گٹھیا، شرابی اور پادری

ایک طنزیہ، سبق آموز اور فکر انگیز کہانی

 

نیویارک کی ایک سرد شام تھی۔ آسمان پر سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے اور یخ بستہ ہوا سب وے کی سیڑھیوں سے گزرتی ہوئی لوگوں کے جسموں میں سنسنی پیدا کر رہی تھی۔ لوگ تیزی سے اپنے گھروں کی طرف جا رہے تھے۔ کسی کو کسی کی خبر نہ تھی۔ ہر شخص اپنی دنیا میں گم تھا۔

انہی سیڑھیوں کے ایک کونے میں ایک بدحال شرابی بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے میلے تھے، بال بکھرے ہوئے تھے اور چہرے پر زندگی کی تلخیوں کے گہرے نقوش نمایاں تھے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا اخبار تھا، جسے وہ مدھم روشنی میں پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اتنے میں ایک نوجوان پادری وہاں سے گزرا۔ وہ ابھی ابھی مذہبی خدمت کے میدان میں آیا تھا۔ اس کے دل میں دین کی خدمت کا جذبہ تھا، لیکن اپنے علم پر ناز بھی کچھ کم نہ تھا۔ اس نے شرابی کو دیکھا تو دل میں سوچا:

’’یہ شخص گناہوں کی دلدل میں ڈوبا ہوا ہے۔ اگر اسے نصیحت کروں تو شاید میری تبلیغ سے اس کی زندگی بدل جائے۔‘‘

وہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔

’’میرے دوست! کیا پڑھ رہے ہو؟‘‘ اس نے شفقت آمیز لہجے میں پوچھا۔

شرابی نے اخبار سے نظریں اٹھائیں اور لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں کہا:

’’جناب! ایک بات سمجھ نہیں آ رہی۔ ذرا آپ ہی بتا دیجیے۔‘‘

’’ضرور! پوچھو، کیا بات ہے؟‘‘ پادری نے خوش دلی سے جواب دیا۔

شرابی نے اخبار کی ایک سطر پر انگلی رکھتے ہوئے پوچھا:

’’یہ آرتھرائٹس، یعنی گٹھیا، کیا ہوتا ہے؟‘‘

پادری نے فوراً سنجیدہ صورت بنا لی۔ اسے محسوس ہوا کہ تبلیغ کا بہترین موقع ہاتھ آگیا ہے۔

’’گٹھیا؟‘‘ اس نے قدرے بلند آواز میں کہا، ’’یہ ان لوگوں کو ہونے والی بیماری ہے جو گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ جب انسان شراب پیتا ہے، برے کام کرتا ہے اور اپنی زندگی کو گناہوں سے آلودہ کر لیتا ہے تو اس کے جسم اور روح دونوں پر اس کے برے اثرات پڑتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ توبہ کرے، ورنہ اس کے اعمال کا بوجھ اسے تباہ کر دیتا ہے۔‘‘

شرابی خاموشی سے اس کی بات سنتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت تھی، جیسے وہ کسی ایسی حقیقت کے بارے میں سن رہا ہو جس کا اسے پہلے کبھی خیال نہ آیا ہو۔

پادری نے دل ہی دل میں اپنی کامیابی پر خوش ہوتے ہوئے سوچا:

’’بات اس کے دل میں اتر رہی ہے۔ اب نرمی سے پوچھتا ہوں کہ اسے یہ بیماری کب سے ہے۔ شاید یہیں سے اس کی اصلاح کا راستہ نکل آئے۔‘‘

اس نے شفقت سے پوچھا:

’’میرے دوست! تمہیں یہ تکلیف کب سے ہے؟‘‘

شرابی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

’’مجھے؟ مجھے تو کوئی تکلیف نہیں ہے، جناب!‘‘

پادری کے چہرے پر الجھن ابھری۔

’’تو پھر تم نے گٹھیا کے بارے میں کیوں پوچھا؟‘‘

شرابی نے اخبار اس کے سامنے کر دیا اور ایک سطر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا:

’’اس لیے کہ اس میں لکھا ہے کہ پوپ صاحب، یعنی عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا، گٹھیا میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ میں تو یہی سوچ رہا تھا کہ اگر گٹھیا گناہ گاروں کو ہوتا ہے تو پھر پوپ صاحب کو یہ بیماری کیسے ہو گئی؟‘‘

پادری کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

جس شخص کو وہ چند لمحے پہلے گناہ گار سمجھ کر نصیحت کر رہا تھا، اس کے ایک سادہ سے سوال نے اس کی پوری دلیل کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا۔ اس کے پاس الفاظ تھے، مگر جواب نہ تھا۔ وہ شرابی کو سمجھانے آیا تھا، لیکن اب خود اپنی سوچ پر غور کرنے پر مجبور تھا۔

چند لمحے دونوں کے درمیان خاموشی رہی۔ پھر شرابی نے اخبار تہ کیا، اٹھنے کی کوشش کی اور لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھ گیا۔

پادری وہیں بیٹھا رہ گیا۔

اس کے ذہن میں ایک سوال بار بار گونج رہا تھا:

’’کیا میں نے واقعی دین کی خدمت کی تھی، یا اپنی ادھوری معلومات کے ذریعے ایک انسان کو اس کی حالت کی بنیاد پر حقیر سمجھ لیا تھا؟‘‘

اس نے پہلی مرتبہ محسوس کیا کہ مذہبی لباس پہن لینا اور مذہب کی روح کو سمجھ لینا دو الگ باتیں ہیں۔ نصیحت کرنا آسان ہے، مگر انصاف، علم اور رحم کے ساتھ نصیحت کرنا مشکل۔

اس رات سردی صرف نیویارک کی گلیوں میں نہیں تھی؛ ایک سردی اس کے اپنے ضمیر میں بھی اتر گئی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ انسان کے ظاہری حالات دیکھ کر اس کے باطن کا فیصلہ صادر کرنا نہ علم ہے، نہ تقویٰ اور نہ ہی انسانیت۔

سبق: کسی کی بیماری کو اس کے گناہوں کی سزا، غربت کو اس کے کردار کی خرابی اور مصیبت کو اس کی بداعمالی کا ثبوت سمجھ لینا درست نہیں۔ بیماری کے طبی اسباب ہوتے ہیں، اور انسان کے باطن کا حقیقی حال اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے علم کی اصلاح اور اپنے فیصلوں سے پہلے اپنے ضمیر کا محاسبہ ضروری ہے۔

کیونکہ کبھی کبھی ایک سادہ سا سوال، ایک طویل تقریر سے زیادہ گہرا سبق دے جاتا ہے۔

نوٹ: یہ کہانی ایک معروف تمثیلی حکایت کی ادبی پیشکش ہے، جس کا مقصد خود احتسابی، حسنِ ظن اور سطحی قیاس آرائیوں سے بچنے کا درس دینا ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post