جب مخلوقات نے انسان کو سبق دیا

قرآن کے آئینے میں انسان کے لیے مخلوقات کے سبق

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی، شعور دیا، زبان دی، ار


ادہ دیا، انبیاء بھیجے اور آسمانی کتابیں نازل فرمائیں۔ اسے خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت دی اور زندگی گزارنے کے لیے ہدایت کا راستہ دکھایا۔ بظاہر تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ سبق سیکھنے کے لیے انسان کو کسی اور کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

لیکن قرآن کا انداز دیکھیے۔

وہ کبھی ایک چیونٹی کی بات انسان کو سناتا ہے، کبھی ایک کوّے کا ذکر کرتا ہے، کبھی شہد کی مکھی کی طرف متوجہ کرتا ہے، کبھی ہدہد کی خبر بیان کرتا ہے، کبھی ایک مچھلی کے پیٹ میں موجود نبی کی دعا سناتا ہے اور کبھی ایک گدھے کی ہڈیوں کو دوبارہ جوڑ کر انسان کے سامنے اپنی قدرت کی نشانی رکھ دیتا ہے۔

گویا مسئلہ سبق کی کمی کا نہیں، سبق لینے والے دل کا ہے۔

کبھی ایک چھوٹی سی چیونٹی اپنی جماعت کو خطرے سے خبردار کرتی ہے اور انسان کو اپنی اجتماعی ذمہ داری یاد آجاتی ہے۔ کبھی ایک پرندہ خبر لاتا ہے اور ایک نبی اسے فوراً قبول کرنے کے بجائے تحقیق کا حکم دیتے ہیں۔ کبھی ایک کوا انسان کو وہ کام سکھاتا ہے جو اس کی اپنی عقل اسے نہ سکھا سکی۔ اور کبھی ایک مچھلی کے پیٹ کی تاریکی سے ایک ایسی دعا بلند ہوتی ہے جو قیامت تک بے آسرا دلوں کے لیے امید بن جاتی ہے۔

قرآن کے یہ واقعات محض گزرے ہوئے زمانے کی داستانیں نہیں۔ ان میں انسان کے لیے آئینہ بھی ہے اور سوال بھی۔

 

کشتی، پہاڑ اور انسان کا سہارا

حضرت نوح علیہ السلام کی داستان میں ایک ایسا منظر آتا ہے جس میں ایک طرف اللہ کے نبی کی کشتی ہے اور دوسری طرف پانی کی بلند موجیں۔

حضرت نوحؑ اپنے بیٹے کو پکارتے ہیں:

﴿يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلَا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ﴾

“اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔”

لیکن بیٹے نے کہا:

﴿سَآوِي إِلَىٰ جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ﴾

“میں کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا، وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔”

حضرت نوحؑ نے فرمایا:

﴿لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَ﴾

“آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اس کے جس پر وہ رحم فرمائے۔”

پھر ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔

(سورۃ ہود، 11:40–43)

یہاں ایک پہاڑ بھی تھا اور ایک کشتی بھی۔ بیٹے کے سامنے پہاڑ موجود تھا، مگر نجات کشتی میں تھی۔

انسانی زندگی میں بھی کتنی بار ایسا ہوتا ہے۔ سامنے کوئی مضبوط سہارا نظر آتا ہے اور آدمی اسی پر بھروسا کرلیتا ہے۔ کسی کو دولت پر اعتماد ہے، کسی کو عہدے پر، کسی کو تعلقات پر، کسی کو اپنی عقل پر۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ سہارا کتنا بڑا ہے؛ سوال یہ ہے کہ اللہ کے مقابلے میں اس سہارے کی حیثیت کیا ہے۔

قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ نوحؑ کے ساتھ ایمان لانے والے بہت زیادہ نہ تھے:

﴿وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ﴾

“اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے بہت کم تھے۔”

(سورۃ ہود، 11:40)

حق ہمیشہ ہجوم کا محتاج نہیں ہوتا۔

اور قرآن اسی سلسلے میں ایک اور عجیب منظر دکھاتا ہے۔ نوحؑ نبی ہیں، لوطؑ نبی ہیں، مگر ان کے گھر کی عورتیں ایمان نہیں لاتیں۔ دوسری طرف فرعون، جو ظلم اور سرکشی کی علامت بن چکا تھا، اسی کے گھر میں ایک ایسی عورت موجود ہے جسے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے لیے مثال بناتا ہے:

﴿وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ﴾

“اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی۔”

(سورۃ التحریم، 66:11)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا ماحول اس پر اثر ضرور ڈالتا ہے، مگر اس کے ایمان اور کردار کا فیصلہ صرف ماحول نہیں کرتا۔ حضرت آسیہؑ فرعون کے گھر میں رہ کر بھی اہل ایمان کے لیے مثال بنیں۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی حضرت آسیہؑ اور حضرت مریمؑ کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔

(صحیح البخاری، 3411، 3769)

 

دو بیٹے، دو راستے

قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام  کا واقعہ آتا ہے۔

حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے سے فرمایا:

﴿يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ﴾

“اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں، پس دیکھو تمہاری کیا رائے ہے۔”

اسماعیلؑ نے جواب دیا:

﴿يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ﴾

“اے میرے ابا! آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”

(سورۃ الصافات، 37:102)

ایک طرف نوح علیہ السلام  کا بیٹا تھا جو اپنے لیے پہاڑ کو کافی سمجھتا تھا، دوسری طرف اسماعیل علیہ السلام  ہیں جو اللہ کے حکم کے سامنے جھک جاتے ہیں۔

یہاں اصل فرق حالات کا نہیں، دل کے رخ کا ہے۔

نوح علیہ السلام  کی بیوی اور فرعون کی بیوی کا مختصر سبق

اور قرآن اسی واقعے کے ساتھ ایک اور گہرا سبق بھی دیتا ہے۔ نجات صرف کسی نیک شخص سے تعلق کا نام نہیں۔ نوح علیہ السلام اللہ کے نبی تھے، مگر ان کی بیوی ایمان نہ لائیں۔ دوسری طرف فرعون جیسے سرکش شخص کے گھر میں اس کی بیوی ایمان کی ایسی مثال بنیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود انہیں اہلِ ایمان کے لیے نمونہ قرار دیا:

﴿وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ﴾

“اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی۔”

(سورۃ التحریم، 66:11)

گویا ایک طرف نبی کا گھر تھا اور دوسری طرف فرعون کا؛ مگر فیصلہ گھر کے نام سے نہیں، دل کے انتخاب سے ہوا۔ انسان کسی نیک شخص کے قریب رہ کر بھی حق سے دور ہوسکتا ہے، اور ناموافق ماحول میں رہتے ہوئے بھی ایمان پر قائم رہ سکتا ہے۔

 

کوا جس نے انسان کو دفن کرنا سکھایا

پھر قرآن ایک ایسے واقعے کی طرف متوجہ کرتا ہے جس میں انسان کو ایک پرندے سے سیکھنا پڑا۔

قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کردیا۔ اب وہ اس کی لاش کے ساتھ کیا کرے، اسے معلوم نہ تھا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَبَعَثَ اللَّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ﴾

“پھر اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کرید رہا تھا، تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے۔”

اس پر وہ کہنے لگا:

﴿يَا وَيْلَتَىٰ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَٰذَا الْغُرَابِ﴾

“ہائے میری کم بختی! کیا میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا؟”

(سورۃ المائدہ، 5:31)

کتنی عجیب بات ہے!

جس انسان کے ہاتھ میں عقل تھی، اسی عقل نے اسے قتل تک پہنچایا؛ پھر ایک پرندے کے عمل نے اسے یہ سکھایا کہ مردے کو زمین میں کیسے چھپایا جاتا ہے۔

انسان اپنے علم پر کتنا فخر کرتا ہے، مگر سیکھنے کے لیے کبھی اسے اپنے سے بہت چھوٹی مخلوق کی طرف بھی دیکھنا پڑتا ہے۔

کوّوں کے بعض رویوں میں خوراک کے موقع پر آواز کے ذریعے دوسرے کوّوں کی طرف توجہ دلانے کا مشاہدہ بھی جدید تحقیق میں کیا گیا ہے، لیکن اسے قرآن یا حدیث کی روایت سمجھنا درست نہیں۔

اصل سبق شاید اس سے بھی زیادہ سادہ ہے:

جو شخص ہر چیز سے سیکھنے کے لیے تیار ہو، اس کے لیے پوری کائنات ایک درس گاہ بن سکتی ہے۔

 

چیونٹی — ایک چھوٹی مخلوق، بڑی فکر

حضرت سلیمان علیہ السلام کے عظیم لشکر کا ذکر قرآن میں آتا ہے۔ انسان، جن اور پرندے ان کے لشکر میں شامل تھے۔ ایک موقع پر وہ چیونٹیوں کی وادی سے گزرے۔

ایک چیونٹی نے کہا:

﴿يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾

“اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ، کہیں سلیمان اور ان کے لشکر تمہیں کچل نہ دیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔”

حضرت سلیمان علیہ السلام  اس کی بات سن کر مسکرائے اور دعا کی:

﴿رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ﴾

“اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی۔”

(سورۃ النمل، 27:18–19)

قرآن نے اسے چیونٹیوں کا سردار نہیں کہا۔ صرف ایک چیونٹی کے قول کا ذکر کیا ہے۔ مگر اس ایک چھوٹی سی مخلوق کے قول میں اپنی جماعت کی فکر نمایاں ہے۔

ایک چیونٹی خطرہ دیکھتی ہے تو دوسروں کو خبردار کرتی ہے۔

اور انسان؟

کیا ہماری فکر صرف اپنے گھر تک محدود ہے؟ کیا ہماری ذمہ داری صرف اپنے بچوں اور اپنے مفاد تک ہے؟ یا ہمارے دل میں وہ لوگ بھی ہیں جن کی طرف دیکھنا ہماری ذمہ داری ہے؟

اسی مناسبت سے صحیح مسلم میں ایک سابق نبی کا واقعہ بھی آتا ہے۔ ایک چیونٹی نے انہیں کاٹا تو انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کو جلانے کا حکم دے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس پر تنبیہ فرمائی کہ ایک چیونٹی کے فعل کی وجہ سے پوری بستی کو کیوں ہلاک کیا۔

صحیح مسلم، 2241)

ایک فرد کی غلطی کی سزا پوری جماعت کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟

ہم انسان کتنی آسانی سے ایک شخص کے فعل کو پورے خاندان، پورے ادارے، پوری قوم یا پورے گروہ کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔

ایک نے غلطی کی اور ہم نے سب کو مجرم بنا دیا۔

چیونٹی کا یہ چھوٹا سا واقعہ انسان کو اپنی بڑی بڑی ناانصافیوں پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔

 

ہدہد — خبر لاؤ، مگر پہلے تحقیق کرو

حضرت سلیمان علیہ السلام  کے لشکر میں ہدہد بھی تھا۔ ایک موقع پر وہ موجود نہ تھا۔ پھر وہ آیا اور سبا کی ایک قوم کے بارے میں ایک اہم خبر سنائی۔

لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام  نے فوراً اس خبر کو سچ نہیں مان لیا۔

انہوں نے فرمایا:

﴿سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَاذِبِينَ﴾

“ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹوں میں سے ہے۔”

(سورۃ النمل، 27:20–28)

خبر ہدہد لایا تھا، مگر تحقیق سلیمان علیہ السلام  نے کی۔

یہ منظر آج کے زمانے میں اور بھی معنی خیز ہوجاتا ہے۔

ایک تصویر آئی، ایک ویڈیو آئی، کسی نے ایک پیغام بھیجا، کسی نے کسی شخص کے بارے میں کچھ لکھ دیا، اور ہم نے چند لمحوں میں اسے آگے پہنچا دیا۔

ہمیں ہدہد سے صرف خبر لانے کا سبق نہیں لینا؛ سلیمان علیہ السلام  سے خبر کی تحقیق کا سبق بھی لینا ہے۔

آج ایک جھوٹی بات چند منٹ میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے خبر جتنی تیزی سے آتی ہے، تحقیق کی ضرورت بھی اتنی ہی بڑھ گئی ہے۔

خبر اہم ہو تو تحقیق بھی اہم ہونی چاہیے۔

 

شہد کی مکھی — محنت جو اپنے سے آگے جاتی ہے

اللہ تعالیٰ نے ایک پوری سورت کا نام النحل رکھا، یعنی شہد کی مکھی۔

فرمایا:

﴿وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ﴾

“اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیا کہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور ان چیزوں میں گھر بناؤ جو لوگ بناتے ہیں۔”

پھر فرمایا:

﴿يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ﴾

“ان کے پیٹوں سے مختلف رنگوں کا ایک مشروب نکلتا ہے، جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔”

(سورۃ النحل، 16:68–69)

شہد کی مکھی کی اجتماعی زندگی میں کام کی تقسیم اور باہمی انحصار پایا جاتا ہے۔ ایک مکھی کی محنت صرف اسی تک محدود نہیں رہتی بلکہ پوری کالونی کے نظام کا حصہ بنتی ہے۔

انسان بھی اپنی محنت کے بارے میں سوچے۔

ہم جو علم حاصل کرتے ہیں، اس سے کس کو فائدہ ہوتا ہے؟

ہم جو کماتے ہیں، اس میں کسی ضرورت مند کا بھی حصہ ہے؟

ہم جو صلاحیت رکھتے ہیں، کیا کبھی اسے کسی دوسرے کا کام آسان بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں؟

ہماری زندگی کا حاصل صرف میں، میرا گھر، میرے بچے اور میرا فائدہ ہے، یا ہماری محنت کا کوئی حصہ دوسروں تک بھی پہنچتا ہے؟

شہد کی مکھی جواب نہیں دیتی، صرف ایک منظر دکھاتی ہے۔ سوال انسان کو خود سے کرنا ہے۔

 

مچھلی کے پیٹ میں دعا

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ انسانی امید کی ایک عظیم تصویر ہے۔

وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ ہر طرف تاریکی تھی۔ لیکن اسی تاریکی میں ایک ایسی دعا بلند ہوئی جو آج بھی بے شمار دلوں کی زبان پر ہے:

﴿لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾

“تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔”

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ﴾

“پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی۔”

(سورۃ الانبیاء، 21:87–88)

اندھیرا کتنا ہی گہرا ہو، اللہ تک پہنچنے والی آواز کے لیے کوئی دیوار نہیں۔

انسان کبھی ایسی جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں اسے اپنے اردگرد کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ دروازے بند، راستے مسدود اور امید کمزور ہوجاتی ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام  کا واقعہ یاد دلاتا ہے کہ اللہ کے لیے کوئی اندھیرا رکاوٹ نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی اس دعا کی فضیلت بیان فرمائی ہے کہ جو مسلمان اس دعا کے ذریعے اللہ سے دعا کرے، اللہ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔

(جامع الترمذی، 3505)

 

جب دلیل سامنے ہو اور دل بند ہو

قوم ثمود کے سامنے حضرت صالح علیہ السلام آئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک نشانی عطا فرمائی:

﴿هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً﴾

“یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے۔”

(سورۃ الاعراف، 7:73)

لیکن قوم نے اس نشانی کو قبول کرنے کے بجائے اسے ہلاک کردیا۔

یہاں انسان اپنے اندر ایک خطرناک کیفیت کو پہچان سکتا ہے۔

کبھی انسان دلیل نہ ہونے کی وجہ سے انکار کرتا ہے اور دلیل مانگتا ہے۔ لیکن کبھی دلیل سامنے آجاتی ہے اور پھر بھی وہ نہیں مانتا۔

تب مسئلہ دلیل کی کمی نہیں رہتا؛ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ دل نے فیصلہ پہلے ہی کرلیا ہوتا ہے۔

ایسا شخص حقیقت کو تلاش نہیں کرتا، صرف اپنی بات ثابت کرنے کے لیے دلیل تلاش کرتا ہے۔

 

ایک شخص، ایک گدھا اور سو سال

سورۂ بقرہ میں ایک ایسے شخص کا ذکر ہے جو ایک تباہ شدہ بستی کے پاس سے گزرا اور اس نے سوال کیا:

﴿أَنَّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا﴾

“اللہ اس بستی کو اس کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟”

اللہ تعالیٰ نے اسے سو سال کے لیے موت دی، پھر زندہ کیا۔ اس کے کھانے پینے کی چیزیں اپنی جگہ موجود تھیں، مگر اس کا گدھا ہڈیوں کا ڈھانچا بن چکا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَانظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ﴾

“اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو۔”

پھر اس کے سامنے مردہ ہڈیوں کو جمع کیا گیا اور ان پر گوشت چڑھایا گیا۔

آخرکار اس شخص نے کہا:

﴿أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾

“اب میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔”

(سورۃ البقرہ، 2:259)

قرآن نے اس شخص کا نام نہیں بتایا۔ بعض تفسیری روایات میں اسے عزیر کہا گیا ہے، لیکن قرآن کے بیان میں وہ صرف ایک شخص ہے جو ایک بستی کے پاس سے گزرا۔

اس واقعے کا اصل مقصد نام جاننا نہیں، اللہ کی قدرت کو سمجھنا ہے۔

 

جب ہاتھیوں کا لشکر پرندوں کے سامنے بے بس ہوگیا

سورۂ فیل میں اصحابِ فیل کا واقعہ بیان ہوا ہے۔

ایک طرف ہاتھیوں والا لشکر تھا اور دوسری طرف پرندوں کے جھنڈ:

﴿وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ﴾

“اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے۔”

وہ ان پر سنگریزے پھینکتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اس لشکر کو تباہ کردیا۔

(سورۃ الفیل، 105:1–5)

یہ واقعہ ظاہری طاقت کے غرور کو توڑ دیتا ہے۔

انسان اپنی قوت، وسائل، لشکروں، عمارتوں اور نظاموں کو دیکھ کر خود کو بہت مضبوط سمجھ لیتا ہے، مگر اللہ کی قدرت کے سامنے ظاہری طاقت کی کوئی مستقل حیثیت نہیں۔

صحیح بخاری میں نبی ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھی کو روک دیا تھا۔

(صحیح البخاری، 6880)

 

مخلوقات کے آئینے میں انسان

قرآن میں چیونٹی کا ذکر آتا ہے تو انسان اپنی اجتماعی ذمہ داری دیکھ سکتا ہے۔

کوا آتا ہے تو انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ سیکھنے والا کبھی کسی بھی مخلوق سے سبق لے سکتا ہے۔

ہدہد آتا ہے تو خبر اور تحقیق کا تعلق سامنے آتا ہے۔

شہد کی مکھی اجتماعی محنت اور باہمی فائدے کی تصویر دکھاتی ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام  کی دعا امید کا دروازہ کھولتی ہے۔

اور گدھے کی ہڈیوں کا واقعہ انسان کو موت کے بعد زندگی اور اللہ کی قدرت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

یہی قرآن کا انداز ہے۔ وہ مخلوق دکھاتا ہے اور انسان کو خود اس کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ چیونٹی کیا کرتی ہے، کوا کیا کرتا ہے یا شہد کی مکھی کیسے رہتی ہے۔

سوال یہ ہے:

میں کیا کر رہا ہوں؟

چیونٹی اپنی جماعت کو خطرے سے خبردار کرتی ہے، کیا میں دوسروں کے لیے فکر مند ہوں؟

ہدہد خبر لاتا ہے اور سلیمان علیہ السلام  تحقیق کرتے ہیں، کیا میں ہر سنی سنائی بات آگے بڑھانے سے پہلے تحقیق کرتا ہوں؟

شہد کی مکھی کی محنت پوری کالونی کے کام آتی ہے، کیا میری محنت سے کسی دوسرے انسان کو بھی فائدہ پہنچتا ہے؟

کوا انسان کو دفن کرنے کا طریقہ دکھاتا ہے، کیا میں دوسروں سے سیکھنے میں اپنی انا کو رکاوٹ بننے دیتا ہوں؟

یونس علیہ السلام  اندھیرے میں اللہ کو پکارتے ہیں، مصیبت کے وقت میری زبان کس کو پکارتی ہے؟

اور نوح علیہ السلام  کے بیٹے کا پہاڑ؟

وہ آج بھی انسان کے سامنے کھڑا ہے۔

ہر انسان کے پاس اپنا ایک پہاڑ ہوتا ہے، کوئی دولت کا، کوئی تعلقات کا، کوئی عہدے کا، کوئی اپنی عقل اور تدبیر کا۔

سوال یہ ہے کہ میرا اعتماد کہاں ہے؟

 

سبق کہیں دور نہیں

ہم نے علم کے بڑے بڑے میدان فتح کیے ہیں۔ آسمانوں تک پہنچے، سمندر کی تہوں میں اترے، مشینیں بنائیں، مصنوعی ذہانت پیدا کی اور دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانے میں چند لمحے لگتے ہیں۔

لیکن انسان کی اصل ترقی صرف یہ نہیں کہ اس نے دنیا کو کتنا بدل دیا۔

اصل سوال یہ ہے:

کیا اس نے خود کو بھی بدلا؟

قرآن کی مخلوقات ہمارے سامنے خاموشی سے کھڑی ہیں۔

ایک چیونٹی اپنی جماعت کی فکر کرتی ہے۔

ایک کوا انسان کو وہ کام سکھاتا ہے جس سے وہ ناواقف تھا۔

ایک ہدہد خبر لاتا ہے اور ایک نبی اسے تحقیق کے مرحلے سے گزارتے ہیں۔

شہد کی مکھی کی محنت فرد سے آگے پوری جماعت تک پہنچتی ہے۔

ایک مچھلی کے پیٹ میں ایک نبی کی دعا بلند ہوتی ہے اور آسمان تک پہنچتی ہے۔

ایک گدھے کی ہڈیاں انسان کو دوبارہ زندگی کی حقیقت دکھاتی ہیں۔

اور کبھی چھوٹے چھوٹے پرندے ایک بڑے لشکر کے سامنے اللہ کی قدرت کا مظہر بن جاتے ہیں۔

شاید اسی لیے قرآن ہمیں مخلوقات کی طرف دیکھنے کو کہتا ہے۔

اس لیے نہیں کہ ہم صرف ان کے عجائبات گنیں، بلکہ اس لیے کہ ان کے اندر اپنے لیے بھی کوئی بات تلاش کریں۔

کائنات ایک خاموش کتاب کی طرح ہے۔

جس کے پاس غور کرنے والی آنکھ ہو، اسے ہر طرف سبق مل سکتا ہے۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ:

“مخلوقات ہمیں کیا سکھا رہی ہیں؟”

اصل سوال یہ ہے:

“ہم سیکھنے کے لیے تیار کب ہوں گے؟”

حوالہ جات

قرآنی واقعات:

  • حضرت نوح علیہ السلام  اور ان کے بیٹے — سورۃ ہود، 11:40–43
  • حضرت نوح علیہ السلام  و لوط علیہ السلام  کی بیویاں اور فرعون کی بیوی — سورۃ التحریم، 66:10–11
  • حضرت ابراہیم علیہ السلام  و حضرت اسماعیل علیہ السلام  — سورۃ الصافات، 37:102–107
  • قابیل اور کوا — سورۃ المائدہ، 5:31
  • چیونٹی اور حضرت سلیمان علیہ السلام  — سورۃ النمل، 27:18–19
  • ہدہد اور سبا کی خبر — سورۃ النمل، 27:20–28
  • شہد کی مکھی — سورۃ النحل، 16:68–69
  • حضرت یونس علیہ السلام  — سورۃ الانبیاء، 21:87–88، سورۃ الصافات، 37:139–148
  • ناقۂ صالح — سورۃ الاعراف، 7:73–77
  • سو سال والا شخص — سورۃ البقرہ، 2:259
  • اصحاب الفیل — سورۃ الفیل، 105:1–5

اہم احادیث:

  • حضرت یونس علیہ السلام  کی دعا — جامع الترمذی، 3505
  • چیونٹیوں کی بستی کا واقعہ — صحیح مسلم، 2241a–c
  • حضرت آسیہ علیہ السلام  اور حضرت مریم علیہ السلام  کی فضیلت — صحیح البخاری، 3411، 3769
  • ہاتھی کو مکہ سے روکنے کا ذکر — صحیح البخاری، 6880

 

نوٹ: سائنسی مشاہدات: شہد کی مکھیوں میں تقسیمِ کار اور اجتماعی تنظیم، نیز کوّوں اور ravens کے خوراک سے متعلق بعض اجتماعی رویوں پر مطالعات موجود ہیں۔ ان مشاہدات کو قرآنی یا حدیثی روایت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔


 

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post