تخلیقِ کائنات اور نظامِ عالم میں قدرتِ الٰہی کی نشانیاں

انسان جب رات کے آسمان کو دیکھتا ہے، سورج کے طلوع و غروب کا مشاہدہ کرتا ہے، موسموں کی تبدیلی محسوس کرتا ہے یا سمندر کی وسعت کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اسے اپنی ذات کی محدودیت اور کائنات کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن قرآن مجید انسان کو صرف حیرت میں مبتلا نہیں کرتا؛ وہ اسے اس حیرت کو غور و فکر میں بدلنے کی دعوت دیتا ہے۔

کائنات اسلامی فکر میں محض مادی اشیا کا مجموعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی نشانیوں سے بھری ہوئی ایک وسیع دنیا ہے۔ انسان اس دنیا کو سمجھنے کے لیے عقل اور تجربے سے کام لیتا ہے، مگر اس علم کا آخری اخلاقی نتیجہ شکر، عاجزی اور ذمہ داری ہونا چاہیے۔

آسمان و زمین: غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں

قرآن مجید فرماتا ہے:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ(آل عمران 3:190)
"
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے باہم بدلنے میں عقل رکھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔"
غور کیجیے کہ قرآن نے یہاں کسی مخصوص سائنسی نظریے کا نام نہیں لیا۔ اس نے ایک طرزِ فکر پیدا کیا ہے: کائنات کو دیکھو، اس کے نظم پر غور کرو، اس کے اندر اپنے مقام کو سمجھو اور اس سب کے پیچھے کارفرما قدرت و حکمت کو پہچانو۔

آج جدید فلکیات ہمیں بتاتی ہے کہ زمین اپنے محور کے گرد گردش کرتی ہے اور سورج کے گرد اپنے مدار میں حرکت کرتی ہے۔ زمین کا محوری جھکاؤ موسموں کی تبدیلی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ دن اور رات کی باقاعدہ گردش اور موسموں کی تبدیلی اسی پیچیدہ مگر قابلِ فہم نظام کا حصہ ہیں۔

یہ سائنسی معلومات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن قرآن کی آیت کا اصل مقصد کسی ایک فلکیاتی ماڈل کو ثابت کرنا نہیں۔ قرآن انسان کو اس پورے نظام میں اللہ کی نشانی دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔

رات اور دن: وقت کی ایک خاموش گھڑی

رات اور دن ہماری زندگی کے اتنے معمول کا حصہ ہیں کہ ہم اکثر ان کی اہمیت محسوس ہی نہیں کرتے۔ سورج طلوع ہوتا ہے، روشنی پھیلتی ہے، انسان اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتا ہے؛ پھر رات آتی ہے اور دنیا کا منظر بدل جاتا ہے۔

قرآن مجید فرماتا ہے:

وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ(الاسراء 17:12)
"
اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا۔"
اسی آیت میں رات اور دن کے ذریعے وقت کے حساب کا ذکر بھی آتا ہے۔

انسانی تہذیب کا تقریباً ہر شعبہ وقت کے اسی نظم سے وابستہ ہے۔ عبادات کے اوقات ہوں، زراعت ہو، تجارت ہو، سفر ہو یا روزمرہ زندگی، انسان نے اپنے معمولات کو دن اور رات کی گردش کے ساتھ مربوط کیا ہے۔

البتہ زمین کے ہر حصے میں دن اور رات کا دورانیہ یکساں نہیں ہوتا۔ عرضِ بلد کے بدلنے کے ساتھ دن اور رات کی لمبائی میں فرق آتا ہے، اور قطبی علاقوں میں بعض موسموں میں دن یا رات بہت طویل ہوسکتے ہیں۔

یہ معمولی سی سائنسی تصحیح بھی ایک اہم اصول سکھاتی ہے: دینی مضمون کی تاثیر مبالغے سے نہیں بلکہ صحیح حقیقت کے خوبصورت بیان سے بڑھتی ہے۔

زمین کی گردش اور دن رات کا راز

عام مشاہدے میں ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں غروب ہوجاتا ہے۔ روزمرہ گفتگو میں ہم آج بھی کہتے ہیں کہ "سورج طلوع ہوا" یا "سورج غروب ہوگیا"۔ یہ مشاہداتی زبان ہے اور اپنی جگہ بالکل فطری ہے۔

جدید فلکیات کی تفصیل یہ بتاتی ہے کہ دن اور رات کا بنیادی سبب زمین کی اپنے محور کے گرد گردش ہے۔ زمین تقریباً 24 گھنٹے میں ایک شمسی دن مکمل کرتی ہے۔ ستاروں کے مقابلے میں ایک گردش کا دورانیہ تقریباً 23 گھنٹے 56 منٹ ہے۔

قرآن جب اختلاف اللیل والنہار کا ذکر کرتا ہے تو انسان کو اس مسلسل تبدیلی پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ آیت کو کسی قدیم فلکیاتی تصور کے ساتھ باندھ دیا جائے۔ قرآن کا اصل پیغام اس سے زیادہ وسیع ہے: رات اور دن کا یہ منظم نظام اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔

یہاں ایک علمی احتیاط بہت ضروری ہے۔ قرآن کی آیات کو جدید سائنس کے ہر نئے نظریے کا پیش خیمہ ثابت کرنے کی کوشش کبھی کبھی خود قرآن کے فہم کو محدود کر دیتی ہے۔ آیت کا اصل ہدایت بخش مفہوم اپنی جگہ قائم رہتا ہے، خواہ سائنسی تفصیلات وقت کے ساتھ مزید واضح ہوتی رہیں۔

موسم کیوں بدلتے ہیں؟

موسموں کی تبدیلی بھی انسان کے لیے قدرت کے نظام کا ایک نمایاں مشاہدہ ہے۔

زمین کا محور تقریباً 23.4 درجے جھکا ہوا ہے اور زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔ یہی محوری جھکاؤ اس بات میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے کہ سال کے مختلف اوقات میں زمین کے مختلف حصوں پر سورج کی روشنی کس زاویے سے پہنچتی ہے اور دن کی لمبائی کس طرح بدلتی ہے۔

اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ موسموں کی تبدیلی زمین کے محوری جھکاؤ اور سورج کے گرد اس کی گردش سے متعلق ہے، نہ کہ اس وجہ سے کہ سورج خود سال کے دوران زمین کے شمال اور جنوب کے درمیان چکر لگاتا ہے۔

البتہ زمین سے دیکھنے والے انسان کو سورج کی ظاہری جگہ سال بھر بدلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم انسان نے بھی طلوع و غروب، سایوں اور موسموں کے فرق کو بہت گہرائی سے محسوس کیا۔

قرآن میں فرمایا گیا:

رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ(الرحمن 55:17)
"
وہ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب ہے۔"
اور ایک دوسری جگہ:

فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ(المعارج 70:40)
"
پس میں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم کھاتا ہوں۔"

مفسرین نے ان تعبیرات کے مختلف پہلو بیان کیے ہیں۔ ان آیات کو کسی مخصوص فلکیاتی مساوات میں محدود کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور مشرق و مغرب کے وسیع مظاہر کی طرف توجہ سمجھنا زیادہ محتاط طریقہ ہے۔

سمندر: سفر، تجارت اور انسانی تہذیب

قرآن مجید نے سمندر میں چلنے والی کشتیوں کو بھی اللہ کی نشانیوں میں شمار کیا ہے:

وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ(البقرۃ 2:164)
"
اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیزیں لے کر چلتی ہیں۔"

سمندر نے انسانی تہذیب کی تشکیل میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ تجارت کے راستے کھلے، مختلف قوموں کے درمیان رابطے قائم ہوئے، نئی سرزمینیں دریافت ہوئیں اور علم و ثقافت ایک خطے سے دوسرے خطے تک پہنچی۔کشتی کا تیرنا بھی قدرت کے قوانین کے مطابق ہے۔ اس میں کثافت، حجم، پانی کے ابھار اور کشتی کی ساخت جیسے عوامل کام کرتے ہیں۔ انسان نے ان قوانین کو سمجھ کر بڑے بحری جہاز بنائے اور سمندروں کو عبور کرنا آسان کیا۔

لیکن طبیعی قانون کی وضاحت اس حقیقت کو ختم نہیں کرتی کہ انسان کو عقل، مشاہدہ اور قوانینِ فطرت سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کس نے دی۔

یہی قرآن کے تدبر کا ایک خوبصورت پہلو ہے: کشتی بھی نظر آتی ہے، سمندر بھی، انسانی عقل بھی اور ان سب کے پیچھے اللہ کی نعمت بھی۔

بارش اور پانی: زندگی کا خاموش سفر

پانی زندگی کے بنیادی وسائل میں سے ہے۔ قرآن مجید بارش کو بار بار اللہ تعالیٰ کی رحمت اور قدرت کی نشانی کے طور پر بیان کرتا ہے۔

آج سائنس ہمیں پانی کے ایک وسیع قدرتی چکر سے آگاہ کرتی ہے۔ سمندروں، دریاؤں، جھیلوں اور زمین کی سطح سے پانی بخارات کی صورت میں فضا میں جاتا ہے۔ مناسب حالات میں یہ بخارات تکاثف کے ذریعے بادلوں کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں۔ پھر بارش یا برف کی صورت میں پانی زمین پر واپس آتا ہے۔ اس کا ایک حصہ دریاؤں اور سطحی بہاؤ کے ذریعے آگے جاتا ہے، کچھ زمین میں جذب ہوتا ہے اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں حصہ لیتا ہے۔

اس پورے عمل کو پانی کا چکر کہا جاتا ہے۔

قرآن اس پورے عمل کو سائنسی اصطلاحات میں بیان کرنے کے بجائے بارش کو انسان کے لیے اللہ کی نعمت اور نشانی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ یہ عمل کیسے ہوتا ہے؛ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس نعمت کے ساتھ ہمارا رویّہ کیا ہونا چاہیے۔

اسی لیے پانی کا درست استعمال بھی ایک اخلاقی مسئلہ بن جاتا ہے۔ پانی ضائع نہ کرنا، اسے آلودہ نہ کرنا اور آنے والی نسلوں کے لیے اس کے وسائل کی حفاظت کرنا شکر کے عملی مظاہر میں شامل ہوسکتا ہے۔

سائنس اور قرآن: تعلق کہاں اور کیسے؟

کائنات کے موضوع پر لکھتے ہوئے سب سے زیادہ احتیاط اسی مقام پر ضروری ہے۔

سائنس مشاہدہ، تجربہ، پیمائش اور قابلِ جانچ مفروضات کے ذریعے قدرتی دنیا کے بارے میں علم حاصل کرتی ہے۔ قرآن انسان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، لیکن قرآن کا بنیادی مقصد انسان کو ہدایت دینا ہے۔

اس لیے دونوں کے درمیان تعلق کو سمجھنے کا متوازن طریقہ یہ ہے کہ نہ سائنس کو دین کا دشمن بنایا جائے اور نہ قرآن کی ہر آیت کو کسی جدید سائنسی دریافت کا خفیہ فارمولا قرار دیا جائے۔

مثلاً اگر کسی آیت میں بارش، آسمان یا رات دن کا ذکر ہو تو ہم اس سے تدبر حاصل کرسکتے ہیں، اور ان مظاہر کی سائنسی تفصیل بھی پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر کسی سائنسی نظریے میں مستقبل میں تبدیلی آجائے تو قرآن کے بنیادی پیغام کو اس تبدیلی کے ساتھ متزلزل نہیں ہونا چاہیے۔

قرآن ہدایت دیتا ہے؛ سائنس قدرتی مظاہر کی تفصیل سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔

دونوں کو ان کے مناسب دائرے میں رکھنا علمی دیانت بھی ہے اور دینی احتیاط بھی۔

ہر سائنسی دریافت "قرآنی معجزہ" نہیں

آج سوشل میڈیا کے دور میں کبھی کبھی ایسی تحریریں سامنے آتی ہیں جن میں کسی سائنسی دریافت کو فوراً کسی قرآنی آیت کا "حتمی سائنسی معجزہ" قرار دے دیا جاتا ہے۔ ایسی تحریریں بظاہر مذہبی جوش پیدا کرتی ہیں، مگر اگر ان میں سائنسی معلومات غیر درست ہوں تو نتیجہ الٹا بھی ہوسکتا ہے۔

ایک مسلمان کو قرآن کی عظمت ثابت کرنے کے لیے غیر ثابت شدہ دعووں کی ضرورت نہیں۔

قرآن کا اصل اعجاز اس کے ہدایت بخش پیغام، اس کے اسلوب، اس کی فکری قوت اور انسان کی زندگی پر اس کے اثر میں ہے۔ قدرتی مظاہر میں موجود نشانیاں اس کے تدبر کا حصہ ہیں، لیکن ہر سائنسی تفصیل کو آیت میں زبردستی داخل کرنا ضروری نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ صحیح علم کے ساتھ قرآن پڑھنا قرآن کی عظمت کو کم نہیں کرتا؛ بلکہ انسان کو اس کے پیغام کو زیادہ سنجیدگی سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

کائنات قابلِ فہم ہے، اس لیے علم کی قدر ہے

قرآن انسان کو بار بار عقل، تفکر اور تدبر کی طرف بلاتا ہے۔ یہ ایک ایسا رویہ پیدا کرتا ہے جس میں کائنات سوال کرنے اور سیکھنے کی جگہ بنتی ہے۔

ہم موسموں کو سمجھ سکتے ہیں، پانی کے چکر کا مطالعہ کرسکتے ہیں، سمندر کی گہرائیوں کو ناپ سکتے ہیں اور آسمان کے اجرام کی حرکت کا حساب کرسکتے ہیں۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ کائنات میں ایک ایسی باقاعدگی موجود ہے جسے انسانی عقل کسی حد تک دریافت کرسکتی ہے۔

لیکن جتنا علم بڑھتا ہے، اتنا ہی انسان کو اپنی محدودیت کا احساس بھی ہونا چاہیے۔

ایک ستارے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا آسان ہوسکتا ہے، مگر پوری کائنات کے نظام کو سمجھ لینا انسان کے بس کی بات نہیں۔ ایک بیماری کا علاج دریافت ہوجائے تو دوسری بیماری سامنے آسکتی ہے۔ ایک قدرتی عمل سمجھ میں آجائے تو اس کے پیچھے مزید سوالات پیدا ہوجاتے ہیں۔

علم کی یہی وسعت انسان کو تکبر کے بجائے فکری تواضع سکھا سکتی ہے۔

کائنات کا مطالعہ انسان کو اپنی ذمہ داری یاد دلاتا ہے

کائنات کو سمجھنا صرف نظری علم نہیں۔ اس کے عملی اثرات بھی ہیں۔

اگر انسان جانتا ہے کہ پانی محدود وسائل کے ذریعے مختلف نظاموں میں گردش کرتا ہے تو اسے پانی کے ضیاع پر سوچنا چاہیے۔

اگر اسے معلوم ہے کہ ماحول میں ایک تبدیلی دوسرے نظاموں کو متاثر کرسکتی ہے تو اسے اپنی صنعتی اور گھریلو سرگرمیوں کے اثرات پر غور کرنا چاہیے۔

اگر اسے معلوم ہے کہ زمین کے قدرتی وسائل بے حساب نہیں تو اسے استعمال اور ضرورت کے درمیان فرق سمجھنا چاہیے۔

یہاں قرآن کا ایک بنیادی اخلاقی اصول سامنے آتا ہے:

وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا(الاعراف 7:56)
"
اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ پھیلاؤ۔"

آیت کا اصل مفہوم وسیع ہے، لیکن اس سے یہ اخلاقی اصول ضرور سمجھا جاسکتا ہے کہ انسان کو اپنے اختیار کو فساد کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

کائنات کو دیکھنے کی ایک مختلف نظر

ایک ہی بارش کو دو لوگ دیکھتے ہیں۔

ایک شخص صرف یہ دیکھتا ہے کہ بادل بنے، بارش ہوئی اور سڑک پر پانی جمع ہوگیا۔

دوسرا شخص یہی منظر دیکھ کر سوچتا ہے کہ سمندر سے اٹھنے والا پانی فضا میں پہنچا، بادل بنے، ہوا نے انہیں منتقل کیا، پھر پانی زمین پر اترا اور اب یہی پانی کسی فصل، دریا یا زیرِ زمین ذخیرے کا حصہ بن سکتا ہے۔

اور ایک مومن اس غور میں ایک اور پہلو شامل کرتا ہے: یہ پورا نظام اللہ کی پیدا کردہ دنیا کا حصہ ہے اور مجھے اس نعمت کے ساتھ ذمہ داری سے پیش آنا ہے۔

یہی قرآن کا مطلوب تدبر ہے—صرف معلومات نہیں، بلکہ معلومات سے شعور؛ شعور سے شکر؛ اور شکر سے ذمہ داری۔

توحید، علم اور شکر

کائنات کا مطالعہ اگر انسان کو اللہ سے غافل کردے تو علم کا ایک اہم اخلاقی پہلو چھوٹ جاتا ہے، اور اگر مذہبی جذبہ انسان کو حقیقتِ کائنات کے مطالعے سے روک دے تو وہ بھی قرآن کی دعوتِ تفکر کے مطابق نہیں۔

متوازن راستہ یہ ہے کہ انسان علم حاصل کرے، سوال کرے، تحقیق کرے، معتبر ذرائع سے معلومات لے، اپنی لاعلمی تسلیم کرے اور پھر اس علم کو اللہ کی نعمت سمجھ کر استعمال کرے۔

یہی علم انسان کو تین چیزیں دے سکتا ہے:

حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت،اپنی محدودیت کا احساس،اور اللہ کی نعمتوں کے بارے میں شکر۔

اختتامیہ

کائنات ایک خاموش کتاب کی طرح ہمارے سامنے ہے۔ اس کے صفحات آسمان، زمین، سمندر، بارش، رات، دن، موسم اور زندگی کی بے شمار صورتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

قرآن انسان کو اس کتاب کو پڑھنے کی دعوت دیتا ہے، مگر صرف آنکھوں سے نہیںعقل اور دل دونوں سے۔

آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور انسان کو بتاتا ہے کہ یہ دنیا بے معنی نہیں۔ رات اور دن کا باقاعدہ آنا جانا وقت کی قدر سکھاتا ہے۔ موسموں کی تبدیلی قدرت کے نظم کا احساس دلاتی ہے۔ سمندر انسان کو سفر اور انسانی تمدن کی وسعت دکھاتا ہے۔ بارش زندگی کے ایک ایسے سلسلے کی یاد دلاتی ہے جس کے بغیر زمین کی زندگی کا تصور مشکل ہے۔

لیکن ان تمام نشانیوں کا آخری مقصد صرف یہ نہیں کہ انسان حیرت انگیز معلومات جمع کرتا رہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ان معلومات نے اس کے اندر کیا بدلا؟

کیا اس میں شکر پیدا ہوا؟کیا اس نے پانی ضائع کرنا کم کیا؟کیا اس نے علم کے ساتھ عاجزی اختیار کی؟کیا اس نے قدرت کو امانت سمجھا؟کیا اس نے اپنے خالق کو پہلے سے زیادہ پہچانا؟

اگر کائنات کا مطالعہ انسان کو علم کے ساتھ شکر، قدرت کے مشاہدے کے ساتھ معرفت، اور اپنی طاقت کے ساتھ ذمہ داری عطا کردے تو یہی اس تدبر کی سب سے خوبصورت منزل ہے۔

کائنات کی وسعت انسان کو اپنے چھوٹے ہونے کا احساس دلاتی ہے؛ اور اسی احساس میں اپنے عظیم خالق کی پہچان کا ایک دروازہ کھلتا ہے۔

بنیادی مراجع

  • القرآن الکریم: البقرۃ 2:164
  • القرآن الکریم: آل عمران 3:190–191
  • القرآن الکریم: الاسراء 17:12
  • القرآن الکریم: الرحمن 55:17
  • القرآن الکریم: المعارج 70:40
  • القرآن الکریم: الاعراف 7:56
  • تفسیر الطبری، متعلقہ آیات
  • تفسیر ابن کثیر، متعلقہ آیات
  • تفسیر القرطبی، متعلقہ آیات
  • NASA Earth Science، زمین کی گردش، محوری جھکاؤ اور موسموں سے متعلق مواد
  • U.S. Geological Survey (USGS)، Water Cycle resources

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post