حجاب اور سائنسی ترقی: کیا پردہ عورت کی راہ میں رکاوٹ ہے؟( پروفیسر ڈاکٹر نجلاء الرضادی)
اسلام عورت کی تعلیم سے منع نہیں کرتا، بلکہ پردے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام علم کے حصول کو اہم سمجھتا ہے لیکن یہ سکھاتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کو عاجزی سے لباس پہننا چاہیے۔ قرآن کہتا ہے کہ مومنین کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہئیں۔ اسلام خواتین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اسلامی قوانین کے فریم ورک کے اندر سوسائٹی میں مثبت کردار ادا کریں۔ اگر کوئی خاتون حجاب پہنتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتی، یہ اس کی سائنسی لیبارٹری میں بھی کام کرنے پر اثر نہیں ڈالتا۔
زیر نظر تحریر ملاحظہ کریں :
کسی خاتون کو سر
سے پاؤں تک پردے میں دیکھ کر اس کے علم، تعلیم اور ذہنی صلاحیت کے بارے میں کیا
رائے قائم کی جا سکتی ہے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ ایسی خاتون کسی دینی مدرسے کی معلمہ
ہو، کسی طالب علم کی والدہ ہو یا کسی مذہبی شخصیت کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو؟ اور
کیا حجاب اختیار کرنے والی عورت جدید سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں
نمایاں مقام حاصل نہیں کر سکتی؟
یہ سوالات محض
لباس کے بارے میں نہیں، بلکہ ہمارے اس طرزِ فکر کے بارے میں ہیں جس میں بعض اوقات
انسان کی صلاحیتوں کو اس کے ظاہر سے جانچ لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی عورت کی
ذہانت، علمی استعداد اور تحقیق کی قابلیت کا فیصلہ اس کے لباس سے نہیں، بلکہ اس کے
علم، محنت اور عملی کارکردگی سے ہونا چاہیے۔
سعودی عرب کی طیبہ
یونیورسٹی، مدینہ منورہ سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر نجلاء سعد الرضادی کی سائنسی
تحقیقات اسی موضوع پر غور کرنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہیں۔
مدینہ منورہ کی
ایک محققہ اور جدید سائنس
پروفیسر ڈاکٹر
نجلاء الرضادی کی علمی وابستگی طیبہ یونیورسٹی سے ہے۔ ان کا تحقیقی کام کیمیا،
بالخصوص نینو ٹیکنالوجی، نباتاتی اجزا سے نینو ذرات کی تیاری اور ان کے ممکنہ طبی
استعمالات سے تعلق رکھتا ہے۔
نینو ٹیکنالوجی
جدید سائنس کا ایک اہم شعبہ ہے۔ اس میں مادّے کو انتہائی چھوٹے پیمانے پر تیار
کرکے اس کی خصوصیات اور استعمالات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میدان میں کی جانے
والی تحقیق طب، ادویات، تشخیصِ امراض اور دوسرے سائنسی شعبوں میں نئی راہیں کھول
سکتی ہے۔
ڈاکٹر نجلاء کی
ایک قابلِ ذکر تحقیق میں سعودی کھجوروں، خصوصاً عجوہ اور برنی کے آبی عرق کی مدد
سے پلاٹینم کے نینو ذرات تیار کرنے کا طریقہ زیرِ مطالعہ آیا۔ محققین نے ان ذرات
کے سرطان کے بعض خلیاتی نمونوں پر اثرات بھی جانچے۔
یہ تحقیق Arabian
Journal of Chemistry میں شائع ہوئی۔
حوالہ:
Al-Radadi, N. S., Arabian Journal of Chemistry. DOI: 10.1016/j.arabjc.2018.05.008
ان کے دوسرے
تحقیقی کام میں السی کے بیجوں کے عرق سے سونے کے نینو ذرات تیار کرنے اور چھاتی کے
سرطان کے خلیاتی نمونوں پر ان کے ممکنہ اثرات کا مطالعہ بھی شامل ہے۔
حوالہ: Journal
of Saudi Chemical Society، 2021ء، DOI: 10.1016/j.jscs.2021.101243
یہ محض کسی خاتون
کی تعریف میں لکھی گئی باتیں نہیں، بلکہ علمی جرائد میں شائع ہونے والی تحقیقات
ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نینو کیمیا کے میدان میں عملی تحقیقی کام کر رہی
ہیں۔
البتہ سائنسی
دیانت کا تقاضا ہے کہ ان نتائج کو ان کی اصل حدود میں بیان کیا جائے۔ سرطان کے
خلیات پر تجربہ گاہ میں کسی مادّے کا اثر ظاہر ہونا، انسانوں میں سرطان کا کامیاب
علاج دریافت ہو جانے کے برابر نہیں۔ کسی طریقۂ علاج کی افادیت ثابت کرنے کے لیے
مزید تجربات، طبی آزمائشوں اور مضبوط شواہد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
کسی محقق کی حقیقی
کامیابی کو بیان کرنے کے لیے مبالغے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا اصل کام ہی اس کی
بہترین پہچان ہے۔
کیا حجاب علمی
ترقی کے راستے میں دیوار ہے؟
یہاں اصل سوال
سامنے آتا ہے: کیا ایک عورت مذہبی لباس اختیار کرتے ہوئے جدید علوم میں آگے بڑھ
سکتی ہے؟
ڈاکٹر نجلاء کی
تحقیق ہمیں اس موضوع پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ ان کا علمی کام اس بات کی مثال
ہے کہ سعودی عرب کی ایک خاتون جدید کیمیا کے ایک تخصصی شعبے میں تحقیق کر رہی ہیں۔
لیکن کسی ایک محققہ کے لباس یا ذاتی معمولات کے بارے میں غیر مصدقہ دعوے کیے بغیر
بھی اس بنیادی حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے کہ مذہبی شناخت اور سائنسی تحقیق کو
لازماً ایک دوسرے کی ضد قرار دینا درست نہیں۔
کسی انسان کی علمی
ترقی کے لیے تعلیم، محنت، تحقیقی تربیت، وسائل اور کام کرنے کے مواقع اہم ہوتے
ہیں۔ لباس بذاتِ خود کسی شخص کی ذہانت یا سائنسی صلاحیت کا پیمانہ نہیں۔
اگر کوئی خاتون
حجاب اختیار کرتی ہے تو صرف اس بنا پر یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ جدید علم سے دور ہوگی
یا کسی سائنسی تجربہ گاہ میں مؤثر انداز سے کام نہیں کر سکے گی، ایک بے بنیاد
مفروضہ ہے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ حجاب اختیار کرنے والی ہر خاتون کو
تمام معاشروں میں یکساں مواقع حاصل ہیں۔ بعض جگہوں پر سماجی رویے، تعلیمی سہولتوں
کی کمی یا ادارہ جاتی پابندیاں واقعی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
اس لیے اصل بحث یہ
نہیں کہ حجاب رکھنے والی عورت لازماً دوسروں سے زیادہ قابل ہے یا کم، بلکہ یہ ہے
کہ اس کی قابلیت کا فیصلہ اس کے لباس کے بجائے اس کے علم اور کام کی بنیاد پر کیا
جائے۔
اسلام اور حصولِ
علم
اسلام میں علم کی
اہمیت کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔ قرآن مجید کی پہلی وحی میں ہی پڑھنے کا حکم دیا
گیا:
اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ(سورۃ العلق، 96:1–3)
ترجمہ: پڑھیے اپنے
رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھیے،
اور آپ کا رب بڑا کریم ہے۔
قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا بھی سکھائی گئی:
وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا(سورۃ طٰہٰ، 20:114)
ترجمہ: اور کہیے،
اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔
یہ آیات علم کی قدر و منزلت واضح کرتی ہیں۔ مسلمان کے لیے علم حاصل کرنا، کائنات پر غور کرنا اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل و صلاحیت سے فائدہ اٹھانا ایک قابلِ قدر عمل ہے۔
اسلامی تعلیمات
میں حیا اور پردے کی اہمیت اپنی جگہ ہے، لیکن پردے کو علم سے دوری یا ذہنی
پسماندگی کا مترادف قرار دینا درست نہیں۔ عورت کی تعلیم، اس کی علمی صلاحیت اور اس
کے لباس کے بارے میں گفتگو کرتے وقت ہر مسئلے کو اس کے اصل دائرے میں سمجھنا
چاہیے۔
کسی خاتون کے لیے
تعلیم حاصل کرنا، تحقیق کرنا اور اپنے علم سے انسانیت کو فائدہ پہنچانا اور بات
ہے، جبکہ کسی مخصوص پیشے کے شرعی، معاشرتی یا قانونی تقاضے ایک الگ موضوع ہیں۔ ان
دونوں کو خلط ملط کرنے سے غیر ضروری الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔
مسلم خواتین کی
سائنسی خدمات: ڈاکٹر سمیرہ موسیٰ
مسلم دنیا کی
سائنسی تاریخ میں مصر کی جوہری سائنس دان ڈاکٹر سمیرہ موسیٰ کا نام بھی قابلِ ذکر
ہے۔ وہ جوہری توانائی کے پُرامن استعمال اور اسے طبی مقاصد کے لیے عام لوگوں تک
پہنچانے میں دلچسپی رکھتی تھیں۔
ان کا کام اس بات
کی یاد دہانی ہے کہ عرب معاشروں کی خواتین نے جدید سائنسی علوم میں بھی حصہ لیا
ہے۔ ان کی علمی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ان کی تعلیم، تحقیق اور سائنسی خدمات کا
مطالعہ کافی ہے؛ ان کے بارے میں لباس یا پردے سے متعلق ایسی بات منسوب کرنا مناسب
نہیں جس کی تاریخی شہادت موجود نہ ہو۔
حوالہ: مصر کی
سرکاری معلوماتی ویب سائٹ، State Information Service،
ڈاکٹر سمیرہ موسیٰ کا تعارف:
https://sis.gov.eg/en/egypt/egyptian-figures/samira-moussa/
ایسی مثالوں سے یہ
ضرور واضح ہوتا ہے کہ مسلم معاشروں کی خواتین سائنس اور تحقیق کی تاریخ میں اپنا
کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ان کی کامیابیوں کا اعتراف کرتے ہوئے درست تاریخی معلومات
کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
عالمی شہرت اور
سائنسی فہرستوں کی حقیقت
آج کل سوشل میڈیا
پر کسی محقق کا نام عالمی فہرست میں شامل ہونے کی خبر بڑے اہتمام سے پیش کی جاتی
ہے۔ ڈاکٹر نجلاء الرضادی کے بارے میں بھی یہ دعویٰ گردش کرتا ہے کہ وہ مسلسل پانچ
سال دنیا کے دو فیصد نمایاں سائنس دانوں کی فہرست میں شامل رہی ہیں۔
دنیا کے نمایاں
محققین کے بارے میں ایک معروف فہرست اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محقق جان پی اے
آئیوانیڈس اور ان کے ساتھیوں کی علمی کاوشوں سے تیار ہوتی ہے، جس کے لیے
Elsevier کے
Scopus ڈیٹا
کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس فہرست میں تحقیقی مقالوں کے حوالہ جات اور دوسرے علمی
اشاریوں کی مدد سے محققین کے اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس فہرست میں شامل
ہونا علمی اعتبار سے اہم ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ شخص کو ہر
نوعیت کی ذہانت کے اعتبار سے دنیا کے بہترین دو فیصد انسانوں میں شمار کر لیا گیا
ہے۔ یہ بنیادی طور پر تحقیقی اثر و رسوخ کے اشاریوں پر مبنی درجہ بندی ہے۔
حوالہ:
Ioannidis, J. P. A. et al., Updated science-wide author databases of
standardized citation indicators.
Elsevier Data Repository: https://elsevier.digitalcommonsdata.com/
ڈاکٹر نجلاء کے
مسلسل پانچ سال اس فہرست میں شامل رہنے کی الگ الگ تصدیق کے بغیر اس دعوے کو قطعی
حقیقت کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح ان کے نام پر متعدد عالمی پیٹنٹس کی
بات بھی متعلقہ رجسٹریشن ریکارڈ کے بغیر شامل نہیں کی جانی چاہیے۔
یہ احتیاط ان کی
علمی خدمات کی نفی نہیں، بلکہ ان کے کام کو درست انداز میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔
مستند معلومات کے ساتھ بیان کی گئی کامیابی، مبالغے سے زیادہ دیرپا اثر رکھتی ہے۔
ترقی کا پیمانہ
کیا ہونا چاہیے؟
ہمارے معاشرے میں
کبھی کسی عورت کے لباس کو دیکھ کر اس کے بارے میں رائے قائم کر لی جاتی ہے، اور
کبھی کسی دوسری عورت کی کامیابی کو اس کے لباس کے خلاف دلیل بنا دیا جاتا ہے۔
دونوں صورتوں میں توجہ اصل سوال سے ہٹ جاتی ہے۔
اگر ایک عورت
اعلیٰ تعلیم حاصل کرتی ہے، تحقیق میں حصہ لیتی ہے، نئے علمی مسائل پر کام کرتی ہے
اور اپنے شعبے میں قابلِ قدر نتائج پیش کرتی ہے تو اس کی کامیابی کا اعتراف ہونا
چاہیے۔ اس کے مذہبی لباس کو اس کے علمی مقام کے خلاف دلیل بنانا درست نہیں۔
اسی طرح کسی
باحجاب عورت کی کامیابی کو اس بات کا ثبوت بھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہر جگہ مذہبی
خواتین کو کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ بعض خواتین کو تعلیم کے حصول، خاندانی ذمہ
داریوں، معاشرتی رویوں یا کام کے ماحول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان
مسائل کو تسلیم کرنا اور ان کے حل کے لیے کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔
ایک متوازن معاشرے
کی پہچان یہ ہے کہ وہاں عورت کی علمی قابلیت کو تسلیم کیا جائے، اسے تعلیم اور
تحقیق کے مناسب مواقع دیے جائیں اور اس کی مذہبی اقدار کا احترام کیا جائے۔ ترقی
کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص ایک ہی طرزِ زندگی اختیار کرے، بلکہ یہ ہے کہ انسان
اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے اور اپنے علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔
اصل بات
حجاب اور سائنسی
ترقی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا درست نہیں۔ کسی عورت کے پردے کو اس کی ذہنی
صلاحیت کی کمی کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا، اور نہ ہی کسی محققہ کی کامیابی کے لیے
غیر مصدقہ دعووں کا سہارا لینے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر
نجلاء الرضادی کی شائع شدہ تحقیقات اس بات کی مثال ہیں کہ سعودی عرب کی ایک خاتون
جدید نینو کیمیا کے میدان میں کام کر رہی ہیں۔ ان کی تحقیق کو سمجھنا، اس کے نتائج
کو درست انداز میں بیان کرنا اور ان کے علمی کام کا اعتراف کرنا زیادہ مفید ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد
رکھنا چاہیے کہ علم کا تعلق تحقیق، دیانت، محنت اور مسلسل سیکھنے سے ہے۔ کسی انسان
کو صرف اس کے لباس کی بنیاد پر کم تر سمجھنا بھی درست نہیں اور کسی کے بارے میں
غیر ثابت شدہ دعوے کرکے اسے غیر معمولی ثابت کرنا بھی مناسب نہیں۔
عورت کی علمی
صلاحیت کو اس کے لباس سے نہیں، اس کے علم اور کردار سے پہچانیے۔ حجاب کو ترقی کی
لازمی رکاوٹ سمجھنا بھی غلط ہے، اور تحقیق کے بغیر کسی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر
بیان کرنا بھی۔ حقیقت پر مبنی گفتگو ہی علم، مذہب اور معاشرے، تینوں کے حق میں
بہتر ہے۔

Post a Comment