لڑکا ماموں کے اور لڑکی چچا کے مشابہ کیوں ہوتی ہے؟
احادیثِ نبویہ، خاندانی مشابہت اور جدید علمِ وراثت کے آئینے میں
چہرہ نیا، نقش پرانے
اولاد کی مشابہت، احادیثِ نبویہ اور علمِ وراثت
رات کافی گزر چکی
تھی۔ اسپتال کے کمرے کے باہر عبداللہ کے گھر والے بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔
کچھ دیر بعد اندر سے خوش خبری آئی کہ اللہ تعالیٰ نے عبداللہ کو پہلی اولاد، ایک
بیٹے سے نوازا ہے۔ گھر والوں کے چہروں پر یکایک خوشی پھیل گئی۔
جب نرس نومولود کو
دادی کی گود میں دے گئی تو انہوں نے بچے کو بڑے غور سے دیکھا۔ کبھی اس کی آنکھوں
کو دیکھتیں، کبھی چہرے کے نقوش کو۔ پھر بے اختیار مسکرا کر بول اٹھیں:
"ارے!
یہ تو بالکل اپنے ماموں پر گیا ہے!"
پاس بیٹھی پھوپھی
نے بھی بچے کو دیکھا اور ہنس کر کہا:
"آپ کو
ماموں نظر آ رہے ہیں، مجھے تو اس میں اپنے بھائی، یعنی بچے کے چچا کی جھلک دکھائی
دے رہی ہے۔"
اب تو ہر ایک نے
اپنی اپنی مشابہت تلاش کرنا شروع کردی۔ کسی کو نانا یاد آئے، کسی کو دادا، کسی کو
ماموں اور کسی کو چچا۔
یہ منظر ہمارے
گھروں میں کچھ نیا نہیں۔ نومولود کو دیکھتے ہی خاندان کے بزرگ اس کے چہرے میں اپنی
نسل کے مختلف چہروں کی جھلک تلاش کرنے لگتے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بچے کی
اپنے ماموں یا چچا سے مشابہت کا ذکر صرف ہمارے خاندانی مشاہدے تک محدود نہیں؛ رسول
اللہ ﷺ کی صحیح احادیث میں بھی اس مشابہت کا واضح ذکر ملتا ہے۔
یہ منظر ہمارے
گھروں میں نیا نہیں۔ خاندان میں کسی بچے کی شکل دیکھ کر بزرگوں کا یہ کہنا کہ
"یہ فلاں پر گیا ہے" ہماری روزمرہ زندگی کا ایک نہایت دلچسپ تجربہ ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس مشابہت کا ذکر صرف خاندانی مشاہدے تک محدود ہے؟
حیرت کی بات یہ ہے
کہ رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث میں بھی بچے کی اپنے ماموں اور چچا سے مشابہت کا
ذکر موجود ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے
بچے کی خاندانی مشابہت کا ذکر فرمایا
حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عورت کے احتلام کے متعلق
سوال کیا۔ گفتگو کے دوران بچے کی مشابہت کا ذکر آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«دَعِيهَا،
وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ، إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ
الرَّجُلِ أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ
مَاءَهَا أَشْبَهَ أَعْمَامَهُ»
یعنی:
"اسے
چھوڑ دو۔ بچے کی مشابہت بھی تو اسی سبب سے ہوتی ہے؛ جب عورت کا پانی مرد کے پانی
پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے، اور جب مرد کا پانی عورت کے
پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا ہے۔"
حوالہ: صحیح مسلم،
حدیث 314۔
یہ روایت صحیح ہے۔
یہاں دو الفاظ خاص
توجہ چاہتے ہیں: أخوالہ اور أعمامہ۔
اخوال سے مراد ماموں
اور اعمام سے مراد چچا ہیں۔ گویا رسول اللہ ﷺ نے صرف ماں یا باپ سے مشابہت
کی بات نہیں فرمائی بلکہ ماں کے بھائی اور باپ کے بھائی سے بچے کی مشابہت کا بھی
ذکر فرمایا۔
یہ بات آج کے قاری
کے لیے خاص طور پر دلچسپ ہے، کیونکہ جدید علمِ وراثت بھی یہ بتاتا ہے کہ اولاد کو
اپنی ظاہری اور جسمانی خصوصیات صرف والدین سے نہیں بلکہ ان کے ذریعے خاندان کے
سابقہ افراد سے بھی وراثتی اثرات مل سکتے ہیں۔
لیکن اس کا مطلب
یہ نہیں کہ ہر لڑکا ماموں جیسا اور ہر لڑکی چچا جیسی ہوگی
یہاں ایک بات
ابتدا ہی میں واضح رہنی چاہیے۔
حدیث یہ نہیں کہتی
کہ ہر لڑکا اپنے ماموں کے مشابہ ہوگا یا ہر لڑکی اپنے چچا کے مشابہ ہوگی۔
بلکہ حدیث ایک ایسے امکان اور خاندانی مشابہت کا ذکر کرتی ہے جو بعض صورتوں میں
ظاہر ہوسکتی ہے۔
ہم اپنے معاشرے
میں بھی دیکھتے ہیں کہ ایک ہی خاندان کے دو بھائیوں کے بچے ایک دوسرے سے بہت مختلف
ہوتے ہیں۔ کسی کی آنکھیں دادا سے ملتی ہیں، کسی کے بال نانا کی طرف جاتے ہیں، کسی
کے چہرے کے نقوش ماں کے بھائی سے مشابہ ہوجاتے ہیں اور کسی میں باپ کے خاندان کی
جھلک زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بچے
کی مشابہت کو ایک سادہ، یک رخی فارمولے میں بند نہیں کیا جاسکتا۔
ایک دوسری صحیح
حدیث: لڑکا یا لڑکی ہونے کا ذکر
اسی موضوع سے
متعلق حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت صحیح مسلم میں موجود ہے۔ ایک یہودی عالم
نے رسول اللہ ﷺ سے بچے کے متعلق سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
«مَاءُ
الرَّجُلِ أَبْيَضُ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ، فَإِذَا اجْتَمَعَا فَعَلَا
مَنِيُّ الرَّجُلِ مَنِيَّ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَا بِإِذْنِ اللَّهِ، وَإِذَا عَلَا
مَنِيُّ الْمَرْأَةِ مَنِيَّ الرَّجُلِ أَنَّثَا بِإِذْنِ اللَّهِ»
یعنی حدیث میں مرد
اور عورت کے مادّے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ جب دونوں جمع ہوتے ہیں اور ایک
دوسرے پر غلبہ پاتا ہے تو اللہ کے اذن سے اولاد کے مذکر یا مؤنث ہونے کا تعلق اس
سے بیان کیا گیا ہے۔
حوالہ: صحیح مسلم،
حدیث 315۔
یہاں حدیث کا آخری
جملہ نہایت معنی خیز ہے:
"بِإِذْنِ
اللَّهِ" — اللہ کے اذن سے۔
یعنی اس پورے نظام
کو محض طبعی اسباب کا کھیل نہیں سمجھا گیا؛ اسباب اپنی جگہ ہیں، مگر نتیجہ اللہ
تعالیٰ کی مشیت اور قدرت کے تحت ہے۔
قرآن بھی اسی
حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے:
﴿هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي
الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ﴾( آل عمران: 6)
"وہی ہے
جو تمہیں رحموں میں جس طرح چاہتا ہے صورت عطا کرتا ہے۔"
آج کی سائنس اس
بارے میں کیا کہتی ہے؟
یہاں جدید علمِ
وراثت ایک نہایت دلچسپ تصویر سامنے لاتا ہے۔
آج ہمیں معلوم ہے
کہ انسانی جسم کے خلیات میں عموماً 46 کروموسوم ہوتے
ہیں؛ ان میں سے نصف ماں کی طرف سے اور نصف باپ کی طرف سے آتے ہیں۔ جینز
DNA میں
موجود وراثتی معلومات رکھتے ہیں اور جسمانی خصوصیات کے تعین میں اہم کردار ادا
کرتے ہیں۔
انسان کی قدوقامت،
بالوں، آنکھوں، جلد اور چہرے کے مختلف نقوش جیسی بہت سی خصوصیات میں جینیاتی عوامل
اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ایک بچہ اپنے والدین سے جینیاتی مواد حاصل کرتا ہے، اور
والدین خود اپنے والدین سے وہ جینیاتی خصوصیات لے کر آئے ہوتے ہیں۔ یوں خاندان کی
پرانی خصوصیات بعض اوقات نئی نسل میں دوبارہ نمایاں ہوسکتی ہیں۔
اسی لیے یہ کوئی
عجیب بات نہیں کہ کسی بچے کے چہرے میں اس کے والد سے زیادہ اس کے چچا کی جھلک
دکھائی دے، یا ماں کے بجائے ماموں کے بعض نقوش نمایاں ہوجائیں۔
نوٹ: حدیث کے لفظ
"ماء" سے لازماً جدید سائنس کا DNA، جین یا کروموسوم ہی مراد ہے۔
یہ الفاظ حدیث کے
اپنے ہیں اور ان کی تشریح محدثین نے اپنے علمی فہم کے مطابق کی ہے۔ جدید جینیات
ایک الگ علمی نظام ہے جس میں DNA، جینز، کروموسوم، alleles اور
genetic recombination جیسی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ حدیث میں
یہ جدید اصطلاحات موجود نہیں۔
اس لیے صحیح طریقہ
یہ ہے کہ حدیث کو حدیث کی حیثیت سے سمجھا جائے اور سائنس کو سائنس کی حیثیت سے۔
جہاں دونوں کے درمیان ایک قابلِ فہم مناسبت نظر آئے وہاں اسے مناسبت کہا جاسکتا
ہے، مگر سائنسی نظریے کو حدیث کا لفظ قرار دینا درست نہیں۔
ماموں یا چچا کی
مشابہت کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟
جدید جینیات کی
روشنی میں اس بات کو سادہ الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے:
ایک شخص اپنی بہت
سی جینیاتی خصوصیات اپنے والدین سے حاصل کرتا ہے۔ پھر جب اس کی اولاد ہوتی ہے تو
اس کی اپنی جینیاتی خصوصیات کا ایک حصہ بچے کو منتقل ہوتا ہے۔ والد کے اندر موجود
بعض خصوصیات اس کے بھائیوں یعنی بچے کے چچاؤں میں بھی مشترک نسب کی وجہ سے پائی
جاسکتی ہیں۔ اسی طرح ماں اور اس کے بھائیوں یعنی بچے کے ماموؤں میں بھی خاندانی
جینیاتی اشتراک موجود ہوتا ہے۔
نتیجہ یہ ہوسکتا
ہے کہ کسی بچے میں خاندان کی کوئی ایسی ظاہری خصوصیت دوبارہ نمایاں ہوجائے جو اس
کے ماموں یا چچا میں بھی واضح ہو۔
یہاں
"مشابہت" کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ اپنے ماموں کا جینیاتی طور پر بیٹا بن
گیا؛ بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایک ہی خاندان میں منتقل ہونے والی بعض وراثتی خصوصیات
مختلف افراد میں دوبارہ ظاہر ہوسکتی ہیں۔
یہ بات جدید علمِ
وراثت کے عمومی اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔
لڑکا اور لڑکی
ہونے کے بارے میں جدید علم کیا کہتا ہے؟
جدید طب کے مطابق
انسان میں جنسی کروموسوم کا بنیادی نظام عموماً XX اور
XY کی
صورت میں بیان کیا جاتا ہے۔ ماں کا بیضہ عموماً X کروموسوم فراہم
کرتا ہے، جبکہ باپ کا sperm X یا
Y کروموسوم
فراہم کرسکتا ہے۔ X کی صورت میں عموماً XX اور
Y کی
صورت میں عموماً XY ترتیب بنتی ہے۔ Y کروموسوم پر موجود
SRY جین
عام طور پر مردانہ جنسی نشوونما کے آغاز میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہاں بھی ایک اہم
بات سامنے آتی ہے:
جدید سائنس نے اس
پورے عمل کے جینیاتی اور کروموسومی پہلو کو بہت تفصیل سے سمجھ لیا ہے، لیکن
اس سائنسی تفصیل کو حدیث کے الفاظ کا لفظی ترجمہ قرار دینا درست نہیں۔
حدیث نے اپنا بیان
اپنے اسلوب میں دیا ہے، اور جدید علم نے اپنا مشاہدہ اپنی اصطلاحات میں بیان کیا
ہے۔دونوں کو ایک دوسرے پر زبردستی مطابقت کے بجائے دونوں کو ان کی اپنی جگہ سمجھنا
زیادہ مناسب ہے۔
"غلبہ"
سے کیا مراد ہے؟
حدیث میں "علا" کا لفظ
آیا ہے، جس کا ترجمہ عام طور پر "غالب ہونا" یا "برتر ہونا"
کیا جاتا ہے۔ محدثین نے اس لفظ اور اس سے متعلق روایات کی مختلف جہتوں سے وضاحت کی
ہے۔
لیکن یہ کہنا کہ
"غلبہ" سے لازماً آج کی زبان میں sperm کی تعداد، DNA کی
طاقت یا کسی مخصوص chromosome کا جسمانی طور پر
دوسرے پر غالب آجانا مراد ہے، ایسی تعیین ہے جس پر ہمیں حدیث کے الفاظ کی بنیاد پر
اصرار نہیں کرنا چاہیے۔
یہاں ایک خوب صورت
علمی اصول سامنے آتا ہے:
جہاں وحی نے بات
واضح کردی ہو وہاں اسے قبول کیا جائے، اور جہاں وحی نے تفصیلی سائنسی میکانزم بیان
نہ کیا ہو وہاں اپنی طرف سے کوئی میکانزم گھڑنے سے گریز کیا جائے۔
یہی طرزِ فکر حدیث
کی عظمت کو بھی محفوظ رکھتا ہے اور سائنس کی حقیقت کو بھی۔
ایک ہی خاندان میں
بچے اتنے مختلف کیوں ہوتے ہیں؟
یہ سوال بھی اسی
موضوع سے جڑا ہوا ہے۔
اگر ایک ہی ماں
باپ کے بچے ہیں تو سب ایک جیسے کیوں نہیں ہوتے؟
اس کا جواب جدید
جینیات میں genetic
recombination
اور
وراثتی تنوع کے اصولوں میں ملتا ہے۔ والدین سے آنے والی جینیاتی معلومات ہر بچے
میں عین ایک ہی انداز سے جمع نہیں ہوتیں۔ اسی لیے ایک ہی خاندان میں بہن بھائیوں
کے چہرے، قد، رنگ، بال، آنکھوں اور دوسری بہت سی خصوصیات مختلف ہوسکتی ہیں۔
جینیاتی recombination اولاد میں اس تنوع کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
چنانچہ کبھی دادی
بچے کو دیکھ کر کہتی ہیں:
"یہ تو
بالکل ہمارے خاندان پر گیا ہے!"
اور کبھی نانا
مسکرا کر کہتے ہیں:
"اس میں
تو اپنی بیٹی کا بچپن نظر آرہا ہے۔"
دونوں اپنے مشاہدے
میں درست ہوسکتے ہیں؛ کیونکہ وراثت کسی ایک چہرے کی نقل تیار نہیں کرتی، بلکہ نسل
در نسل منتقل ہونے والی بے شمار خصوصیات کا ایک نیا امتزاج سامنے لاتی ہے۔
حدیث اور جدید
سائنس: ٹکراؤ نہیں، مگر زبردستی کی تطبیق بھی نہیں
اس موضوع پر دو
انتہائیں سامنے آتی ہیں۔
ایک طرف وہ لوگ
ہیں جو حدیث کے ہر لفظ کو فوراً کسی جدید سائنسی اصطلاح کا نام دے دیتے ہیں۔ دوسری
طرف وہ لوگ ہیں جو قدیم حدیثی بیان اور جدید علم کے درمیان کسی بھی قسم کی مناسبت
کو دیکھنے سے انکار کردیتے ہیں۔
زیادہ متوازن
راستہ یہ ہے کہ ہم دونوں کو ان کے اصل دائرے میں سمجھیں۔
رسول اللہ ﷺ نے
بچے کی مشابہت، ماں اور باپ کے مادّے، اور اللہ کے اذن سے اولاد کے مذکر یا مؤنث
ہونے کے بارے میں بات فرمائی۔ یہ احادیث صحیح مسلم میں موجود ہیں اور ان کی
صحت میں کلام نہیں۔
آج کا علم ہمیں
بتاتا ہے کہ اولاد کی جسمانی خصوصیات وراثتی معلومات سے وابستہ ہیں، DNA اور
جینز اس عمل میں بنیادی کردار رکھتے ہیں، اور والدین سے ملنے والی جینیاتی معلومات
مختلف انداز میں مجتمع ہوکر اولاد میں نئی ظاہری خصوصیات پیدا کرتی ہیں۔
لیکن اس سے آگے
بڑھ کر یہ کہنا کہ "حدیث میں فلاں لفظ
سے عین DNA مراد ہے" یا "علا کا
مطلب Y chromosome کا غالب آنا ہے" ایک
ایسی تطبیق ہوگی جس کے لیے حدیث کے الفاظ میں صریح دلیل موجود نہیں۔
علمی دیانت کا
تقاضا یہی ہے کہ جہاں یقین ہے وہاں یقین سے بات کی جائے اور جہاں احتمال ہے وہاں
احتمال ہی کو احتمال کہا جائے۔
اصل سبق مشابہت سے
کہیں بڑا ہے
بچے کے چہرے میں
ماموں کی آنکھیں ہوں یا چچا کی پیشانی، نانا کی مسکراہٹ ہو یا دادا کے نقوش، یہ سب
انسان کو ایک حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں:
انسان اپنی ذات
میں ایک نسل کا نہیں، نسلوں کا تسلسل ہے۔
ہم اپنے اندر اپنے
والدین کی کچھ جھلکیاں لیے پھرتے ہیں، وہ اپنے والدین کی کچھ نشانیاں لیے ہوئے
تھے، اور یوں انسان کی صورت میں ایک طویل خاندانی داستان چلتی رہتی ہے۔
پھر بھی ہر بچہ
اپنی الگ شخصیت ہے۔
وہ کسی کا عکس
نہیں، اللہ تعالیٰ کی ایک نئی تخلیق ہے۔
اسی لیے قرآن مجید
کا یہ جملہ اس پورے معاملے پر گویا ایک آخری مہر لگا دیتا ہے:
﴿هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي
الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ﴾( آل عمران: 6)
"وہی ہے
جو تمہیں رحموں میں جس طرح چاہتا ہے صورت عطا کرتا ہے۔"
سائنس ہمیں بتاتی
ہے کہ وراثت کیسے کام کرتی ہے؛ حدیث ہمیں اس تخلیقی نظام کی ایک ایسی جہت دکھاتی
ہے جس میں بچے کی مشابہت کا تعلق ماں اور باپ کے خاندانوں سے بھی بیان ہوا ہے؛ اور
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ان تمام اسباب کے پیچھے آخرکار مصورِ حقیقی اللہ
تعالیٰ ہی ہے۔
پس اگلی مرتبہ کسی
نومولود کو دیکھ کر دادی کہیں:
"ارے!
یہ تو بالکل اپنے ماموں پر گیا ہے!"
اور پھوپھی جواب
دے:
"نہیں،
مجھے تو اس میں اپنے بھائی یعنی بچے کے چچا کی صورت نظر آرہی ہے!"
تو شاید اس چھوٹی
سی خاندانی گفتگو میں ہمیں ایک بہت بڑا سبق بھی دکھائی دے:
مشابہت خاندان سے
آتی ہے، اسباب قدرت کے نظام میں چلتے ہیں، مگر صورت بنانے والا اللہ ہے۔
اور شاید اسی لیے
ایک نومولود کا چھوٹا سا چہرہ کبھی کبھی پوری نسل کی کتاب کھول دیتا ہے۔
حوالہ جات
1. صحیح
مسلم، کتاب الحیض، حدیث 314 — بچے کے ماموں اور چچا سے مشابہت کے
بارے میں۔
2. صحیح
مسلم، کتاب الحیض، حدیث 315 — مرد و عورت کے مادّے اور اولاد کے
مذکر و مؤنث ہونے کے بارے میں۔
3. القرآن،
آل عمران: 6 — رحموں میں صورت گری اللہ تعالیٰ کے
اختیار میں ہونے کا بیان۔
4. MedlinePlus
/ U.S. National Library of Medicine — انسانی
chromosomes، DNA
اور
والدین سے جینیاتی وراثت کے بنیادی اصول۔
5. MedlinePlus
Genetics
— Y chromosome اور SRY gene کا جدید طبی بیان۔
6. NHGRI
— National Human Genome Research Institute — genetic
inheritance اور
recombination کی
بنیادی وضاحت۔

Post a Comment