اسلامی، عقلی اور
سائنسی تناظر میں ایک جامع تحقیقی مضمون
انسان اپنی فطرت
کے اعتبار سے ہمیشہ مستقبل کے بارے میں جاننے کا خواہش مند رہا ہے۔ زندگی کے نشیب
و فراز، رزق کی وسعت یا تنگی، صحت و بیماری، کامیابی و ناکامی، شادی، اولاد اور
عمر جیسے معاملات ہر انسان کے ذہن میں سوالات پیدا کرتے ہیں۔ یہی فطری تجسس بعض
اوقات انسان کو ایسے ذرائع کی طرف مائل کر دیتا ہے جو مستقبل جاننے یا پوشیدہ
حالات سے آگاہی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ قدیم زمانوں سے دنیا کی مختلف تہذیبوں میں قسمت
معلوم کرنے کے مختلف طریقے رائج رہے ہیں؛ کہیں ستاروں کو بنیاد بنایا گیا، کہیں
فال نکالی گئی، کہیں اعداد کے ذریعے شخصیت کی تشریح کی گئی، اور کہیں ہاتھ کی
لکیروں کو انسان کی تقدیر کا آئینہ قرار دیا گیا۔ ہاتھ کی لکیروں سے قسمت معلوم
کرنے کے اسی دعوے کو پامسٹری (Palmistry) کہا جاتا ہے۔
بظاہر یہ ایک پرکشش اور پراسرار فن محسوس ہوتا ہے، مگر جب اس کا جائزہ مذہبی، عقلی
اور سائنسی اصولوں کی روشنی میں لیا جائے تو اس کی حقیقت بالکل مختلف سامنے آتی
ہے۔
پامسٹری سے مراد
ہاتھ کی ہتھیلی میں موجود لکیروں، ابھاروں اور انگلیوں کی ساخت کو دیکھ کر انسان
کی شخصیت، مزاج، ماضی اور مستقبل کے بارے میں اندازہ لگانا ہے۔ پامسٹ عموماً ہاتھ
کی مختلف لکیروں کو مخصوص نام دیتے ہیں، مثلاً زندگی کی لکیر، دل کی لکیر، دماغ کی
لکیر، شادی کی لکیر اور قسمت کی لکیر۔ پھر ان لکیروں کی لمبائی، گہرائی، خم، شاخوں
اور ٹوٹ پھوٹ کو مختلف معانی پہنائے جاتے ہیں۔ کسی لکیر کو لمبی عمر کی علامت قرار
دیا جاتا ہے، کسی کو مالی کامیابی کی، اور کسی کو ازدواجی زندگی کے اتار چڑھاؤ کی
نشانی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ لکیریں اپنے اندر
کوئی زبان رکھتی ہیں، یا یہ سب انسانی تعبیرات ہیں؟ غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے
کہ ہاتھ کی لکیریں واقعی موجود ہیں، لیکن ان کے معنی خود لکیروں میں نہیں بلکہ
پامسٹ کی تشریح میں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی ہاتھ کو دیکھ کر مختلف پامسٹ
مختلف نتائج بیان کرتے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کوئی قطعی علم نہیں بلکہ
ایک ظنی اندازہ ہے۔
اسلام میں عقیدے
کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
قرآن مجید میں
اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:
"قُل لَّا
يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ"
یعنی "کہہ
دیجئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ غیب نہیں جانتے سوائے اللہ کے۔"
Qur'an اسی
طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
"وَعِندَهُ
مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ"
یعنی "غیب کی
کنجیاں اسی کے پاس ہیں، ان کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔(ذاتی اور مستقل علمِ غیب
صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے، البتہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو بعض غیبی امور
عطا فرماتا ہے۔)
" Qur'an ان واضح نصوص کی
موجودگی میں اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ ہاتھ کی لکیروں سے انسان کی قسمت،
عمر یا مستقبل جان سکتا ہے تو یہ دراصل علمِ غیب کے ایک ایسے دعوے کے قریب ہے جسے
اسلام نے صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص قرار دیا ہے۔ اگرچہ بعض لوگ اسے براہِ راست
غیب دانی نہیں کہتے، لیکن جب ہاتھ کی لکیر سے آنے والے حالات کی خبر دی جاتی ہے تو
حقیقت میں معاملہ اسی طرف جا پہنچتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے
ایسے لوگوں کے پاس جانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے جو پوشیدہ امور جاننے کا
دعویٰ کرتے ہیں۔ صحیح حدیث میں آتا ہے: "مَنْ أَتَى
عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ
لَيْلَةً" (صحیح
مسلم 5821)یعنی "جو شخص کسی عرّاف کے پاس جائے اور اس سے کوئی بات پوچھے، اس
کی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ یہاں
"عرّاف" سے مراد وہ شخص ہے جو مخفی امور، تقدیر یا مستقبل کے بارے میں
دعویٰ کرے۔ اگرچہ پامسٹ اپنے آپ کو کاہن یا نجومی نہ کہے، لیکن جب وہ انسان کے
ہاتھ کو دیکھ کر اس کے مستقبل کی خبر دیتا ہے تو وہ اسی وسیع مفہوم میں داخل ہو
سکتا ہے۔ ایک اور حدیث میں مزید سخت وعید آئی ہے:
"مَنْ أَتَى
كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ
ﷺ"(مسند أحمد: 9536)
یعنی "جو شخص
کسی کاہن کے پاس جائے اور اس کی بات کو سچا مان لے، اس نے محمد ﷺ پر نازل شدہ دین
کا انکار کیا۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ محض
تفریح کے طور پر ایسے لوگوں کے پاس جانا بھی خطرے سے خالی نہیں، کیونکہ دل آہستہ
آہستہ باطل کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔
بعض لوگ یہ اعتراض
کرتے ہیں کہ پامسٹ تو صرف ہاتھ کی لکیروں کو پڑھتا ہے، وہ جنات یا ستاروں سے مدد
نہیں لیتا، پھر اس پر اتنی سختی کیوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت میں صرف ذریعہ
نہیں دیکھا جاتا بلکہ دعوے کی نوعیت دیکھی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی بھی ذریعے سے
انسان کے مستقبل یا مخفی حالات جاننے کا دعویٰ کرے تو وہ اسی ممنوع دائرے میں داخل
ہو جاتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص مختلف راستوں سے ایک ہی ممنوع مقام
تک پہنچے؛ راستے الگ ہوسکتے ہیں مگر انجام ایک ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے علماء نے
پامسٹری، نجوم، فال گیری اور اس جیسے دوسرے ذرائع کو ایک ہی اصول کے تحت دیکھا ہے،
کیونکہ سب میں مشترک چیز انسان کو غیب سے متعلق دعووں کی طرف مائل کرنا ہے۔
پامسٹری کی
مقبولیت کا ایک اہم سبب انسانی نفسیات بھی ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کچھ
پامسٹ واقعی حیرت انگیز طور پر درست باتیں بتا دیتے ہیں۔ لیکن نفسیات بتاتی ہے کہ
اس کے پیچھے اکثر Barnum
Effect کارفرما
ہوتا ہے، جس میں انسان عمومی اور مبہم جملوں کو اپنی ذاتی حقیقت سمجھ لیتا ہے۔
Barnum effect مثلاً
اگر کسی سے کہا جائے کہ "آپ بظاہر مضبوط ہیں مگر دل کے اندر حساس ہیں"
تو یہ ایک ایسا جملہ ہے جو اکثر لوگوں پر صادق آ سکتا ہے۔ اسی طرح بعض پامسٹ چہرے
کے تاثرات، لباس، عمر، گفتگو اور جسمانی حرکات سے ایسے اندازے لگا لیتے ہیں جو
سننے والے کو غیر معمولی محسوس ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ انسان صحیح نکلنے والی باتوں
کو یاد رکھتا ہے اور غلط باتوں کو بھول جاتا ہے، جسے نفسیات میں
Confirmation Bias کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند اتفاقی درست اندازے
پورے نظام کو سچا ثابت نہیں کر سکتے۔
سائنسی اعتبار سے
بھی پامسٹری کو معتبر علم تسلیم نہیں کیا گیا۔ سائنس میں کسی نظریے کے درست ہونے
کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نتائج قابلِ آزمائش ہوں، بار بار یکساں آئیں، اور مختلف
ماہرین ایک ہی نتیجہ تک پہنچیں۔ پامسٹری ان اصولوں پر پوری نہیں اترتی۔ ایک ہی
ہاتھ کو مختلف پامسٹ مختلف انداز میں پڑھتے ہیں اور الگ الگ نتائج دیتے ہیں۔ اس کے
برعکس طبی سائنس ہاتھ کی بعض ساختوں سے کچھ جسمانی علامات کا اندازہ لگا سکتی ہے،
مثلاً کچھ جینیاتی بیماریوں میں ہاتھ کے خدوخال مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن یہ بیماری
کی تشخیص کا حصہ ہے، قسمت کی خبر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سائنس پامسٹری کو pseudoscience
یعنی
ظاہری علم مگر غیر ثابت شدہ دعویٰ قرار دیتی ہے۔
بعض لوگ یہ دلیل
دیتے ہیں کہ چونکہ ہاتھ کی لکیریں اللہ نے بنائی ہیں، اس لیے ان میں کوئی نہ کوئی
راز ضرور ہوگا۔ بظاہر یہ دلیل جذباتی معلوم ہوتی ہے، مگر علمی لحاظ سے کمزور ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم میں بے شمار نشانیاں رکھی ہیں؛ انگلیوں کے نشانات بھی
منفرد ہیں، چہرے کی ساخت بھی منفرد ہے، آواز بھی الگ ہے، لیکن ہر منفرد چیز غیب کی
زبان نہیں بن جاتی۔ ہاتھ کی لکیریں جسمانی ساخت کا حصہ ہیں، ان کا وجود اپنی جگہ
حقیقت ہے، مگر ان کے ساتھ مخصوص معانی جوڑ دینا انسانی تعبیر ہے۔ اگر یہ واقعی ایک
زبان ہوتیں تو دنیا بھر کے پامسٹ ایک ہی ہاتھ سے ایک ہی نتیجہ اخذ کرتے، جبکہ
حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ایک اور اہم پہلو
یہ ہے کہ پامسٹری انسان کے توکل کو کمزور کرتی ہے۔ مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ نفع و
نقصان، رزق، عمر اور مستقبل سب اللہ کے اختیار میں ہیں۔ جب انسان اپنے فیصلے ہاتھ
کی لکیروں، نجومیوں یا پامسٹوں کے سپرد کرنے لگتا ہے تو اس کا اعتماد اللہ سے ہٹ کر
غیر یقینی چیزوں پر منتقل ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام انسان کو دعا،
استخارہ، مشورہ اور توکل کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ قسمت کے مصنوعی نقشوں میں الجھنے
کی۔ ایک مسلمان کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اس کی زندگی کا راز ہاتھ کی ہتھیلی میں
نہیں بلکہ اللہ کے علم میں محفوظ ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ
پامسٹری ایک قدیم روایت ضرور ہے، لیکن اس کی بنیاد مضبوط شرعی، عقلی یا سائنسی
دلائل پر قائم نہیں۔ ہاتھ کی لکیریں جسمانی حقیقت ہیں، مگر ان سے قسمت، شادی، رزق
اور مستقبل اخذ کرنا انسانی قیاس ہے۔ بعض اوقات اس کی باتیں درست محسوس ہوسکتی
ہیں، لیکن یہ نفسیاتی اثر، عمومی جملوں اور اندازوں کا نتیجہ زیادہ ہوتا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے اس طرح کے دعوے انسان کے عقیدے کو متاثر کر سکتے ہیں اور اسے
اللہ پر کامل بھروسے سے دور لے جا سکتے ہیں۔ اس لیے ایک صاحبِ ایمان کے لیے مناسب
یہی ہے کہ وہ ایسے امور سے اجتناب کرے اور اپنے مستقبل کے بارے میں صرف اسی ذات پر
بھروسہ رکھے جس کے ہاتھ میں پوری کائنات کا نظام ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ انسان کی
قسمت ہاتھ کی لکیروں میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم اور انسان کے اعمال میں
لکھی جاتی ہے۔
Post a Comment