تخلیقِ انسان، انسانی جسم اور حکمتِ الٰہی

انسان جب اپنے وجود پر غور کرتا ہے تو ایک عجیب حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہی جسم جو بظاہر چند بنیادی اعضا کا مجموعہ دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں بے شمار باہم مربوط نظاموں کا ایک نہایت پیچیدہ مجموعہ ہے۔ دل مسلسل دھڑک رہا ہے، پھیپھڑے سانس لے رہے ہیں، دماغ معلومات کو سمجھ رہا ہے، آنکھیں دیکھ رہی ہیں، کان آوازیں سن رہے ہیں اور زبان خیالات کو الفاظ میں ڈھال رہی ہے۔

لیکن قرآن مجید انسان کو صرف اپنے جسم کی پیچیدگی دیکھنے کے لیے نہیں کہتا۔ وہ اسے اپنے اصل، اپنی کمزوری، اپنی عزت اور اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔

انسان کو یہ جاننا ہے کہ وہ کہاں سے آیا، اسے کیا صلاحیتیں دی گئیں، اسے یہ زندگی کیوں ملی اور ان صلاحیتوں کے بارے میں اسے ایک دن جواب بھی دینا ہے۔

انسان کی تخلیق: حیرت سے زیادہ ایک یاد دہانی

قرآن مجید سورۃ المؤمنون میں انسانی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر کرتا ہے:

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ۝ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ۝ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً... (المؤمنون 23:12-14)
ان آیات میں انسانی تخلیق کے مراحل کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا:

فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ
"پس بہت بابرکت ہے اللہ، جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے۔"

ان آیات کا اصل مقصد محض انسانی جنین کی طبی تفصیلات بیان کرنا نہیں۔ سیاق میں انسان کو اس کی ابتدا یاد دلائی جارہی ہے تاکہ وہ اپنی حقیقت کو پہچانے۔

جو انسان اپنی ابتدا کو یاد رکھتا ہے، اس کے لیے تکبر کی گنجائش کم ہوجاتی ہے۔

وہ جانتا ہے کہ آج وہ کتنا ہی طاقتور، تعلیم یافتہ یا صاحبِ حیثیت کیوں نہ ہو، اس کی زندگی ایک ایسے مرحلے سے شروع ہوئی تھی جہاں وہ اپنے لیے کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔

یہی احساس انسان کو شکر اور عاجزی کی طرف لے جاتا ہے۔

قرآن اور جدید علمِ جنین

آج embryology نے انسانی جنین کی نشوونما کے بارے میں بہت تفصیلی معلومات فراہم کردی ہیں۔ خوردبین، ultrasound، imaging techniques اور جدید طبی تحقیق نے انسانی نشوونما کے ان مراحل کے بارے میں ایسی باریک تفصیلات سامنے لائی ہیں جن سے قدیم زمانے کے لوگ اس صورت میں واقف نہیں تھے۔

لیکن یہاں علمی احتیاط بھی ضروری ہے۔قرآن کی آیات کو جدید embryology کی ہر اصطلاح کے ساتھ لفظ بہ لفظ ملانا درست طریقہ نہیں۔ قرآن کا مقصد انسان کو ہدایت دینا ہے، جبکہ جدید طب انسانی جسم اور جنین کی نشوونما کے حیاتیاتی مراحل کی تفصیلی وضاحت کرتی ہے۔

قدیم مفسرین نے بھی ان آیات کو اپنے علمی ماحول اور دستیاب معلومات کی روشنی میں سمجھا۔ اس لیے کسی قدیم تفسیری تعبیر کو جدید طبی اصطلاح کا عین مترادف قرار دینا ضروری نہیں۔

تاہم اس احتیاط کا یہ مطلب بھی نہیں کہ قرآن کے بیان میں موجود ان حقائق کو نظر انداز کردیا جائے جو جدید علم کے ساتھ قابلِ ذکر مطابقت رکھتے ہیں۔ آج سے تقریباً پندرہ سو سال پہلے، جب انسانی جنین کی اندرونی نشوونما کو براہِ راست دیکھنے اور اس کے مراحل کی تفصیلی سائنسی تحقیق کرنے کے موجودہ ذرائع دستیاب نہیں تھے، قرآن مجید نے انسانی تخلیق کے ابتدائی مراحل کی طرف توجہ دلائی۔ بعد کے زمانوں میں انسانی جنین کے بارے میں مشاہداتی اور طبی علم بہت آگے بڑھا اور ان مراحل کے بارے میں تفصیلی معلومات سامنے آئیں۔

یہ بات ایک مسلمان کے لیے قرآن کی صداقت پر غور کرنے کا اہم پہلو ہے۔ قرآن کسی طبی کتاب کے انداز میں embryology کی اصطلاحات بیان نہیں کرتا، لیکن اس کا بیان ایسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے جس کے بہت سے پہلو جدید علم کے ذریعے زیادہ واضح ہوئے ہیں۔ اس لیے ان آیات کو پڑھتے ہوئے ایک مومن کے لیے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں یہ معلومات کہاں سے آئیں؟

قرآن خود کہتا ہے:

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ۝ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ(النجم 53:3–4)
"
اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے۔ یہ تو وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔"

چنانچہ ایک مسلمان کے نزدیک قرآن کی ان آیات میں انسانی تخلیق کے بیان اور بعد میں سامنے آنے والے ثابت شدہ علمی حقائق کا باہمی توافق محض ایک سائنسی دلچسپی نہیں بلکہ قرآن کے وحیِ الٰہی ہونے پر غور کرنے کا ایک سبب بھی ہے۔

البتہ اس استدلال کی مضبوطی اسی میں ہے کہ ہم جہاں تک یقینی علمی مطابقت ثابت ہو، وہیں تک بات کریں۔ ہر جدید طبی دریافت کو قرآن کی پیش گوئی قرار دینا ضروری نہیں۔ قرآن کو ثابت کرنے کے لیے مبالغے کی ضرورت نہیں؛ جو بات حقیقتاً درست اور قابلِ تحقیق ہو، اسے دیانت کے ساتھ پیش کرنا ہی زیادہ مضبوط طرزِ استدلال ہے۔

یوں قرآن کے بیان کو اس کے اصل ہدایت بخش سیاق میں رکھتے ہوئے جدید علم سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ قرآن سائنس کی درسی کتاب نہیں، لیکن جب اس کا بیان کسی ایسی حقیقت سے ہم آہنگ سامنے آتا ہے جسے انسان نے بہت بعد میں مشاہدے اور تحقیق کے ذریعے تفصیل سے سمجھا، تو یہ ایک صاحبِ ایمان انسان کے لیے اپنے کلامِ الٰہی پر یقین کو مزید گہرا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

جسم: کئی نظام، ایک زندگی

انسانی جسم میں اعصابی، قلبی، تنفسی، ہاضمی، عضلاتی، ہارمونی اور مدافعتی نظام جیسے کئی نظام موجود ہیں۔ ہم انہیں الگ الگ نام دیتے ہیں، مگر زندگی میں یہ ایک دوسرے سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔

دل خون کو گردش میں رکھتا ہے۔ پھیپھڑے آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے تبادلے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ گردے جسم میں پانی اور مختلف کیمیائی اجزا کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ دماغ جسم کے متعدد افعال کو منظم کرتا ہے اور بیرونی دنیا سے حاصل ہونے والی معلومات کو سمجھنے اور ان پر ردِعمل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ان میں سے کسی ایک نظام میں معمولی خرابی بھی پورے جسم کو متاثر کرسکتی ہے۔

ہم عام زندگی میں اپنے جسم کو شاید ایک ہی وجود سمجھتے ہیں، مگر طبی علم ہمیں دکھاتا ہے کہ اس ایک وجود کے اندر کتنے پیچیدہ عمل ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل تعاون کر رہے ہیں۔

یہ احساس انسان کو اپنی طاقت کے ساتھ اپنی کمزوری بھی یاد دلاتا ہے۔

زبان: صرف بولنے والا عضو نہیں

انسانی زبان بھی تخلیق کی ایک حیرت انگیز نعمت ہے۔

بظاہر ہم سمجھتے ہیں کہ بولنے کے لیے صرف زبان، ہونٹ اور آواز کافی ہیں، لیکن انسانی speech دراصل دماغ، اعصابی نظام، سانس، حنجرہ، زبان، ہونٹ، سماعت اور سیکھنے کے عمل کے باہمی تعاون سے ممکن ہوتی ہے۔

ہم صرف آواز نہیں نکالتے؛ ہم الفاظ کے ذریعے خیالات، جذبات، یادیں، تصورات اور تجربات دوسروں تک منتقل کرتے ہیں۔

قرآن مجید فرماتا ہے:

خَلَقَ الْإِنسَانَ ۝ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ(الرحمن 55:3-4‎)
"
اس نے انسان کو پیدا کیا، اسے بیان سکھایا۔"

یہاں بیان ایک نہایت وسیع نعمت ہے۔ انسان اپنے خیالات کو الفاظ میں ڈھال سکتا ہے، ماضی کے واقعات محفوظ کرسکتا ہے، مستقبل کے منصوبے بنا سکتا ہے، دوسروں کو تعلیم دے سکتا ہے اور اپنے جذبات دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔

لیکن یہی زبان انسان کی آزمائش بھی ہے۔

ایک ہی زبان سچ بول سکتی ہے اور جھوٹ بھی۔ کسی کو حوصلہ دے سکتی ہے اور کسی کا دل توڑ سکتی ہے۔ علم منتقل کرسکتی ہے اور افواہ بھی پھیلا سکتی ہے۔

اسی لیے قرآن فرماتا ہے:

وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا(الاحزاب 33:70)
"
اور سیدھی، درست بات کہا کرو۔"

انسانی زبان کی عظمت صرف یہ نہیں کہ وہ بول سکتی ہے؛ اصل عظمت یہ ہے کہ انسان کیا بولنے کا انتخاب کرتا ہے۔

انگلیوں کے نشانات: شناخت کی ایک حیرت انگیز مثال

انسانی جسم کی انفرادیت کی ایک نمایاں مثال انگلیوں کے نشانات ہیں۔

انگلیوں اور ہتھیلیوں کی سطح پر موجود friction ridge patterns افراد کی شناخت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور جدید forensic science میں ان کا وسیع استعمال ہوتا ہے۔ یہ ساختیں انسانی شناخت کے لیے نہایت مفید امتیازی خصوصیات فراہم کرتی ہیں۔

قرآن مجید قیامت کے منکر انسان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے:

بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ(القیامۃ 75:4)
"
کیوں نہیں! ہم تو اس کی انگلیوں کے پور تک درست کرنے پر قادر ہیں۔"

اس آیت کا اصل موضوع انسان کو دوبارہ زندہ کیے جانے پر اللہ کی قدرت ہے۔ انگلیوں کے پور کا ذکر انسانی جسم کی باریک ساخت کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔

تاہم یہاں مبالغے سے بچنا ضروری ہے۔ یہ کہنا کہ آیت نے جدید fingerprint identification کا مکمل سائنسی نظریہ بیان کردیا، آیت کے سیاق سے آگے بڑھنا ہوگا۔

زیادہ محتاط بات یہ ہے کہ انسان کے جسم کی انتہائی باریک اور امتیازی ساخت قیامت کے بعد دوبارہ تخلیق پر اللہ کی قدرت کو سمجھنے میں ایک مثال بن سکتی ہے۔

سائنس کے میدان میں بھی fingerprint evidence کو ہر حال میں سو فیصد خطا سے پاک سمجھنا درست نہیں۔ نمونے کا معیار، تجزیے کا طریقہ اور انسانی فیصلہ، سب نتائج پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

دینی استدلال کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ اسے مضبوط بنانے کے لیے مبالغے کی ضرورت نہیں۔

انسان کی اصل فضیلت کیا ہے؟

انسان کی عظمت صرف اس کے جسم کی پیچیدگی میں نہیں۔

قرآن مجید فرماتا ہے:

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ(الاسراء 17:70)
"
اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔"

یہ تکریم انسان کو ایک باوقار مخلوق کے طور پر دیکھنے کا بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ لیکن قرآن اسی انسان کو جواب دہ بھی قرار دیتا ہے۔

انسان کو علم ملا، اختیار ملا، زبان ملی، عقل ملی اور ارادے کی صلاحیت ملی؛ اسی لیے اس سے اس کے اعمال کے بارے میں سوال بھی ہوگا۔

قرآن کہتا ہے:

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا(الشمس 91:9-10)

"یقیناً وہ کامیاب ہوا جس نے نفس کو پاک کیا، اور وہ نامراد ہوا جس نے اسے آلودہ کردیا۔"

یعنی انسان کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ اسے کیا صلاحیتیں دی گئی ہیں، بلکہ اس میں بھی ہے کہ وہ ان صلاحیتوں کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

جسمانی خوبصورتی اور حقیقی قدر

انسانی معاشرہ اکثر ظاہری شکل، رنگ، قد، دولت، لباس یا جسمانی صلاحیت کی بنیاد پر لوگوں کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے۔ اسلام اس پیمانے کو بدل دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ(صحیح مسلم، 2564)
"اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔"
یہ تعلیم انسانی قدر کے بارے میں ایک بنیادی اصلاح کرتی ہے۔

کسی شخص کا رنگ مختلف ہو، جسمانی صلاحیت کم ہو، عمر زیادہ ہو، بیماری لاحق ہو یا معاشی حیثیت کم ہو—ان میں سے کوئی چیز اسے انسانی احترام سے محروم نہیں کرتی۔

قرآن مزید فرماتا ہے:

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ(الحجرات 49:13)
"
بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔"
یہ معیار انسان کو ظاہری امتیاز سے اٹھا کر اخلاقی ذمہ داری کی طرف لے جاتا ہے۔

بیمار، بوڑھے اور کمزور انسان

اگر انسانی قدر کو صرف جسمانی طاقت یا معاشی کارکردگی سے وابستہ کردیا جائے تو بیمار، معذور، بوڑھے اور کمزور لوگ معاشرے کے حاشیے پر چلے جاتے ہیں۔

اسلامی تصور اس کے برعکس ہے۔

بیمار شخص صرف اس لیے کم قدر انسان نہیں کہ وہ کام نہیں کرسکتا۔ ایک معذور فرد صرف اس لیے کم محترم نہیں کہ اس کی جسمانی صلاحیت محدود ہے۔ ایک بوڑھا شخص اپنی پیداواری صلاحیت کم ہوجانے کی وجہ سے بے وقعت نہیں ہوجاتا۔

انسانی کرامت محض productivity کا نام نہیں۔

یہ تصور ہمیں اپنے گھروں، اداروں اور معاشرے میں لوگوں کے ساتھ زیادہ رحم اور احترام سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے۔

جسم اللہ کی امانت ہے

انسان اپنے جسم کا مالکِ مطلق نہیں بلکہ اسے ایک امانت سمجھ کر استعمال کرنے والا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بیماری سے کبھی دوچار نہیں ہوگا یا صرف عبادت اور مثبت سوچ سے ہر بیماری ختم ہوجائے گی۔ بیماری انسانی زندگی کا حصہ ہے اور اس کے جسمانی، نفسیاتی اور ماحولیاتی اسباب ہوسکتے ہیں۔

اسی لیے علاج اختیار کرنا، مناسب غذا لینا، مناسب نیند لینا، ورزش کرنا اور نقصان دہ عادات سے بچنا جسم کے ساتھ ذمہ داری کا حصہ ہیں۔

توکل کا مطلب علاج چھوڑ دینا نہیں۔

ایک مسلمان دوا بھی لیتا ہے، ڈاکٹر سے مشورہ بھی کرتا ہے، احتیاط بھی کرتا ہے اور اللہ سے شفا بھی مانگتا ہے۔

اسی طرح کسی بیمار انسان کو صرف اس بنیاد پر موردِ الزام ٹھہرانا کہ اس کا ایمان کمزور ہے، نہ دینی انصاف ہے نہ طبی علم کے مطابق درست رویہ۔

جسمانی کمزوری ہمیں کیا سکھاتی ہے؟

انسان اپنے جسم کو بہت طاقتور سمجھ سکتا ہے، لیکن ایک معمولی بیماری اسے اپنی حقیقت یاد دلا دیتی ہے۔

ایک معمولی اعصابی خلل، سانس کی دشواری، خون کے کسی جزو میں عدمِ توازن یا جسم کے کسی عضو کی خرابی پوری زندگی کو متاثر کرسکتی ہے۔

یہ کمزوری انسان کی توہین نہیں؛ یہ اس کی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔

انسان کو طاقت دی گئی ہے، مگر مطلق خود کفالت نہیں۔

اسی لیے صحت ملے تو شکر، بیماری آئے تو صبر، اور دونوں صورتوں میں مناسب تدبیر اختیار کرنا ایک متوازن رویہ ہے۔

انسان: حیاتیاتی وجود سے اخلاقی شخصیت تک

انسان ایک biological organism بھی ہے، لیکن صرف biological organism نہیں۔

وہ سوچتا ہے، فیصلہ کرتا ہے، محبت کرتا ہے، وعدہ کرتا ہے، پچھتاتا ہے، خواب دیکھتا ہے اور اپنے اعمال کو درست یا غلط سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

قرآن مجید زندگی اور موت کو آزمائش سے جوڑتا ہے:

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا(الملک 67:2)
"
جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں عمل کے اعتبار سے کون بہتر ہے۔"

یہاں انسانی زندگی کی سمت واضح ہوجاتی ہے۔انسان کا مقصد صرف زندہ رہنا نہیں؛ اچھا عمل کرنا بھی ہے۔

علم حاصل کرنا، اپنی صلاحیت استعمال کرنا، خاندان کی ذمہ داری ادا کرنا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھنا—یہ سب انسانی زندگی کے اخلاقی پہلو ہیں۔

تخلیق پر غور اور خود احتسابی

اپنی تخلیق پر غور انسان کو دو انتہاؤں سے بچا سکتا ہے۔

ایک انتہا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو بے مقصد سمجھ کر ذمہ داری سے فرار اختیار کرے۔

دوسری یہ کہ وہ اپنی عقل، طاقت، دولت یا کامیابی کی وجہ سے خود کو ہر اخلاقی حد سے آزاد سمجھنے لگے۔

اسلامی تصور ان دونوں کے درمیان ہے۔

انسان معزز ہے، لیکن خود مختارِ مطلق نہیں۔

اسے اختیار دیا گیا ہے، مگر جواب دہی کے ساتھ۔

اسے عقل دی گئی ہے، مگر وحی کی رہنمائی بھی دی گئی ہے۔

اسے دنیا سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے، مگر ظلم اور فساد کی اجازت نہیں۔

جسم کی حفاظت اور روح کی تربیت

انسان کے جسم اور اخلاق کو ایک دوسرے سے بالکل جدا نہیں کیا جاسکتا۔

مسلسل بے احتیاطی، نشہ، جسم کو نقصان پہنچانے والی عادات یا صحت کو جان بوجھ کر تباہ کرنا انسان کی ذمہ داری کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔

لیکن جسم کی دیکھ بھال کا مقصد صرف ظاہری خوبصورتی نہیں ہونا چاہیے۔

ایک خوبصورت جسم اخلاقی کردار کی ضمانت نہیں، اور جسمانی کمزوری اخلاقی کمزوری کی علامت نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ انسان کو جو جسم، عقل، وقت اور صلاحیت ملی ہے، وہ اسے کہاں استعمال کرتا ہے۔

انسانی زبان: نعمت بھی، امتحان بھی

زبان کے بارے میں ایک لمحے کے لیے غور کریں۔

ایک لفظ کسی مایوس شخص کو امید دے سکتا ہے۔ ایک لفظ کسی ٹوٹے ہوئے دل کو مزید زخمی کرسکتا ہے۔ ایک سچی گواہی کسی مظلوم کا حق واپس دلا سکتی ہے، اور ایک جھوٹ کسی بے گناہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اسی لیے زبان کی نعمت صرف بولنے کی قدرت نہیں بلکہ اخلاقی اختیار بھی ہے۔

قرآن کا حکم ہے:

وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا

سچی اور درست بات کرنا صرف مذہبی مجلس کی خوبی نہیں؛ گھر، دفتر، کاروبار، سوشل میڈیا اور دوستی ہر جگہ اس کا امتحان ہوتا ہے۔

آج کے دور میں یہ تعلیم پہلے سے زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ایک شخص کی زبان سے نکلا ہوا جملہ چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔

انسانی جسم پر غور کا اصل مقصد

انسانی جسم کے عجائب پر جتنا چاہیں غور کریں، اگر اس سے صرف حیرت پیدا ہو اور زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو بات ادھوری رہ جاتی ہے۔

تخلیقِ انسان کا شعور ہمیں کم از کم چار چیزیں سکھا سکتا ہے:

اپنی ابتدا یاد رکھنا،اپنی نعمتوں پر شکر کرنا،اپنی کمزوری کو سمجھنا،اور اپنی ذمہ داری کو پہچاننا۔

انسان کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ کائنات پر مکمل اختیار رکھتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ اسے اختیار، عقل اور اخلاقی شعور دے کر امتحان میں ڈالا گیا ہے۔

اختتامیہ

انسان اپنے جسم میں ایک پوری دنیا لیے پھرتا ہے۔

اس کے دل کی دھڑکن، سانس کی روانی، دماغ کی سرگرمی، زبان کی صلاحیت، آنکھ کی بینائی، ہاتھ کی حرکت اور جسم کے اندر جاری بے شمار خاموش عمل اسے ہر لمحہ یاد دلاتے ہیں کہ زندگی ایک معمولی عطیہ نہیں۔

لیکن قرآن انسان کو جسم کی حیرت پر رکنے نہیں دیتا۔

وہ اسے اس سے آگے لے جاتا ہے۔

تمہاری ابتدا کیا تھی؟تمہیں یہ زندگی کیوں ملی؟تمہیں جو عقل اور زبان دی گئی، تم نے اسے کہاں استعمال کیا؟تم نے اپنی طاقت سے کس کو فائدہ پہنچایا اور کس و نقصان؟اور جب تمہیں صحت، جوانی اور صلاحیت ملی تو تم نے اس کا کیا کیا؟

یہی سوال تخلیقِ انسان کے موضوع کو محض طبی معلومات سے ایک زندہ اخلاقی سبق بنا دیتے ہیں۔

انسان کی جسمانی ساخت اسے اللہ کی قدرت کی یاد دلاتی ہے، اس کی کمزوری اسے عاجزی سکھاتی ہے، اس کی زبان اسے ذمہ داری یاد دلاتی ہے اور اس کا اخلاقی شعور اسے جواب دہی کی طرف لے جاتا ہے۔

پس انسان کی اصل عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ کتنا پیچیدہ ہے؛ بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی صلاحیتوں کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اور شاید یہی انسانی تخلیق پر غور کرنے کا سب سے اہم سبق ہے:

اپنے جسم کو دیکھ کر خالق کو پہچانو، اپنی کمزوری کو دیکھ کر عاجز رہو، اپنی نعمتوں کو دیکھ کر شکر کرو، اور اپنی صلاحیتوں کو دیکھ کر اپنی ذمہ داری یاد رکھو۔

بنیادی مراجع

  • القرآن الکریم: المؤمنون 23:12–14
  • القرآن الکریم: الرحمن 55:3–4
  • القرآن الکریم: الاحزاب 33:70
  • القرآن الکریم: الاسراء 17:70
  • القرآن الکریم: الشمس 91:9–10
  • القرآن الکریم: الحجرات 49:13
  • القرآن الکریم: الملک 67:2
  • صحیح مسلم، حدیث 2564
  • تفسیر الطبری، متعلقہ آیات
  • تفسیر ابن کثیر، متعلقہ آیات
  • NIST، Fingerprint / Friction Ridge Analysis resources
  • جدید طبی و حیاتیاتی مراجع برائے انسانی جسم اور embryology

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post