوار میں کلیسا کے اختیارات، مذہبی تعلیم، بائبل کے تراجم اور نجات کے تصور کے حوالے سے اختلافات نے اصلاحی تحریکوں کو جنم دیا۔

تحریکِ اصلاح کے نتیجے میں کیتھولک کلیسا سے الگ مختلف پروٹسٹنٹ فرقے وجود میں آئے، جن میں لوتھرین، کیلونزم اور انگرکان روایتیں شامل ہیں۔ بائبل کے عام لوگوں تک پہنچنے، کلیسائی اختیار پر سوال اٹھانے اور مذہبی آزادی کے بعض تصورات نے یورپ کی مذہبی تاریخ کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔

اس تاریخی پس منظر کا ذکر اس لیے اہم ہے کہ مذہبی عقائد کسی خلا میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ ان کے اظہار اور تشریح پر تاریخی حالات بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ضیاء القرآن میں ایسے تاریخی پہلو نسبتاً زیادہ تفصیل سے آتے ہیں، جبکہ نور القرآن بنیادی مذہبی نکات تک محدود رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔

دونوں مفسرین کا منہج

مسیحی مباحث کے اعتبار سے دونوں تفاسیر میں سب سے نمایاں فرق منہج اور اسلوب کا ہے۔

پیر محمد کرم شاہ الازہری نے مسیحیت کے موضوع پر تفصیلی مطالعہ اور تقابلی استدلال سے کام لیا ہے۔ قرآن مجید کی آیات کی تشریح کرتے ہوئے بائبل، مسیحی مصنفین اور تاریخی مواد سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ اس طرح قاری کے سامنے ایک ایسا مطالعہ آتا ہے جس میں قرآنی استدلال کے ساتھ تاریخی اور مذہبی شواہد بھی شامل ہیں۔

پیر منظور احمد شاہ کا انداز اس کے مقابلے میں مختصر اور براہِ راست ہے۔ وہ مسیحی عقائد کی بنیادی نوعیت واضح کرتے ہیں، قرآن کی متعلقہ آیات سے استدلال کرتے ہیں اور پھر بحث کو ایک واضح نتیجے تک پہنچا دیتے ہیں۔ اسلوب میں اختصار کے باوجود بنیادی موقف کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔

یوں دونوں تفاسیر کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنے کے بجائے دو مختلف علمی اسالیب کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ضیاء القرآن میں تفصیل، تحقیق، تاریخی شواہد اور تقابلی مطالعہ نمایاں ہے، جبکہ نور القرآن میں اختصار، سادگی اور براہِ راست قرآنی استدلال نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

ردِ مسیحیت کے علمی ذخیرے سے تعلق

مضمون میں ان کتابوں کا بھی تعارف پیش کیا گیا ہے جو مسلمان علماء نے مسیحیت کے عقائد اور عیسائی اعتراضات کے جواب میں لکھی ہیں۔ اس سلسلے میں امام ابن قیم الجوزیہ کی ہدایۃ الحیارى، مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی اظہار الحق، مولانا احمد یار خان نعیمی کی اسلام اور عیسائیت، مولانا محمد ادریس کی اسلام اور نصرانیت، مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی عیسائیت کا پس منظر، پروفیسر ساجد میر کی عیسائیت تجزیہ و مطالعہ اور دیگر کتب کا ذکر آتا ہے۔

ان کتابوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے مسیحیت پر علمی گفتگو کا دائرہ صرف عقائد کی تردید تک محدود نہیں رہا بلکہ بائبل کی تاریخ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت، مسیحی فرقوں، تثلیث، کفارہ، تحریفِ بائبل، سابقہ انبیاء کی بشارتوں اور اسلام و مسیحیت کے باہمی تعلق جیسے موضوعات تک پھیلتا گیا ہے۔

خصوصاً اظہار الحق جیسی کتابوں نے تقابلی مذہبی مطالعے میں بائبل کے متون اور مسیحی علماء کی تحریروں کو سامنے رکھ کر استدلال کی ایک مستقل روایت قائم کی۔ بعد کے مصنفین نے بھی اسی روایت سے استفادہ کرتے ہوئے جدید دور کے سوالات اور اعتراضات کو اپنے اپنے انداز میں موضوع بنایا۔

نتیجہ

تفسیر ضیاء القرآن اور تفسیر نور القرآن میں مسیحی مباحث کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ دونوں تفاسیر نے قرآن مجید کے بیان کردہ تصورِ توحید، نبوت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقی حیثیت کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ دونوں کے ہاں مسیحی عقائد کا ذکر محض تاریخی معلومات کے طور پر نہیں بلکہ قرآن مجید کی متعلقہ آیات کی تشریح اور اسلامی عقائد کی وضاحت کے ضمن میں سامنے آتا ہے۔

دونوں تفاسیر میں بنیادی موقف ایک ہے، لیکن اسے پیش کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔ ضیاء القرآن کا امتیاز تفصیل، تاریخی و منطقی استدلال، مختلف مصادر سے استفادہ اور مسیحی لٹریچر کے تقابلی مطالعے میں نمایاں ہوتا ہے، جبکہ نور القرآن کا نمایاں وصف اختصار، سادہ زبان اور قرآن مجید کی آیات سے براہِ راست استدلال ہے۔

اس تقابل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیحیت کے مطالعے میں صرف عقائد کی فہرست کافی نہیں؛ ان کے تاریخی پس منظر، مذہبی مصادر، اصطلاحات اور فکری تشکیل کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح اسلامی موقف کو واضح کرنے کے لیے قرآن مجید کی بنیادی تعلیمات، بالخصوص توحید، رسالت اور انسانی ذمہ داری کے اصولوں کو سامنے رکھنا ناگزیر ہے۔

چنانچہ ان دونوں تفاسیر کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ انہوں نے مسیحی عقائد پر گفتگو کی، بلکہ اس میں بھی ہے کہ انہوں نے قرآن مجید کے پیغام کو اپنے اپنے علمی اسلوب میں سامنے رکھتے ہوئے اسلام اور مسیحیت کے بنیادی اختلافات کو واضح کیا۔ ایک طرف تفصیلی تحقیقی اور تقابلی انداز ہے اور دوسری طرف اختصار و جامعیت؛ دونوں مل کر اردو تفسیری ادب میں مسیحی مباحث کے مطالعے کے لیے ایک مفید علمی مواد فراہم کرتے ہیں۔

 

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post