مولانا شاہ عبد
العلیم صدیقی میرٹھیؒ
کی بین المذاہب
مکالمہ اور بین الاقوامی امن کے فروغ میں خدمات
تحریر: محمد سرفراز صابری
بیسویں صدی میں جب
دنیا استعماری کشمکش، تہذیبی تصادم اور مذہبی بدگمانیوں سے دوچار تھی، مولانا شاہ
عبد العلیم صدیقی میرٹھیؒ (1892ء–1954ء) نے اسلام کے عالمگیر پیغام کو حکمت،
مکالمہ اور حسنِ اخلاق کے ساتھ دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچایا۔ آپ کی دعوتی
سرگرمیوں کا ایک نمایاں پہلو بین المذاہب روابط اور عالمی امن کے فروغ کی کوششیں
تھیں۔ اس مقالے میں مولانا کی دعوتی فکر، بین المذاہب مکالمے کے حوالے سے ان کے
منہج اور عالمی سطح پر امن و ہم آہنگی کے قیام کے لیے ان کی خدمات کا جائزہ پیش
کرنے کی ایک کوشش کی ہے ۔
بیسویں صدی کے
اوائل میں مسلم دنیا سیاسی زوال اور فکری انتشار کا شکار تھی۔ مغربی استعمار نے نہ
صرف مسلم ممالک کو سیاسی طور پر کمزور کیا بلکہ اسلام کے بارے میں مختلف مغالطے
بھی پیدا کیے۔ ایسے ماحول میں چند علماء نے علمی اور دعوتی میدان میں غیر معمولی
کردار ادا کیا۔ ان میں مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھیؒ کو ایک منفرد مقام حاصل
ہے۔ انہوں نے تقریباً چالیس برس تک ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا کے
متعدد ممالک میں سفر کر کے اسلام کا تعارف پیش کیا اور مختلف مذاہب کے نمائندوں سے
علمی و فکری مکالمہ کیا۔[1]
بین المذاہب
مکالمے کا اسلامی تصور بڑا واضح اور عام فہم ہے۔اسلام دیگر مذاہب کے ماننے والوں
کے ساتھ حکمت اور حسنِ گفتگو کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"ادْعُ
إِلٰى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ" (النحل:
125)
مولانا عبد العلیم
صدیقیؒ نے اسی قرآنی اصول کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کی بنیاد بنایا۔ ان کے نزدیک
مکالمے کا مقصد مذہبی اختلافات کو مٹانا نہیں بلکہ باہمی احترام اور صحیح فہم کو
فروغ دینا تھا۔ وہ اسلام کی حقانیت کو مدلل انداز میں پیش کرتے تھے مگر مخالفین کے
ساتھ شائستگی اور احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔[2]
مولانا شاہ
عبدالعلیم صدیقیؒ کی دعوتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سنگاپور، ملایا اور انڈونیشیا
تھے۔ ان علاقوں میں مختلف مذاہب اور نسلوں کے افراد آباد تھے۔ آپ نے یہاں مسلمانوں
کی تنظیم و تربیت کے ساتھ ساتھ غیر مسلم طبقات سے بھی مثبت روابط قائم کیے۔
سنگاپور میں آپ نے
ایسے اجتماعات سے خطاب کیا جن میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوتے تھے۔ آپ کے
خطابات کا مرکزی موضوع اسلام کی آفاقیت، انسانی مساوات، عدل اور اخلاقی اقدار ہوا
کرتا تھا۔ ان سرگرمیوں نے مقامی سطح پر مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا
کیا۔[3]
مولانا شاہ عبد العلیم صدیقیؒ نے یورپ اور امریکہ کے
مختلف شہروں میں لیکچرز دیے۔ اس زمانے میں مغربی ذرائع ابلاغ میں اسلام کے بارے
میں متعدد غلط تصورات پائے جاتے تھے۔ مولانا نے علمی اور تاریخی دلائل کے ذریعے ان
غلط فہمیوں کا ازالہ کیا۔اور وہاں کے باسیوں کو اپنے رویوں اور افکار پر نظرثانی
پر آمادہ کیا۔
ان کے خطابات کا
امتیاز یہ تھا کہ وہ محض مذہبی جذبات پر نہیں بلکہ عقل، تاریخ اور اخلاقی اصولوں
پر استوار ہوتے تھے۔ انہوں نے بارہا واضح کیا کہ اسلام تمام انسانوں کے احترام،
مذہبی آزادی اور معاشرتی انصاف کا علمبردار ہے۔[4]
مولاناشاہ عبد العلیم صدیقیؒ کے نزدیک عالمی امن صرف سیاسی
معاہدوں سے قائم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے اخلاقی اور روحانی بنیادوں کا
استحکام ضروری ہے۔ وہ انسانیت کے مشترکہ اخلاقی اصولوں کو امنِ عالم کی اساس قرار
دیتے تھے۔
دوسری جنگ عظیم کے
بعد جب دنیا شدید سیاسی اضطراب سے گزر رہی تھی، آپ نے اپنے خطابات میں بین
الاقوامی اخوت، انسانی مساوات اور مذہبی رواداری پر زور دیا۔ آپ کا خیال تھا کہ
مختلف اقوام اور مذاہب کے درمیان بداعتمادی کے خاتمے کے بغیر پائیدار امن ممکن
نہیں۔[5]
مولانا شاہ
عبدالعلیم صدیقیؒ کی شخصیت میں تصوف کا
عنصر نمایاں تھا۔ ان کے نزدیک روحانی تربیت انسان کے اندر برداشت، محبت اور خدمتِ
خلق کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ یہی اوصاف معاشرتی اور عالمی امن کی بنیاد بنتے ہیں۔
آپ نے اپنی دعوت
میں محبتِ رسول ﷺ، خدمتِ انسانیت اور تزکیۂ نفس کو بنیادی اہمیت دی۔ یہی وجہ تھی
کہ ان کی دعوت مختلف ثقافتوں اور معاشروں میں قبولیت حاصل کرتی رہی۔[6]
مولانا شاہ عبد العلیم صدیقیؒ کی ان دینی و اصلاحی خدمات کا
مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے بین المذاہب مکالمے کو محض نظری بحث تک محدود
نہیں رکھا بلکہ اسے عملی میدان میں نافذ کیا۔ ان کا اسلوب نہ تصادم پر مبنی تھا
اور نہ مداہنت پر؛ بلکہ وہ اپنے عقائد پر کامل استقامت کے ساتھ دوسروں کے ساتھ
مکالمہ کرتے تھے۔
عصر حاضر میں جب
مذہبی انتہا پسندی اور تہذیبی کشمکش عالمی سطح پر اہم مسائل بن چکے ہیں، مولانا
شاہ عبدالعلیم صدیقی کا منہج دعوت و
مکالمہ نہ صرف اہمیت کا حامل ہے بلکہ تقلید اوراتباع کی دعوت دیتاہے۔ ان کی فکر
اسلامی تشخص اور بین الاقوامی تعاون کے درمیان ایک متوازن راستہ فراہم کرتی ہے۔
المختصر مولانا
شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھیؒ نے بیسویں صدی میں اسلام کی نمائندگی ایک ایسے داعی
کے طور پر کی جو علم، حکمت اور حسنِ اخلاق کا پیکر تھا۔ ان کی بین المذاہب
سرگرمیوں اور امن کے فروغ کے لیے کاوشوں نے مختلف مذاہب اور اقوام کے درمیان باہمی
احترام اور اعتماد پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا دعوتی منہج آج بھی بین
الاقوامی سطح پر مذہبی ہم آہنگی اور امن کے قیام کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔اللہ
تعالیٰ آپ کی قبرمبارک پر رحمتوں کی برسات فرمائے اورہمیں آ پ کے نقش قدم پر چلتے
ہوئے آپ کے مشن اور دعوت کو آگے بڑھانے کی توفیق عطافرمائے۔
[1] Muhammad Abdul
Aleem Siddiqi, A Brief Biography of His Life and Mission, Karachi: Aleemiyah
Institute Publications, pp. 15–22.
[2] Muhammad Abdul Aleem Siddiqi, The
Religion of Truth, Karachi, pp. 5–11.
[3] M. Naeem
Qureshi, “Islamic Missionary Activities in Southeast Asia during the Twentieth
Century,” Journal of Islamic Studies, Vol. 12, No. 2, pp. 145–148.
[4] Abdul Haq Ansari, Contemporary
Islamic Movements, Lahore, pp. 201–205.
[5] Syed A. A.
Razwy, Islam and Humanity, Karachi, pp. 87–92.
[6] Muhammad Abdul
Aleem Siddiqi, Spiritual Culture in Islam, pp. 33–40.
Post a Comment