بچوں کی تربیت یا تشدد؟

 استاد کی تادیب، نفسیاتی اثرات اور شرعی حدود


بچوں کی تعلیم و تربیت والدین اور اساتذہ دونوں کی بڑی ذمہ داری ہے۔ خصوصاً وہ استاد جس کے سپرد کوئی بچہ قرآن، دینیات یا دوسری تعلیم حاصل کرنے کے لیے کیا جائے، صرف کتاب پڑھانے والا نہیں رہتا بلکہ ایک حد تک اس بچے کا مربی بھی بن جاتا ہے۔ بچے کے ذہن، اخلاق اور شخصیت پر استاد کے رویّے کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ ایک شفیق اور سمجھ دار استاد بچے کے دل میں علم کی محبت پیدا کرسکتا ہے، جبکہ بے جا سختی اور تحقیر اسے تعلیم ہی سے بددل کرسکتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ تعلیم و تربیت صرف نرمی کا نام نہیں۔ بچے سے غلطی ہوسکتی ہے، وہ سبق میں غفلت کرسکتا ہے، نظم توڑ سکتا ہے اور کبھی کسی مناسب تنبیہ کا محتاج بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے صحیح اسلامی موقف یہ نہیں کہ ہر قسم کی تادیب کو مطلقاً ناجائز قرار دے دیا جائے، اور نہ یہ کہ استاد کو اصلاح کے نام پر بچے کے ساتھ جو چاہے کرنے کا اختیار دے دیا جائے۔ شریعت کا طریقہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے: تادیب کی گنجائش ہے، مگر اس کا مقصد اصلاح ہے، اذیت اور انتقام نہیں۔

تعلیم و تربیت ایک امانت ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا(سورۃ التحریم: 6)

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ

تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔

حوالہ: محمد بن اسماعیل البخاری، الجامع الصحيح، کتاب الأحكام، باب قول الله تعالى: أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم، حدیث: 7138؛ مسلم بن الحجاج، صحيح مسلم، کتاب الإمارة، باب فضيلة الإمام العادل وعقوبة الجائر، حدیث: 1829، تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی، دار إحياء التراث العربي، بیروت، ج 3، ص 1459۔

یہ ذمہ داری والدین کے ساتھ ساتھ اس شخص کو بھی متوجہ کرتی ہے جسے بچے کی تعلیم و تربیت سپرد کی گئی ہو۔ استاد کا اختیار اسی امانت کے تابع ہے؛ اسے بچے کی اصلاح کرنی ہے، اس کی شخصیت کو توڑنا نہیں۔

نرمی تعلیم کا بنیادی اصول ہے

رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ

نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اسے خوب صورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے نرمی نکال دی جائے اسے عیب دار کردیتی ہے۔

حوالہ: مسلم بن الحجاج، صحيح مسلم، تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی، دار إحياء التراث العربي، بیروت، کتاب البر والصلة والآداب، باب فضل الرفق، حدیث: 2594، ج 4، ص 2004۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا

آسانی پیدا کرو، دشواری نہ پیدا کرو، خوش خبری دو اور لوگوں کو متنفر نہ کرو۔

حوالہ: محمد بن اسماعیل البخاری، صحيح البخاري، تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر، دار طوق النجاة، طبع اول، 1422ھ، کتاب العلم، باب ما كان النبي ﷺ يتخولهم بالموعظة والعلم كي لا ينفروا، حدیث: 69، ج 1، ص 25۔

قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کے حسنِ اخلاق اور نرم مزاجی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا:

وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ(سورۃ آل عمران: 159)

اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے اردگرد سے منتشر ہوجاتے۔

یہاں اصل خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے، لیکن تعلیم و تربیت کرنے والوں کے لیے بھی اس میں بڑی رہنمائی ہے۔ سخت مزاجی اور بدخلقی انسانوں کو قریب کرنے کے بجائے دور کرتی ہے۔ طالب علم خصوصاً بچہ محبت، اعتماد اور مناسب رہنمائی کے ماحول میں زیادہ بہتر طور پر سیکھتا ہے۔

غلطی کی اصلاح بھی حکمت سے

صحیح احادیث میں وہ مشہور واقعہ موجود ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کردیا۔ بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اسے روکنے کے لیے بڑھے، مگر رسول اللہ ﷺ نے انہیں فوراً سختی کرنے سے منع فرمایا۔ بعد میں اس جگہ پانی بہانے کا حکم دیا اور مناسب انداز سے اس شخص کی اصلاح فرمائی۔

اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:

فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ

تم آسانی پیدا کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو، دشواری پیدا کرنے کے لیے نہیں۔

حوالہ: البخاری، صحيح البخاري، کتاب الوضوء، باب صب الماء على البول في المسجد، حدیث: 220۔

اس واقعے میں غلط کام کو درست نہیں کہا گیا، مسجد کی حرمت بھی برقرار رہی، مگر اصلاح کا طریقہ ایسا اختیار کیا گیا جس میں حکمت، تحمل اور موقع کی مناسبت تھی۔ استاد کے لیے اس سے اہم سبق یہ ہے کہ ہر غلطی کا جواب غصہ نہیں ہوتا۔

کیا بچے کو تادیباً مارنے کی کوئی گنجائش ہے؟

اس مسئلے میں اعتدال ضروری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ

اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو نماز کے معاملے میں ان کی تادیب کرو، اور ان کے بستر الگ کردو۔

حوالہ: ابو داود سلیمان بن اشعث السجستانی، سنن أبي داود، تحقیق: شعیب الأرناؤوط، محمد کامل قرہ بللی، دار الرسالة العالمية، طبع اول، 1430ھ/2009ء، کتاب الصلاة، باب متى يؤمر الغلام بالصلاة، حدیث: 495، ج 2، ص 367۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تادیب کی اصل گنجائش موجود ہے؛ لیکن حدیث کو یہ معنی دینا درست نہیں کہ بچے کو زخمی کردیا جائے، ہڈی توڑ دی جائے، خون نکال دیا جائے یا غصے میں بے تحاشا مارا جائے۔ یہ سب چیزیں تادیب کے مقصد سے باہر ہیں۔

فقہاء نے اسی لیے تادیب کو حدود کا پابند بنایا ہے۔

تادیب کا مقصد اصلاح ہے

فقہائے احناف نے بچے کی تادیب میں حد سے تجاوز سے منع کیا ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نابالغ کو نماز کی تربیت کے مسئلے میں لکھتے ہیں:

(قوله بيد) أي ولا يجاوز الثلاث، وكذلك المعلم ليس له أن يجاوزها

یعنی ہاتھ سے تادیب کی جائے اور تین سے تجاوز نہ کیا جائے، اور استاد کے لیے بھی اس حد سے تجاوز درست نہیں۔

حوالہ: محمد امین ابن عابدین الشامی، رد المحتار على الدر المختار، دار الفكر، بیروت، طبع دوم، 1412ھ/1992ء، کتاب الصلاة، ج 1، ص 352، مطبوعات کی سابقہ ترقیم کے مطابق۔

یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے: تین ضربات کی گنجائش کا مطلب یہ نہیں کہ استاد ہر غلطی پر تین مرتبہ ضرور مارے۔ اگر بچہ سمجھانے، تنبیہ، نصیحت یا کسی اور مناسب ذریعے سے درست ہوجاتا ہے تو جسمانی تادیب کی حاجت ہی نہیں رہتی۔

شریعت کا مقصد تعداد پوری کرنا نہیں بلکہ اصلاح حاصل کرنا ہے۔

لکڑی اور شدید مار سے اجتناب

حنفی فقہی عبارات میں نابالغ کی تادیب کے سلسلے میں ہاتھ سے ہلکی تادیب اور لکڑی سے اجتناب کا ذکر بھی ملتا ہے۔

علامہ شرنبلالی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

بِيَدٍ لَا بِخَشَبَةٍ ... وَلَا يَزِيدُ عَلَى ثَلَاثِ ضَرَبَاتٍ بِيَدِهِ

ہاتھ سے ہو، لکڑی سے نہ ہو، اور ہاتھ سے تین ضربات سے زیادہ نہ ہوں۔

حوالہ: حسن بن عمار الشرنبلالی، مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح مع حاشية الطحطاوي، کتاب الصلاة، باب شروط الصلاة وأحكام الصبيان؛ نیز اصل مضمون میں إمداد الفتاح، ص 176، کتاب الصلاة، صدیقی پبلشرز، کے حوالے سے یہی عبارت منقول ہے۔

اسی بنا پر بڑے ڈنڈے، چھڑی، پائپ، تار یا ایسی کسی چیز سے بچے کو پیٹنا جس سے زخم یا شدید تکلیف کا اندیشہ ہو، اصلاح کے نام پر درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔

چہرے پر مارنے کی ممانعت

اس سلسلے میں نص بہت واضح ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ

جب تم میں سے کوئی مارے تو چہرے سے بچے۔

حوالہ: البخاری، صحيح البخاري، کتاب العتق، باب إذا ضرب العبد فليجتنب الوجه، حدیث: 2559؛ مسلم بن الحجاج، صحيح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، باب النهي عن ضرب الوجه، حدیث: 2612۔

چہرہ انسان کے نمایاں اور نازک اعضاء کا مجموعہ ہے۔ آنکھیں، ناک، منہ اور دیگر حساس حصے اسی میں ہیں۔ اسی وجہ سے فقہاء نے چہرے کے ساتھ سر اور دوسرے نازک مقامات کو بھی ضرب سے محفوظ رکھنے کی تاکید کی ہے۔

علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وَيَتَّقِي الْمَوَاضِعَ الَّتِي تُتَّقَى فِي الْحُدُودِ، أَيْ كَالرَّأْسِ وَالْمَذَاكِيرِ

ایسے مقامات سے بچا جائے جن سے حدود کے نفاذ میں بھی اجتناب کیا جاتا ہے، جیسے سر اور شرم گاہ۔

حوالہ: ابن عابدین، رد المحتار على الدر المختار، دار الفكر، بیروت، 1412ھ/1992ء، کتاب الحدود، باب التعزير، ج 4، ص 61، قدیم ترقیم کے مطابق۔

ایسی مار جس سے جسمانی نقصان ہو

استاد کو تادیب کا حق دیا بھی جائے تو یہ ایسا غیر محدود اختیار نہیں کہ بچے کا جسم یا جان خطرے میں ڈال دی جائے۔

رسول اللہ ﷺ سے مشہور اصول منقول ہے:

لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ

نہ نقصان پہنچایا جائے اور نہ نقصان کا بدلہ نقصان سے دیا جائے۔

حوالہ: ابن ماجہ، سنن ابن ماجه، تحقیق: شعیب الأرناؤوط ورفقاؤہ، دار الرسالة العالمية، طبع اول، 1430ھ/2009ء، کتاب الأحكام، باب من بنى في حقه ما يضر بجاره، حدیث: 2341۔

فقہائے احناف نے استاد کی شدید مار کے بارے میں صاف لکھا ہے:

لَوْ ضَرَبَ الْمُعَلِّمُ الصَّبِيَّ ضَرْبًا فَاحِشًا فَإِنَّهُ يُعَزَّرُ وَيَضْمَنُهُ لَوْ مَاتَ

اگر استاد بچے کو سخت اور حد سے بڑھی ہوئی مار مارے تو استاد کو سزا دی جائے گی، اور اگر بچہ اس سے مرجائے تو استاد پر ضمان ہوگا۔

حوالہ: علاء الدین الحصکفی، الدر المختار مع رد المحتار لابن عابدین، کتاب الحدود، باب التعزير، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی، ج 4، ص 79۔ یہی عبارت اصل مضمون میں بھی نقل ہوئی ہے۔

اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جسمانی نقصان پہنچانے والی مار کو فقہاء نے معمول کی تادیب قرار نہیں دیا بلکہ استاد کو خود جواب دہ ٹھہرایا ہے۔

ہڈی توڑ دینا، جلد پھاڑ دینا، آنکھ یا کان کو نقصان پہنچانا، بچے کو بے ہوش کردینا یا ایسی ضرب لگانا جس کے آثار دیر تک بدن پر باقی رہیں، اصلاح نہیں بلکہ حد سے تجاوز ہے۔

بچے کی حالت اور غلطی کو دیکھنا ضروری ہے

تمام بچے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کسی بچے کی اصلاح ایک نرم جملے سے ہوجاتی ہے، کسی کو سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی کے مسئلے کی اصل وجہ گھر کا ماحول، ذہنی دباؤ، کمزور حافظہ یا بیماری ہوسکتی ہے۔

صرف سبق یاد نہ ہونے کو بدتمیزی سمجھ لینا مناسب نہیں۔ استاد کو پہلے معلوم کرنا چاہیے کہ بچہ سبق کیوں نہیں سنا پا رہا۔

فقہاء نے تعزیر میں بھی جرم، شخص اور مصلحت کے فرق کو ملحوظ رکھا ہے۔ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ اگر اصلاح ایک ہی مناسب تنبیہ سے ہوسکتی ہو تو اسی پر اکتفا کیا جائے۔

رد المحتار  یہی فقہی اصول مذکور ہے کہ سزا جرم کے بڑے یا چھوٹے ہونے اور اشخاص کے اختلاف کے اعتبار سے مختلف ہوگی۔

اس لیے تادیب ایک مشینی قاعدہ نہیں؛ اس میں حکمت اور بچے کی حقیقی مصلحت ضروری ہے۔

غصے میں مارنا تادیب نہیں رہتا

استاد بھی انسان ہے۔ اسے غصہ آسکتا ہے، تھکن ہوسکتی ہے اور طالب علم کی کسی حرکت سے طبیعت متاثر ہوسکتی ہے۔ لیکن جس وقت انسان اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکے اس وقت سزا دینا بہت خطرناک ہے۔

تادیب اس وقت مفید ہوسکتی ہے جب استاد پرسکون ہو اور اس کے سامنے صرف بچے کی اصلاح ہو۔ اگر مقصد اپنی ناراضی نکالنا، رعب قائم کرنا یا بدلہ لینا ہو تو تادیب کا اصل مقصد ختم ہوجاتا ہے۔

اسی لیے سمجھ دار مربی پہلے اپنے غصے کو قابو کرتا ہے، پھر بچے کی غلطی کا فیصلہ کرتا ہے۔

گالی اور تحقیر سے بھی بچنا ضروری ہے

بعض اوقات جسمانی سزا سے زیادہ گہرا زخم زبان سے لگتا ہے۔ بچے کو بار بار بے وقوف، بدذات یا دوسرے تحقیر آمیز ناموں سے پکارنا، اس کے ماں باپ کو برا کہنا یا اس کے خاندان کو گالی دینا تربیت نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ

مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔

حوالہ: البخاری، صحيح البخاري، کتاب الإيمان، باب خوف المؤمن من أن يحبط عمله وهو لا يشعر، حدیث: 48؛ مسلم، صحيح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 64۔

ایک دوسری حدیث میں فرمایا:

لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ

مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا۔

حوالہ: محمد بن عیسیٰ الترمذی، الجامع الكبير، تحقیق: بشار عواد معروف، دار الغرب الإسلامي، بیروت، 1998ء، أبواب البر والصلة، حدیث: 1977۔

استاد کو بچے کی غلطی بتانے کا حق ہے، اسے ذلیل کرنے کا نہیں۔

امیر اور غریب طالب علم میں فرق نہ ہو

اسلامی تربیت عدل پر قائم ہے۔ استاد کے سامنے امیر کا بچہ اور غریب کا بچہ یکساں عزت کے مستحق ہیں۔ کسی بااثر خاندان کے بچے سے نرم لہجہ اختیار کرنا اور کمزور یا غریب بچے پر غصہ نکالنا تعلیم اور دیانت دونوں کے خلاف ہے۔

اگر کہیں ایسا رویہ پایا جائے تو اس کی اصلاح ضروری ہے۔ البتہ اس قسم کی خرابی کو تمام اساتذہ یا تمام مدارس کی طرف منسوب کرنا بھی انصاف نہیں۔

بہت سے مدارس، مکاتب اور اسکولوں میں ایسے اساتذہ موجود ہیں جو معمولی معاوضے کے باوجود برسوں بچوں کو محبت اور اخلاص سے پڑھاتے ہیں۔ چند افراد کی زیادتی کی وجہ سے پورے طبقے کو مجرم ٹھہرانا درست نہیں؛ اسی طرح ادارے کی عزت کے نام پر حقیقی زیادتی کو چھپانا بھی درست نہیں۔

بے جا سختی کے تربیتی نقصانات

علامہ عبدالرحمن ابن خلدون رحمہ اللہ نے بچوں اور متعلمین کے ساتھ غیر ضروری سختی کے نقصان پر مستقل گفتگو کی ہے۔ ان کا عنوان ہے:

في أن الشدة على المتعلمين مضرة بهم

متعلمین کے ساتھ سخت گیری ان کے لیے نقصان دہ ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ مسلسل قہر اور سختی انسان کی طبیعت کو دبا دیتی ہے اور بعض اوقات اسے جھوٹ، حیلہ اور اپنی اصل کیفیت چھپانے کا عادی بنادیتی ہے۔

حوالہ: عبدالرحمن بن محمد ابن خلدون، المقدمة، فصل: «في أن الشدة على المتعلمين مضرة بهم»۔ اصل مضمون میں مطبوعہ نسخہ کے حوالے سے: مقدمہ ابن خلدون، ص 540۔

اس بات کو بھی مبالغے کے بغیر سمجھنا چاہیے۔ ہر سختی کا نتیجہ لازماً یہ نہیں ہوتا کہ بچہ مجرم بن جائے، لیکن مسلسل مار، خوف اور تحقیر سے بچے میں جھوٹ، خوف، ضد یا تعلیم سے بیزاری پیدا ہوسکتی ہے۔

دینی تعلیم میں معاملہ مزید حساس ہوجاتا ہے۔ اگر بچہ استاد کے ظلم کو دین کے ساتھ جوڑ بیٹھے تو اس کی دینی رغبت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے قرآن پڑھانے والے استاد کو دوسروں سے بڑھ کر اپنے اخلاق، زبان اور طرزِ تربیت کی حفاظت کرنی چاہیے۔

انتظامیہ اور والدین کی ذمہ داری

کسی ادارے میں استاد کے خلاف شکایت آئے تو نہ فوراً استاد کو مجرم سمجھ لینا درست ہے اور نہ ہر حال میں استاد کا دفاع کرنا۔

مہتمم، ناظم یا پرنسپل کو معاملے کی تحقیق کرنی چاہیے۔ بچے، استاد اور ضرورت ہو تو دوسرے متعلقہ افراد کی بات سنی جائے۔ اگر شکایت درست ثابت ہو تو استاد کی اصلاح کی جائے، اسے مناسب تربیت دی جائے اور سنگین یا مسلسل زیادتی کی صورت میں بچوں کو اس کے نقصان سے محفوظ کیا جائے۔

استاد کی عزت اپنی جگہ ہے، لیکن طالب علم بھی امانت ہے۔

اسی طرح والدین کو بھی ہر جائز تنبیہ کو ظلم نہیں سمجھنا چاہیے۔ بچے کی ہر شکایت پر استاد کو برا کہنا اور بچے کو ہر حال میں بے قصور سمجھنا بھی تربیت کے لیے نقصان دہ ہے۔

درست راستہ دونوں طرف عدل کا ہے۔

بہتر تربیت کا طریقہ

تربیت میں پہلی ترجیح بات سمجھانے، نصیحت، ترغیب، مناسب تنبیہ، غلطی کا سبب معلوم کرنے اور والدین کے تعاون کو ہونی چاہیے۔

ضرورت کے بغیر جسمانی سزا اختیار نہ کی جائے۔ اور جہاں کسی معتبر فقہی رائے کے مطابق اس کی گنجائش ہو، وہاں بھی وہ ہلکی، محدود، اصلاح کی نیت سے اور جسمانی نقصان سے پاک ہو۔

خصوصاً چہرے، سر اور نازک اعضاء پر ضرب، لکڑی یا خطرناک چیزوں کا استعمال، شدید مار، گالی، تحقیر اور غصے میں سزا دینے سے اجتناب ضروری ہے۔

خلاصہ

اسلام استاد کو بے اختیار نہیں بناتا اور نہ بچے کو ظلم کے حوالے کرتا ہے۔

تادیب کی اصل گنجائش موجود ہے، مگر یہ حکمت، ضرورت، اعتدال اور عدمِ ضرر سے مشروط ہے۔ استاد کا مقصد بچے کو سدھارنا ہے، اسے زخمی یا ذلیل کرنا نہیں۔

چہرے اور نازک اعضاء پر مارنے کی ممانعت ثابت ہے۔ جسمانی نقصان پہنچانے والی شدید ضرب جائز تادیب نہیں۔ حد سے بڑھنے والا استاد فقہی اعتبار سے بھی جواب دہ ہوسکتا ہے۔ گالی، تحقیر اور طبقاتی امتیاز اسلامی تربیت کے مزاج کے خلاف ہیں۔

اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ چند افراد کی غلطیوں کو تمام مدارس، تمام قراء یا تمام اساتذہ کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ اصلاح عدل سے ہوگی، تعمیم اور تحقیر سے نہیں۔

ایک اچھے استاد کی پہچان صرف یہ نہیں کہ اس کے طالب علم سبق یاد کرلیں؛ بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ علم سے محبت، استاد کا احترام، سچائی، ادب اور دین سے تعلق لے کر نکلیں۔

استاد کے ہاتھ میں کتاب بھی ہے اور ایک ننھا دل بھی۔ کتاب پڑھانا ضروری ہے، لیکن اس دل کو توڑنے سے بچانا بھی اسی امانت کا حصہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے اساتذہ، والدین اور تمام مربیان کو علم کے ساتھ حکمت، نظم کے ساتھ شفقت اور اختیار کے ساتھ عدل عطا فرمائے۔ آمین۔

 


Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post