ہم نے ایک زندگی میں دو زمانے دیکھے!

એક જીવન, બે યુગ!

گزرتے ہوئے ماضی کی یادیں، بدلتی ہوئی دنیا اور ہماری تہذیبی میراث

کچھ لوگ صرف اپنی زندگی نہیں گزارتے، اپنے ساتھ ایک پورا زمانہ بھی جیتے ہیں۔ ان کی آنکھوں نے ایسی دنیا دیکھی ہوتی ہے جس کا تصور آج کے بچوں کے لیے کسی دلچسپ کہانی سے کم نہیں، اور پھر انہی آنکھوں کے سامنے وہ دنیا بھی آباد ہوئی ہوتی ہے جس میں فاصلے سمٹ گئے، مشینوں نے انسان کی محنت کم کر دی اور زندگی کے انداز یکسر بدل گئے۔ 1940ء سے 1980ء کے درمیان پیدا ہونے والی نسلوں کے بہت سے لوگوں نے یہی تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے مٹی کے صحنوں میں بچپن گزارا اور جدید شہروں کی روشنیاں بھی دیکھیں؛ فانوُس کے اجالے میں راتیں کاٹیں اور بجلی کی روشنی میں بدلتی ہوئی دنیا کو بھی دیکھا۔

کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ ہماری پچھلی نسلوں نے زندگی کیسی گزاری ہوگی اور ہماری اپنی زندگی میں کتنی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔ جو چیزیں کبھی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ تھیں، آج ان کے نام بھی بہت سے بچوں کے لیے اجنبی ہیں۔ جن کاموں میں کئی کئی گھنٹے لگتے تھے، وہ چند منٹ میں ہونے لگے ہیں۔ جن راستوں پر لوگ پیدل چلتے تھے، وہاں آج موٹر گاڑیاں دوڑتی ہیں۔ یہ سب ترقی کے سفر کی نشانیاں ہیں، لیکن اس سفر میں کچھ مناظر ایسے بھی ہیں جو پیچھے رہ گئے اور اب صرف یادوں میں زندہ ہیں۔

وہ راتیں، وہ آنگن، وہ محفلیں

گرمیوں کی راتوں کا تصور کیجیے۔ گھروں کے صحن میں چارپائیاں بچھا دی گئی ہیں، کہیں نیم کا درخت کھڑا ہے، کہیں دیوار کے ساتھ مٹی کا گھڑا رکھا ہے۔ بچے دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد اپنے بستروں پر لیٹے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کوئی ستاروں کے بارے میں سوال کرتا ہے تو کوئی بزرگوں سے کہانی سنانے کی فرمائش کرتا ہے۔ بجلی نہ ہو تو فانوُس یا لالٹین روشن کر لی جاتی ہے۔ اس مدھم روشنی میں بھی گھر کی رونق کم نہیں ہوتی۔

آج ہمارے گھروں میں بجلی، پنکھے، ایئرکنڈیشنر اور روشنی کے جدید انتظامات ہیں۔ گرمی سے بچنے اور آرام کرنے کے پہلے سے کہیں زیادہ ذرائع موجود ہیں۔ یہ سب نعمتیں ہیں، ان کی قدر ہونی چاہیے۔ مگر کبھی اس بات پر بھی غور کیجیے کہ ایک ہی گھر میں رہنے والے کتنے لوگ شام کو اکٹھے بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں؟ کتنے بچوں کو اپنے دادا، دادی، نانا یا نانی سے ان کے بچپن کے حالات سننے کا موقع ملتا ہے؟

ماضی کا ہر پہلو اچھا نہیں تھا، نہ آج کی زندگی کا ہر پہلو برا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بعض کاموں کی دشواری لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتی تھی۔ پڑوسی کے گھر کوئی تقریب ہوتی تو محلے والے مدد کے لیے پہنچ جاتے۔ کسی کے گھر بیماری یا پریشانی آتی تو لوگ حال پوچھنے آتے۔ بہت سے علاقوں میں تعلقات محض سلام دعا تک محدود نہیں تھے؛ لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔

سائیکل کے ڈنڈے سے ہوائی جہاز تک

ہماری نسل نے سائیکل بھی دیکھی، وہ سائیکل بھی جسے چلانے کے لیے بعض بچے ڈنڈے کے درمیان سے پاؤں گزار کر پیڈل تک پہنچتے تھے۔ پھر موٹر سائیکلیں عام ہوئیں، کاروں کے سفر بڑھے اور ہوائی جہاز میں بیٹھنا بھی بہت سے لوگوں کے لیے ممکن ہوا۔ کبھی لمبا سفر پیدل یا بیل گاڑی میں طے ہوتا تھا، آج وہی فاصلہ چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔

گاؤں میں بیلوں سے ہل چلتے دیکھے، کھیتوں میں کسانوں کو پسینہ بہاتے دیکھا اور پھر ٹریکٹر کو زمین تیار کرتے بھی دیکھا۔ کنوؤں سے پانی نکالنے کے لیے محنت ہوتی تھی۔ عورتیں سر پر گھڑے رکھ کر پانی لاتی تھیں۔ آج گھروں میں نل کھولنے سے پانی آ جاتا ہے، جہاں پانی کی فراہمی کا مناسب انتظام موجود ہو۔ یہ تبدیلی یقیناً آسانی اور سہولت کا باعث ہے۔

لیکن پرانے کنوؤں کے ساتھ صرف پانی وابستہ نہیں تھا۔ وہاں لوگوں کی ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں، باتیں بھی، اور کبھی کسی کی پریشانی کا حل بھی نکل آتا تھا۔ کنویں کی منڈیر پر بیٹھے لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت ہوتا تھا۔ آج رابطے کے لیے موبائل فون موجود ہے، ایک لمحے میں دنیا کے دوسرے کنارے بات ہو سکتی ہے، مگر ہر رابطہ ضروری نہیں کہ دلوں کی قربت بھی پیدا کر دے۔

وہ کھیل جن کے لیے کھلونوں کی ضرورت نہ تھی

پرانے زمانے کے بچوں کی تفریح کا سامان ان کے آس پاس ہی موجود ہوتا تھا۔ گلی ڈنڈا، کنچے، کبڈی، چھپن چھپائی اور دوسرے مقامی کھیل ان کے بچپن میں رنگ بھرتے تھے۔ کبھی کھیتوں میں دوڑ لگتی، کبھی درختوں پر چڑھنے کا مقابلہ ہوتا، کبھی بارش میں بھیگنے پر ڈانٹ پڑتی اور کبھی کھیل کے دوران جھگڑا ہو جاتا، لیکن تھوڑی دیر بعد وہی بچے پھر ایک ساتھ کھیل رہے ہوتے۔

ان کھیلوں میں جسمانی ورزش بھی تھی، دوستوں کے ساتھ رہنے کا سلیقہ بھی اور ہار جیت برداشت کرنے کا موقع بھی۔ آج کے بچوں کے پاس ویڈیو گیمز، موبائل فون اور ڈیجیٹل دنیا کی بے شمار سہولتیں ہیں۔ ان سے علم بھی حاصل کیا جا سکتا ہے اور تفریح بھی، لیکن کھلے میدان میں دوڑنے، دوستوں کے ساتھ کھیلنے اور قدرت کے قریب رہنے کا اپنا لطف ہے۔

بچپن کی خوشیوں کے لیے بہت زیادہ سامان ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی مٹی کا ایک ڈھیلا، درخت کی ایک ٹہنی یا گلی میں بنائی گئی کھیل کی معمولی سی جگہ بھی بچوں کے لیے بڑی تفریح بن جاتی تھی۔ شاید اسی لیے بعض لوگوں کو آج بھی اپنا بچپن یاد آتا ہے تو ان کے ذہن میں مہنگے کھلونوں سے زیادہ گلیاں، میدان، درخت اور دوستوں کے چہرے ابھرتے ہیں۔

چکی، چولہا اور گھر کے کام

گھریلو زندگی بھی کتنی بدل گئی ہے! ایک زمانہ تھا جب خواتین ہاتھ کی چکی پر اناج پیستی تھیں، چولہے پر کھانا پکاتی تھیں، کپڑے ہاتھ سے دھوتی تھیں اور گھر کے بہت سے کاموں میں جسمانی محنت صرف ہوتی تھی۔ مویشیوں کی دیکھ بھال، پانی بھرنا، اناج صاف کرنا اور دوسری ذمہ داریاں بھی روزمرہ معمولات کا حصہ تھیں۔

آج واشنگ مشین، فریج، بلینڈر، گیس کے چولہے اور دوسرے آلات نے بہت سے کام آسان کر دیے ہیں۔ ان سہولتوں نے خصوصاً گھریلو ذمہ داریاں ادا کرنے والی خواتین کا وقت اور محنت بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بچنے والے وقت کو تعلیم، آرام، صحت اور خاندان کی بہتر نگہداشت کے لیے استعمال کیا جائے۔

البتہ ان پرانے کاموں کے ساتھ وابستہ الفاظ بھی ہماری زبان کا حصہ تھے۔ اوکھلی، موسل، چھاج، گوفن، گاگر، فانوُس، ڈول، ہل، جوت اور ایسے بہت سے مقامی نام اپنے اپنے علاقوں میں عام بولے جاتے تھے۔ بعض علاقوں میں ان اشیا کے نام مختلف تھے، لیکن ہر نام کے پیچھے کوئی نہ کوئی ضرورت، ہنر یا روزمرہ تجربہ موجود تھا۔

اب نئی نسل کے سامنے یہ الفاظ آئیں تو وہ شاید ان کے معنی پوچھے۔ یہ کوئی بری بات نہیں؛ بلکہ یہی تو سیکھنے کا موقع ہے۔ اگر گھر کے بزرگ کسی پرانے آلے کی تصویر دکھا کر اس کا نام اور استعمال سمجھائیں تو ایک چھوٹا سا سبق تاریخ، زبان اور تہذیب تینوں سے تعلق پیدا کر سکتا ہے۔

لباس، ذائقے اور موسموں کی یاد

پرانے زمانے میں کپڑوں پر پیوند لگانا کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ چیزیں ٹوٹ جاتیں تو مرمت کی جاتیں، کپڑے پرانے ہوتے تو ان کا دوسرا استعمال نکال لیا جاتا۔ بزرگوں کے لباس، پگڑیاں، روایتی پوشاک اور خواتین کے علاقائی ملبوسات ہر علاقے کی اپنی پہچان رکھتے تھے۔ وقت کے ساتھ فیشن بدلا، کپڑوں کی اقسام بڑھیں اور پہننے اوڑھنے کے انداز بھی بدل گئے۔

کھانے پینے میں بھی یہی فرق دکھائی دیتا ہے۔ موسم کے پھلوں کا انتظار ہوتا تھا۔ کہیں بیر اور جامن بچوں کی پسندیدہ سوغات تھے، کہیں املی اور شہتوت کی اپنی کشش تھی۔ بارش کے بعد مٹی کی خوشبو، کھیتوں کی ہریالی اور درختوں پر لگے پھل دیہی زندگی کا حصہ تھے۔ آج بازاروں میں بہت سی چیزیں آسانی سے دستیاب ہیں، لیکن مقامی پھلوں، روایتی کھانوں اور ان سے وابستہ یادوں کو محفوظ رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ پرانے کھانے جدید غذا سے بہتر تھے یا نئی پوشاک میں کوئی خرابی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ ہر دور کے اپنے رنگ ہوتے ہیں، اور جو رنگ ہماری تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، انہیں جاننا اور پہچاننا بھی ایک طرح کی تہذیبی آگاہی ہے۔

بزرگوں کے پاس صرف کہانیاں نہیں، تجربہ بھی ہے

ایک بزرگ بتاتے ہیں کہ وہ بچپن میں کئی میل پیدل چل کر اسکول جایا کرتے تھے۔ آج کے بچے شاید حیران ہوں کہ جب گاڑیاں اور اسکول وینیں موجود ہیں تو کوئی اتنا پیدل کیوں چلتا تھا۔ لیکن اس ایک یاد کے اندر اس زمانے کے حالات، تعلیم کے حصول کی دشواریاں اور محنت کی ایک پوری داستان چھپی ہوئی ہے۔

اسی طرح کسی بزرگ خاتون سے پوچھا جائے کہ پہلے گھر کے کام کیسے ہوتے تھے، پانی کہاں سے آتا تھا یا شادی بیاہ کی تیاریاں کس طرح کی جاتی تھیں، تو ان کی باتوں سے اس دور کی گھریلو زندگی کے کئی ایسے پہلو سامنے آ سکتے ہیں جو کتابوں میں بھی آسانی سے نہیں ملتے۔

ضروری نہیں کہ ہر پرانی روایت کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ بعض رسمیں وقت کے ساتھ ختم ہو جانا ہی بہتر تھا، بعض مشقتیں جدید سہولتوں کی وجہ سے کم ہو گئیں، اور بعض سماجی مسائل سے نکلنے کے لیے معاشرے نے طویل جدوجہد کی۔ لیکن ان سب کے درمیان جو خوبیاں آج بھی قابلِ قدر ہیں، انہیں کیوں چھوڑ دیا جائے؟ محنت، سادگی، ایک دوسرے کی مدد، بڑوں کا احترام، مہمان نوازی اور رشتوں کی پاس داری کسی ایک زمانے کی ملکیت نہیں۔

جدید سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسان کو بے شمار فائدے پہنچائے ہیں۔ طب، تعلیم، زراعت اور مواصلات میں ترقی نے زندگی کے کئی مسائل کم کیے ہیں۔ دانش مندی اسی میں ہے کہ ہم ان سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں اور ساتھ ہی اپنے اخلاق، زبان، خاندانی تعلقات اور تہذیبی یادداشت کی حفاظت بھی کریں۔

جو یادیں محفوظ نہ ہوئیں، وہ کہاں ملیں گی؟

ذرا سوچیے، ہمارے بزرگوں کے پاس پرانی زندگی کے کتنے واقعات محفوظ ہیں۔ انہیں کون سے کھیل یاد ہیں، کن چیزوں کے کیا نام تھے، کون سے کام کس طریقے سے کیے جاتے تھے، شادی بیاہ میں کون سی رسمیں ہوتی تھیں اور لوگ مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کیسے کرتے تھے۔ ان میں سے بہت سی باتیں نہ لکھی گئیں، نہ تصویروں میں محفوظ ہوئیں اور نہ ہی کسی ریکارڈ کا حصہ بنیں۔

جب یہ بزرگ دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو ان کے ساتھ ان کی یادوں کا ایک بڑا حصہ بھی چلا جائے گا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ کبھی فرصت نکال کر ان کے پاس بیٹھا جائے، ان کی باتیں سنی جائیں، پرانی تصاویر جمع کی جائیں اور مقامی الفاظ و روایات کو لکھ لیا جائے۔ یہ کام کسی بڑے ادارے یا بھاری خرچ کا محتاج نہیں؛ گھر کا ایک بچہ بھی اپنے دادا دادی سے باتیں پوچھ کر خاندان کی تاریخ کا ایک چھوٹا سا ذخیرہ تیار کر سکتا ہے۔

ہم نے ایک زندگی میں دو زمانے دیکھے ہیں۔ ہم نے وہ وقت بھی دیکھا جب بہت سی چیزیں حاصل کرنے کے لیے محنت، انتظار اور صبر درکار تھا، اور وہ زمانہ بھی جب ان میں سے بہت سی چیزیں ایک اشارے پر دستیاب ہیں۔ یہ تجربہ معمولی نہیں۔ اس میں ماضی کی یاد بھی ہے، حال کی قدر بھی اور مستقبل کے لیے ایک ذمہ داری بھی۔

آج گھر میں بیٹھے اپنے بچوں کو کبھی اپنے بچپن کی باتیں سنائیے۔ انہیں بتائیے کہ آپ کے زمانے میں گلیاں کیسی تھیں، اسکول کیسے جاتے تھے، کون سے کھیل کھیلتے تھے اور گھر کے کام کس طرح ہوتے تھے۔ ممکن ہے وہ پہلے ہنسیں، کچھ باتوں پر حیران ہوں اور کچھ پر سوال کریں، لیکن انہی سوالوں سے ایک نسل دوسری نسل کے قریب آئے گی۔

وقت بدل جاتا ہے، چیزیں بدل جاتی ہیں، مگر یادوں کی قدر ختم نہیں ہوتی۔ جو نسل اپنے گزرے ہوئے زمانے کو سمجھتی ہے، وہ اپنے حال کی نعمتوں کو بھی بہتر پہچانتی ہے۔ اور جو اپنے تجربات نئی نسل تک پہنچا دیتی ہے، وہ صرف ماضی کو یاد نہیں کرتی، بلکہ مستقبل کے لیے ایک قیمتی امانت بھی چھوڑ جاتی ہے۔

 


Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post