سقراط: جب اصول زندگی سے زیادہ عزیز ہو جائیں 

ایتھنز کی جیل اور شاگرد کی پیشکش

ایتھنز کی جیل میں رات غیرمعمولی طور پر خاموش تھی۔ دیواروں پر جلتی ہوئی مشعلوں کی لرزتی روشنی یوں محسوس ہوتی تھی جیسے وقت خود کسی بڑے فیصلے کے انتظار میں ٹھہر گیا ہو۔ زنجیروں کی ہلکی سی آو
از اس خاموشی کو توڑتی تو کبھی دور کسی پہرے دار کے قدم سنائی دیتے۔

سقراط زمین پر بیٹھا اپنے خیالات میں گم تھا۔ اس کے چہرے پر نہ موت کا خوف تھا، نہ شکست کی مایوسی۔ وہ شخص جس نے عمر بھر لوگوں کے عقائد، تعصبات اور نام نہاد سچائیوں کو سوالات کی کسوٹی پر پرکھا تھا، اب خود ایک ایسے فیصلے کے سامنے کھڑا تھا جس میں اس کی جان داؤ پر لگی تھی۔

اچانک اس کا ایک شاگرد تیزی سے اندر داخل ہوا۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی اور آنکھوں میں اضطراب نمایاں تھا۔

’’استاد! وقت بہت کم ہے۔ ہم محافظوں کو رشوت دے کر آپ کو یہاں سے بھگا سکتے ہیں۔ سب انتظام مکمل ہے۔ بس آپ کی اجازت درکار ہے۔‘‘

سقراط نے سر اٹھایا اور شاگرد کی طرف دیکھا۔

’’اور اس کے بعد؟‘‘ اس نے نہایت سکون سے پوچھا۔

شاگرد حیران ہوا۔ ’’اس کے بعد آپ آزاد ہوں گے، استاد! آپ زندہ رہیں گے۔ آپ کے علم، آپ کی حکمت اور آپ کی باتوں سے ہزاروں لوگ فائدہ اٹھائیں گے۔ آپ کو مرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

 زندگی یا ضمیر؟

سقراط کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’کیا تم سمجھتے ہو کہ زندگی صرف سانس لینے کا نام ہے؟ ‘‘

’’نہیں استاد، لیکن زندہ رہنا بھی تو ضروری ہے! ‘‘ شاگرد کی آواز بلند ہوگئی۔ ’’آپ نے ہمیں سوچنا سکھایا، حق کے لیے بولنا سکھایا۔ کیا اب آپ ہمیں چھوڑ کر چلے جائیں گے؟‘‘

سقراط چند لمحے خاموش رہا۔ پھر اس نے جیل کی نم دیواروں کی طرف دیکھا، جیسے ان پتھروں میں بھی کوئی سوال چھپا ہو۔

’’میرے عزیز! اگر میں اپنی جان بچانے کے لیے انہی اصولوں کو توڑ دوں جن کی تعلیم میں نے تمہیں دی ہے، تو پھر میری زندگی کا مقصد کیا رہ جائے گا؟ میں نے لوگوں کو قانون، انصاف اور اخلاق کی اہمیت سمجھائی ہے۔ اگر اپنے مشکل وقت میں خود ہی ان سے منہ موڑ لوں تو میری زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ جھوٹ بن جائے گا۔‘‘

شاگرد کی آنکھیں بھر آئیں۔

’’لیکن استاد! آپ بے قصور ہیں! یہ فیصلہ ناانصافی پر مبنی ہے۔ آپ کیوں ایک ظالم فیصلے کے سامنے سر جھکا رہے ہیں؟‘‘

سقراط نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

’’ناانصافی کا شکار ہونا اور خود ناانصافی کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ میں اپنے خلاف کیے گئے فیصلے کو درست نہیں سمجھتا، لیکن اپنی جان بچانے کے لیے خفیہ طور پر فرار اختیار کرکے قانون شکنی کو درست قرار دینے میں بھی مجھے دشواری ہے۔ انسان کو اپنے اصولوں کی حفاظت صرف اس وقت نہیں کرنی چاہیے جب وہ اس کے لیے آسان ہوں، بلکہ اس وقت بھی جب ان کی قیمت اپنی جان سے ادا کرنا پڑے۔‘‘

باہر اچانک قدموں کی آواز سنائی دی۔ محافظ قریب آرہے تھے۔ شاگرد نے آخری مرتبہ التجا کی۔

’’استاد! خدا کے لیے، ہمارے ساتھ چلیں! ہمیں آپ کی ضرورت ہے!‘‘

سقراط نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس کی اپنی آنکھوں میں بھی نمی تھی، مگر آواز مضبوط تھی۔

’’میں ایتھنز والوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ انسان اپنے اصولوں کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھ سکتا ہے۔ اگر میں بھاگ گیا تو شاید میری زندگی چند برس بڑھ جائے، لیکن میرے کردار کی موت اسی رات ہو جائے گی۔‘‘

شاگرد خاموش ہوگیا۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ بعض جنگیں میدان میں نہیں، انسان کے اپنے ضمیر کے اندر لڑی جاتی ہیں۔

 پیالہ زہر اور لا فانی پیغام

 

صبح ہوئی تو سقراط نے زہر کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لیا۔ اس کے گرد بیٹھے شاگردوں کے چہروں پر غم کی گہری پرچھائیاں تھیں۔ کسی کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، کوئی سر جھکائے بیٹھا تھا۔ سقراط نے انہیں تسلی دی، آخری گفتگو کی اور پیالہ اپنے لبوں سے لگا لیا۔

تاریخ کے صفحات پر اس کی موت درج ہوگئی، مگر اس کا سوال زندہ رہا: کیا انسان اپنی جان بچانے کے لیے ہر اصول قربان کر دے، یا کچھ اصول ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بغیر زندگی خود اپنی معنویت کھو دیتی ہے؟

صدیاں گزر گئیں۔ ایتھنز کی گلیاں بدل گئیں، سلطنتیں اٹھیں اور مٹ گئیں، مگر سقراط کا نام آج بھی زندہ ہے۔ شاید اس لیے کہ اس نے صرف سچائی پر گفتگو نہیں کی تھی، بلکہ اپنے آخری لمحوں میں یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اصولوں کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب ان پر قائم رہنے کی قیمت ادا کرنا پڑے۔

کیونکہ بعض اوقات انسان کی سب سے بڑی کامیابی زندہ بچ نکلنا نہیں، بلکہ اپنے ضمیر کو زندہ رکھنا ہوتی ہے۔

 

نوٹ: یہ تحریر سقراط کی زندگی سے منسوب تاریخی واقعے کی ادبی اور تمثیلی تشکیل ہے۔ مکالموں کو کہانی کے تقاضوں کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post