موضوع: علمِ تجوید کی تعریف، اہمیت اور فضیلت
)سوال و
جواب — مثالوں کے ساتھ(
وَرَتِّلِ
الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا)سورۃ المزمل: ٤(
علمِ تجوید — تعریف و اہمیت
سوال ١: تجوید کی
لغوی تعریف کیا ہے؟
جواب: تجوید عربی
لفظ "جَوَّدَ" سے ماخوذ ہے جس کے
معنی ہیں — کسی چیز کو خوب اچھا، بہتر اور خوبصورت بنانا۔
مثال: جیسے کہتے
ہیں "اُس نے اپنا کام خوب جَوَّدَ کیا" — یعنی
بہت اچھا کیا۔
سوال ٢: تجوید کی
اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
جواب: قرآن کریم
کے ہر حرف کو اس کے صحیح مخرج سے ادا کرنا اور تمام لازمی و عارضی صفات کی مکمل
رعایت رکھتے ہوئے پڑھنا — تجوید کہلاتا ہے۔
مثال: "اَلرَّحْمٰنِ" میں
را کو تفخیم سے، میم کو غنہ سے اور نون کو واضح پڑھنا — یہی تجوید ہے۔
سوال ٣: تجوید کا
موضوع کیا ہے؟
جواب: علم تجوید
کا موضوع قرآن کریم کے حروف و کلمات ہیں — یعنی ہر حرف کو اس کے حق (لازمی صفات)
اور مستحق (عارضی صفات) کے ساتھ ادا کرنا۔
مثال: "ق"
کا حق یہ ہے کہ قلقلہ کے ساتھ پڑھا جائے — اور اس کا مستحق یہ ہے کہ ہمیشہ تفخیم
سے پڑھا جائے۔
سوال ٤: تجوید کا
حکم شرعی کیا ہے؟
جواب: تجوید کے دو
احکام ہیں: (١) علم تجوید سیکھنا — فرضِ کفایہ ہے۔ (٢) تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا —
فرضِ عین ہے، یعنی ہر مسلمان پر لازم ہے۔
مثال: جیسے نماز
پڑھنا ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے — ویسے ہی تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا بھی ہر مسلمان
پر فرضِ عین ہے۔
سوال ٥: تجوید کی
غرض و غایت کیا ہے؟
جواب: تجوید کی
غرض و غایت یہ ہے کہ قرآن کریم کو ہر غلطی سے بچا کر اسی طرح پڑھا جائے جیسے رسول
اللہ ﷺ نے پڑھا اور جبریل امین نے سکھایا — تاکہ کلامِ الٰہی کی عظمت برقرار رہے۔
مثال: حضرت اُمّ
سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ ﷺ ہر حرف کو الگ الگ واضح ادا فرماتے تھے — یہی
تجوید کا اصل مقصد ہے۔
سوال ٦: لحنِ جلی
کسے کہتے ہیں؟
جواب: لحنِ جلی وہ
واضح اور کھلی غلطی ہے جس سے معنی بدل جائے اور جسے عالم اور عامی دونوں سمجھ سکیں
— یہ حرام ہے اور اس سے بچنا فرض ہے۔
مثال: "اَنْعَمْتَ" کو "اَنْعَمْتُ" پڑھنا
— زبر کی جگہ پیش پڑھنے سے معنی بالکل بدل جاتا ہے — یہ لحنِ جلی ہے۔
سوال ٧: لحنِ خفی
کسے کہتے ہیں؟
جواب: لحنِ خفی وہ
پوشیدہ غلطی ہے جو صرف تجوید کے ماہر کو معلوم ہو — عام آدمی نہ پکڑ سکے۔ یہ مکروہ
ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے۔
مثال: "اَلرَّحْمٰنِ"
میں
را کی تفخیم نہ کرنا — عام آدمی نہیں سمجھے گا لیکن ماہر فوراً پکڑے گا — یہ لحنِ
خفی ہے۔
سوال ٨: تجوید کی
دلیل قرآن سے کیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ
نے ارشاد فرمایا: "وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا" — اور
قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ (سورۃ المزمل: ٤)
مثال: ترتیل کا
مطلب ہے — ہر حرف واضح، ہر وقف درست، ہر مد اپنی جگہ — جیسے بِسْمِ
اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ میں ہر لفظ الگ اور صاف ہو۔
سوال ٩: تجوید کی
دلیل حدیث سے کیا ہے؟
جواب: رسول اللہ ﷺ
نے ارشاد فرمایا: "زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ" —
قرآن کو اپنی آوازوں سے سجاؤ اور خوبصورت بناؤ۔
مثال: جیسے
خوبصورت لباس پہن کر عزت کا اظہار ہوتا ہے — ویسے خوبصورت آواز اور تجوید سے قرآن
کریم کی تعظیم ہوتی ہے۔
سوال ١٠: بغیر
تجوید کے قرآن پڑھنا گناہ ہے یا نہیں؟
جواب: تین صورتیں
ہیں: (١) کھلی غلطی جس سے معنی بدلے — حرام ہے۔ (٢) چھپی غلطی جو صرف ماہر جانے —
مکروہ ہے۔ (٣) سیکھنے کی کوشش میں ہو — دوہرا اجر ہے۔
مثال: آپ ﷺ نے
فرمایا: "جو قرآن اٹک اٹک کر مشقت سے پڑھے — اسے دو اجر ملتے ہیں۔"
(بخاری و مسلم)
یاد
رکھنے کی باتیں
تجوید کی تعریف: ہر حرف کو صحیح مخرج اور صفات کے ساتھ پڑھنا۔
حکم: تجوید کے ساتھ پڑھنا فرضِ عین ہے۔
دلیل: وَرَتِّلِ
الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا (المزمل: ٤)
لحنِ جلی:
کھلی
غلطی — حرام۔
لحنِ خفی:
چھپی
غلطی — مکروہ۔
کوشش میں:دوہرا
اجر ملتا ہے۔
استعاذہ و بسملہ —
سوال و جواب
سوال 1: استعاذہ
کسے کہتے ہیں؟
جواب: قرآنِ مجید
پڑھنے سے پہلے یہ کلمات پڑھنا: اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ
الرَّجِيْمِ
اسے استعاذہ یا
تعوذ کہتے ہیں۔
سوال 2: استعاذہ
کا معنی کیا ہے؟
جواب: استعاذہ کا
معنی ہے:
"میں شیطانِ مردود سے اللہ تعالیٰ کی
پناہ مانگتا ہوں۔"
سوال 3: قرآن
پڑھنے سے پہلے استعاذہ کا کیا حکم ہے؟
جواب: جمہور فقہاء
کے نزدیک استعاذہ پڑھنا سنتِ مؤکدہ (مستحب) ہے، واجب نہیں۔
سوال 4: استعاذہ کی
دلیل کیا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ
کا ارشاد ہے:
﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ
بِاللّٰهِ﴾(سورۃ
النحل: 98)
سوال 5: بسملہ کسے
کہتے ہیں؟
جواب: یہ مبارک
کلمات: بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِکو بسملہ کہتے ہیں۔
نون
ساکن اور تنوین کے احکام
(سوال و جواب — مثالوں اور قرآنی مشق کے
ساتھ)
١ — تعارف
س: نون ساکن کسے
کہتے ہیں؟
ج: وہ نون جس پر
جزم (سکون ـْ) ہو اسے
نون ساکن کہتے ہیں۔ یہ دو طرح سے آتا ہے:
١۔ ایک لفظ کے اندر — جیسے
اَنْعَمْتَ
٢۔ دو الفاظ میں — جیسے مَنْ
آمَنَ
مثال: مِنْ،
عَنْ، اَنْتَ، مَنْكَ — ان سب میں نون ساکن ہے۔
س: تنوین کسے کہتے
ہیں؟
ج: اسم کے آخر میں
آنے والی دو زبر (ــًا)، دو زیر (ــٍ) یا
دو پیش (ــٌ) کو تنوین
کہتے ہیں۔ تنوین لکھی نہیں جاتی لیکن پڑھی جاتی ہے — اور پڑھنے میں نون کی آواز آتی
ہے۔
مثال: كِتَابٌ،
رَجُلٍ، عِلْمًا — ان سب میں تنوین ہے۔
س: نون ساکن اور
تنوین میں کیا فرق ہے؟
ج: تین فرق ہیں:
١۔ نون ساکن لکھا اور پڑھا جاتا ہے — تنوین
صرف پڑھی جاتی ہے لکھی نہیں۔
٢۔ نون ساکن ایک لفظ میں بھی آتا ہے — تنوین
ہمیشہ دو الفاظ میں ہوتی ہے۔
٣۔ نون ساکن اسم، فعل اور حرف میں آتا ہے —
تنوین صرف اسم میں آتی ہے۔
مثال: مِنْ
عِلْمٍ
— پہلا نون ساکن ہے، دوسرا تنوین ہے۔
س: نون ساکن اور
تنوین کے احکام کتنے ہیں؟
ج: چار احکام ہیں:
١۔ اظہار ٢۔ ادغام ٣۔ اقلاب ٤۔ اخفاء
٢ — پہلا حکم: اظہار
س: اظہار کی تعریف
کیا ہے؟
ج: اظہار کا لغوی
معنی ہے ظاہر کرنا۔
اصطلاح میں نون
ساکن یا تنوین کو بغیر غنہ کے بالکل واضح اور صاف پڑھنا اظہار ہے۔
مثال: مَنْ
آمَنَ
— نون کو بالکل صاف پڑھیں — کوئی غنہ نہیں، کوئی ملاوٹ نہیں۔
س: اظہار کے حروف
کتنے ہیں اور کون سے ہیں؟
ج: اظہار کے چھ
حروف ہیں — ء — ہ — ع — ح — غ —
خ
یہ سب حلق سے
نکلتے ہیں اس لیے اسے اظہارِ حلقی بھی کہتے ہیں:
یاد کرنے کا طریقہ:
اَخِي
هَاكَ عِلْمًا حَازَهُ غَيْرُ خَاسِرٍ
س: اظہار میں نون
کو واضح کیوں پڑھتے ہیں؟
ج: کیونکہ ان چھ
حروف کا مخرج حلق ہے اور نون کا مخرج زبان کی نوک — دونوں دور ہیں — اس لیے ملانا
ممکن نہیں اور نون واضح رہتا ہے۔
مثال: جیسے دو
مختلف شہروں کے لوگ آسانی سے نہیں ملتے — ویسے یہ حروف نون سے نہیں ملتے۔
س: اظہار کی مثالیں
بیان کریں۔
ج: نون ساکن/تنوین
|
مَنْ آمَنَ |
(ن + ء) |
مَنْ حَادَّ
|
(ن + ح) |
|
عَلِيمٌ
خَبِيرٌ |
(تنوین + خ) |
جَرَفٍ
هَارٍ |
(تنوین + ہ) |
|
مِنْ هَادٍ |
(ن + ہ) |
مِنْ غِلٍّ |
(ن + غ) |
|
رَحِيمٌ
غَفُورٌ |
(تنوین + غ) |
رِزْقًا
عَلَيْهِمْ |
(تنوین + ع) |
|
مِنْ عِلْمٍ |
(ن + ع) |
مِنْ خَيْرٍ
|
(ن + خ) |
|
كِتَابٌ
حَكِيمٌ |
(تنوین + ح) |
غَفُورٌ
ءَاخَرُ |
(تنوین + ء) |
٣ — دوسرا حکم: ادغام
س: ادغام کی تعریف
کیا ہے؟
ج: ادغام کا لغوی
معنی ہے ملانا یا گھسانا۔
اصطلاح میں نون
ساکن یا تنوین کو اگلے حرف میں اس طرح ملا دینا کہ دونوں مل کر ایک مشدد حرف بن
جائیں — ادغام ہے۔
مثال: مَنْ
يَقُوْلُ
— نون کو یاء میں ملا دیں — مَیَّقُوْلُ کی طرح پڑھیں۔
س: ادغام کے حروف
کتنے ہیں؟
ج: ادغام کے چھ
حروف ہیں: ی — ر — م — ل — و — ن
یاد کرنے کا طریقہ:
يَرْمَلُوْنَ
س: ادغام کی کتنی
اقسام ہیں؟
ج: ادغام کی دو
اقسام ہیں:
١۔ ادغام بغنہ ٢۔
ادغام بلاغنہ
س: ادغام بغنہ کی
تعریف اور حروف بیان کریں؟
ج: جن حروف میں
ادغام کے وقت غنہ رہے — اسے ادغام بغنہ کہتے ہیں۔
حروف چار ہیں: ی —
ن — م — و
یاد کرنے کا طریقہ:
يَنْمُو
مثال:مَنْ
يَقُوْلُ (ن
+ ی) — غنہ کے ساتھ ملائیں
مِنْ نِعْمَةٍ
(ن
+ ن) — غنہ کے ساتھ ملائیں
مِنْ مَاءٍ (ن +
م) — غنہ کے ساتھ ملائیں
مِنْ وَلِيٍّ (ن +
و) — غنہ کے ساتھ ملائیں
س: ادغام بلاغنہ کی
تعریف اور حروف بیان کریں؟
ج: جن حروف میں
ادغام کے وقت غنہ نہ ہو — اسے ادغام بلاغنہ کہتے ہیں۔
حروف دو ہیں: ل —
ر
مثال:مِنْ
رَبِّكَ (ن
+ ر) — بغیر غنہ ملائیں
مِنْ لَدُنْكَ
(ن
+ ل) — بغیر غنہ ملائیں
س: ادغام بغنہ اور
ادغام بلاغنہ میں کیا فرق ہے؟
|
ادغام بغنہ |
ادغام بلاغنہ |
|
حروف ی ن م و |
حرور ل ر |
|
غنہ ہوتا ہے |
غنہ نہیں
ہوتا |
|
مثال مَنْ
يَقُوْلُ |
مثال : مِنْ
رَبِّكَ |
س: ادغام کب نہیں
ہوگا؟
ج: ادغام ایک لفظ
میں نہیں ہوگا — صرف دو الفاظ میں ہوتا ہے۔
مثال: دُنْيَا،
صِنْوَانٌ، قِنْوَانٌ، بُنْيَانٌ — یہاں ادغام نہیں — کیونکہ ایک ہی لفظ ہے۔
٤ — تیسرا حکم: اقلاب
س: اقلاب کی تعریف
کیا ہے؟
ج: اقلاب کا لغوی
معنی ہے بدلنا یا پلٹنا۔
اصطلاح میں نون
ساکن یا تنوین کو میم میں بدل کر غنہ کرنا اقلاب ہے۔
مثال:
اَنْبِيَاءَ —
نون کو میم میں بدلیں — اَمْبِيَاءَ کی طرح پڑھیں۔
س: اقلاب کا حرف
کون سا ہے؟
ج: اقلاب کا صرف ایک
حرف ہے: ب (باء)
قاعدہ: نون ساکن یا
تنوین + باء = اقلاب
س: اقلاب میں نون
کو میم میں کیوں بدلتے ہیں؟
ج: کیونکہ نون اور
باء کے مخارج دور ہیں — نون زبان کی نوک سے اور باء ہونٹوں سے نکلتا ہے — اس لیے
نون کو میم میں بدل دیتے ہیں کیونکہ میم اور باء دونوں ہونٹوں سے نکلتے ہیں —
پڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔
مثال: جیسے دور کا
راستہ چھوڑ کر قریب کا راستہ لیتے ہیں!
س: اقلاب کی علامت
قرآن میں کیا ہے؟
ج: قرآن کریم میں
اقلاب کی جگہ نون کے اوپر چھوٹی م لکھی ہوتی ہے ۔ یہ اقلاب کی علامت
ہے۔
مثال:
اَنْۢبِيَاءَ
— یہاں نون کے بعد چھوٹی م نظر آتی ہے۔
س: اقلاب کی مثالیں
بیان کریں۔
|
نون ساکن |
تنوین |
|
اَنْبِيَاءَ (ن
+ ب) |
سَمِيعٌ
بَصِيرٌ
(تنوین + ب) |
|
مِنْ بَعْدِ (ن
+ ب) |
عَلِيمٌ
بِذَاتِ
(تنوین + ب) |
|
مَنْ بَخِلَ (ن
+ ب) |
خَبِيرٌ
بَصِيرٌ
(تنوین + ب) |
٥ — چوتھا حکم: اخفاء
س: اخفاء کی تعریف
کیا ہے؟
ج: اخفاء کا لغوی
معنی ہے چھپانا۔
اصطلاح میں نون
ساکن یا تنوین کو نہ پوری طرح ظاہر کرنا اور نہ پوری طرح ملانا — بلکہ غنہ کے ساتھ
درمیانی انداز میں پڑھنا اخفاء ہے۔
مثال: مِنْ
تَحْتِهَا
— نون کو نہ پوری طرح پڑھیں نہ تاء میں ملائیں — بلکہ ناک سے غنہ کرتے ہوئے درمیانی
انداز میں پڑھیں۔
س: اخفاء کے حروف
کتنے ہیں؟
ج: اخفاء کے پندرہ
حروف ہیں:
ت — ث — ج — د — ذ
— ز — س — ش — ص — ض — ط — ظ — ف — ق — ک
یاد کرنے کا طریقہ:
یہ وہ حروف ہیں جو اظہار (٦) ادغام (٦) اور اقلاب (١) کے تیرہ حروف کے علاوہ ہیں۔
س: اخفاء کی مقدار
کتنی ہے؟
ج: اخفاء میں غنہ
کی مقدار دو حرکت ہے — یعنی الف پڑھنے کے برابر وقت۔
مثال: مِنْ
تَحْتِ
— نون پر دو حرکت غنہ کریں پھر تاء پڑھیں۔
س: اخفاء اور
اظہار میں کیا فرق ہے؟
ج:اظہار میں: نون
بالکل واضح — کوئی غنہ نہیں۔
اخفاء میں: نون
چھپا ہوا — غنہ کے ساتھ۔
مثال: مِنْ
عِلْمٍ
(اظہار — نون صاف) اور مِنْ تَحْتِ (اخفاء — نون
چھپا)۔
س: اخفاء اور
ادغام میں کیا فرق ہے؟
ج: ادغام میں: نون
بالکل ملا دیتے ہیں — مشدد حرف بنتا ہے۔
اخفاء میں: نون
ملاتے نہیں — بس چھپا کر غنہ کرتے ہیں۔
مثال: مَنْ
يَقُوْلُ
(ادغام : نون یاء میں مل گیا) اور مَنْ جَاءَ (اخفاء : نون
چھپا غنہ کے ساتھ)۔
اقلاب
اور تشدید کے احکام
(سوال و جواب — مثالوں کے ساتھ)
حصہ
اول — اقلاب
١ —
اقلاب کا تعارف
س: اقلاب کا لغوی معنی کیا ہے؟
ج: اقلاب کا لغوی معنی ہے بدلنا، پلٹنا یا تبدیل کرنا ۔
مثال: جیسے کوئی چیز اُلٹ دیں — ویسے نون کو میم میں بدل دینا اقلاب
ہے۔
س: اقلاب کی اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
ج: اصطلاح میں نون ساکن یا تنوین کو میم (م) میں بدل کر غنہ کے ساتھ
پڑھنا — اقلاب کہلاتا ہے۔
مثال: اَنْبِيَاءَ — نون کو میم میں
بدلیں —
اَمْبِيَاءَ
کی طرح پڑھیں۔
س: اقلاب کا صرف ایک ہی حرف کیوں ہے؟
ج: کیونکہ نون ساکن یا تنوین کے بعد صرف باء کے ساتھ ملانا مشکل ہے —
نون زبان کی نوک سے نکلتا ہے اور باء ہونٹوں سے — یہ دونوں دور ہیں — اس لیے نون
کو میم میں بدل دیتے ہیں کیونکہ میم بھی ہونٹوں سے نکلتی ہے — اور باء کے قریب ہے۔
مثال: جیسے دور کا پل توڑ کر قریب کا راستہ بنا لیں — ویسے نون کو میم
میں بدل لیتے ہیں۔
٢ —
اقلاب کا حرف اور قاعدہ
س: اقلاب کا حرف کون سا ہے؟
ج: اقلاب کا صرف ایک حرف ہے: ب (باء)
قاعدہ: نون ساکن یا تنوین + ب = اقلاب
مثال: جب بھی نون ساکن یا تنوین کے بعد ب آئے — فوراً اقلاب ہوگا۔
س: اقلاب میں کیا کرتے ہیں — تفصیل بیان کریں۔
ج: اقلاب میں تین کام ہوتے ہیں:
١۔ نون ساکن یا تنوین کو میم میں بدل دیتے ہیں۔
٢۔ میم کے ساتھ غنہ کرتے ہیں — مقدار دو حرکت۔
٣۔ میم بدلنے کے بعد باء پڑھتے ہیں۔
مثال: مِنْ بَعْدِ — نون کو میم
بنائیں — غنہ کریں — پھر باء پڑھیں — 'مِمْ بَعْدِ' کی
طرح۔
س: اقلاب کی علامت قرآن میں کیا ہے؟
ج: قرآنِ کریم میں اقلاب کی جگہ نون کے اوپر یا تنوین کی جگہ چھوٹی میم
(م) لکھی ہوتی ہے — یہ اقلاب کی علامت ہے۔
مثال:اَنْۢبِيَاءَ — یہاں نون کے
اوپر چھوٹی م نظر آتی ہے — یہ اقلاب کی علامت ہے۔
س: اقلاب میں غنہ کی مقدار کتنی ہے؟
ج: اقلاب میں غنہ کی مقدار دو حرکت ہے — یعنی الف پڑھنے کے برابر وقت۔
مثال: اَنْبِيَاءَ — میم پر دو حرکت
غنہ کریں پھر باء پڑھیں۔
٣ —
اقلاب اور دیگر احکام میں فرق
س: اقلاب اور اخفاء میں کیا فرق ہے؟
|
اقلاب |
اخفاء |
|
حرف صرف ب |
١٥ حروف |
|
عمل: نون
کو میم میں بدلیں |
نون چھپائیں |
|
غنہ: ہاں — دو
حرکت |
غنہ ہاں — دو
حرکت |
|
فرق: نون بدلتا
ہے |
نون چھپتا ہے |
|
مثال: مِنْ
بَعْدِ |
مِنْ تَحْتِ
|
|
مثال:مِنْ
بَعْدِ (اقلاب
— نون میم بنا) |
مِنْ تَحْتِ(اخفاء
— نون چھپا) |
س: اقلاب اور اظہار میں کیا فرق ہے؟
|
اقلاب |
اظہار |
|
عمل: نون بدلتا
ہے |
نون واضح رہتا
ہے |
|
غنہ: ہاں — دو
حرکت |
غنہ نہیں |
|
حرف: ب |
حرف: ء ہ ع ح غ
خ |
|
مثال: مِنْ
بَعْدِ |
مِنْ تَحْتِ
|
|
مثال:
اَنْبِيَاءَ |
مِنْ عِلْمٍ
|
س: اقلاب اور ادغام میں کیا فرق ہے؟
|
اقلاب |
ادغام |
|
عمل: نون میم میں
بدلے |
نون اگلے حرف میں
ملے |
|
نتیجہ: میم +
غنہ |
مشدد حرف |
|
حرف: ب |
حرف: ی ر م ل و
ن |
|
مثال: مِنْ
بَعْدِ |
مِنْ
رَبِّكَ |
٤ — اقلاب کی مثالیں
س: نون ساکن کے ساتھ اقلاب کی مثالیں بیان کریں۔
|
لفظ |
وضاحت |
|
|
اَنْبِيَاءَ |
نون ساکن + باء |
اقلاب |
|
مِنْ بَعْدِ |
نون ساکن + باء |
اقلاب |
|
مَنْ بَخِلَ |
نون ساکن + باء |
اقلاب |
|
اَنْبَأَهُمْ |
نون ساکن + باء |
اقلاب |
|
يَنْبُوعًا |
نون ساکن + باء |
اقلاب |
|
مِنْ
بَيْنِ |
نون ساکن + باء |
اقلاب |
|
كُنْتُمْ
بِهِ |
نون ساکن + باء |
اقلاب |
|
اَنْبَتَتْ |
نون ساکن + باء |
اقلاب |
س: تنوین کے ساتھ
اقلاب کی مثالیں بیان کریں۔
|
لفظ |
وضاحت |
|
|
سَمِيعٌ
بَصِيرٌ |
تنوین + باء |
اقلاب |
|
عَلِيمٌ
بِذَاتِ |
تنوین + باء |
اقلاب |
|
خَبِيرٌ
بَصِيرٌ
|
تنوین + باء |
اقلاب |
|
غَفُورٌ
بِذُنُوبِ |
تنوین + باء |
اقلاب |
|
عَزِيزٌ
بِذِي |
تنوین + باء |
اقلاب |
|
حَكِيمٌ
بِمَا |
تنوین + باء |
اقلاب |
٥ — اقلاب کا خلاصہ
اقلاب : لغوی معنی : بدلنا
تعریف: نون کو میم میں بدل کر غنہ کرنا
حرف: صرف ب (باء)
غنہ: دو حرکت
علامت: چھوٹی م
مثال اَنْبِيَاءَ، مِنْ بَعْدِ
حصہ دوم — تشدید
١ —
تشدید کا تعارف
س: تشدید کا لغوی معنی کیا ہے؟
ج: تشدید کا لغوی معنی ہے مضبوط کرنا، سخت کرنا یا دوگنا کرنا ۔
مثال: جیسے رسی کو دوگنا مضبوط کر لیں — ویسے حرف کو دو بار ادا کرنا
تشدید ہے۔
س: تشدید کی اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
ج: اصطلاح میں کسی حرف پر شدّ (ّ) کی علامت لگانا — جو بتاتی ہے کہ یہ
حرف دو بار ادا ہوگا — پہلی بار ساکن اور دوسری بار متحرک — تشدید کہلاتا ہے۔
مثال: رَبَّنَا — باء مشدد — پہلے
ساکن باء پھر متحرک باء — دونوں مل کر ایک مشدد باء۔
س: تشدید کا تعلق ادغام سے کیا ہے؟
ج: تشدید دراصل ادغام کا نتیجہ ہے — جب دو ایک جیسے حروف آئیں اور پہلا
ساکن ہو تو پہلے کو دوسرے میں ملا دیتے ہیں — یہی ادغام تشدید بن جاتا ہے۔
مثال: رَبْبَنَا — دو باء — ملا
کر —
رَبَّنَا
— مشدد باء۔
٢ — تشدید کی علامت اور ادائیگی
س: تشدید کی علامت کیا ہے؟
ج: تشدید کی علامت حرف کے اوپر شین کی شکل (ّ) ہے جسے شدّہ کہتے ہیں۔
مثال: إِنَّ، ثُمَّ، رَبَّنَا — ان
میں شدّہ نظر آتا ہے۔
س: مشدد حرف کو کیسے پڑھیں؟
ج: مشدد حرف کو پڑھنے کا طریقہ:
١۔ پہلے مخرج کو دبائیں — یعنی ساکن حرف کو اچھی طرح بند کریں۔
٢۔ پھر چھوڑیں — یعنی متحرک حرف ادا کریں۔
٣۔ آواز دوگنی قوت سے نکلے۔
مثال: إِنَّ — نون پر مخرج
(زبان کی نوک) کو دبائیں پھر چھوڑیں — غنہ کے ساتھ۔
س: تشدید میں حرف کو کتنی دیر دبائیں؟
ج: تشدید میں حرف کو ایک حرکت کے برابر دبائیں — پھر متحرک حرف ادا کریں۔
مثال: رَبَّنَا — باء کو ایک حرکت
دبائیں پھر فتحہ کے ساتھ باء ادا کریں۔
٣ — تشدید کی اقسام
س: تشدید کی کتنی اقسام ہیں؟
ج: تشدید کی دو اقسام ہیں:
١۔ تشدیدِ اصلی (لازمی):
وہ تشدید جو لفظ میں
اصلاً موجود ہو — قاعدے کی وجہ سے نہیں آئی۔
مثال: رَبَّنَا، إِنَّ، ثُمَّ — یہ
تشدید ہمیشہ ہے۔
٢۔ تشدیدِ عارضی (قاعدے سے):
وہ تشدید جو ادغام
کے قاعدے کی وجہ سے آئے۔
مثال: مَنْ يَّقُوْلُ — یاء
پر تشدید ادغام کی وجہ سے آئی۔
٤ —
نون مشدد اور میم مشدد کے احکام
س: نون مشدد کا خاص حکم کیا ہے؟
ج: نون مشدد (نّ) میں غنہ واجب ہے — مقدار دو حرکت — کیونکہ نون کی
لازمی صفت غنہ ہے اور مشدد ہونے سے غنہ اور قوی ہو جاتا ہے۔
مثال: إِنَّ اللهَ — نون مشدد — دو حرکت
غنہ کریں — یہ سب سے زیادہ غنہ کا موقع ہے۔
س: میم مشدد کا خاص حکم کیا ہے؟
ج: میم مشدد (مّ) میں بھی غنہ واجب ہے — مقدار دو حرکت — کیونکہ میم کی
لازمی صفت بھی غنہ ہے۔
مثال: ثُمَّ — میم مشدد — دو
حرکت غنہ کریں۔
س: غنہ کے مراتب میں نون و میم مشدد کا کیا درجہ ہے؟
ج: نون و میم مشدد سب سے زیادہ غنہ کا موقع ہے — یہ غنہ کا پہلا اور
اعلیٰ درجہ ہے۔
غنہ کے پانچ
مراتب:
١۔ نون و میم مشدد — سب سے زیادہ
٢۔ ادغام بغنہ
٣۔ اخفاء حقیقی
٤۔ اخفاءِ شفوی
٥۔ اظہار — سب سے کم
مثال: إِنَّ (سب سے زیادہ) اور مِنْ
عِلْمٍ (اظہار
— بالکل نہیں)۔
س: نون مشدد اور نون ساکن میں کیا فرق ہے؟
|
نون مشدد |
نون ساکن |
|
علامت شدّہ |
جزم |
|
غنہ: ہمیشہ واجب |
احکام پر موقوف |
|
احکام صرف غنہ |
چار احکام |
|
مثال: إِنَّ |
مِنْ |
٥ —
تشدید اور مد کا تعلق
س: جب مد والے حرف کے بعد مشدد حرف آئے تو کیا ہوگا؟
ج: جب حرفِ مد کے بعد مشدد حرف آئے تو مدِ لازم کلمی مثقل ہوگا — مقدار
چھ حرکت ۔
مثال: الضَّالِّيْنَ — یاء (مد) + لام مشدد — مدِ لازم — چھ حرکت۔
س: مدِ لازم کلمی مثقل اور مدِ لازم کلمی مخفف میں کیا فرق ہے؟
|
مثقل |
مخفف |
|
معنی: بوجھل |
ہلکا |
|
بعد: مشدد حرف |
بعد: ساکن غیر
مشدد |
|
مقدار: ٦ حرکت |
٦ حرکت |
|
مثال: الضَّالِّيْنَ |
آلْآنَ |
٦ —
تشدید کے عملی قواعد
س: تشدید پڑھتے وقت کیا کیا غلطیاں ہوتی ہیں؟
ج: چار عام غلطیاں:
١۔ تشدید ہلکی کرنا:
مشدد حرف کو دبائے
بغیر پڑھنا۔
مثال: إِنَّ کو 'اِنَ'
کی
طرح پڑھنا — غلط۔
٢۔ غنہ نہ کرنا:
نون یا میم مشدد
پر غنہ چھوڑ دینا۔
مثال: إِنَّ اللهَ میں نون پر غنہ نہ
کرنا — غلط۔
٣۔ تشدید زیادہ کرنا:
ضرورت سے زیادہ
زور لگانا جس سے آواز بگڑ جائے۔
مثال: رَبَّنَا کو بہت زیادہ زور سے پڑھنا — غلط۔
٤۔ حرکت نہ دینا:
مشدد حرف کے بعد
حرکت کو نظرانداز کرنا۔
مثال: ثُمَّ کو 'ثُمْ' کی طرح
پڑھنا — غلط۔
س: تشدید اور وقف کا کیا تعلق ہے؟
ج: وقف کی حالت میں مشدد حرف باقی رہتا ہے — تشدید نہیں جاتی۔
مثال: الضَّالِّيْنَ پر وقف
— لام مشدد باقی رہے گا — 'الضَّالِّیْنْ' پڑھیں۔
٧ —
تشدید کی مثالیں
س: قرآنِ کریم میں تشدید کی اہم مثالیں بیان کریں۔
|
لفظ |
مشددحرف |
غنہ |
|
إِنَّ اللهَ |
نون مشدد |
ہاں |
|
ثُمَّ |
میم مشدد |
ہاں |
|
رَبَّنَا |
باء مشدد |
نہیں |
|
اَللهُ |
لام مشدد |
نہیں |
|
الضَّالِّيْنَ |
لام مشدد |
نہیں |
|
مِمَّا |
میم مشدد |
ہاں |
|
اَيُّهَا |
یاء مشدد |
نہیں |
|
إِنَّمَا |
نون مشدد |
ہاں |
|
كَلَّا |
لام مشدد |
نہیں |
مد کے احکام
(سوال و جواب — مثالوں کے ساتھ)
س: مد کا لغوی معنی
کیا ہے؟
ج: مد کا لغوی معنی
ہے کھینچنا یا لمبا کرنا ۔
مثال: جیسے رسی کو کھینچا جائے — ویسے حرف کی آواز کو لمبا کرنا مد ہے۔
س: مد کی اصطلاحی
تعریف کیا ہے؟
ج: اصطلاح میں حروفِ مد یا حروفِ لین کو ایک مقررہ مقدار کے مطابق لمبا
کرنا مد کہلاتا ہے۔
مثال: قَالَ میں الف کو لمبا
کرنا —
يَقُوْلُ
میں واو کو لمبا کرنا — یہ مد ہے۔
س: حروفِ مد کتنے ہیں اور کون سے ہیں؟
ج: حروفِ مد تین ہیں:
١۔ الف ساکن — ماقبل مفتوح (زبر) — جیسے قَالَ
٢۔ واو ساکن — ماقبل مضموم (پیش) — جیسے يَقُوْلُ
٣۔ یاء ساکن — ماقبل مکسور (زیر) — جیسے قِيْلَ
مثال: آمَنُوا — الف مد، يَقُوْلُ — واو
مد، فِي — یاء
مد۔
س: حرکت کسے کہتے ہیں؟ مد میں حرکت کیوں ضروری ہے؟
ج: حرکت وہ وقت ہے جتنے میں ایک انگلی کھلتی یا بند ہوتی ہے۔ مد کی
مقدار حرکات میں ناپی جاتی ہے۔ کم از کم دو حرکت اور زیادہ سے زیادہ چھ حرکت ہوتی
ہے۔
مثال: مَالِكِ — الف کو دو حرکت
کھینچیں — یہ مدِ اصلی ہے۔
س: مد کی بنیادی کتنی اقسام ہیں؟
ج: مد کی بنیادی دو اقسام ہیں:
١۔ مدِ اصلی (طبیعی)
٢۔ مدِ فرعی
مثال: قَالَ — مدِ اصلی ۔۔ جَاءَ — مدِ
فرعی (ہمزہ کی وجہ سے)
٢ —
مدِ اصلی (طبیعی)
س: مدِ اصلی کی تعریف کیا ہے؟
ج: وہ مد جس کا سبب ہمزہ یا سکون نہ ہو — یعنی حرفِ مد کے بعد نہ ہمزہ
آئے نہ سکون — اسے مدِ اصلی یا مدِ طبیعی کہتے ہیں۔
مثال: قَالَ، يَقُوْلُ، قِيْلَ — ان
میں بعد نہ ہمزہ ہے نہ سکون — مدِ اصلی ہے۔
س: مدِ اصلی کی مقدار کتنی ہے؟
ج: مدِ اصلی کی مقدار دو حرکت ہے — نہ کم نہ زیادہ — ہمیشہ دو حرکت۔
مثال: الرَّحْمٰنِ — الف کو بالکل
دو حرکت کھینچیں — الرَّحِيمِ — یاء کو دو
حرکت۔
س: مدِ اصلی کو طبیعی کیوں کہتے ہیں؟
ج: کیونکہ یہ مد انسان کی طبیعت میں ہے — کوئی بھی فطری طور پر ان حروف
کو کھینچ کر پڑھتا ہے — اس میں کوئی خاص محنت نہیں۔
مثال: جیسے سانس لینا فطری ہے — ویسے ان حروف کو کھینچنا فطری ہے۔
س: مدِ اصلی کی مثالیں بیان کریں۔
|
حرف
مد |
مثال |
وضاحت |
|
الف |
قَالَ |
قاف + الف + لام |
|
واو |
يَقُوْلُ |
قاف + واو + لام |
|
یاء |
قِيْلَ |
قاف + یاء + لام |
|
الف |
كِتَابٌ |
تاء + الف + باء |
|
واو |
نُوْحٌ |
نون + واو + حاء |
|
یاء |
فِي |
فاء + یاء |
٣ — مدِ فرعی اور اس کی اقسام
س: مدِ فرعی کی تعریف کیا ہے؟
ج: وہ مد جس کا سبب ہمزہ یا سکون ہو — یعنی حرفِ مد کے بعد ہمزہ یا
سکون آئے — اسے مدِ فرعی کہتے ہیں۔
مثال: جَاءَ — الف کے بعد
ہمزہ — مدِ فرعی ۔۔ دَابَّةٌ — الف کے بعد سکون — مدِ فرعی
س: مدِ فرعی کی کتنی اقسام ہیں؟
ج: مدِ فرعی کی سات اہم اقسام ہیں:
١۔ مدِ متصل
٢۔ مدِ منفصل
٣۔ مدِ لازم
٤۔ مدِ عارض للسکون
٥۔ مدِ لین
٦۔ مدِ بدل
٧۔ مدِ صلہ
مثال: جَاءَ (متصل)، إِنَّا أَعْطَيْنَا (منفصل)،
الضَّالِّيْن (لازم)۔
٤ —
مدِ متصل
س: مدِ متصل کی تعریف کیا ہے؟
ج: متصل کا معنی ملا ہوا ہے۔
جب حرفِ مد اور
ہمزہ ایک ہی لفظ میں ہوں — یعنی حرفِ مد کے فوری بعد اسی لفظ میں ہمزہ آئے — تو
اسے مدِ متصل کہتے ہیں۔
مثال: جَاءَ — الف اور ہمزہ ایک لفظ میں — مدِ متصل۔
س: مدِ متصل کی مقدار کتنی ہے؟
ج: مدِ متصل کی مقدار چار یا پانچ حرکت ہے۔ روایتِ حفص میں چار یا پانچ
دونوں جائز ہیں۔ لیکن ایک تلاوت میں ایک ہی مقدار رکھنی چاہیے۔
مثال: شَاءَ — الف کو چار یا
پانچ حرکت کھینچیں۔
س: مدِ متصل کو واجب کیوں کہتے ہیں؟
ج: کیونکہ تمام قراء اس میں مد پر متفق ہیں — کوئی بھی اسے دو حرکت نہیں
پڑھتا — اس لیے اسے مدِ واجب متصل بھی کہتے ہیں۔
مثال: السَّمَاءِ — تمام قراء اس
الف کو ضرور لمبا پڑھتے ہیں۔
س: مدِ متصل کی مثالیں بیان کریں۔
|
حرف
مد |
مثال |
وضاحت |
|
الف + ہمزہ |
جَاءَ |
ایک لفظ — الف
پھر ہمزہ |
|
الف + ہمزہ |
شَاءَ |
ایک لفظ |
|
الف + ہمزہ |
السَّمَاءِ |
ایک لفظ |
|
واو + ہمزہ |
سُوءَ |
ایک لفظ — واو
پھر ہمزہ |
|
یاء + ہمزہ |
جِيءَ |
ایک لفظ — یاء
پھر ہمزہ |
|
یاء + ہمزہ |
شَيْءٍ |
ایک لفظ |
٥ — مدِ منفصل
س: مدِ منفصل کی تعریف کیا ہے؟
ج: منفصل کا معنی الگ ہے۔
جب حرفِ مد ایک
لفظ کے آخر میں ہو اور ہمزہ دوسرے لفظ کے شروع میں ہو — تو اسے مدِ منفصل کہتے ہیں۔
مثال: إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ —
(نا) الف ایک لفظ میں + (أ) ہمزہ دوسرے لفظ میں — منفصل۔
س: مدِ منفصل کی مقدار کتنی ہے؟
ج: مدِ منفصل کی مقدار دو یا چار حرکت ہے۔ روایتِ حفص میں دونوں جائز ہیں
— زیادہ مشہور چار حرکت ہے۔
مثال: يَا أَيُّهَا — الف کو دو یا
چار حرکت کھینچیں۔
س: مدِ متصل اور مدِ منفصل میں کیا فرق ہے؟
|
مدِ متصل |
مدِ منفصل |
|
لفظ : ایک ہی لفظ |
دو الگ الفاظ |
|
مقدار: ٤ یا ٥ حرکت |
٢ یا ٤ حرکت |
|
نام : واجب |
جائز |
|
مثال :جَاءَ |
إِنَّا أَعْطَيْنَا |
س: مدِ منفصل کی
مثالیں بیان کریں۔
|
مدِ متصل |
مدِ منفصل |
|
إِنَّا
أَعْطَيْنَاكَ |
الف + ہمزہ — دو
الفاظ |
|
يَا أَيُّهَا
|
الف + ہمزہ — دو الفاظ |
|
بِمَا
أُنْزِلَ
|
الف + ہمزہ — دو
الفاظ |
|
قُوا
أَنْفُسَكُمْ
|
واو + ہمزہ — دو
الفاظ |
|
فِي
أَنْفُسِكُمْ
|
یاء + ہمزہ — دو
الفاظ |
|
هُوَ
اللهُ
|
واو + ہمزہ — دو
الفاظ |
٦ — مدِ لازم
س: مدِ لازم کی تعریف کیا ہے؟
ج: لازم کا معنی ضروری ہے۔
جب حرفِ مد کے بعد
سکونِ لازم (ہمیشہ رہنے والا سکون) ہو — چاہے وصل ہو یا وقف — تو اسے مدِ لازم کہتے
ہیں۔
مثال: الضَّالِّيْنَ — یاء کے بعد لام
مشدد ہے — سکونِ لازم — مدِ لازم۔
س: مدِ لازم کی مقدار کتنی ہے؟
ج: مدِ لازم کی مقدار چھ حرکت ہے — نہ کم نہ زیادہ۔ یہ سب سے لمبا مد
ہے۔
مثال: الضَّالِّيْنَ — یاء کو پوری چھ
حرکت کھینچیں۔
س: مدِ لازم کی کتنی اقسام ہیں؟
ج: مدِ لازم کی چار اقسام ہیں:
١۔ مدِ لازم کلمی مثقل:
ایک لفظ میں حرفِ
مد + مشدد حرف
مثال: الضَّالِّيْنَ — یاء + لام مشدد
— چھ حرکت
٢۔ مدِ لازم کلمی مخفف:
ایک لفظ میں حرفِ
مد + ساکن غیر مشدد
مثال: آلْآنَ — الف + لام ساکن
— چھ حرکت
٣۔ مدِ لازم حرفی مثقل:
حروفِ مقطعات میں
مشدد
مثال: الٓمٓ — لام = لَام —
الف + لام مشدد — چھ حرکت
٤۔ مدِ لازم حرفی مخفف:
حروفِ مقطعات میں
غیر مشدد
مثال: الٓمٓ — میم = مِیم — یاء
+ میم ساکن — چھ حرکت
س: حروفِ مقطعات میں کون سے حروف میں مدِ لازم ہے؟
ج: وہ حروفِ مقطعات جن کے نام میں تین حرف ہوں اور درمیانی حرف مد ہو —
ان میں مدِ لازم چھ حرکت ہے:
|
حرف |
نام |
مد |
|
ن |
نُوْن |
واو مد — ٦ حرکت |
|
ق |
قَاف |
الف مد — ٦ حرکت |
|
ص |
صَاد |
الف مد — ٦ حرکت |
|
ع |
عَیْن |
یاء مد — ٦ حرکت |
|
س |
سِیْن |
یاء مد — ٦ حرکت |
|
ل |
لَام |
الف مد — ٦ حرکت
|
|
ک |
کَاف |
الف مد — ٦ حرکت |
|
م |
مِیْم |
یاء مد — ٦ حرکت |
مثال: الٓمٓ
—
الف (٢ حرکت) + لام (٦ حرکت) + میم (٦ حرکت)
٧ —
مدِ عارض للسکون
س: مدِ عارض للسکون کی تعریف کیا ہے؟
ج: عارض کا معنی وقتی ہے۔
جب حرفِ مد کے بعد
آنے والے حرف پر وقف کی وجہ سے سکون آ جائے — تو اسے مدِ عارض للسکون کہتے ہیں۔ یہ
مد صرف وقف میں ہوتا ہے وصل میں نہیں۔
مثال: نَسْتَعِيْنُ پر وقف کریں —
نون پر سکون آتا ہے — یاء کو مد دیں۔
س: مدِ عارض للسکون کی مقدار کتنی ہے؟
ج: مدِ عارض للسکون کی مقدار دو، چار یا چھ حرکت ہے — تینوں جائز ہیں۔
مثال: الرَّحِيمِ پر وقف — یاء کو ٢
یا ٤ یا ٦ حرکت کھینچیں۔
س: مدِ عارض اور مدِ لازم میں کیا فرق ہے؟
|
مدِ عارض |
مدِ لازم |
|
سکون : وقف کی وجہ سے وقتی |
ہمیشہ رہتا ہے |
|
مقدار: ٢ یا ٤ یا ٦ |
صرف ٦ |
|
وصل میں : نہیں
ہوتا |
وصل میں :ہوتا
ہے |
|
مثال : نَسْتَعِيْنُ
(وقف) |
الضَّالِّيْنَ |
س: مدِ عارض کی مثالیں بیان کریں۔
|
مثال |
وقف پر حکم |
|
مَالِكِ
يَوْمِ الدِّيْنِ |
دین پر وقف — یاء کو مد |
|
إِيَّاكَ
نَعْبُدُ
|
نعبد پر وقف — واو کو مد |
|
الرَّحِيمِ |
وقف — یاء کو مد |
|
الْعَالَمِيْنَ
|
وقف — یاء کو مد |
|
الْمُفْلِحُوْنَ
|
وقف — واو کو مد |
٨ — مدِ لین
س: مدِ لین کی تعریف کیا ہے؟
ج: لین کا معنی نرمی ہے۔
جب حرفِ لین (واو
ساکن یا یاء ساکن ماقبل مفتوح) کے بعد وقف کی وجہ سے سکون آئے — تو اسے مدِ لین کہتے
ہیں۔
مثال: خَوْفٌ پر وقف — واو لینی
کو کھینچیں۔
س: حرفِ لین کسے کہتے ہیں؟
ج: دو حروف ہیں:
١۔ واو ساکن ماقبل مفتوح — جیسے خَوْفٌ میں
واو
٢۔ یاء ساکن ماقبل مفتوح — جیسے بَيْتٌ میں یاء
مثال: خَوْفٌ، بَيْتٌ، قَوْلٌ، عَيْنٌ — ان
سب میں حرفِ لین ہے۔
س: مدِ لین اور مدِ عارض میں کیا فرق ہے؟
ج: مدِ عارض میں: حرفِ مد (الف، واو مد، یاء مد) ہوتا ہے۔
مدِ لین میں: حرفِ لین (واو یا یاء ماقبل مفتوح) ہوتا ہے۔
مثال: يَقُوْلُ وقف پر — واو مد
— مدِ عارض ۔۔ قَوْلٌ وقف
پر — واو لینی — مدِ لین
س: مدِ لین کی مقدار کتنی ہے؟
ج: مدِ لین کی مقدار دو، چار یا چھ حرکت ہے — تینوں جائز — صرف وقف میں۔
مثال: خَوْفٌ — واو لینی کو ٢ یا
٤ یا ٦ حرکت کھینچیں۔
س: مدِ لین کی مثالیں بیان کریں۔
|
مثال |
حرفِ لین |
وضاحت |
|
خَوْفٌ (وقف)
|
واو |
واو ساکن ماقبل
فتحہ |
|
بَيْتٌ (وقف)
|
یاء |
یاء ساکن ماقبل
فتحہ |
|
قَوْلٌ (وقف) |
واو |
واو ساکن ماقبل
فتحہ |
|
عَيْنٌ (وقف)
|
یاء |
یاء ساکن ماقبل فتحہ |
|
الصَّيْفِ (وقف)
|
یاء |
یاء ساکن ماقبل فتحہ |
٩ — مدِ بدل
س: مدِ بدل کی تعریف کیا ہے؟
ج: بدل کا معنی بدلنا ہے۔
جب ہمزہ کے بعد
حرفِ مد آئے — یعنی ہمزہ پہلے اور مد بعد میں — تو اسے مدِ بدل کہتے ہیں۔
مثال: آمَنَ — اصل میں دو
ہمزے تھے — دوسرا الف میں بدل گیا — مدِ بدل۔
س: مدِ بدل کی مقدار کتنی ہے؟
ج: روایتِ حفص میں مدِ بدل کی مقدار دو حرکت ہے۔
مثال: آمَنَ، آدَمُ، إِيمَانٌ، أُوتِيَ — سب
میں دو حرکت۔
س: مدِ بدل کی مثالیں بیان کریں۔
|
مثال |
حرفِ مد |
وضاحت |
|
آمَنَ |
الف |
ہمزہ + الف |
|
آدَمُ |
الف |
ہمزہ + الف |
|
إِيمَانٌ |
یاء |
ہمزہ + یاء |
|
أُوتِيَ |
واو |
ہمزہ + واو |
|
إِيَّاكَ |
یاء |
ہمزہ + یاء |
١٠ — مدِ صلہ
س: مدِ صلہ کی تعریف کیا ہے؟
ج: صلہ کا معنی ملانا ہے۔
قرآنِ کریم میں ضمیرِ
غائب مذکر ہ (ہاء ضمیر) کو بعض اوقات مد کے ساتھ پڑھا جاتا ہے — اسے مدِ صلہ کہتے
ہیں۔
مثال: إِنَّهُ هُوَ — ہاء ضمیر کو
واو کی طرح کھینچیں۔
س: مدِ صلہ کی کتنی اقسام ہیں؟
ج: مدِ صلہ کی دو اقسام ہیں:
١۔ صلہ صغریٰ:
ہاء ضمیر کے بعد
ہمزہ نہ ہو — مقدار دو حرکت
مثال: رَبِّهِ — ہاء کے بعد راء
— دو حرکت
٢۔ صلہ کبریٰ:
ہاء ضمیر کے بعد
ہمزہ ہو — مقدار چار یا پانچ حرکت
مثال: إِنَّهُ أَنَا — ہاء
کے بعد ہمزہ — چار یا پانچ حرکت
س: مدِ صلہ کی شرط کیا ہے؟
ج: مدِ صلہ کی دو شرطیں ہیں:
١۔ ہاء ضمیر کے پہلے حرف متحرک ہو۔
٢۔ ہاء ضمیر کے بعد بھی حرف متحرک ہو۔
مثال: لَهُ مَا — لام متحرک + ہاء
+ میم متحرک — دونوں شرطیں پوری — صلہ ہوگا۔
١١ —
تمام مدود کا خلاصہ
|
مد |
سبب |
مقدار |
مثال |
|
اصلی |
کوئی سبب نہیں |
٢ |
قَالَ |
|
متصل |
ہمزہ — ایک لفظ |
٤ یا ٥ |
جَاءَ |
|
منفصل |
ہمزہ — دو الفاظ |
٢ یا ٤ |
إِنَّا أَعْطَيْنَا |
|
لازم |
سکونِ لازم |
٦ |
الضَّالِّيْنَ |
|
عارض |
وقف کا سکون |
٢ یا ٤ یا ٦ |
نَسْتَعِيْنُ (وقف) |
|
لین |
حرفِ لین + وقف |
٢ یا ٤ یا ٦ |
خَوْفٌ
(وقف) |
|
بدل |
ہمزہ پہلے — مد بعد |
٢ |
آمَنَ |
|
صلہ صغریٰ |
ہاء ضمیر |
٢ |
رَبِّهِ |
|
صلہ کبریٰ |
ہاء ضمیر + ہمزہ |
٤ یا ٥ |
إِنَّهُ أَنَا |
لام اور را کے احکام
١ —
لام کے احکام
س: لام کی کتنی اقسام ہیں تجوید کے اعتبار سے؟
ج: تجوید کے اعتبار سے لام کی تین اہم اقسام ہیں:
١۔ لامِ جلالہ
٢۔ لامِ تعریف (ال)
٣۔ لامِ عام (دیگر الفاظ میں)
مثال: اللهِ (لامِ جلالہ) — الرَّحْمٰنِ
(لامِ
تعریف) — قُلْ
(لامِ
عام)
س: لامِ جلالہ کسے
کہتے ہیں؟
ج: لفظِ اللهُ میں جو لام ہے اسے لامِ جلالہ کہتے ہیں۔ یہ لام باقی
تمام لاموں سے مختلف ہے کیونکہ یہ کبھی تفخیم اور کبھی ترقیق سے پڑھا جاتا ہے۔
مثال: قَالَ اللهُ، بِاللهِ —
دونوں میں لامِ جلالہ ہے۔
س: لامِ جلالہ کب تفخیم (موٹا) سے پڑھیں گے؟
ج: جب لامِ جلالہ سے پہلے فتحہ (زبر) یا ضمہ (پیش) ہو تو لامِ جلالہ کو
تفخیم (موٹا) سے پڑھیں گے۔
|
لام سے پہلے فتحہ |
تفخیم |
|
|
عَبْدُ
اللهِ |
لام سے پہلے ضمہ |
تفخیم |
|
يُحِبُّ
اللهُ |
لام سے پہلے ضمہ |
تفخیم |
|
رَسُوْلُ
اللهِ |
لام سے پہلے ضمہ |
تفخیم |
س: لامِ جلالہ کب
ترقیق (باریک) سے پڑھیں گے؟
ج: جب لامِ جلالہ سے پہلے کسرہ (زیر) ہو تو لامِ جلالہ کو ترقیق (باریک)
سے پڑھیں گے۔
|
بِسْمِ
اللهِ |
لام سے پہلے زیر |
ترقیق |
|
لِلّٰهِ |
لام سے پہلے زیر |
ترقیق |
|
فِي سَبِيلِ
اللهِ |
لام سے پہلے زیر |
ترقیق |
|
عِبَادِ
اللهِ |
لام سے پہلے زیر |
ترقیق |
س: لامِ جلالہ کے
احکام کا آسان قاعدہ بیان کریں۔
ج: آسان قاعدہ:
|
ماقبل |
حکم |
مثال |
|
زبر (فتحہ) |
تفخیم — موٹا |
قَالَ اللهُ |
|
پیش
(ضمہ) |
تفخیم — موٹا |
رَسُوْلُ اللهِ |
|
زیر
(کسرہ) |
ترقیق — باریک |
بِسْمِ اللهِ |
یاد رکھو: زبر اور پیش = موٹا ۔۔ زیر = باریک
لامِ
تعریف
س: لامِ تعریف کسے کہتے ہیں؟
ج: وہ لام جو کسی اسم کے شروع میں ال کی شکل میں آئے اسے لامِ تعریف کہتے
ہیں۔
مثال: الرَّحْمٰنُ، الْكِتَابُ، الشَّمْسُ — ان
سب میں لامِ تعریف ہے۔
س: لامِ تعریف کی کتنی اقسام ہیں؟
ج: لامِ تعریف کی دو اقسام ہیں:
١۔ لامِ شمسی — لام کو اگلے حرف میں ملا دیں
٢۔ لامِ قمری — لام کو واضح پڑھیں
س: لامِ شمسی کسے کہتے ہیں؟
ج: جب ال کے بعد آنے والا حرف شمسی ہو تو لام کو اس حرف میں ادغام کر دیتے
ہیں — یعنی لام پڑھتے نہیں — اگلا حرف مشدد ہو جاتا ہے۔ اسے لامِ شمسی کہتے ہیں۔
مثال: الشَّمْسُ — لام شین میں مل گئی — 'اَشَّمْسُ' کی طرح پڑھیں۔
س: حروفِ شمسیہ کون سے ہیں؟
ج: حروفِ شمسیہ چودہ ہیں: ت،
ث، د، ذ، ر، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ل، ن
یاد کرنے کا طریقہ:
طِبْ ثُمَّ صِلْ رَحْمًا تَفُزْ ضِفْ ذَا نِعَمْ دَعْ سُوءَ ظَنٍّ زُرْ
شَرِيفًا لِلْكَرَمْ
مثال: الرَّحْمٰنُ — را شمسی — لام
مل گئی
النَّاسُ — نون شمسی — لام مل گئی
الشَّمْسُ — شین شمسی — لام مل گئی
س: لامِ قمری کسے کہتے ہیں؟
ج: جب ال کے بعد آنے والا حرف قمری ہو تو لام کو واضح پڑھتے ہیں —
ادغام نہیں ہوتا۔ اسے لامِ قمری کہتے ہیں۔
مثال: الْقَمَرُ — لام واضح پڑھیں
— 'اَلْقَمَرُ' ویسے
ہی پڑھیں۔
س: حروفِ قمریہ کون سے ہیں؟
ج: حروفِ قمریہ چودہ ہیں: ء،
ب، ج، ح، خ، ع، غ، ف، ق، ک، م، و، ہ، ی
یاد کرنے کا طریقہ: اِبْغِ حَجَّكَ وَخَفْ
عَقِيمَهُ
مثال: الْقُرْآنُ — قاف قمری — لام
واضح
الْكِتَابُ — کاف قمری — لام واضح
الْحَمْدُ — حاء قمری — لام واضح
س: لامِ شمسی اور لامِ قمری میں فرق بیان کریں۔
|
لامِ شمسی |
لامِ قمری |
|
لام : پڑھا نہیں جاتا |
واضح پڑھا جاتا ہے |
|
اگلا حرف: مشدد ہو جاتا ہے |
عام پڑھا جاتا ہے |
|
حروف : ١٤ شمسی |
١٤ قمری |
|
مثال: الشَّمْسُ |
الْقَمَرُ |
لامِ
عام
س: لامِ عام کا حکم کیا ہے؟
ج: لامِ جلالہ اور لامِ شمسی کے علاوہ تمام لام ہمیشہ ترقیق (باریک) سے
پڑھے جاتے ہیں — کسی بھی حالت میں تفخیم نہیں ہوتی۔
مثال: قُلْ، بَلْ، هَلْ، عَمَلَ، قَلَمٌ — سب
میں لام باریک۔
٢ —
را کے احکام
س: را (ر) کے کتنے احکام ہیں؟
ج: را کے دو احکام ہیں:
١۔ تفخیم — موٹا پڑھنا
٢۔ ترقیق — باریک پڑھنا
مثال: رَبٌّ — را تفخیم ۔۔ رِزْقٌ — را
ترقیق
س: تفخیم اور ترقیق کا کیا معنی ہے؟
ج: تفخیم کا معنی ہے موٹا یا بھاری کرنا — آواز گہری اور بھاری ہوتی
ہے۔
ترقیق کا معنی ہے باریک یا پتلا کرنا — آواز ہلکی اور باریک ہوتی ہے۔
مثال: رَحْمَةٌ (تفخیم — موٹا)
اور رِجَالٌ (ترقیق — باریک) — دونوں کا فرق محسوس کریں۔
را کی
تفخیم کے مواقع
س: را کو تفخیم (موٹا) کب پڑھیں گے؟
ج: را کو تفخیم سے پڑھنے کے پانچ مواقع ہیں:
١۔ را متحرک بفتحہ (زبر والی را):
مثال: رَبُّنَا، رَحْمَةٌ، رَسُوْلٌ — را
پر زبر — تفخیم
٢۔ را متحرک بضمہ (پیش والی را):
مثال: رُسُلٌ، رُوحٌ، رُزِقَ — را
پر پیش — تفخیم
٣۔ را ساکن اور ماقبل مفتوح:
مثال: مَرْحَبًا، فَرْدٌ، اَرْسَلَ — را
ساکن، پہلے زبر — تفخیم
٤۔ را ساکن اور ماقبل مضموم:
مثال: قُرْآنٌ، بُرْهَانٌ، نُرْسِلُ — را
ساکن، پہلے پیش — تفخیم
٥۔ را ساکن اور ماقبل کسرہ — لیکن کسرہ عارضی ہو یا بعد میں مستعلی حرف
ہو:
مثال: اِرْجِعِي — کسرہ عارضی —
تفخیم
فِرْقَةٌ — را
ساکن، پہلے زیر لیکن بعد میں ق (مستعلی) — تفخیم
را کی
ترقیق کے مواقع
س: را کو ترقیق (باریک) کب پڑھیں گے؟
ج: را کو ترقیق سے پڑھنے کے تین مواقع ہیں:
١۔ را متحرک بکسرہ (زیر والی را):
مثال: رِزْقٌ، رِجَالٌ، رِسَالَةٌ
—
را پر زیر — ترقیق
٢۔ را ساکن اور ماقبل کسرہ اصلی:
مثال: مِرْيَةٌ، فِرْعَوْنُ — را
ساکن، پہلے زیر اصلی — ترقیق
٣۔ را وقف میں — اگر ماقبل یاء ساکن ہو:
مثال: خَيْرٌ (وقف پر) — یاء
کے بعد را — ترقیق
س: را کے تفخیم و ترقیق کا خلاصہ بیان کریں۔
|
حالت |
حکم |
مثال |
|
را
پر زبر |
تفخیم |
رَبٌّ |
|
را پر پیش |
تفخیم |
رُسُلٌ |
|
را پر زیر |
ترقیق |
رِزْقٌ |
|
را ساکن — ماقبل
زبر |
تفخیم |
مَرْحَبًا |
|
را
ساکن — ماقبل پیش |
تفخیم |
قُرْآنٌ |
|
را
ساکن — ماقبل زیر اصلی |
ترقیق |
مِرْيَةٌ |
|
را
ساکن — ماقبل زیر + بعد مستعلی |
تفخیم |
فِرْقَةٌ |
|
وقف میں — ماقبل یاء ساکن |
ترقیق |
خَيْرٌ
(وقف) |
س: مستعلی حروف کون سے ہیں جن کی وجہ سے را تفخیم سے پڑھیں؟
ج: سات مستعلی حروف ہیں:
خ، ص، ض، ط، ظ، غ، ق
یاد کرنے کا طریقہ: خُصَّ ضَغْطٍ قِظْ
مثال: فِرْقَةٌ — را ساکن، پہلے
زیر لیکن بعد میں ق (مستعلی) — تفخیم
س: را کے بارے میں چند خاص مسائل بیان کریں۔
ج: چار خاص مسائل:
١۔ رَأَى — را تفخیم —
فتحہ کی وجہ سے
٢۔ وَأَرَى — را ترقیق —
کسرہ کی وجہ سے
٣۔ نُذُرِ (وقف پر) — را ترقیق — کسرہ کی وجہ
سے
٤۔ مِصْرَ (وقف پر) — تفخیم
اور ترقیق دونوں جائز — یہاں دو روایات ہیں
٣ —
لام اور را کا موازنہ
س: لام اور را کے احکام میں کیا مماثلت ہے؟
|
لام (جلالہ) |
را |
|
تفخیم : زبر یا پیش کے بعد |
تفخیم : زبر، پیش،
ماقبل زبر/پیش |
|
ترقیق : زیر کے
بعد |
ترقیق زیر،
ماقبل زیر اصلی |
|
فرق : صرف لفظِ اللہ |
فرق : تمام
الفاظ میں را |
لام اور را کے احکام
(سوال و جواب — مثالوں کے ساتھ)
١ — تعارف
س: لام اور را کے بارے میں خاص بات کیا ہے؟
ج: لام اور را دو ایسے حروف ہیں جن میں تفخیم (موٹا پڑھنا) اور ترقیق
(باریک پڑھنا) دونوں آتے ہیں — یعنی یہ کبھی موٹے اور کبھی باریک پڑھے جاتے ہیں۔
باقی حروف یا ہمیشہ موٹے ہوتے ہیں یا ہمیشہ باریک — لیکن یہ دونوں حروف دونوں طرح
پڑھے جاتے ہیں۔
مثال: رَبٌّ (را موٹا) اور رِزْقٌ
(را
باریک) — ایک ہی حرف دونوں طرح۔
س: تفخیم کسے کہتے ہیں؟
ج: تفخیم کا لغوی معنی ہے موٹا یا بھاری کرنا ۔ اصطلاح میں حرف کو ادا
کرتے وقت آواز موٹی اور بھاری رکھنا تفخیم ہے — زبان کا پچھلا حصہ تالو کی طرف
اٹھتا ہے۔
مثال: رَحْمَةٌ، قُرْآنٌ، اللهُ — ان میں
آواز موٹی اور بھاری ہوتی ہے۔
س: ترقیق کسے کہتے ہیں؟
ج: ترقیق کا لغوی معنی ہے باریک یا پتلا کرنا ۔ اصطلاح میں حرف کو ادا
کرتے وقت آواز باریک اور ہلکی رکھنا ترقیق ہے — زبان کا پچھلا حصہ تالو کی طرف نہیں
اٹھتا۔
مثال: رِزْقٌ، رِجَالٌ، بِسْمِ اللهِ — ان میں
آواز باریک اور ہلکی ہوتی ہے۔
٢ — لام کے احکام
س: تجوید کے اعتبار سے لام کی کتنی اقسام ہیں؟
ج: تجوید کے اعتبار سے لام کی تین اقسام ہیں:
١۔ لامِ جلالہ — لفظِ اللہ میں
٢۔ لامِ شمسی — ال کے بعد شمسی حرف آئے
٣۔ لامِ قمری — ال کے بعد قمری حرف آئے
مثال: اللهِ (جلالہ) — الشَّمْسُ (شمسی) — الْقَمَرُ (قمری)
لامِ جلالہ
س: لامِ جلالہ کسے کہتے ہیں؟
ج: لفظِ اللهُ میں جو لام آتا ہے اسے لامِ جلالہ کہتے ہیں۔ یہ لام خاص
ہے کیونکہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے اسمِ ذات سے ہے۔ یہ لام کبھی تفخیم اور کبھی
ترقیق سے پڑھا جاتا ہے۔
مثال: قَالَ اللهُ، بِسْمِ اللهِ، لِلهِ،
عَبْدُ اللهِ —
سب میں لامِ جلالہ ہے۔
س: لامِ جلالہ کب تفخیم (موٹا) سے پڑھیں گے؟
ج: جب لامِ جلالہ سے پہلے فتحہ (زبر) یا ضمہ (پیش) ہو تو لامِ جلالہ کو
تفخیم سے پڑھیں گے۔
|
قَالَ اللهُ |
لام سے پہلے فتحہ |
تفخیم |
|
عَبْدُ
اللهِ |
لام سے پہلے ضمہ |
تفخیم |
|
يُحِبُّ
اللهُ |
لام سے پہلے ضمہ |
تفخیم |
|
رَسُوْلُ
اللهِ |
لام سے پہلے ضمہ |
تفخیم |
|
وَاللهُ |
لام سے پہلے فتحہ |
تفخیم |
س: لامِ جلالہ کب
ترقیق (باریک) سے پڑھیں گے؟
ج: جب لامِ جلالہ سے پہلے کسرہ (زیر) ہو تو لامِ جلالہ کو ترقیق (باریک)
سے پڑھیں گے۔
|
بِسْمِ
اللهِ |
لام سے پہلے زیر |
ترقیق |
|
لِلّٰهِ |
لام سے پہلے زیر |
ترقیق |
|
فِي سَبِيلِ
اللهِ |
لام سے پہلے زیر |
ترقیق |
|
عِبَادِ
اللهِ |
لام سے پہلے زیر |
ترقیق |
|
بِاللهِ |
لام سے پہلے زیر |
ترقیق |
س: لامِ جلالہ کا آسان قاعدہ بیان کریں۔
|
ماقبل حرکت |
حکم |
یاد رکھو |
|
زبر (فتحہ) |
تفخیم — موٹا |
زبر = موٹا |
|
پیش (ضمہ) |
تفخیم — موٹا |
پیش = موٹا |
|
زیر
(کسرہ) |
ترقیق — باریک |
زیر = باریک |
آسان فارمولا: زبر
اور پیش = موٹا ۔۔ زیر = باریک
لامِ شمسی
س: لامِ شمسی کسے کہتے ہیں؟
ج: جب ال کے بعد آنے والا حرف شمسی ہو تو لام کو اس حرف میں ادغام کر دیتے
ہیں — یعنی لام پڑھا نہیں جاتا — اگلا حرف مشدد ہو جاتا ہے۔ اسے لامِ شمسی کہتے ہیں۔
مثال: الشَّمْسُ — لام شین میں مل
گئی — 'اَشَّمْسُ' کی طرح پڑھیں۔
س: حروفِ شمسیہ کون سے ہیں؟
ج: حروفِ شمسیہ چودہ ہیں: ت، ث، د، ذ، ر، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ل، ن
یاد کرنے کا طریقہ: طِبْ ثُمَّ صِلْ رَحْمًا تَفُزْ
ضِفْ ذَا نِعَمْ دَعْ سُوءَ ظَنٍّ زُرْ شَرِيفًا لِلْكَرَمْ
مثالیں: الرَّحْمٰنُ — را شمسی — لام
مل گئی
النَّاسُ — نون شمسی — لام مل گئی
الشَّمْسُ — شین شمسی — لام مل گئی
الضَّالِّيْنَ — ضاد شمسی — لام مل گئی
الصِّرَاطَ — صاد شمسی — لام مل گئی
لامِ قمری
س: لامِ قمری کسے کہتے ہیں؟
ج: جب ال کے بعد آنے والا حرف قمری ہو تو لام کو واضح پڑھتے ہیں —
ادغام نہیں ہوتا۔ اسے لامِ قمری کہتے ہیں۔
مثال: الْقَمَرُ — لام واضح پڑھیں
— 'اَلْقَمَرُ' ویسے
ہی پڑھیں۔
س: حروفِ قمریہ کون سے ہیں؟
ج: حروفِ قمریہ چودہ ہیں: ء، ب، ج، ح، خ، ع، غ، ف، ق، ک، م، و، ہ، ی
یاد کرنے کا طریقہ: اِبْغِ حَجَّكَ وَخَفْ
عَقِيمَهُ
مثالیں: الْقُرْآنُ — قاف قمری — لام
واضح
الْكِتَابُ — کاف قمری — لام واضح
الْحَمْدُ — حاء قمری — لام واضح
الْعَالَمِيْنَ — عین قمری — لام واضح
الْمُسْلِمُوْنَ — میم قمری — لام واضح
س: لامِ شمسی اور لامِ قمری میں فرق بیان کریں۔
|
لامِ شمسی |
لامِ قمری |
|
لام: پڑھا نہیں جاتا |
لام: واضح پڑھا
جاتا ہے |
|
اگلا حرف : مشدد ہو جاتا ہے |
اگلا حرف :عام
پڑھا جاتا ہے |
|
١٤
حروف |
١٤ حروف |
|
مثال :الشَّمْسُ
|
مثال :الْقَمَرُ
|
س: لامِ شمسی کو
شمسی اور لامِ قمری کو قمری کیوں کہتے ہیں؟
ج: کیونکہ الشَّمْسُ (سورج) میں لام
شمسی ہے — لام ادغام ہو جاتا ہے۔ اور الْقَمَرُ (چاند)
میں لام قمری ہے — لام واضح پڑھا جاتا ہے۔ اسی نسبت سے نام رکھے گئے ہیں۔
مثال: سورج اپنی روشنی میں چھپ جاتا ہے — ویسے لامِ شمسی اگلے حرف میں
چھپ جاتا ہے۔
لامِ عام
س: لامِ جلالہ اور لامِ شمسی کے علاوہ باقی لام کا کیا حکم ہے؟
ج: باقی تمام لام ہمیشہ ترقیق (باریک) سے پڑھے جاتے ہیں۔
مثال: قُلْ، بَلْ، هَلْ، عَمَلَ، قَلَمٌ،
سَلَامٌ —
سب میں لام باریک۔
٣ — را کے احکام
س: را (ر) کے کتنے احکام ہیں؟
ج: را کے دو احکام ہیں:
١۔ تفخیم — موٹا پڑھنا
٢۔ ترقیق — باریک پڑھنا
مثال: رَبٌّ (تفخیم) ۔۔ رِزْقٌ (ترقیق)
را کی تفخیم
س: را کو تفخیم (موٹا) کب پڑھیں گے؟
ج: را کی تفخیم کے چھ مواقع ہیں:
پہلا موقع — را متحرک بفتحہ:
جب را پر فتحہ
(زبر) ہو۔
مثال: رَبُّنَا، رَحْمَةٌ، رَسُوْلٌ، رَأَى
—
را پر زبر — تفخیم
دوسرا موقع — را متحرک بضمہ:
جب را پر ضمہ (پیش)
ہو۔
مثال: رُسُلٌ، رُوحٌ، رُزِقَ، رُكُوعٌ — را
پر پیش — تفخیم
تیسرا موقع — را ساکن اور ماقبل مفتوح:
جب را ساکن ہو اور
اس سے پہلے زبر ہو۔
مثال: مَرْحَبًا، فَرْدٌ، اَرْسَلَ، كَرْمٌ
—
را ساکن، پہلے زبر — تفخیم
چوتھا موقع — را ساکن اور ماقبل مضموم:
جب را ساکن ہو اور
اس سے پہلے پیش ہو۔
مثال: قُرْآنٌ، بُرْهَانٌ، نُرْسِلُ،
كُرْسِيٌّ —
را ساکن، پہلے پیش — تفخیم
پانچواں موقع — را ساکن، ماقبل کسرہ عارضی:
جب را ساکن ہو اور
اس سے پہلے عارضی زیر ہو — یعنی اصل میں زیر نہ ہو بلکہ وصل کی وجہ سے آئی ہو۔
مثال: اِرْجِعِي — را ساکن، پہلے زیر
لیکن عارضی — تفخیم
چھٹا موقع — را ساکن، ماقبل کسرہ اصلی لیکن بعد میں مستعلی حرف:
جب را ساکن ہو،
پہلے زیر اصلی ہو لیکن را کے بعد اسی لفظ میں مستعلی حرف ہو۔
مثال: فِرْقَةٌ — را ساکن، پہلے زیر
لیکن بعد میں ق — تفخیم
صِرَاطٌ — را متحرک لیکن مستعلی حروف کے درمیان —
تفخیم
را کی ترقیق
س: را کو ترقیق (باریک) کب پڑھیں گے؟
ج: را کی ترقیق کے تین مواقع ہیں:
پہلا موقع — را متحرک بکسرہ:
جب را پر کسرہ (زیر)
ہو۔
مثال: رِزْقٌ، رِجَالٌ، رِسَالَةٌ، رِيَاحٌ
—
را پر زیر — ترقیق
دوسرا موقع — را ساکن اور ماقبل کسرہ اصلی:
جب را ساکن ہو اور
اس سے پہلے اصلی زیر ہو اور بعد میں کوئی مستعلی حرف نہ ہو۔
مثال: مِرْيَةٌ، فِرْعَوْنُ — را
ساکن، پہلے زیر اصلی — ترقیق
تیسرا موقع — وقف میں ماقبل یاء ساکن:
جب وقف کی حالت میں
را سے پہلے یاء ساکن ہو۔
مثال: خَيْرٌ (وقف پر) — یاء کے
بعد را — ترقیق
نَيِّرٌ (وقف پر) — یاء کے بعد را — ترقیق
را کے خاص مسائل
س: را کے چند خاص مسائل بیان کریں۔
ج: چار خاص مسائل ہیں:
١۔ مِصْرَ پر وقف:
تفخیم اور ترقیق دونوں
جائز ہیں۔
مثال: ادْخُلُوا مِصْرَ پر وقف
— تفخیم بھی جائز، ترقیق بھی جائز۔
٢۔ اِسْرَائِيلَ — را تفخیم:
را متحرک بفتحہ —
تفخیم۔
مثال: بَنِي إِسْرَائِيلَ — را
تفخیم۔
٣۔ وَنُذُرِ پر وقف:
را ساکن، ماقبل
کسرہ — ترقیق۔
مثال: وَمَا تُغْنِ النُّذُرِ — وقف
پر را ترقیق۔
٤۔ نُوْنَ وَالْقَلَمِ کا
را:
يَسْطُرُوْنَ — را پر پیش — تفخیم۔
وقف کے احکام
(سوال و جواب — مثالوں کے ساتھ)
١ — تعارف
س: وقف کا لغوی معنی کیا ہے؟
ج: وقف کا لغوی معنی ہے رکنا یا
ٹھہرنا ۔
مثال: جیسے چلتے چلتے کسی جگہ رک جانا — ویسے تلاوت میں کسی جگہ رکنا
وقف ہے۔
س: وقف کی اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
ج: اصطلاح میں تلاوتِ قرآن کریم کے دوران کسی لفظ پر سانس لے کر آواز
ختم کرنا — اور یہ ارادہ ہو کہ آگے بھی پڑھنا ہے — وقف کہلاتا ہے۔
مثال: الرَّحِيمِ پر رکنا — سانس لینا
— پھر آگے پڑھنا — یہ وقف ہے۔
س: وقف اور قطع میں کیا فرق ہے؟
|
وقف |
قطع |
|
معنی: رکنا |
کاٹنا |
|
ارادہ :آگے پڑھنا ہے |
تلاوت ختم کرنا ہے |
|
سانس: لیتے ہیں |
لیتے ہیں |
|
مثال :آیت پر رکنا |
تلاوت ختم کرنا |
|
مثال: سورۃ پڑھتے ہوئے سانس لینے کے لیے رکنا
وقف ہے ۔ |
اور تلاوت مکمل
کر کے ختم کرنا قطع ہے۔ |
س: وقف اور سکتہ میں کیا فرق ہے؟
|
وقف |
سکتہ |
|
سانس: لیتے ہیں |
نہیں لیتے |
|
مقدار: زیادہ |
بہت کم |
|
مقام: کہیں بھی |
مخصوص ٤ جگہ |
|
مثال: الرَّحِيمِ پر رکنا |
بَلْ۔رَانَ |
س: وقف کی ضرورت کیوں ہے؟
ج: وقف کی ضرورت پانچ وجوہات سے ہے:
١۔ سانس لینے کے لیے۔
٢۔ معنی سمجھنے اور غور کرنے کے لیے۔
٣۔ غلط جگہ رکنے سے معنی بگڑتا ہے اس سے بچنے کے لیے۔
٤۔ تلاوت میں ترتیل اور خوبصورتی کے لیے۔
٥۔ تدبرِ قرآن کے لیے۔
مثال: وَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ پر
اگر وقف کریں تو معنی بگڑتا ہے — اس لیے آگے ملا کر پڑھنا ضروری ہے۔
٢ — وقف کی اقسام
س: وقف کی کتنی اقسام ہیں؟
ج: وقف کی چار بڑی اقسام ہیں:
١۔ وقفِ تام
٢۔ وقفِ کافی
٣۔ وقفِ حسن
٤۔ وقفِ قبیح
مثال: یہ چاروں معنی کے اعتبار سے الگ الگ ہیں۔
وقفِ تام
س: وقفِ تام کسے کہتے ہیں؟
ج: وہ وقف جہاں معنی مکمل ہو اور ماقبل و مابعد میں کوئی تعلق نہ ہو — وقفِ
تام کہلاتا ہے۔ یہ بہترین وقف ہے۔
مثال: وَلَا الضَّالِّيْنَ — یہاں
سورۃ الفاتحہ مکمل ہوتی ہے — وقفِ تام ہے۔
س: وقفِ تام کے بعد ابتداء کیسی ہوگی؟
ج: وقفِ تام کے بعد جہاں سے چاہیں ابتداء کریں — معنی مکمل ہونے کی وجہ
سے کوئی قباحت نہیں۔
مثال: وَلَا الضَّالِّيْنَ کے
بعد آمِيْنَ کہیں یا نئی سورت شروع کریں — دونوں درست۔
س: وقفِ تام کی مثالیں بیان کریں۔
|
مثال |
وضاحت |
|
وَلَا الضَّالِّيْنَ |
سورۃ الفاتحہ کا
اختتام |
|
وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ |
آیت مکمل ہوئی |
|
عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ |
موضوع مکمل ہوا |
|
وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ |
موضوع مکمل ہوا |
وقفِ کافی
س: وقفِ کافی کسے کہتے ہیں؟
ج: وہ وقف جہاں معنی مکمل ہو لیکن آگے سے معنی کا تھوڑا تعلق ہو — وقفِ
کافی کہلاتا ہے۔ یہ بھی جائز ہے۔
مثال: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ — یہاں
رکنا جائز ہے لیکن آگے سے تعلق ہے۔
س: وقفِ کافی اور وقفِ تام میں کیا فرق ہے؟
|
وقفِ تام |
وقفِ کافی |
|
معنی مکمل |
مکمل |
|
تعلق کوئی نہیں |
تھوڑا ہے |
|
جواز بہترین |
جائز |
|
مثال: وَلَا الضَّالِّيْنَ |
غَيْرِ
الْمَغْضُوبِ |
س: وقفِ کافی کی مثالیں بیان کریں۔
|
مثال |
وضاحت |
|
إِيَّاكَ نَعْبُدُ رک سکتے ہیں —
|
آگے سے تعلق ہے |
|
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ |
رک سکتے ہیں |
|
خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ |
رک سکتے ہیں |
وقفِ
حسن
س: وقفِ حسن کسے کہتے ہیں؟
ج: وہ وقف جہاں لفظ یا جملہ اپنے آپ میں اچھا ہو لیکن معنی مکمل نہ ہو
اور آگے سے گہرا تعلق ہو — وقفِ حسن کہلاتا ہے۔ یہاں رکنا جائز ہے لیکن وہاں سے
ابتداء مکروہ ہے۔
مثال: بِسْمِ اللهِ — یہ
لفظ خوبصورت ہے لیکن معنی مکمل نہیں — یہاں رکنا حسن ہے لیکن آگے ملانا بہتر ہے۔
س: وقفِ حسن کی مثالیں بیان کریں۔
|
مثال |
وضاحت |
|
الْحَمْدُ لِلهِ |
خوبصورت ہے —
معنی ادھورا |
|
بِسْمِ اللهِ |
اچھا لفظ — آگے
سے تعلق |
|
الَّذِينَ كَفَرُوا |
رکنا حسن — آگے
معنی |
وقفِ
قبیح
س: وقفِ قبیح کسے کہتے ہیں؟
ج: وہ وقف جو معنی کو بگاڑ دے یا ناقص چھوڑ دے یا کلامِ الٰہی کے بارے
میں غلط مفہوم پیدا کرے۔ وقفِ قبیح کہلاتا ہے۔ یہ ناجائز ہے۔
مثال: وَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ پر
رکنا :معنی بن جاتا ہے "نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے" ۔یہ غلط ہے۔
س: وقفِ قبیح کی مثالیں بیان کریں۔
|
غلط وقف |
بگڑا ہوا معنی |
|
وَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ پر وقف |
نمازیوں کے لیے
ہلاکت — غلط |
|
إِنَّ اللهَ لَا يَسْتَحِي پر وقف |
اللہ کے بارے میں
غلط مفہوم |
|
لَا إِلَهَ پر وقف |
کوئی معبود نہیں
— ادھورا کلمہ |
|
فَوَيْلٌ
لِّلْمُصَلِّيْنَ الَّذِيْنَ (صحیح وقف آگے ہے ) |
پوری آیت ملا کر
پڑھیں |
٣ —
وقف کی علامات
س: قرآنِ کریم میں وقف کی علامات کون سی ہیں؟
ج: قرآنِ کریم میں وقف کی مختلف علامات لکھی ہوتی ہیں — ہر علامت ایک
حکم بتاتی ہے:
١۔ م (وقفِ لازم):
یہاں رکنا ضروری ہے
— نہ رکنے سے معنی بگڑتا ہے۔
مثال: وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا
اللهُ (م) وَالرَّاسِخُونَ — یہاں رکنا لازم ہے۔
٢۔ ط (وقفِ مطلق):
یہاں رکنا بہتر ہے
— جملہ مکمل ہو گیا۔
مثال: یہ علامت آیت کے اختتام یا موضوع کے اختتام پر ہوتی ہے۔
٣۔ ج (وقفِ جائز):
یہاں رکنا اور
چلتے رہنا دونوں برابر ہیں۔
مثال: یہاں اختیار ہے — رک سکتے ہیں یا آگے بڑھ سکتے ہیں۔
٤۔ ز (وقفِ مجوز):
یہاں رکنا جائز ہے
لیکن آگے ملانا بہتر ہے۔
مثال: آگے ملانا زیادہ مناسب ہے۔
٥۔ ص (وقفِ مرخص):
رکنا جائز ہے لیکن
صرف مجبوری میں — جیسے لمبی آیت میں سانس لینا ضروری ہو۔
مثال: سانس ختم ہو جائے تو یہاں رک سکتے ہیں۔
٦۔ لا (لا وقف):
یہاں رکنا درست نہیں
— آگے ملانا ضروری ہے۔
مثال: وَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ (لا) الَّذِيْنَ — یہاں
رکنا ناجائز ہے۔
٧۔ قلی (الوقف أولی):
یہاں نہ رکنا بہتر
ہے — آگے ملانا زیادہ مناسب ہے۔
مثال: آگے ملانا معنی کے اعتبار سے بہتر ہے۔
٨۔ صلی (الوصل أولی):
یہاں ملانا بہتر ہے
— رکنا جائز لیکن ملانا زیادہ اچھا۔
مثال: معنی کا تسلسل ملانے سے بہتر ہوتا ہے۔
٩۔ ﻗﻒ (قف):
یہاں رکو — بعض
لوگ یہاں نہیں رکتے اس لیے یاد دہانی کے طور پر لکھا ہے۔
مثال: یہ علامت توجہ دلانے کے لیے ہے۔
١٠۔ ۞ (سجدۂ تلاوت):
یہاں سجدۂ تلاوت واجب
یا مستحب ہے۔
مثال: أَلَا يَسْجُدُوا لِلّٰهِ ۞ — یہاں
سجدہ کریں۔
١١۔ ؎ (علامتِ وقف — رکوع):
یہ علامت رکوع کی
ہے — ایک رکوع یہاں مکمل ہوتا ہے۔
س: وقف کی علامات کا خلاصہ بیان کریں۔
|
علامت |
نام |
حکم |
|
م |
وقفِ لازم |
رکنا ضروری |
|
ط |
وقفِ مطلق |
رکنا بہتر |
|
ج |
وقفِ جائز |
دونوں برابر |
|
ز |
وقفِ مجوز |
ملانا بہتر |
|
ص |
وقفِ مرخص |
مجبوری میں رکیں
|
|
لا |
لا وقف |
رکنا ناجائز |
|
قلی |
الوقف أولی |
نہ رکنا بہتر |
|
صلی |
الوصل أولی |
ملانا بہتر |
|
قف |
قف |
رکو |
٤ — وقف کی حالت میں آخری حرف کا حکم
س: وقف کرتے وقت آخری حرف کیسے پڑھیں گے؟
ج: وقف کرتے وقت آخری حرف پر سکون عارض آتا ہے — یعنی حرکت ختم ہو جاتی
ہے اور حرف ساکن ہو جاتا ہے۔
مثال: نَسْتَعِيْنُ — وصل
میں نون پر پیش ہے — وقف میں نون ساکن ہو جاتا ہے — 'نَسْتَعِیْنْ' کی طرح۔
س: وقف میں تنوین کا کیا حکم ہے؟
ج: وقف میں تنوین کے تین احکام ہیں:
١۔ دو زبر (ـًا) — وقف میں:
الف کے ساتھ دو
زبر ہو تو وقف میں الف باقی رہتا ہے اور تنوین ختم ہو جاتی ہے۔
مثال: عَلِيمًا وقف میں —
'عَلِیماً' — 'عَلِیمَا' کی طرح پڑھیں۔
٢۔ دو زیر (ـٍ) — وقف میں:
تنوین ختم ہو جاتی
ہے — آخری حرف ساکن۔
مثال: كِتَابٍ وقف میں — 'کِتَابْ' کی
طرح۔
٣۔ دو پیش (ـٌ) — وقف میں:
تنوین ختم ہو جاتی
ہے — آخری حرف ساکن۔
مثال: كِتَابٌ وقف میں —
'کِتَابْ' کی
طرح۔
س: وقف میں مشدد حرف کا کیا حکم ہے؟
ج: وقف میں مشدد حرف باقی رہتا ہے — تشدید نہیں جاتی۔
مثال: الضَّالِّيْنَ وقف میں — لام
مشدد باقی رہے گا — 'الضَّالِّیْنْ'۔
س: وقف میں ہاء تانیث کا کیا حکم ہے؟
ج: وقف میں ہاء تانیث کو ہ (ساکن) پڑھیں گے — 'ت' نہیں پڑھیں گے۔
مثال: رَحْمَةٌ وقف میں — 'رَحْمَہْ'
پڑھیں
—
'رَحْمَتْ'
نہیں۔
٥ — ابتداء کے احکام
س: ابتداء کسے کہتے ہیں؟
ج: وقف کے بعد یا تلاوت نئی شروع کرتے وقت کسی لفظ سے شروع کرنا ابتداء
کہلاتا ہے۔
مثال: وقف کے بعد اَلرَّحِيمِ سے
آگے شروع کرنا ابتداء ہے۔
س: ابتداء کے کتنے احکام ہیں؟
ج: ابتداء کے تین احکام ہیں:
١۔ ابتداءِ جائز — جہاں سے شروع کرنا درست ہو۔
٢۔ ابتداءِ حسن — جہاں سے شروع کرنا اچھا ہو۔
٣۔ ابتداءِ قبیح — جہاں سے شروع کرنا درست نہ ہو۔
س: ابتداء کیسی جگہ سے کریں؟
ج: ابتداء ہمیشہ مکمل معنی والی جگہ سے کریں۔ ناقص معنی والی جگہ سے
ابتداء مکروہ ہے۔
مثال: إِنَّ اللهَ لَا يَسْتَحِي سے
ابتداء مکروہ ہے — پوری آیت سے شروع کریں۔
س: ہمزۂ وصل سے ابتداء کیسے کریں گے؟
ج: جب ہمزۂ وصل سے ابتداء کریں تو اسے پڑھیں گے — وصل میں گرتا ہے لیکن
ابتداء میں پڑھا جاتا ہے۔
مثال: اَلْحَمْدُ — وصل میں
'الحمد' — ابتداء میں 'اَلْحَمْد'۔
س: ابتداء میں تعوذ اور بسملہ کا کیا حکم ہے؟
ج: تعوذ
(اعوذ باللّٰہ): ابتداء میں مستحب ہے۔
بسملہ: سورت کے
شروع میں مستحب ہے — سورۃ التوبہ کے علاوہ۔
درمیانِ سورت سے
شروع کریں تو: تعوذ پڑھیں — بسملہ اختیاری ہے۔
مثال: سورۃ البقرہ کے درمیان سے پڑھنا ہو تو پہلے اعوذ
باللّٰہ پڑھیں۔
٦ —
دو سورتوں کے درمیان بسملہ
س: دو سورتوں کے درمیان بسملہ کے کیا احکام ہیں؟
ج: دو سورتوں کے درمیان تین طریقے جائز ہیں:
١۔ پہلا طریقہ — وقف + بسملہ + آگے:
پہلی سورت پر وقف
کریں — بسملہ پڑھیں — دوسری سورت شروع کریں۔
مثال: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ (وقف) — بِسْمِ
اللهِ — قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
٢۔ دوسرا طریقہ — وقف + آگے بلا بسملہ:
پہلی سورت پر وقف
کریں — دوسری سورت بلا بسملہ شروع کریں۔
نوٹ: یہ سورۃ التوبہ کے علاوہ مکروہ ہے۔
٣۔ تیسرا طریقہ — بسملہ ملا کر:
پہلی سورت + بسملہ
+ دوسری سورت — سب ملا کر پڑھیں۔
مثال: أَحَدٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
قُلْ أَعُوذُ —
ملا کر پڑھیں۔
س: کون سا طریقہ ناجائز ہے؟
ج: پہلی سورت کو بسملہ سے ملانا اور دوسری سورت الگ کرنا — یعنی:
قُلْ
هُوَ اللهُ أَحَدٌ بِسْمِ اللهِ (وقف یہاں) — قُلْ
أَعُوذُ
— یہ ناجائز ہے کیونکہ بسملہ پہلی سورت کا حصہ لگتی ہے۔
٧ — وقف کی اقسام — اور تقسیم
س: وقف کو ایک اور طریقے سے کیسے تقسیم کر سکتے ہیں؟
ج: وقف کو اختیاری اور اضطراری میں تقسیم کر سکتے ہیں:
١۔ وقفِ اختیاری: اپنی مرضی سے
کسی جگہ رکنا۔
٢۔ وقفِ اضطراری: مجبوری میں رکنا — جیسے سانس ختم ہو جائے یا کھانسی
آئے۔
اس صورت میں جہاں
رکے وہاں سے نہیں بلکہ مناسب جگہ سے واپس آ کر پڑھیں۔
مثال: اگر وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ پر
مجبوری میں رکنا پڑے تو واپس آ کر مناسب جگہ سے پڑھیں۔
س: وقفِ انتظاری کسے کہتے ہیں؟
ج: جب قاری دو یا زیادہ قراءتوں کو جمع کرنے کے لیے ایک جگہ رکے — اسے وقفِ
انتظاری کہتے ہیں۔
مثال: علماء جب مختلف روایات سنانا چاہتے ہیں تو ایک جگہ رک کر ہر روایت
الگ سناتے ہیں۔
٤ — تمام احکام کا خلاصہ
لام کا خلاصہ
|
قسم |
حکم |
مثال |
|
لامِ جلالہ
(زبر/پیش بعد) |
تفخیم |
قَالَ اللهُ |
|
لامِ جلالہ (زیر
بعد) |
ترقیق |
بِسْمِ اللهِ |
|
لامِ شمسی |
ادغام |
الشَّمْسُ |
|
لامِ قمری |
اظہار |
الْقَمَرُ |
|
باقی سب لام |
ہمیشہ ترقیق |
قُلْ، بَلْ |
را کا خلاصہ
|
حالت |
حکم |
مثال |
|
را
پر زبر |
تفخیم |
رَبٌّ |
|
را
پر پیش |
تفخیم |
رُسُلٌ |
|
را
پر زیر |
ترقیق |
رِزْقٌ |
|
را
ساکن — ماقبل زبر |
تفخیم |
مَرْحَبًا |
|
را
ساکن — ماقبل پیش |
تفخیم |
قُرْآنٌ |
|
را
ساکن — ماقبل زیر اصلی |
ترقیق |
مِرْيَةٌ |
|
را
ساکن — ماقبل کسرہ عارضی |
تفخیم |
اِرْجِعِي |
|
را
ساکن — ماقبل زیر + بعد مستعلی |
تفخیم |
فِرْقَةٌ |
|
وقف میں — ماقبل یاء ساکن |
ترقیق |
خَيْرٌ (وقف) |
متفرق قواعد کے
احکام (سکتہ، تسہیل، ابدال، اظہارِ مطلق وغیرہ)
سوال و جواب —
مثالوں کے ساتھ
١ — سکتہ
س: سکتہ کا لغوی معنی کیا ہے؟
ج: سکتہ کا لغوی معنی ہے خاموش ہونا یا رکنا ۔
مثال: جیسے گفتگو کے دوران ایک لمحے کے لیے رک جانا — ویسے تلاوت میں ایک
آن کے لیے رکنا سکتہ ہے۔
س: سکتہ کی اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
ج: اصطلاح میں تلاوت کے دوران سانس روک کر — بغیر سانس لیے — ایک آن کے
لیے رکنا اور پھر آگے پڑھنا سکتہ کہلاتا ہے۔
مثال: بَلْ۔رَانَ — بل پر رکیں سانس
نہ لیں پھر رَانَ پڑھیں
— یہ سکتہ ہے۔
س: سکتہ اور وقف میں کیا فرق ہے؟
ج: تین فرق ہیں:
|
سکتہ |
وقف |
|
سانس: نہیں لیتے |
لیتے ہیں |
|
مقام: مخصوص جگہیں |
کہیں بھی جائز |
|
مقدار: بہت مختصر |
قدرے زیادہ |
مثال: مَنْ۔رَاقٍ
—
یہاں سکتہ ہے — سانس نہیں لیں گے — بس ایک آن رکیں گے۔
س: روایتِ حفص میں سکتہ کتنی جگہ ہے؟
ج: روایتِ حفص عن عاصم میں چار مقامات پر سکتہ ہے:
پہلا مقام: سورۃ الکہف — آیت ١ ۔ عِوَجًا ۔
قَيِّمًا
'عِوَجاً' پر سکتہ کریں پھر 'قَیِّماً' پڑھیں۔
وجہ: اگر سکتہ نہ کریں اور ملا کر پڑھیں تو لگتا ہے 'عِوَجاً
قَیِّماً'
— یعنی قرآن میں کجی ہے — اس غلط معنی سے بچنے کے لیے سکتہ ضروری ہے۔
دوسرا مقام: سورۃ یٰسٓ — آیت ٥٢
مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَرْقَدِنَا ۔ هَذَا
'مَرْقَدِنَا' پر سکتہ کریں پھر
'هَذَا' پڑھیں۔
وجہ: یہاں سکتہ قیامت کے اس منظر کو الگ کرتا ہے — قبر سے اٹھنے اور
اللہ کے فیصلے کے درمیان۔
تیسرا مقام: سورۃ القیامۃ — آیت ٢٧
وَقِيلَ مَنْ ۔ رَاقٍ
'مَنْ' پر سکتہ کریں پھر
'رَاقٍ'
پڑھیں۔
وجہ: اگر ملا کر پڑھیں تو 'مَنْ رَاقٍ' میں ادغام ہو جائے گا — سکتہ سے
ادغام سے بچتے ہیں۔
چوتھا مقام: سورۃ المطففین — آیت ١٤ ۔ كَلَّا بَلْ
۔ رَانَ
'بَلْ' پر سکتہ کریں پھر
'رَانَ'
پڑھیں۔
وجہ: اگر ملا کر پڑھیں تو 'بَلَ رَانَ' ہو
جائے — سکتہ سے لام کا اظہار ہوتا ہے۔
س: سکتہ کی علامت قرآن میں کیا ہے؟
ج: قرآنِ کریم میں سکتہ کی جگہ سـ یا سكت
لکھا ہوتا ہے۔
مثال: عِوَجًا۞ قَيِّمًا — یہاں
چھوٹا 'س' نظر آتا ہے۔
س: سکتہ کی مقدار کتنی ہے؟
ج: سکتہ کی مقدار دو حرکت کے برابر ہے — بہت مختصر — بس ایک آن کی
خاموشی۔
مثال: جیسے گھڑی کی دو ٹک — اتنی مقدار میں رکیں۔
٢ — تسہیل
س: تسہیل کا لغوی معنی کیا ہے؟
ج: تسہیل کا لغوی معنی ہے آسان کرنا یا نرم کرنا ۔
مثال: جیسے مشکل کام آسان کر دیں — ویسے ہمزہ کو آسان کر دینا تسہیل
ہے۔
س: تسہیل کی اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
ج: اصطلاح میں ہمزہ کو ہمزہ اور الف کے درمیان ادا کرنا — یعنی نہ پوری
ہمزہ اور نہ پوری الف — بلکہ دونوں کے درمیان نرم آواز — تسہیل کہلاتا ہے۔
مثال: ءَاَعْجَمِيٌّ — دوسری
ہمزہ کو تسہیل سے پڑھیں — ہمزہ اور الف کے درمیان۔
س: روایتِ حفص میں تسہیل کہاں ہے؟
ج: روایتِ حفص میں تسہیل صرف ایک جگہ ہے:
سورۃ فصلت — آیت ٤٤
ءَاَعْجَمِيٌّ وَعَرَبِيٌّ ۔یہاں دوسری ہمزہ
کو تسہیل سے پڑھیں گے۔
مثال: 'ءَ' کے بعد جو 'اَ' آئی ہے اسے نہ پوری ہمزہ بنائیں نہ پوری الف
— درمیانی آواز نکالیں۔
س: تسہیل کیوں کرتے ہیں؟
ج: جب ایک لفظ میں دو ہمزے آئیں
۔ پہلی متحرک اور دوسری متحرک ۔ تو دوسری ہمزہ کو تسہیل دیتے ہیں کیونکہ دو ہمزے
پے در پے بولنا زبان پر گراں گزرتا ہے ۔ تسہیل سے آسانی ہوتی ہے۔
مثال: ءَاَنذَرْتَهُمْ — دو
ہمزے — دوسری کو تسہیل یا مد دیں — آسانی ہو جاتی ہے۔
س: تسہیل اور ابدال میں کیا فرق ہے؟
|
تسہیل |
ابدال |
|
معنی : آسان کرنا |
بدلنا |
|
طریقہ : ہمزہ نرم کریں |
ہمزہ کو مد میں بدلیں |
|
نتیجہ : درمیانی آواز |
الف بن جاتا ہے |
|
مثال: ءَاَعْجَمِيٌّ |
ءَامَنَ |
٣ — ابدال
س: ابدال کا لغوی معنی کیا ہے؟
ج: ابدال کا لغوی معنی ہے بدلنا یا تبدیل کرنا ۔
مثال: جیسے ایک چیز کی جگہ دوسری رکھ دیں — ویسے ایک حرف کی جگہ دوسرا
رکھنا ابدال ہے۔
س: ابدال کی اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
ج: اصطلاح میں ہمزہ کو حرفِ مد میں بدل دینا ابدال کہلاتا ہے۔ جب دو
ہمزے آئیں تو پہلی رہتی ہے اور دوسری مد میں بدل جاتی ہے۔
مثال: آمَنَ — اصل میں أَأْمَنَ
تھا
— دوسری ہمزہ الف میں بدل گئی — 'آمَنَ' بن گیا۔
س: ابدال کی مثالیں بیان کریں۔
|
اصل |
ابدال کے بعد |
وضاحت |
|
أَأْمَنَ |
آمَنَ |
دوسری ہمزہ الف
بنی |
|
أَأْدَمُ |
آدَمُ |
دوسری ہمزہ الف بنی |
|
أُوْتِيَ |
أُوتِيَ |
ہمزہ واو بنی |
|
إِيْمَانٌ |
إِيمَانٌ |
ہمزہ یاء بنی |
س: روایتِ حفص میں ابدال کا خاص مقام کون سا ہے؟
ج: روایتِ حفص میں ابدال کا خاص مقام:
سورۃ الزمر — آیت ٦٩ : وَجِيءَ
بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ
اور سورۃ الفجر —
آیت ٢٣ : وَجِيءَ
يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ
یہاں 'جِيءَ' میں یاء مد ہے — یہ
ابدال ہے۔
٤ —
اظہارِ مطلق
س: اظہارِ مطلق کسے کہتے ہیں؟
ج: وہ اظہار جو نہ حلقی ہو نہ شفوی — بلکہ ایک خاص قاعدے کے تحت نون یا
میم کو واضح پڑھا جائے — اظہارِ مطلق کہلاتا ہے۔ اسے اظہارِ مطلق اس لیے کہتے ہیں
کہ یہ کسی مخصوص مخرج سے مقید نہیں — بلکہ مطلق ہے۔
مثال: يٰسٓ وَالْقُرْآنِ — یاسین
میں نون واضح پڑھیں۔
س: اظہارِ مطلق کے مواقع کون سے ہیں؟
ج: اظہارِ مطلق کے دو اہم مواقع ہیں:
پہلا موقع — نون ساکن کے بعد واو یا یاء — ایک لفظ میں:
جب نون ساکن اور
واو یا یاء ایک ہی لفظ میں ہوں — تو ادغام نہیں ہوگا — اظہار ہوگا۔
مثال: دُنْيَا، بُنْيَانٌ، صِنْوَانٌ،
قِنْوَانٌ
یہاں نون ساکن کے
بعد یاء یا واو ہے لیکن ایک لفظ ہونے کی وجہ سے ادغام نہیں — اظہار ہے۔
دوسرا موقع — حروفِ مقطعات میں نون:
يٰسٓ، طٰسٓ، حٰمٓ، طٰهٰ، يٰسٓ — ان میں نون کو
اظہار سے پڑھیں۔
مثال: يٰسٓ وَالْقُرْآنِ — سین
میں نون واضح — اگرچہ بعد میں واو ہے۔
س: اظہارِ مطلق اور اظہارِ حلقی میں کیا فرق ہے؟
|
اظہارِ حلقی |
اظہارِ مطلق |
|
حروف :ء ہ ع ح غ خ |
واو یاء (ایک لفظ) |
|
مخرج : حلق |
مختلف |
|
وجہ : مخرج دور ہے |
ایک لفظ ہے |
|
مثال: مِنْ عِلْمٍ |
دُنْيَا |
٥ — نقل
س: نقل کا لغوی معنی کیا ہے؟
ج: نقل کا لغوی معنی ہے منتقل کرنا یا ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا ۔
مثال: جیسے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں — ویسے حرکت ایک
حرف سے دوسرے پر منتقل کرنا نقل ہے۔
س: نقل کی اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
ج: اصطلاح میں ساکن حرف کی حرکت کو اگلے ہمزۂ وصل پر منتقل کر دینا اور
ہمزہ گرا دینا — نقل کہلاتا ہے۔
مثال: بَلْ رَانَ — لام ساکن ہے —
اگلا 'ر' کا ہمزۂ وصل ہے — حرکت نقل ہو کر 'بَلَ رَانَ' بن جاتا ہے۔
س: روایتِ حفص میں نقل کہاں ہے؟
ج: روایتِ حفص میں نقل صرف ایک جگہ ہے:
سورۃ المطففین — آیت ١٤
كَلَّا بَلْ رَانَ
یہاں 'بَلْ' کی
لام ساکن — 'رَانَ' کا ہمزۂ وصل — لام کی حرکت نقل ہو کر:
'بَلَ رَانَ' کی طرح پڑھیں — لیکن
ساتھ سکتہ بھی ہے۔
مثال: پہلے سکتہ کریں پھر نقل کے ساتھ 'رَانَ' پڑھیں۔
س: نقل اور سکتہ میں کیا فرق ہے؟
ج:
|
نقل |
سکتہ |
|
عمل: حرکت منتقل ہوتی ہے |
رکنا ہوتا ہے |
|
سانس : جاری رہتا ہے |
رکتا ہے |
|
مقام : بَلْ رَانَ |
چار جگہ |
|
نتیجہ: حرف بدلتا ہے |
آواز رکتی ہے |
٦ —
امالہ
س: امالہ کا لغوی معنی کیا ہے؟
ج: امالہ کا لغوی معنی ہے جھکانا یا مائل کرنا ۔
مثال: جیسے درخت ہوا سے جھک جائے — ویسے الف کو یاء کی طرف جھکانا
امالہ ہے۔
س: امالہ کی اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
ج: اصطلاح میں الف کو یاء کی طرف یا فتحہ کو کسرہ کی طرف مائل کر کے
پڑھنا — امالہ کہلاتا ہے۔ یعنی نہ پوری الف نہ پوری یاء — بلکہ درمیانی آواز۔
مثال: مَجْرَاهَا — 'را' کو امالہ
سے پڑھیں — یعنی ذرا یاء کی طرف جھکائیں۔
س: روایتِ حفص میں امالہ کہاں ہے؟
ج: روایتِ حفص میں امالہ صرف ایک جگہ ہے: سورۃ ھود — آیت ٤١
بِسْمِ
اللهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا
یہاں 'مَجْرَاهَا' میں
'را' کو امالہ سے پڑھیں گے۔
مثال: 'مَجْرَاہَا' کو 'مَجْرَیہَا'
کی
طرف مائل کر کے پڑھیں — امالہ۔
س: امالہ اور تسہیل میں کیا فرق ہے؟
|
امالہ |
تسہیل |
|
حرف: الف یا فتحہ |
ہمزہ |
|
مائل: یاء کی طرف |
الف کی طرف |
|
مقام: مَجْرَاهَا |
ءَاَعْجَمِيٌّ
|
|
تعداد: ایک جگہ |
ایک جگہ |
٧ — اشمام
س: اشمام کا لغوی معنی کیا ہے؟
ج: اشمام کا لغوی معنی ہے خوشبو سونگھانا یا کچھ ملانا ۔
مثال: جیسے کھانے میں ہلکی سی خوشبو شامل کریں — ویسے آواز میں ہلکا سا
ضمہ شامل کرنا اشمام ہے۔
س: اشمام کی اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
ج: اصطلاح میں وقف کی حالت میں ہونٹوں کو گول کر کے ضمہ (پیش) کا اشارہ
دینا — آواز نہیں نکلتی صرف ہونٹوں کی شکل سے ضمہ ظاہر ہوتا ہے — اشمام کہلاتا ہے۔
مثال: تَأْمَنَّا (سورۃ یوسف:١١) نون
مشدد پر وقف کریں، ہونٹ گول کریں، ضمہ کا اشارہ دیں۔ یہ اشمام ہے۔
س: اشمام اور روم کیا ہے؟ فرق بیان کریں۔
|
اشمام |
روم |
|
معنی: سونگھانا |
ہلکا کرنا |
|
طریقہ : ہونٹ گول کریں |
آواز ہلکی نکالیں |
|
آواز: نہیں نکلتی |
تھوڑی نکلتی ہے |
|
مقام: تَأْمَنَّا |
بعض وقف |
|
سنائی دیتا ہے : نہیں |
سنائی دیتا ہے :
ہاں |
|
اشمام میں دیکھنے
والا ہونٹوں سے سمجھتا ہے |
مثال:روم میں
سننے والا آواز سے سمجھتا ہے۔ |
٨ — وقفِ خاص (ہاء کنایہ میں)
س: ہاء کنایہ (ہاء ضمیر) کسے کہتے ہیں؟
ج: وہ ہ جو ضمیر کا کام دے ، یعنی کسی غائب مذکر کی طرف اشارہ کرے، ہاء
کنایہ یا ہاء ضمیر کہلاتی ہے۔
مثال: رَبِّهِ، لَهُ، عَلَيْهِ — ان میں
ہاء ضمیر ہے۔
س: ہاء کنایہ کا حکم کیا ہے؟
ج: ہاء کنایہ کے دو احکام ہیں:
١۔ صلہ: جب ہاء سے پہلے اور بعد دونوں متحرک ہوں تو ہاء کو واو یا یاء
کی طرح کھینچیں — یہ صلہ ہے۔
مثال: رَبِّهِ — ہاء کے بعد یاء
چھوٹی — صلہ صغریٰ
٢۔ سکون: جب ہاء سے پہلے یا بعد ساکن ہو تو ہاء ساکن پڑھیں — صلہ نہیں
ہوگا۔
مثال: مِنْهُ الْكِتَابُ — ہاء
کے بعد لامِ ساکن — صلہ نہیں
٩ — خاص الفاظ کے
احکام
س: قرآنِ کریم میں چند الفاظ ایسے ہیں جن کے خاص احکام ہیں — وہ کون سے
ہیں؟
ج: چند اہم الفاظ درج ذیل ہیں:
١۔ اَنَا: جب وصل ہو تو الف آخر گر جاتا ہے — اَنَ کی
طرح پڑھیں۔
جب وقف ہو تو الف
باقی رہتا ہے — اَنَا پڑھیں۔
مثال: أَنَا أُحْيِي — وصل
میں 'اَنَ اُحْیِی'۔
٢۔ أَيُّهَ / أَيُّهَا:
جب وقف ہو تو أَيُّهْ
—
ہاء ساکن۔
جب وصل ہو تو أَيُّهَا
—
ہاء متحرک۔
مثال: يَا أَيُّهَا النَّاسُ — وصل
میں ہاء متحرک۔
٣۔ اَلرَّحْمٰنُ — میم:
میم پر الف ہے لیکن
یہ الفِ وقف ہے — وصل میں نہیں پڑھتے۔
مثال: الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ — وصل
میں 'الرَّحْمَنُ'۔
٤۔ بِئْسَ:
یہ ہمزہ کسرہ کے
ساتھ ہے — صحیح ادا کریں۔
مثال: بِئْسَ الِاسْمُ —
ہمزہ واضح پڑھیں۔
٥۔ لَكِنَّا:
سورۃ الکہف — آیت ٣٨ میں:
وصل میں: لَكِنَّا
—
الف ساقط
وقف میں: لَكِنَّا — الف
باقی
مثال: لٰكِنَّا هُوَ اللهُ رَبِّي — وصل
میں الف گرے گا۔
١٠ — تمام متفرق احکام کا خلاصہ
|
قاعدہ |
تعریف |
مقام |
مثال |
|
سکتہ |
سانس روک کر رکنا |
٤ جگہ |
بَلْ۔رَانَ |
|
تسہیل |
ہمزہ نرم کرنا |
١ جگہ |
ءَاَعْجَمِيٌّ |
|
ابدال |
ہمزہ کو مد میں بدلنا |
متعدد |
آمَنَ |
|
اظہارِ مطلق |
ایک لفظ میں ن+و/ی |
متعدد |
دُنْيَا |
|
نقل |
حرکت منتقل کرنا |
١ جگہ |
بَلَ رَانَ |
|
امالہ |
الف کو یاء کی طرف |
١ جگہ |
مَجْرَاهَا |
|
اشمام |
ہونٹ گول کرنا |
١ جگہ |
تَأْمَنَّا |
|
روم |
آواز ہلکی نکالنا |
بعض وقف |
متعدد |
Post a Comment