شُحِّ نفس: دل کی تنگی سے قرآنی فلاح تک

انسان دوسروں کی بہت سی کمزوریاں آسانی سے دیکھ لیتا ہے۔ کسی کی کنجوسی اسے بری لگتی ہے، کسی کی خود غرضی پر اسے غصہ آتا ہے اور کسی کی حق تلفی اسے ناانصافی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن کبھی وہ اپنے دل میں جھانک کر نہیں دیکھتا کہ کہیں یہی کمزوریاں اس کے اپنے اندر بھی تو موجود نہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری ضرورت سمجھیں، ہمارے حق کا خیال رکھیں، ہماری بات سنیں اور ہمارے لیے آسانی پیدا کریں۔ لیکن جب کسی دوسرے کی ضرورت ہمارے سامنے آتی ہے تو کیا ہمارا دل بھی اسی طرح کشادہ رہتا ہے؟ کیا ہم دوسروں کے لیے بھی وہی رعایت پسند کرتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں؟

قرآن مجید انسان کو اسی خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے۔ اس کی نظر میں کامیابی صرف مال حاصل کرنے، اپنی خواہشیں پوری کرنے یا دنیا میں عزت پا لینے کا نام نہیں؛ حقیقی کامیابی یہ بھی ہے کہ انسان اپنے نفس کی تنگی پر قابو پائے اور اس کے دل میں دوسروں کے لیے خیر کی جگہ باقی رہے۔ قرآن اس باطنی کمزوری کے لیے شُحّ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔

شُحّ کیا ہے؟

عربی لغت میں شُحّ کا تعلق بخل اور حرص سے ہے۔ ابن منظور نے لسان العرب میں مادۂ «شحح» کے تحت اس کے مفہوم میں بخل اور حرص کا ذکر کیا ہے۔ عام طور پر بخل میں موجود مال یا نعمت خرچ کرنے سے گریز نمایاں ہوتا ہے، جبکہ شُحّ میں اپنی چیز روک رکھنے کے ساتھ اسے مزید حاصل کرنے کی شدید خواہش بھی شامل ہو سکتی ہے۔

یہ کیفیت صرف روپے پیسے تک محدود نہیں رہتی۔ کبھی انسان اپنے فائدے کے لیے دوسروں کا حق نظر انداز کرتا ہے، کبھی ذمہ داری تو قبول کر لیتا ہے مگر اسے نبھانے کے وقت پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور کبھی اسے یہ بات گوارا نہیں ہوتی کہ کسی دوسرے کو وہ سہولت یا فائدہ مل جائے جس کی اسے خود خواہش تھی۔

تاہم ہر بچت بخل نہیں، ہر خواہش حرص نہیں اور اپنے جائز حق کا مطالبہ کرنا شُحّ نہیں۔ اسی طرح حسد، تکبر اور خود پسندی الگ اخلاقی خرابیاں ہیں، اگرچہ بعض اوقات یہ ایک ہی شخص میں جمع ہو سکتی ہیں۔

اصل خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اپنے مفاد کی فکر اتنی بڑھ جائے کہ دوسروں کے حقوق، ضروریات اور تکلیفیں نگاہ سے اوجھل ہونے لگیں۔

قرآن مجید شُحّ کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

قرآن مجید میں مادۂ شُحّ چار آیات میں آیا ہے، جبکہ سورۃ الأحزاب کی آیت 19 میں اس مادے سے بنا ہوا لفظ دو مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ ان آیات میں انسانی نفس کی تنگ دلی اور اس سے بچنے کی اہمیت مختلف انداز سے سامنے آتی ہے۔

سورۃ النساء میں ارشاد ہے:

وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ (النساء: 128)

 اور نفسوں میں تنگ دلی موجود رکھی گئی ہے۔

یہ آیت میاں بیوی کے باہمی معاملات اور صلح کے تناظر میں ہے۔ ازدواجی زندگی میں کبھی بے رغبتی، اختلاف یا جدائی کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں ہر فریق اپنے حق اور اپنے حصے کے بارے میں فکرمند ہوتا ہے۔ اگر دونوں صرف اپنی بات منوانے پر اصرار کریں تو فاصلے بڑھ سکتے ہیں؛ لیکن اگر انصاف کی حدود میں رہتے ہوئے سمجھ داری اور گنجائش سے کام لیا جائے تو رشتہ سنبھلنے کی صورت نکل سکتی ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نفس کی تنگ دلی اور اپنے حصے کے معاملے میں اصرار کے پہلو کو واضح کیا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ بعض اختلافات میں صلح کی کوشش مفید ہوتی ہے، لیکن صلح کا مطلب ظلم برداشت کرنا یا کسی کو اس کے جائز حق سے محروم کرنا نہیں۔

رشتوں کو محض حساب کتاب سے نہیں چلایا جا سکتا۔ ان میں محبت، تحمل اور ایک دوسرے کی کیفیت سمجھنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ قربانی اسی وقت قابلِ قدر ہے جب وہ انصاف اور شرعی حدود کے دائرے میں ہو۔

خطرے میں پیچھے، فائدے کے وقت آگے

سورۃ الأحزاب میں ان لوگوں کا طرزِ عمل بیان ہوا ہے جو خوف اور خطرے کے وقت کمزوری دکھاتے تھے، لیکن خطرہ گزر جانے کے بعد اپنے مطالبات میں پیش پیش ہو جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُمْ بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ(الأحزاب: 19)

 وہ تمہارے معاملے میں تنگ دل ہیں۔ پھر جب خوف کا وقت آتا ہے تو تم انہیں دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھوم رہی ہوتی ہیں جس پر موت کی بے ہوشی طاری ہو؛ لیکن جب خوف دور ہو جاتا ہے تو تیز زبانوں سے تم پر چڑھ دوڑتے ہیں اور خیر کے معاملے میں بھی تنگ دل ہوتے ہیں۔

یہ آیت ایک خاص گروہ کے طرزِ عمل کی مذمت کرتی ہے۔ اس لیے کسی شخص کی ایک وقتی کمزوری دیکھ کر اس پر اس آیت کا حکم چسپاں کرنا درست نہیں۔ البتہ اپنے کردار کا جائزہ لینے کے لیے اس میں ایک اہم تنبیہ ضرور موجود ہے۔

ذرا اپنے روزمرہ معاملات دیکھیے۔ کبھی کسی مشترکہ کام میں ذمہ داری اٹھانے کا وقت آئے تو ہم خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، لیکن فائدہ تقسیم ہونے لگے تو اپنا حصہ بھولتے نہیں۔ کبھی ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مجبوری کو سمجھا جائے، مگر دوسرے کی مجبوری سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو دوسروں پر حکم لگانے کے بجائے اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے۔

انصارِ مدینہ: ایثار کی زندہ مثال

شُحّ کے موضوع پر سورۃ الحشر کی آیت 9 غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انصارِ مدینہ رضی اللہ عنہم کی ایسی صفت بیان فرمائی جو اہلِ ایمان کے لیے ہمیشہ روشن مثال رہے گی:

وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (لحشر: 9)

ترجمہ: اور وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ خود انہیں ضرورت ہو؛ اور جو اپنے نفس کے شُحّ سے بچا لیا گیا، تو وہی فلاح پانے والے ہیں۔

انصار رضی اللہ عنہم نے مہاجرین کے ساتھ جس محبت اور فراخ دلی کا مظاہرہ کیا، وہ اسلامی اخوت کی درخشاں مثال ہے۔ انہوں نے اپنے بھائیوں کے لیے گھر اور وسائل پیش کیے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھا۔ یہ ایثار اس ماحول میں سامنے آیا جب خود ان کی زندگی بھی ہر طرح کی آسائش سے بھرپور نہ تھی۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں انصار کے ایثار اور مہاجرین کے ساتھ ان کی فراخ دلی کو نمایاں کیا ہے۔

دوسرے کو دینا اس وقت نسبتاً آسان ہوتا ہے جب ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ ہو۔ لیکن جب اپنی ضرورت بھی موجود ہو اور اس کے باوجود کسی دوسرے کی تکلیف دل کو محسوس ہو، تو یہ ایثار کی بلند صورت ہے۔ اسی لیے قرآن نے شُحّ سے نجات کو فلاح قرار دیا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے اہل و عیال کی ضروریات نظر انداز کر دے، خود کو محتاج بنا لے یا دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اپنا جائز حق چھوڑ دے۔ اپنے گھر والوں کے واجب حقوق ادا کرنا بھی دین کا تقاضا ہے۔ فضیلت وہاں ہے جہاں انسان اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے اور جہاں گنجائش ہو، محض خود غرضی کی وجہ سے ہاتھ نہ روکے۔

مال ہی نہیں، دل بھی کشادہ ہونا چاہیے

سورۃ التغابن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لِأَنْفُسِكُمْ ۗ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (التغابن: 16)

پس جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو، سنو اور اطاعت کرو، اور خرچ کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے؛ اور جو اپنے نفس کے شُحّ سے بچا لیا گیا، تو وہی فلاح پانے والے ہیں۔

اس آیت میں تقویٰ، اطاعت اور خرچ کرنے کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔ ایمان کا اثر صرف زبان پر نہیں، انسان کے فیصلوں اور عمل میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کا حکم دیا ہو، وہاں مال کی محبت کو حکمِ الٰہی پر غالب نہیں آنے دینا چاہیے۔

البتہ دل کی تنگی کا تعلق صرف مال سے نہیں۔ کسی کے پاس پیسے نہ ہوں تو وہ مالی مدد نہیں کر سکتا، لیکن ممکن ہے وہ کسی پریشان حال کی بات سن لے، کسی کا جائز کام آسان کر دے یا اپنی ذمہ داری وقت پر پوری کر دے۔ اسی طرح علم رکھنے والا شخص کسی کو سکھا سکتا ہے، اور اختیار رکھنے والا کسی کے ساتھ انصاف کر سکتا ہے۔

ہر شخص ہر ضرورت پوری نہیں کر سکتا، نہ ہر موقع پر قربانی دینا لازم ہے۔ لیکن جب کسی کا حق ہمارے ذمے ہو یا بھلائی کا کوئی مناسب موقع سامنے آئے تو صرف اپنی سہولت کی خاطر پیچھے ہٹنے سے پہلے اپنے رویّے پر غور ضرور کرنا چاہیے۔

شُحّ سے بچنے کا عملی راستہ

رسول اللہ ﷺ نے اس باطنی کمزوری کے انجام سے خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

«وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ»(صحیح مسلم، حدیث 2578)

ترجمہ: شُحّ سے بچو، کیونکہ شُحّ نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا۔

یہ تنبیہ اس لیے اہم ہے کہ جب حرص انسان پر غالب آتی ہے تو معاملہ محض مال روکنے تک محدود نہیں رہتا۔ آدمی اپنے فائدے کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کر سکتا ہے، ناانصافی کر سکتا ہے اور غلط راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

اس سے بچنے کے لیے کسی پیچیدہ طریقے کی ضرورت نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں چند باتوں پر توجہ دینا مفید ہے۔

اپنے دل کا جائزہ لیجیے۔ جب کسی دوسرے کو فائدہ ملے یا اپنا حصہ کم ہونے کا امکان ہو تو اپنے ردِعمل کو دیکھیے۔ کیا آپ انصاف کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں یا ہر صورت میں اپنا فائدہ محفوظ رکھنا چاہتے ہیں؟

حق اور احسان میں فرق رکھیے۔ کسی کا واجب حق ادا کرنا احسان نہیں، ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کرنا اور کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا حسنِ اخلاق ہے۔ کسی کا حق روک کر اسے سخاوت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

چھوٹی نیکیوں سے آغاز کیجیے۔ ہر بھلائی کے لیے بڑی رقم درکار نہیں ہوتی۔ کسی کی بات توجہ سے سن لینا، پریشان حال کی دل جوئی کرنا، اپنے ذمے کا کام وقت پر پورا کرنا اور کسی کی جائز مشکل آسان کرنا بھی اچھے کردار کا حصہ ہے۔

مال کو نعمت اور امانت سمجھیے۔ بچت کرنا اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا درست ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مال کی محبت انسان کے فیصلوں پر اس قدر غالب آ جائے کہ وہ اپنے واجب حقوق اور ذمہ داریوں کو بھی بھولنے لگے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا دل کو یاد دلاتا ہے کہ نعمت صرف جمع کرنے کے لیے نہیں، صحیح جگہ استعمال کرنے کے لیے بھی ہے۔

اچھے اخلاق کا پہلا امتحان گھر میں ہوتا ہے

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي»(جامع الترمذی، حدیث 3895)

ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔

اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی یہ تعلیم ہمارے لیے اخلاق کا ایک روشن معیار ہے۔ انسان گھر سے باہر خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر سکتا ہے، لیکن اس کے کردار کی حقیقت گھر والوں کے ساتھ روزمرہ برتاؤ میں بھی سامنے آتی ہے۔ کیا وہ ان کی ضرورت سنتا ہے؟ کیا ان کے لیے وقت نکالتا ہے؟ کیا گھر کے معاملات میں اپنی ذمہ داری قبول کرتا ہے؟

محبت صرف اچھے الفاظ سے نہیں، رویّے سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ گھر والوں کی جائز ضروریات کو مسلسل نظر انداز کرنا، ان کی بات سننے سے گریز کرنا یا ہر معاملے میں اپنی سہولت کو ترجیح دینا رشتوں میں دوری پیدا کر سکتا ہے۔ اپنے گھر میں انصاف اور شفقت کا ماحول پیدا کرنا بھی نفس کی اصلاح کا حصہ ہے۔

اسی طرح سنن ابی داؤد کی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے لیے جنت کے کنارے ایک گھر کی بشارت دی ہے جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الأدب، حدیث 4800)

اس تعلیم کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ظلم کے سامنے خاموش رہے یا اپنا جائز حق چھوڑ دے۔ مقصود یہ ہے کہ محض ضد، انا یا اپنی بات منوانے کی خاطر بے فائدہ جھگڑے کو طول نہ دے۔ بعض اوقات حق واضح ہونے کے باوجود نرم لہجہ اختیار کرنا اور معاملے کو خوش اسلوبی سے ختم کر دینا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

اصلاح کا دروازہ کھلا ہے

انسان سے غلطی ہوتی ہے۔ کبھی وہ اپنی ضرورت کو دوسروں کی ضرورت پر ترجیح دے بیٹھتا ہے، کبھی کسی کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتا اور کبھی اپنے رویّے کی خرابی اسے اس وقت سمجھ آتی ہے جب کسی کا دل دکھ چکا ہوتا ہے۔ لیکن غلطی کا احساس مایوسی کا سبب نہیں بننا چاہیے؛ اسے اصلاح کی ابتدا بننا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ ۚ إِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ(الزمر: 53)

ترجمہ: کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو؛ بے شک اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے، یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھنے کے ساتھ اپنی غلطی درست کرنے کی کوشش بھی ضروری ہے۔ اگر ہم نے کسی کا حق روکا ہے تو اسے ادا کرنے کی کوشش کریں؛ کسی کو اپنی بات یا رویّے سے تکلیف پہنچی ہے تو مناسب طریقے سے تلافی کریں؛ اور اگر ہم میں دوسروں کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی کمی ہے تو چھوٹے قدموں سے اس کی اصلاح شروع کریں۔

قرآن مجید اہلِ ایمان کی یہ دعا بھی نقل کرتا ہے:

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ(الحشر: 10)

ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ۔ اے ہمارے رب! بے شک تو نہایت شفقت کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔

یہ دعا دل کی ایک اور ضرورت یاد دلاتی ہے: دوسروں کے لیے خیر چاہنا، ان کے بارے میں کینہ نہ رکھنا اور اپنے نفس کو ہر وقت درست سمجھنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنا۔

شُحّ سے نجات کی ابتدا دوسروں کی غلطیاں گننے سے نہیں، اپنے دل کا جائزہ لینے سے ہوتی ہے۔ انسان جب انصاف کو اپنی خواہش پر، ذمہ داری کو سہولت پر اور ایثار کو خود غرضی پر ترجیح دینا سیکھتا ہے تو اس کے کردار میں تبدیلی آنے لگتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس کی کمزوریوں کو پہچاننے، ان کی اصلاح کرنے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے اور اپنے دلوں کو بخل و حرص سے پاک رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

بنیادی مراجع

قرآن مجید

  • سورۃ النساء: 4:128
  • سورۃ الأحزاب: 33:19
  • سورۃ الحشر: 59:9–10
  • سورۃ التغابن: 64:16
  • سورۃ الزمر: 39:53

تفاسیر و لغت

  • ابن منظور، لسان العرب، مادہ: شحح
  • حافظ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، تفسیر سورۃ النساء، آیت 128
  • حافظ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، تفسیر سورۃ الأحزاب، آیت 19
  • حافظ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، تفسیر سورۃ الحشر، آیت 9
  • شیخ عبدالعزیز ابن باز، ما الفرق بين البخل والشح؟

احادیث

  • صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، حدیث 2578
  • جامع الترمذی، حدیث 3895
  • سنن ابی داؤد، کتاب الأدب، حدیث 4800

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post