کربلا
کی روشنی میں ایک صاحبِ اختیار مسلمان کے طرزِ زندگی اور عملی کردار
تحریر:محمدسرفراز صابری
واقعہ کربلا
کی روشنی میں ایک صاحبِ اختیار مسلمان کے طرزِ زندگی اور عملی کردار کے چند بنیادی
اصول درج ذیل ہیں:
1۔
اختیار کو امانت سمجھنا، استحقاق نہیں
واقعۂ کربلا یہ احساس دلاتا ہے کہ طاقت اور اختیار انسان کی
ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ صاحبِ اقتدار کو اپنے ہر فیصلے کے
بارے میں یہ احساس ہونا چاہیے کہ ایک دن اسے اللہ کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا:
كُلُّكُمْ
رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ(صحیح مسلم)
"تم میں
سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"
اس لیے صاحبِ
اختیار کی پہلی صفت احساسِ جواب دہی ہے۔
2۔
حق کو مصلحت پر قربان نہ کرنا
کربلا کا سب سے
روشن سبق یہ ہے کہ اصول وقتی مفادات سے بلند ہوتے ہیں۔ ایک مسلمان قائد، افسر،
عالم یا سربراہ کو ایسے مواقع پیش آ سکتے ہیں جہاں ذاتی مفاد، منصب یا شہرت ایک
طرف ہو اور حق دوسری طرف۔ کربلاسے یہ درس ملتا ہے کہ حق کا ساتھ دینا ہی حقیقی
کامیابی ہے۔
3۔
عدل کو تعلقات پر ترجیح دینا
صاحبِ اختیار کے
لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوتا ہے کہ وہ دوست اور دشمن، اپنے اور پرائے، امیر اور
غریب کے درمیان انصاف قائم رکھے۔ اور یہی صاحب اختیار کے شایان شان اور منصبی تقاضا
ہے۔
قرآن کریم فرماتا
ہے:
وَلَا
يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ
أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ(المائدۃ : 8)
"کسی
قوم کی دشمنی تمہیں انصاف چھوڑ دینے پر آمادہ نہ کرے۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے
زیادہ قریب ہے۔"
کربلا انتباہ ہے
کہ جب انصاف کمزور ہو جائے تو معاشرے میں بے چینی اور فساد جنم لیتا ہے۔ اور یہ
بات سچ ہے کہ جس معاشرے میں انصاف نہ رہے، وہ طویل مدت تک زندہ اور قائم نہیں رہ
سکتا۔
4۔
کمزوروں کی آواز سننا
اقتدار کا ایک نشہ
اور خطرہ یہ ہے کہ انسان اپنے ارد گرد صرف خوشامدی افراد جمع کر لیتا ہے۔ کربلا کا
ایک اہم درس یہ ہے کہ صاحبِ اختیار کو محروم اور کمزور طبقات کی آواز سننے کی
صلاحیت برقرار رکھنی چاہیے۔ اور ان کی دادرسی اور مدد میں کوتاہی نہیں ہونی چاہئے۔
ایک مسلمان قائد
کی عظمت اس کے اختیار کی وسعت اور ہٹوبچو سے نہیں بلکہ اس کی رحم دلی اور انصاف سے
پہچانی جاتی ہے۔
5۔
تکبر سے اجتناب
طاقت اکثر غرور
پیدا کرتی ہے، جبکہ واقعہ کربلا عاجزی اور
انکساری کا درس ہے۔ ایک صاحبِ اختیار
مسلمان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار دائمی نہیں اور عزت و ذلت کا مالک اللہ
تعالیٰ ہے۔اسے اپنے فرائض منصبی اللہ کی رضا اورعوام کی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے
اداکرنے چاہئے۔
جتنا بڑا اختیار
ہو، اتنی ہی زیادہ تواضع مطلوب ہے۔
6۔
اختلافِ رائے کا احترام
کربلا کے تاریخی
تناظر سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اختلافِ رائے کو ہمیشہ بغاوت یا دشمنی نہیں سمجھنا
چاہیے۔ ایک بالغ نظر مسلمان قائد تنقید سننے، مشورہ قبول کرنے اور اپنے فیصلوں پر
نظرثانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔لہذا اسے حق کو قبول کرنے میں اپنے پرائے کا
امتیاز ختم کرتے ہوئے حق کو قبول کرنا چاہئے خواہ حق کا داعی اس کا مخالف ہی کیوں
نہ ہو۔
7۔
ذاتی کردار کی پاکیزگی
صاحبِ اختیار کی
نجی زندگی اور عوامی زندگی میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ دیانت، سچائی، وعدے کی
پابندی اور اخلاقی پاکیزگی اس کی شخصیت کا حصہ ہونی چاہیے۔کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ لوگ
اکثر قائد کے الفاظ سے زیادہ اس کے کردار سے متاثر ہوتے ہیں۔
8۔
خدمت کو اقتدار پر مقدم رکھنا
اسلامی تصورِ
قیادت میں منصب اعزاز سے زیادہ ذمہ داری ہے۔ کربلا سے سبق ملتا ہے کہ قیادت کا
مقصد لوگوں پر حکمرانی نہیں بلکہ ان کی خدمت اوران کی فلاح و بہبود ہے۔ جس قدر
اختیار بڑھتا ہے، اسی قدر خدمت اور قربانی کا جذبہ بھی بڑھنا چاہیے۔جب کہ دیکھنے
میں اکثر یہ ملتا ہے کہ جیسے جیسے صاحب اختیار کا اقتدار مضبوط ہوتا جاتا ہے وہ
اپنے فرائضِ منصبی سے غافل ہوتا چلا جاتاہے
جو زوال پر منتج ہوتا۔
9۔
ظلم کے ہر روپ سے اجتناب
ظلم صرف قتل یا
جسمانی تشدد کا نام نہیں۔ اختیارات کا ناجائز استعمال، حق تلفی، سفارش، کرپشن،
جھوٹا الزام، استحصال اور ناانصافی بھی ظلم کی صورتیں ہیں۔اور یہ تمام صورتیں آج
کے معاشروں میں ہر جگہ دیکھنے کو ملتی ہیں۔
واقعہ کربلا صاحبِ
اقتدار افراد کو متنبہ کرتا ہے کہ ظلم،جبرواستحصال وقتی فائدہ دے سکتا ہے مگر
اخلاقی اور تاریخی اعتبار سے کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔
10۔
دین اور اخلاق کو فیصلہ سازی کی بنیاد بنانا
ایک مسلمان صاحبِ
اختیار کو اپنے فیصلوں میں محض سیاسی، مالی یا ذاتی مصلحتوں کو نہیں بلکہ دینی و
اخلاقی اصولوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ کربلا کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب طاقت اخلاق سے جدا ہو جائے
تو معاشرہ بحران اوربے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے۔
الغرض واقعۂ کربلا
کی روشنی میں ایک صاحبِ اختیار اور صاحبِ اقتدار مسلمان ایسا شخص ہونا چاہیے جو
اختیار کو امانت سمجھے، عدل کو مقدم رکھے، کمزوروں کا سہارا بنے، اختلافِ رائے کا
احترام کرے، تکبر سے بچے، حق کے لیے ثابت قدم رہے اور اپنے منصب کو خدمتِ خلق کا
ذریعہ بنائے۔
کربلا کا پیغام
دراصل یہ ہے کہ اقتدار کی حقیقی عظمت طاقت کے اظہار میں نہیں بلکہ انصاف، دیانت،
رحم اور اخلاقی جرات میں ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی مسلمان قائد، افسر،
عالم، استاد ، سماجی رہنما یا خاندان کے سربراہ کو اللہ اور بندوں دونوں کی نگاہ
میں معزز بناتے ہیں۔
Post a Comment