تقدیم

بسم اللہ والحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد!

 تعلیمی ادارے اور خاص کر دینی و اسلامی مدارس (مدارس اسلامیہ) جو مسلمان بچوں کی مادرعلمی کی حیثیت رکھتے ہیں ،غریب اور عام مسلمان جو دین اسلام سے محبت کی وجہ سے اپنے بچوں کو ان میں داخل کراتے ہیں کہ ہمارے بچے ان استادوں کی نگرانی میں علوم اسلامیہ اور دنیاوی تعلیم سے بہرہ ور ہو جائیں گے جو وارث انبیاء بن کر اور اپنی زندگی دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کر کے پیار ومحبت سے پڑھاتے ہوں گے، ایسے مشفق اور رحم دل اور پیار و محبت سے بھرے دل رکھنے والے اساتذہ سے پڑھ کر ہمارے بچے بھی اپنے اساتذہ کے نقش پر چلیں گے تو ماحول پیارا پیارا ، سوھنا سوھنا اور امن و امان سے معطّرو مزین ہو جائے گا۔ والد صاحب نے یہی تمنا دل میں لے کراپنے بچے کو دینی مدرسہ یا دیگر تعلیمی ادارے میں داخل کیا، غریب و لاچارنے فیس دی یا نہ دی بہر حال ماحول کے مطابق کپڑے سلوائے کہیں سے قرضہ لے کربچے کی تربیت کا ارادہ کیا ،ابھی مہینہ یا ہفتہ نہیں گزرتا کہ بچہ روتے ہوئے گھر آجاتا ہے، والدین پوچھتے ہیں بیٹا کیا ہوا، بیٹا روتے ہوئے کہتا ہے کہ ابو آپ نے جس استاد کو مشفق اور پیار و محبت سے پڑھانے والا بتایا تھا وہ تو مسند تدریس پر اندر سے ایک خونخوار، ظالم اور وحشی بھیڑیا نکل آیا۔ مجھے مارتے ہوئے میرا ہاتھ توڑ دیا ، دوسرے طالب علم نے پڑھائی میں دوسری طرف دیکھا تو اس کا سر توڑ دیا اور ایک طالب علم کو تو اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہوکر گر پڑا، میں موقع دیکھتے ہی بھاگ آیا ہوں۔والد صاحب بچے کو ساتھ لے کر ادارے میںجاتے ہیں اور مدرس سے پوچھتے ہیں حضرت ہم نے توبچے کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر کیا تھا، یہ کیا ہے؟ ابھی سے اتنا ظلم و بربریت، کیا دین اسلام میں اس طرح پڑھانے کے اصول ہیں؟ مدرس صاحب کہتے ہیں کہ اگر بچے سے زیادہ محبت ہے تو گھر میں ہی بٹھائے رکھو، ہمیں ایسے بچے پڑھنے کے لئے چاہئیں کہ اگر ہم ان کو مار مار کر قتل بھی کردیں پھر بھی والدین نہ پوچھیں ، والدین مجبور ہوکر مھتمم وپرنسپل کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جنا ب والا: آپ کے مدرس صاحب نے تو ہمارے بچے کا یہ حال کردیا تو اوپر سے مھتمم صاحب برس پڑتے ہیں کہ تم لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ مدرس کے خلاف شکایتیں لاتے ہو۔ ابھی چند دن پہلے تو قاری صاحب نے ایک بچے کو اتنا مارا کہ ڈنڈا ٹوٹ گیا اور بے چارہ بچہ ہسپتال میں زیر علاج ہے لیکن ابھی تک اس کے والدین شکایت کرنے کے لیے نہیں آئے اور آج آپ کے بچے کا صرف ہاتھ توڑ دیا تو تم فوراً پہنچ گئے۔ دفع ہو جاؤ یہاں سے آئندہ کے لیے کسی تعلیمی ادارے کا رخ نہیں کرنا، اپنے بچے کو گود میں سلائے رکھنا۔

 یہ ساری باتیں تعلیمی اداروں کے مربیان سے سن کر وہ بیچارہ غریب سادہ لوح مسلمان جو دین اسلام کی محبت دل میں لے کر اور اپنے بچے کا مستقبل سنوارنے کے لیے جس نے اسلامی و دینی تعلیمی اداروں کو امن و امان، پیار و محبت ، اخوت و مساوات اور زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا ایک اصلاحی مقام سمجھا تھا، دل برداشتہ ہوکر گھر کی طرف چلتا ہے۔ اب بچے کا مستقبل کیا ہوگا۔اب یہی ہوگا کہ یہ بچہ جہالت ، تاریکی اور بُرے ماحول میں رہ کر جب جوان ہوگا تو گاڑیوں میں یا بس اسٹاپ پر لوگوں کی جیب کاٹے گا، یا معاشرے کے اسی برے ماحول سے وابستہ ہوکر کسی قبرستان میں ہیروئن اور دیگر نشہ آوراشیاء کے استعمال کے بعد دنیا و مافیھا سے بے خبر ہو کر پڑا رہے گا، یا کام نہ ملنے کی وجہ سے کچرہ کونڈیوں میں پڑارہے گا اور موت کی طرف سفر جیسے تیسے طے کرتا رہے گا۔

 اور بعض بچے جب دینی واسلامی مدرسہ اور دیگر تعلیمی اداروں میں ظلم و بربریت کی انتہا سے تنگ آکروہاں سے بھاگ جاتے ہیں تو اس وقت تک اگر کبھی نماز یا اسلامی طور طریقے اپنائے رکھے ہوتے ہیں تو ان کا بھی اتنے دشمن ہو جاتے ہےں کہ عبادات کو چھوڑ کر گمراہی پر آجاتے ہےں، اور جہاں کہیں مدرسے یا تعلیمی ادارے کا نام لیا جاتا ہے تو برملا اور علی الاعلان مخالفت کرتے ہےں، پوچھنے پر ساری سرگزشت سنادیتے ہےں ۔جس کو سن کر سننے والے کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور بزبان حال یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہےں کہ یا اللہ وہ مدارس اور تعلیمی مراکزجو کسی وقت پیار و محبت ، امن و امان اور روشن مستقبل کے ضامن تھے وہ آج کل صرف اور صرف متعلقین حضرات کی کمائی کے ذرائع بن گئے۔ اوراب ان میں بچے(مستقبل کے معمار) پیار و محبت ، اخوت و مساوات، اصلاح اور امن و امان کی تعلیم کے بجائے لڑنے جھگڑنے، گاڑیوں پر پتھراؤ، جلاؤ گھیراؤ، ظلم و تشدد، نفرت و تعصب، بغض و کینہ، کفر و شرک کے فتوے کی مشین گن تھامنے اور قتل و قتال کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔یہ وہ حقیقت ہے جو آئے دن اخباروں میں بڑی سرخی کی شکل میں زیب قرطاس ہوتی ہے۔

 ایک مسلمان کی حیثیت سے کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ کون کررہا ہے؟ کس لیے کر رہا ہے؟

 کیایہ سب کچھ اہل علم( دینی و اسلامی مدارس کے پاسبان اور قرآن و حدیث کی خدمت کرنے والے اورتعلیمی اداروں میں مستقبل کے معماروں کے مربیان )کی نگرانی میں نہیں ہو رہا ہے؟حالانکہ علامہ اقبال مرحوم نے تو وطن عزیز کے بچوں کی زبان پر فرمایا:

ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت ،جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

 کیا آج ہمارے اخلاق و کردار اس قدر پستی میں نہیں کہ ہمارے پاس کوئی بیٹھنے کے لیے تیار نہیںہوتا، کیا آج ہم ترش رو،سنگ دل اور تعصب و حسد سے لبریز نہیں؟ کیا اس حالت میں ہمارے ساتھ کسی کا بیٹھنے کو دل کرے گا؟ نہیں بالکل نہیں۔یہی صفات مذمومہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے سے بھاگنے کا سبب بتایا ہے،اور ہم جیسے پرتقصیراور گناہوں میں ڈوبے ہوئے کو نہیں بلکہ امام المعصومین، محسن انسانیت رحمۃ اللعالمین سے فرماتے ہوئے فرمایا:

لوکنت فظا غلیظ القلب لا نفضو امن حولک ( العمران : ١٠٩)

اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو وہ (صحابہ کرام)ضرور آپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔

 میرے مدرسین و قراء دوستو! آپ صرف قرآن کے الفاظ سے اندازہ لگایئے کہ محسن انسانیت ﷺ سے خالق کائنات فرماتا ہے کہ اگر آپ سخت دل ہوتے تو آج آپ پر جو صحابہ کرام جان قربان کرنے کو اپنے لئے سعادت سمجھ رہے ہیں وہ آپ سے بھاگ جاتے۔

 آج مدارس اسلامیہ اورتعلیمی اداروںکے مھتممین و مدرسین نے طالبعلموں کو خود بھاگنے پر مجبور کئے ہےں ۔میں اس آیت کی تفصیل میں جانا نہیںچاہتا، آپ خود مطالعہ فرمائیں کہ حضور ﷺ کا عفو ودرگزر اور حسن اخلاق کیسے تھے۔آپ اس آیت سے صرف اتنا سمجھئے کہ جہاں ظلم و تشدد ہوگا وہاں باہمی ربط نہیں ہوگا، لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوں گے اور جہاں پیار و محبت ، اخوت و مساوات ، امن و امان ہوگا وہاں ایک دوسرے کے لئے اپنی جانوں کوبھی قربان کیا جائے گا۔ معلوم ہوا کہ ترش رُوئی ، ظلم و بربریت اور ہم آھنگی آگ اور پانی ہے جو بیک وقت یکجا( جمع) نہیں ہوسکتے،جو کہ ایک فطری بات ہے ۔

شیخ الادب دارالعلوم دیوبند شیخ محمد اعزاز علی دیوبندی لکھتے ہیں:

جبلت القلوب علی حب من احسن الیھا و بغض من اساء الیھا۔ (مفیدالطالبین،ص٩، رشیدیہ کوئٹہ)

فطری طو ر پر دل اس شخص سے محبت کرتے ہوئے پیدا کیا گیا جو اس سے اچھائی کرے، اور اس سے بغض ( کینہ و نفرت) کرتا ہے جو اس سے برائی کرتا ہے۔

 میرے عزیز معلمین دوستو:کیا خیال ہے کیا ہم اس طریقے پر مسلمانوں کو باہم یک مشت بنا لیں گے یا ہمارے جو اخلاق و کردار ہیں کیا ہم اس کے ذریعے دین اسلام اور قوم وملت کی کماحقہ خدمت کرسکیں گے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ جب تک ہم واقعی اسوہئ حسنہ اور آپ ﷺ کے پیار و محبت کے طریقے پر نہیں چلیں گے تو علماء ، دینی مدارس ،اسلام اور تعلیمی ادارے روز بروز بدنام اور کمزور ہوتے جائےں گے، اور قیامت کے دن ہم ہی سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

 عزیز قراء دوستو: ناراض نہ ہونا ایک مسلمان اور خیر خواہ بھائی، دوست اور بیٹے کی حیثیت سے چند گزارشات خاص کر آپ حضرات کے گوش گزار کردیتا ہوں، وہ یہ کہ آج کل بعض قراء حضرات میں اپنی سبعہ عشر قرأت اور آواز جیسی عظیم نعمت کی وجہ سے ذرا غرور و تکبر پیدا ہوجاتاہے جس کی وجہ سے وہ بڑے سے بڑے ایک متقی اور صالح عالم دین کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں حالاں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، اور بعض قراء حضرات جو کسی دینی مدرسہ یا تعلیمی ادارے کے مدرس ہوتے ہیں تو وہ انسانیت سے ماوراء ایسے کام کرجاتے ہیں جو دارین میںاس کے لیے بڑے گناہ کا سبب ہوتا ہے وہ یہ کہ ان کے شاگردوں میں جو ذرا مالدار (دنیادار ) گھرانے والا ہوتا ہے تو ان سے الگ انداز سے ملنا ہوتا ہے اور جو ذرا غریب اور کمزور گھرانے والا ہوتا ہے تو سارا بوجھ اور غیظ و غضب کے پہاڑ اس بیچارے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

ایسے ہی ظالم قراء حضرات کے بارے میں محسن انسانیت رحمۃ اللعالمین ﷺ نے فرمایا:

قال رسول ﷺ تعوذواباللہ من جب الحزن، قالوا: یا رسول اللہ! وماجب الحزن؟ قال:واد فی جھنم تتعوذ منہ جھنم کل یوم اربعمائۃ مرۃ قیل: یا رسول اللہ! ومن یدخلھا! قال: القراء المراؤون باعمالھم۔۔۔۔۔ وان من ابغض القراء الی اللہ تعالیٰ الذین یزورون الا مرائ۔ ( مشکوٰۃ ص ٣٨ کتاب العلم)

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب الحزن( غم کے کنویں) سے اللہ کی پناہ مانگو، صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ غم کا کنواں کیا ہے؟ فرمایا یہ جھنم میں ایک ایسی وادی ہے کہ جھنم خود اس سے روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اس میں کون داخل ہوں گے؟آپ ﷺ نے فرمایا: تکبر کرنے والے قراء ،مزید فرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مبغوض ترین(بدترین) وہ قراء (قاری) ہیں جو مالدار لوگوں کے پاس آتے جاتے ہےں۔

 ایسے بد ترین اور ریا کار اور مالدار لوگوں کے پاس دنیا کمانے کے لیے آنے جانے والے قراء کے بارے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اکثر منافقی امتی قراؤھا.( مرقات ص ٥٢٩ جلد اول ، کتاب العلم۔ حقانیہ پشاور)

میری امت کے اکثر (زیادہ تر) منافق قرائ( قاری حضرات) ہوں گے (العیاذ باللہ)

 عزیز مدرسین و قراء و مھتممین دوستو: یہ وہ چند سطورہیںجو کافی عرصے سے میرے دل میں اس وجہ سے موجزن تھے کہ آئے دن جدید ذرائع ابلاغ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہماری قوم کی نوجوان نسل تعلیم جیسی عظیم نعمت سے صرف اس وجہ سے محروم رہ جاتی ہیں کہ ان کی تربیت میں نفرت ،حسد،تعصن ،زرپرستی اور ظلم وبربریت کے علاوہ پیار ومحبت ،اخلاق حسنہ اور نرمی کا نام و نشان تک نہیں ہوتا،اس لئے بندہ ناچیز نے ان سطور کو اصلاح کی نیت سے لکھ کر اپنا حق اصلاح ادا کردیا، اور آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جوکوئی خلاف شرع کام دیکھے تو وہ ہاتھ سے منع کرے، ورنہ زبان سے منع کرے، ورنہ دل سے بُرا جانے اور یہ (صرف دل ہی سے برا جاننا)کمزور ایمان ہے۔ میرا کام صرف زبان سے منع کرنا اور دل سے بُرا جاننا ہے جو میں نے کردیا۔ اب آگے ہاتھ سے منع کرنے کا کام کسی بھی ادارے کے مھتمم اور پرنسپل کا ہے کہ وہ استاد کی تقرری کے وقت یہ ساری باتیں اس کو سنائےں،حالانکہ استاد خود بھی استاد کی حیثیت سے اس کو جانتا ہوگا۔ اور یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ بعض دینی مدارس اور تعلیمی اداروںمیں بچوں پراس طرح وحشیانہ اور ظالمانہ مار پڑتی ہے کہ اس کو دیکھ کر بدن کانپ اٹھتا ہے۔ بلکہ بعض ادارے ایسے بھی مشہور ہیں جن میں بعض بچوں کے ہاتھ پاؤں توڑ دیئے جاتے ہیں اور بعض بچوں کے دیگر اعضاء کان، آنکھ وغیرہ تک بھی ضائع ہوجاتے ہیں۔حالانکہ شریعت میں اس کی قطعاً اجازت نہیں۔ اس لیے وہ حضرات جو بفضل خداوندی مسندتدریس ، تعلیم و ارشاد کے لائق ہو جاتے ہیں ان کو یہ سب اصول جاننے چاہیے،سب سے پہلےخود اس پر عمل کریں، پابند نہ ہونے کی صورت میںادارے کے رئیس کو چاہیے کہ ایسے خونخوار ، ظالم بھیڑیے کو فوراً ادارے سے نکال کر بچوں کی تربیت کے لیے مشفق، پیار و محبت سے پڑھانے والا، پابند شریعت اور خوف خدا رکھنے والے مدرس کی تقرری فرما کر دارین میں سرخروئی حاصل کریں۔

 آخر میں بندہ ناچیز ان تمام مدرسین، مھتممین، قراء صاحبان اور معلمین سے معافی چاہتا ہے جن کے دل کو میری اس ناقص تحریر سے ٹھیس پہنچی ،امید ہے کہ معاف فرمائیں گے اوریہ امید ہے کہ یہ تحریر اگر زیادہ نہیں تو کچھ نہ کچھ مفید ہوگی۔ اگر پسند آجائے تو دعاؤں کا طلب گار رہوں گا۔

 فقط والسلام مع الادب والاحترام

 العبد العاصی بانواع المعاصی

 سید محمد منور شاہ سواتی عفی عنہ

 

 

 

 اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے کہ جس میں بچوں کی تعلیم و تربیت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ خالق کائنات نے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے فرمایا.

 '' قواانفسکم و اھلیکم نارا'' (التحریم :٦)

اپنے آپ کو اور اپنے اھل و عیال ( بچوں) کو دوزخ ( کی آگ) سے بچاؤ۔

رحمۃ اللعالمین ﷺ نے فرمایا:

الرجل فی اھلہ راع وھو مسؤل عن رعیتہ والمرأۃ فی بیت زوجھاراعیۃ وھی مسؤلۃ عن رعیتھا.

 ( بخاری شریف ،ص٣٤٧، ج١، باب العبدراع فی مال سیدہ ، طبع نور محمد کراچی )

مرد و عورت دونوں اپنے گھروں کے نگہبان ہیں ان سے ان کی رعیت (ماتحتوں ) کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

 بچوں کی تعلیم و تربیت کی ظاہر وجہ یہ ہے کہ بچوں کی حیثیت ایک نرم اور نوخیز پودے کی ہے، اسے جس طرح چاہے موڑا جاسکتا ہے، جب یہ پودے اپنی پختگی کو پہنچ جائیں گے تو ان کو موڑنا ممکن نہ رہے گا ، یہی حال انسان کا ہے بچپن جس ماحول میں گزرے گا اور جیسی ذہنی اور عملی تربیت کی جائے گی، زندگی کا پورا سفر اسی طرح تمام ہوگا۔اس لیے دین اسلام ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ تربیت دینے کا طریقہ کیا ہے؟ اور اس کے لیے کیا کیا ذرائع استعمال کیے جاسکتے ہیں؟

 مسند تعلیم، تدریس اور ارشاد پر جلوہ افروز ہونے سے پہلے یہ بات اصولی طور پرذہن نشین ہونی چاہیے کہ دین اسلام حتی الامکان نرمی سے کام لینے اور بلا وجہ تشدد سے احتراز کرنے کا حامی (حمایت کرنے والا ) ہے جیسا کہ خالق کائنات کا خود بھی یہی منشا ہے۔

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر''۔ ( البقرہ: ١٨٥)

اللہ تعالیٰ تم پر آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور تنگی کا ارادہ نہیں فرماتا۔

ایک اور مقام پر رب کائنات نے فرمایا:

ماجعل علیکم فی الدین من حرج''۔ ( الحج : ٧٨)

اور اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔

دوسری جگہ فرمانِ الہی ہے:

یرید اللہ ان یخفف عنکم و خلق الانسان ضعیفا '' ( النسائ: ٢٨)

اللہ تعالیٰ تم سے تخفیف کرنے کا ارادہ فرماتا ہے اور انسا ن کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

 محبوب کائنات ﷺ نے بھی اسی نرمی کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے حضرت معاذ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنھما کو یمن بھیجتے ہوئے وصیت کی ،فرمایا:

عن سعید بن ابی بردۃ عن ابیہ قال بعث النبی ﷺ جدہ ابا موسیٰ و معاذا الی الیمن فقال یسرا ولا تعسرا وبشرا ولا تنفرا.

 ( بخاری شریف، ص، ٦٢٢، جلد ٢، کتاب المغازی، قدیمی کراچی)

 ( مسلم شریف ،ص، ٨٢، جلد ٢ ۔ کتاب الجہاد )

آپ ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہما کو جب یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا نرمی کرو، سختی نہ کرو، خوشخبری دو اور متنفر نہ کرو.

آپ ﷺ نے خود بھی اس نرمی کا عملی طور پر ثبوت پیش فرمایا۔ حدیث شریف میں ہے.

عن ابی ھریرۃ قام اعرابی فبال فی المسجد فتناولہ الناس فقال لھم النبی ﷺ دعوہ و ھریقوا علی بولہ سجلا من ماء اوذنوبامن ماء فانما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین.

 ( بخاری شریف ، ص، ٣٥، جلد اول ۔ نور محمد کراچی)

 ( مشکوۃ شریف ص ٥٢، باب تطھیرالنجاسات، نور محمد کراچی)

عن انس قال بینما نحن فی المسجد مع رسول اللہ ﷺ اذجاء اعرابی فقام یبول فی المسجد فقال اصحاب رسول اللہ ﷺ مہ مہ فقال رسول اللہ ﷺ لاتزرموہ دعوہ فترکوہ حتی بال ثم ان رسول اللہ ﷺ دعاہ فقال لہ ان ھذہ المساجد لا تصلح لشیئ من ھذاالبول والقذر وانما ھی لذکراللہ والصلوٰۃ و قراۃ القرآن اوکماقال رسول اللہ ﷺ قال وامررجلا من القوم فجاء بدلو من ماء فسنہ علیہ ۔ ( متفق علیہ، مشکوٰۃ، ص ٥٢)

صحابہ کرام آپ ﷺ کے ساتھ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ اتنے میں ایک دیہاتی آیا اور آتے ہی مسجد میں پیشاب شروع کردیا ،صحابہ کرام نے اس کو ڈانٹا ، آپ ﷺ نے صحا بہ کرام کو ڈانٹنے سے منع فرمایا، اور فرمایاکہ: ( اے میرے صحابہ) تم لوگ آسانی پیدا کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو مشکل میں ڈالنے کے لیے نہیں بھیجے گئے ہو، پھر اس شخص کو بلا کر ( بڑی محبت و پیار) سے فرمایا کہ: مسجد گندگی پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ نماز، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن کی تلاوت کے لیے بنائی گئی ہے پھر ایک صحابی سے فرمایا کہ اس پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔

الشیخ قاسم الشماعی الرفاعی درج بالا حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

ویؤ خذ ایضا الرفق بالجاھل و تعلیمہ مایلزمہ من غیر تعنیف ، اذالم یکن منہ ذلک عنادا ولاسیما ان کان ممن یحتاج الی التالیف و فیہ رأفۃ النبی ﷺ و حسن خلقہ.

 ( صحیح البخاری، ص ١٦٤، الجلد الاول، باب ١٥٧۔ دار القلم بیروت)

حدیث شریف سے یہ ثابت ہوا کہ جاہل کو تعلیم دیتے وقت نرمی سے کام لینا چاہیے، جب کہ جاہل کی جہالت عناداًنہ ہو۔ خاص کر ان لوگوں کے ساتھ نرمی اور پیار و محبت سے پیش آنا چاہیے جومحبت (الفت) کے محتاج ہوں، اس حدیث میں آپ ﷺ کی محبت اور حسن اخلاق کا ثبوت بھی ہے۔

نرمی اور آسانی سے متعلق ارشاد فرماتے ہوئے آپ ﷺ نے دین اسلام کی یہ امتیازی شان بیان فرمائی:

 قال النبی ﷺ احب الدین الی اللہ الحنیفیۃ السمحۃ.

 ( بخاری شریف ، ص ١٠ جلد اول، نور محمد کراچی)

آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین وہ ہے جو باطل ادیان سے الگ ہو اور آسان اور سہل ہو۔

نرمی کرنے والے اور آسانی پیدا کرنے والے کی فضیلت میں آپ ﷺ فرماتے ہیں:

عن عبداللہ بن مسعود قال قال رسول اللہ ﷺ الااخبرکم بمن یحرم علی النار وبمن تحرم النارعلیہ علی کل ھین لین قریب سھل. ( مشکوٰۃ ، ص ،٤٣٢، باب الرفق والحیاء و حسن الخلق)

آسانی لانے والے اور نرمی کرنے والے لوگ جھنم میں نہیں جائیں گے۔ عزیز قارئین: درج بالا آیات اور احادیث کا خلاصہ اور نچوڑ یہ ہے کہ اسلام ایک آسان دین ہے، آسانی لانے والا ہے، مشکلات اور بے جا تشدد سے احتراز کا حامی ہے۔ اس لیے مدارس اسلامیہ اور تعلیمی مراکز میں مستقبل کے معماروں کی تعلیم و تربیت کے لیے مسند تعلیم و تدریس اور ارشاد و اصلاح پر جلوہ افروز ہونے والوں کو ان ہی اصولوں کی پاسداری رکھنی چاہیے تاکہ مستقبل کے معمار ایک اچھی سوچ اور تعمیری کردار سے آراستہ ہوکر دین و ملت کی کماحقہ خدمت کرسکیں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل دنیاوی تعلیمی مراکز تو کیا دینی مدارس (مدارس اسلامیہ) میں بھی بچوں کی تعلیم و تربیت جس تشدد اور ظالمانہ انداز سے کی جاتی ہے اس کو دیکھنا تو کیا سن کر بھی ایک شفیق اور رحم دل انسان کی آنکھوں سے آنسو ٹپک جاتے ہیں،ان مربیان علم و معرفت کو اور خاص کر قراّء حضرات کے طبقہ کو یہ احساس تک نہیں کہ ہم جن عظیم رسول امام الانبیاء محسن انسانیت، رحمۃللعالمین، رؤف رحیم ﷺ کے وارث بن کر ان کے لائے ہوئے دین کی جس طرح خدمت کررہے ہیں تو آیا یہ طریقہ آپ ﷺ کا بتایا ہوا ہے یا ہم بچوں (طالبعلموں) پر اپنے غیظ و غضب کے پہاڑ توڑ کر قیامت کے دن ظالموں کی صف میں کھڑے ہونے کے مستحق ہورہے ہیں۔

(نماز نہ پڑھنے پر بچوں کو مارنا)

 محترم مدرسین، قراء اور معلمین دوستو: کیا ہم نے یہ سوچا کہ ہم دینی مدارس میں جو نابالغ بچوں کو جانوروں کی طرح مارتے ہیں کہ جس سے ان کے ہاتھ ، پاؤں اور ہڈیاں تک توڑدیتے ہیں آخر کیوں مارتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ بچے نے ناظرہ اور حفظ کے اسباق یاد نہیں کئے، اس لیے یہ اس طرح کی سزا کا مستحق ہے۔ نہیں میرے مدرسین اور قراّء دوستوں نہیں۔ دین اسلام نے اس کی بالکل اجازت نہیں دی ، کیوں کہ آپ خود اندازہ لگائیں کہ نماز جو فرض عین عمل ہے اگر نابالغ بچہ فرض عمل( نماز ) ادا نہیں کرتا تو اس کے لیے آپ ﷺ نے اس طرح کی سزا کی اجازت نہیں دی تو ناظرہ اور حفظ سے قرآن مجید پڑھنا جو کہ اس دور میںایک مستحب عمل ہے تو اس پر اس طرح سزا دینا یہ کہاں کا انصاف ہے؟

علامہ عالم بن العلاء الانصاری لکھتے ہیں:

وحفظ جمیع القرآن فرض علی سبیل الکفایۃ علی الامۃ، حتی لو حفظ واحد من المسلمین مابین المشرق والمغرب خرج الکل عن العھدۃ.

 ( الفتاویٰ التاتارخانیہ، ص ٥٦ جلد اول۔ المقدمہ قدیمی کراچی )

امت پر حفظ قرآن فرض کفایہ ہے،اس لئے جب مشرق و مغرب کے درمیان (پوری دنیامیں)کوئی ایک شخص بھی قرآن حفظ کر لے تو سب گناہ سے بری ہوجائیں گے۔

آپ ﷺ نے نابالغ بچوں کی نماز کے بارے میں فرمایا:

عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال قال رسول اللہ ﷺ مروا اولاد کم بالصلوٰۃ و ھم ابناء سبع سنین واضربو ھم علیھا وھم ابناء عشرو فرقوابینھم فی المضا جع.

( ابو داؤد شریف، ص ٧١، ج١، کتاب الصلوٰۃ باب متی یؤمر الغلام بالصلوٰۃ ۔ مجتبائی لاہور)

آپ ﷺ نے فرمایا: سات سال کی عمر میں اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کا حکم دو ، اور دس سال کی عمر میں ان کو مار کر ان سے نماز پڑھواؤ، اور ان کے بستر الگ الگ کردو۔

 مندرجہ بالاحدیث میں دس سالہ نابالغ بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مارنے کایہ مطلب نہیں کہ اس کے ہاتھ، پاؤں توڑے جائیں یا خون آلود کردیا جائے بلکہ اس مارنے کے بارے فقہاء احناف لکھتے ہیں۔

علامہ شیخ شرنبلالی لکھتے ہیں:

(وتضرب علیھا العشر) وذلک( بید لابخشبۃ) ای لا بالعصارفقابہ و زجرا بحسب طاقتہ، ولا یزید علی ثلاث ضربات بیدہ. ( امداد الفتاح، ص ١٧٦، کتاب الصلوٰۃ، صدیقی پبلشرز)

نماز نہ پڑھنے پر دس سالہ بچے کو مارا جائے اور یہ مارنا ہاتھ سے ہو نہ کہ لکڑی یعنی عصا(ڈنڈے)سے،بچے پر نرمی کرتے ہوئے اور اس کی طاقت (برداشت) کے موافق ہاتھ سے تین مرتبہ سے زیادہ نہ مارے۔

علامہ محمد بن محمود الاستروشنی لکھتے ہیں:

بلغ الصبی عشر سنین یضرب لاجل الصلوٰۃ ......وکذا المعلم لیس لہ ان یجوز الثلاث .

(احکام الصغار علی ھامش جامع الفصولین ،ص١٠،ج١،مطلب لیس للمعلم ان یضرب ،فتاوٰی حقانیہ)

بچہ جب دس سال کا ہو جائے تو اس کو نماز نہ پڑھنے پر مارا جائے۔۔۔۔ اسی طرح استاد بھی مارسکتا ہے مگر تین تھپڑسے زیادہ مارنے کی اجازت نہیں۔

علامہ شیخ احمد طحطاوی لکھتے ہیں :

( واضربوہم علیھا لعشر) اعترض بأن الدلیل اعم من المدعی واجیب بانہ رخص الضرب بغیر الخشبۃ لقرینۃ وھو ان الضرب بھا انما وردفی جنایۃ صدرت من مکلف ولاجنایۃ من صغیر۔

 ( طحطاوی علی المراقی ص ٩٣، کتاب الصلوٰۃ قدیمی)

نماز نہ پڑھنے پر دس سالہ بچوں کو مارا کرو۔( حدیث شریف کے اس حصّے پر) اعتراض وارد ہوتا ہے کہ فقہاء نے بچے کو ڈنڈے سے مارنے سے منع کیا جب کہ حدیث شریف عام ہے یعنی مارو چاہے ہاتھ سے ہو یا چھڑی سے۔ تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ چھڑی (ڈنڈی) سے نہ مارنے کا ثبوت ( اورتخصیص) ایک قرینے سے معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ڈنڈے اور چھڑی سے مارنا اس صورت میں ہوتا ہے کہ جب کسی مکلف ( بالغ عاقل) سے کوئی جنایت (زیادتی) سرزد ہوجائے جب کہ نابالغ مکلف نہیں اس لیے اس کوڈنڈے سے مارنا جائز نہیں۔

علامہ حصکفی لکھتے ہیں:

( وان وجب ضرب ابن عشرعلیھابید لا بخشبۃ) لحدیث '' مروا اولاد کم بالصلاۃ وھم ابناء سبع واضربوھم علیھا وھم ابناء عشر''

 (الدر المختار ص ٣٥٢ جلد اول کتاب الصلوٰۃ۔ ایچ ایم سعید کراچی)

دس سالہ بچے کو نماز کے لیے ہاتھ سے مارا جائے نہ کہ ڈنڈے سے ۔ کیوں کہ حدیث شریف میں ہے جب بچے سات سال کے ہو جائیں تو نماز کا حکم دیا کرو اور جب دس سال کے ہوجائیں تو نماز کے لیے مارا کرو۔

علامہ شامی لکھتے ہیں:

( قولہ بید) ای ولا یجاوزالثلاث۔(حوالہ مذکورہ)

ہاتھ سے مارا جائے اور وہ بھی صرف تین تھپڑ، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔

عزیز مدرسین دوستو:دیکھاآپ نے کہ شریعت میں جب نابالغ کو نماز نہ پڑھنے پر ڈنڈے سے مارنے کی اجازت نہیں تو کسی اور مستحب عمل کے چھوڑنے پر کیسے نابالغ بچوں کے خلاف ڈنڈا اٹھایا جائے گا۔

سر، چہرے اورشرمگاہ پر مارنا ممنوع اور ناجائز ہے:

 عزیز دوستو: آج کل ہم مسند تدریس ( خاص کر درجہ حفظ ) پر جلوہ گر ہوتے ہیں تو اپنا رعب جمانے کے لیے ہر وقت جلال ہی میں رہتے ہیں۔ ہمارے دل و دماغ میں پیار و محبت اور شفقت کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہوتا۔ اور جب کسی معمولی سی بات پر طیش میں آجاتے ہیں تو اس وقت تک ہم مارتے رہتے ہیں کہ یا تو ہاتھ تھک جائے یا بچہ بے ہوش ہوجائے یا ڈنڈا ٹوٹ جائے لیکن اس پر بھی بس نہیں بلکہ پاؤں سے بھی جانوروں کی طرح بچے کو رو ندنا شروع کردیتے ہیں،( اعوذباللہ) اور اس مارنے کی خواہش اور تمنا کو پوری کرنے اور دل کی بھڑاس نکالنے میں ہم اپنے پیارے آقا و محبوب مشفق و محسن انسانیت کی تعلیمات کو بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں اور اتنا خیال تک ہمیں نہیں آتا کہ آپ ﷺ نے کسی کو بھی سر ، چہرہ اور آلہ تناسل ( پیشاب کی جگہ) پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ حدیث شریف میں ہے۔

عن ابی ھریرۃ عن النبی ﷺ قال اذا قاتل احدکم فلیجتنب الوجہ.

(بخاری شریف،ص٣٤٧،ج١،باب اذا ضرب العبد فلیجتنب الوجہ،قدیمی کراچی)

حضرت ابوھریرہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی لڑے تو چہرے پر نہ مارے۔

علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی درج بالا حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

باب سے مطابقت یوں ہے کہ لڑائی میں جہاں موقعہ ہوتاہے وہاں مارنا ضروری ہوتا ہے، جب کافر کے چہرے پر مارنے سے بچنے کا حکم دیا گیا وہ بھی لڑائی کے موقعہ پر تو عام حالت میں غلام کو جو مومن بھی ہوسکتا ہے چہرے پر مارنا بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوگا ،چہرے پر مارنے سے ممانعت کی وجہ اس حدیث کے بعض طرق سے یہ مذکور ہے،''فان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ''اس لئے کہ اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا،اللہ عزوجل کی طرف صورت کی نسبت متشابہات میں سے ہے،مگر اتنا تو یقینی ہے کہ اس حدیث کی روشنی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا چہرہ خاص تجلی گاہ ہے۔

علامہ نووی نے اس کی علت یہ بیان کی کہ علماء نے فرمایا کہ چہرہ محاسن کا مجموعہ ہے،چہرہ دیکھ کر انسان کی ذاتی صفات کا اندازہ لگایا جاتا ہے ،مارنے سے چہرہ بگڑ جانے کا اندیشہ ہے، اگر چہرہ بگڑ گیا تو انسان کا حسن ختم ہوجائے گا ۔ اور اس کی سرشت کی دریافت کا ذریعہ ختم ہوجائے گا ظاہر یہی ہے کہ یہ ممانعت تحریم کے لئے ہے،اس لئے کہ مسلم میں ہے سوید بن مقرن نے ایک

شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا تو فرمایا ،کیا تو یہ نہیں جانتا کہ چہرے پر مارنا حرام ہے،ماں باپ اور خصوصیت سے معلمین کو اپنی اصلاح کرلینی چاہئے،اس حدیث کے بعض طرق میں یہ مذکور ہے،''فلا یلطم وجھہ'' اس کے چہرے پر تھپڑ ہر گز نہ مارے۔

 (نزہۃ القاری،ص٧٤١،ج٣،فرید بکسٹال لاہور)

عن حکیم بن معاویۃ القشیری عن ابیہ قال قلت یا رسول اللہ ﷺ ماحق زوجۃ احد ناعلیہ قال ان تطعمھا اذا طعمت وتکسوھا اذا اکتسیت ولا تضرب الوجہ ولا تقبح ولا تھجر الافی البیت۔

( رواہ احمد و ابو داؤد وابن ماجہ مشکوٰۃ ص ٢٨١۔ باب عشرۃ النساء و مالکل واحدۃ من الحقوق)

آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم کھاؤ تو اپنی بیویوں کو بھی کھلاؤ اور جب تم پہنو تو اپنی بیوی کو بھی پہناؤ اور چہرے پر نہ مارو اور بیوی کو قبیح باتیں نہ کرو اور کمرے سے باہر ان سے جدا نہ رہو۔

ملا علی قاری درج بالا حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

( ولا تضرب) ای وان لا تضرب ( الوجہ) فانہ اعظم الاعضاء واظھرھاو مشتمل علی اجزاء شریفۃ واعضاء لطیفۃ۔۔۔۔۔۔ و قدنھی النبی ﷺ عن ضرب الوجہ نھیاعاما یعنی فی حدیث آخر اوالعموم المستفاد من ھذاالحدیث حیث قال: الوجہ ولم یقل وجھھا۔ ( مرقات، ص ٤٠٣، جلد ٦ حقانیہ ملتان)

آپ ﷺ نے فرمایا: چہرے پر نہ مارو کیوں کہ چہرہ تمام اعضاء میں اعظم اور ظاہر عضو ہے اور چہرہ شریف اور لطیف ( نازک) اعضاء اور اجزاء ( آنکھ، ناک ، منہ وغیرہ) پر مشتمل ہے۔آپ ﷺ نے کسی اور حدیث میں عام طور پر چہرے پر مارنے سے منع فرمایا بلکہ اس درج بالا حدیث سے بھی عموم ثابت ہوتا ہے وہ اس طرح کہ آپ نے مطلق چہرہ پر مارنے سے منع فرمایا یہ نہیں فرمایا کہ بیوی کے چہرے کو نہ مارو۔

دوسری حدیث شریف میں ہے:

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال اذا ضرب احد کم فلیتق الوجہ .

 ( رواہ ابو داؤد، مشکوٰۃ ص٣١٦، باب التعزیر،قدیمی کراچی)

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی کو مارے تو چہرہ سے بچارہے ( یعنی چہرے پر نہ مارے)۔

ملا علی قاری لکھتے ہیں:

واستثنی الرأس والوجہ والفرج و ذکر عن النبی ﷺ انہ قال للذی امرہ بضرب الحد: اتق الوجہ والمذاکیر.

 ( مرقات ١٢٦، جلد٧، کتا ب ا لحدود، الفصل الاول، حقانیہ ملتان)

آپ ﷺ نے مارنے کی حالت میں سر، چہرہ اور فرج( شرمگاہ) پر مارنے کا استثناء فرمایا ، آپ ﷺ نے حد لگانے والے صحابی سے فرمایا:حد لگاتے (مارتے وقت) چہرہ اور شرمگاہ پر نہ مارو۔

غیر مقلد عالم شیخ وحید الزمان لکھتے ہیں:

ویضرب جمیع البدن الاالوجہ والفرج والرأس.

 ( نزل الابرار ،ص ٣٠٤ جلد دوم،فصل فی التعزیر ، ناشر جمعیت اھل سنت لاہور)

 (مارتے وقت ) چہرہ، شرمگاہ اور سر کے علاوہ پورے بدن پر مارا جائے۔

علامہ شامی لکھتے ہیں:

ویتقی المواضع التی تتقی فی الحدود ، ای کالرأس والمذاکیر۔ ( شامی ص ٦١، جلد ٤، باب التعزیر ،ایچ ایم سعید کراچی)

مارنے میں ہر اس مقام پر مارنے سے بچے گا جس کو حدود میں بھی نہیں مارا جاتا جیسے سر او شرمگاہ۔

(جرم، بدن اور انسان کی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے سزا دیجائے)

 عزیز قارئین و مدرسین دوستو: آج کل یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مدارس اسلامیہ یا دیگر تعلیمی اداروںمیں جو کوئی بچہ شرارت ، جرم یا بے ادبی کرتا ہے تو اس کا برا حال ہوتا ہے، استاد اس کو نہیں دیکھتا کہ بچے کا جرم کتنا ہے؟ اس کا بدن کس طرح مار کو برداشت کر سکتا ہے؟ اور یہ احساس بھی استاد کو نہیں ہوتا کہ بچے کو ضرور گدھے کی طرح مارا جائے یا بچہ کسی معزز اور شریف گھرانے کا ہے اگر اسے زبانی ڈانٹا جائے یا صرف کان سے پکڑ ا جائے تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور اس کی اصلاح ہو جائے گی کیوں کہ انسانوں کی فطرتیں اور نسلیں جدا جدا ہیں بعض مارنے سے بھی نہیں سدھر تے اور بعض صرف اشارے سے راہ راست پر آجاتے ہیں اس لیے مدرسین اور خاص کر قراء (قاری) حضرات کو اس کا اندازہ لگانا چاہیے ۔

علامہ شامی لکھتے ہیں:

انہ یعتبر علی قدر عظم الجرم و صغرہ،زیلعی ۔۔۔۔۔۔۔یختلف ذلک باختلاف الاشخاص ۔۔۔ قال فی الفتح : فلورأی انہ ینزجر بسوط واحد اکتفی بہ وبہ صرح فی الخلاصۃ.

 ( شامی ص ٦٠ جلد ٤ ، بات التعزیر، ایچ ایم سعید)

سزا جرم کے مطابق دی جائے اسی طرح اشخاص کو دیکھتے ہوئے سزا دی جائے۔اگردیکھے کہ مجرم ایک ڈنڈا مارنے سے سدھر ے گا تو ایک ہی پر اکتفا کیا جائے( زیادہ کی اجازت نہیں١)

علامہ شامی دوسری جگہ لکھتے ہیں:

تعزیر اشراف الاشراف ، وھم العلماء والعلویۃ بالا علام،بان یقول لہ القاضی بلغنی انک تفعل کذافینزجربہ، وتعزیر الاشراف وھم نحواالد ھا قین بالا علام والجرالی باب القاضی والخصومۃ فی ذلک، و تعزیر الاوساط، وھم السوقۃ بالجر والحبس و تعزیرالاخساء بھذا کلہ و بالضرب.

 ( شامی ،ص ٦٠ جلد ٤ ، تعزیر)

سب سے اعلیٰ و معزز ترین لوگ مثلاً علماء اور علوی سادات کے لیے اتنا بھی کافی ہے کہ قاضی ان سے کہے کہ مجھے پتہ چلا کہ آپ نے فلاں ( نامناسب ) کام کیا ہے اتنی سی بات سے یہ لوگ سمجھ جائیں گے ،(اوران سے کم درجے کے)معزز اور اشراف لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان کو ان کے نامناسب کام کی اطلاع بھی دی جائے اور قاضی کے دربار میں فیصلے کے لئے حاضر کئے جائیں۔ درمیانی قسم کے لوگ مثلاً بازاری لوگوں کی سزا ( تعزیر) یہ ہے کہ ان کو فیصلے کے لیے بھی حاضر کئے جائیں اور قید بھی کئے جائیں، اورخسیس( نیچ قسم کے) لوگوں کی تعزیر ( سزا) یہ ہے کہ اطلاع بھی دی جائے ، حاضر کئے جائیں اور ساتھ ساتھ ان کو مارا بھی جائے۔

علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں:

لایختص بالضرب بل قدیکون بہ وقد یکون بالصفع و بفرک الاذن۔۔۔ الصفع الضرب علی القفا.

 ( البحرالرائق ،ص ٦٨ جلد ٥، فصل فی التعزیر، رشیدیہ کوئٹہ)

کسی کو تعزیر ( سزا) دینا مارنے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کبھی کبھی مار کی ضرورت آتی ہے اور کبھی صرف گوش مالی ( کان پکڑنے) اور گردن پر ایک دو تھپڑ مارنے سے بھی تنبیہ ہو جاتی ہے۔

 میرے عزیز مدرسین بھائیو! آپ نے احادیث مبارکہ اور فقہاء احناف کے اقوال سے اندازہ لگایا ہوگا کہ دین اسلام ہمیں بچوں کی تربیت کا کس طریقے سے تعلیم دے رہا ہے، اور ہم اپنی نفسانی خواہشات اور غیظ و غضب میں آکر کس طرح بچوں پر ظلم کررہے ہیںکہ مارتے وقت نہ تو ہمیں ان کے چہرے ، سر اور کسی اور نازک عضو کے ضائع ہونے کا خیال رہتاہے اور نہ ہم ان کو ان کے جرم،بدن اور حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مارتے ہیں بلکہ معمولی سی بات پر بھی ایک چھوٹی سی چھوٹی عمر کے بچوں کو اپنی بھر پور طاقت استعمال کرکے ان کو مارتے ہیں۔

 عزیز قارئین! آپ حضرات نے آئے دن اخبارات میںبارہا یہ بھی سنا ہوگا کہ فلاں دینی مدرسہ یا تعلیمی ادارے میں فلاں استاد نے بچے کو اتنا مارا کہ اس کے اعضاء ضائع ہوگئے اور کبھی کبھی بچے کی موت بھی واقع ہوتے ہوئے لوگوں نے دیکھا۔

اور جب مدرس صاحب یا مھتمم وپرنسپل مدرسہ کے پاس بچے کے رشتہ دار شکایت کے لیے آتے ہیں تو دینی اور اسلامی تہذیب یافتہ ،قرآن کی خدمت کرنے والے اور مستقبل کے معماروں کے مربیان حضرات برملا کہہ دیتے ہیں کہ اگر آپ اپنے بچوں کی (وحشیانہ) مار پیٹ کو برداشت نہیں کرسکتے تو داخل کیوں کرایا ، فوراً اپنے بچے کو لے جاؤ، ہمیں ایسے بچے چاہیے کہ اگر مارنے سے مربھی جائیں تو والدین شکایت نہ کریں (افسوس صد افسوس) معلوم ہوتا ہے کہ دور حاضر کے ان ظالم قراء اور مدرسین ومعلمین کو تو یا نہ آخرت کی فکر ہے اور نہ کسی کی تکلیف کا احساس اور یا یہ پیشوایانِ دین اپنے دین سے بے خبر اور جاہل ہے۔

بچے کو کتنا مارا جائے،اورجو استاد بچے کو زیادہ مارتا ہے اس کا حکم کیاہے؟

علامہ شامی لکھتے ہیں:

وکذلک المعلم لیس لہ ان یجاوز ھا قال علیہ الصلوٰۃ والسلام لمرداس المعلم، ایاک ان تضرب فوق الثلاث فانک اذاضربت فوق الثلاث ا قتص اللہ منک۔۔۔۔ و ظاھرہ انہ لا یضرب بالعصافی غیر الصلوٰۃ ایضا.

 (شامی، ص٣٥٢، جلد اول، کتاب الصلوٰۃ،ایچ ایم سعید)

کسی بھی استاد کو یہ اجازت نہیں کہ وہ تین تھپڑ سے زیادہ کسی بچے کو مارے، آپ ﷺ نے مرداس نامی مدرس ( استاد ) سے فرمایا کہ تین تھپڑ سے زیادہ مارنے سے بچا کرو، کیوں کہ اگر تم تین تھپڑسے زیادہ کسی بچے کو مارو گے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تم سے اس کا بدلہ لے گا۔۔۔۔۔ اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ( جب نماز چھوڑنے پر بچے کو ڈنڈے سے مارنے کی اجازت نہیں تو) نماز کے علاوہ کسی اور بات پر بھی بچے کو ڈنڈے سے نہیں مارا جائے گا۔

مفتی محمد اجمل قادری صاحب لکھتے ہیں:

لایضرب المعلم بالعصاولہ الضرب بالید ولا یجاوزالثلاث لقولہ علیہ السلام لمرداس المعلم ایاک ان تضرب فوق الثلاث۔ ( فتاویٰ اجملیہ، ص ٣٥٣ جلد اول، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)

استاد ڈنڈے سے کسی کو نہیں مارے گا بلکہ ہاتھ سے مارے گا اور اس میں بھی تین تھپڑ سے زیادہ نہیں مارے گا کیونکہ آپ ﷺ نے مرداس معلم سے فرمایا کہ : تین ( تھپڑ) سے زیادہ نہ مارنا۔

 عزیز دوستو! درج بالا عبارات سے معلوم ہوا کہ کسی بھی استاد کو کسی بھی اسباق میں بچے کو تین سے زیادہ تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں اور وہ بھی سر، چہرہ کے علاوہ اس کے جرم، جسم اور حیثیت کو دیکھتے ہوئے۔ اگر پھر بھی کوئی مدرس یا قاری ظالم بن کر بچے کو زیادہ مارے گا تو فرمانِ نبوی ﷺ کے مطابق اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے گا۔

استاد کی مار سے اگر بچہ یا اس کا کوئی عضو ضائع ہوجائے تو استاد کو سزا دی جائے گی اور جرمانہ لیا جائے گا:

علامہ حصکفی لکھتے ہیں:

لوضرب المعلم الصبی ضربا فاحشا فانہ یعزرہ ویضمنہ لومات،شمنی. ( الدر المختار ص ٧٩ جلد ٤ ، باب التعزیر،ایچ ایم سعید)

اگر کسی استاد نے کسی بچے کو ( تین تھپڑ سے) زیادہ سخت مار سے مارا تو استاد کو سزا(تعزیر) دی جائے گی اور اگر بچہ مر گیا تو استاد سے تاوان ( جرمانہ) لیا جائے گا۔

علامہ شامی لکھتے ہیں:

(قولہ ویضمنہ لومات) ظاھرہ تقیید الضمان بما اذاکان الضرب فاحشاً ۔۔۔۔۔ وکذاالمعلم اذا ادب الصبی فمات منہ یضمن عندنا والشافعی۔ وقال فی الدر المنتقی یضمن المعلم بضرب الصبی. ( شامی، ص ٧٩ ،جلد ٤، باب التعزیر،ایچ ایم سعید)

اگر بچہ مر گیا تو استاد سے تاوان لیا جائے گا۔ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ تاوان اس صورت میں ہے جب استاد بچے کو ( تین تھپڑ سے) زیادہ سخت مارمارے۔۔۔ اسی طرح استاد جب بچے کو ادب سکھاتے ہوئے مارے اور بچہ مر جائے تو ہماے(احناف) اور امام شافعی کے نزدیک تاوان لیا جائے گا۔ الدر المنتقی میں ہے کہ استاد سے بچے کی سخت مار پر تاوان لیا جائے گا۔

شیخ وحید الزمان بنارسی غیر مقلد لکھتے ہیں:

والاب والمعلم اذا ضربا الصغیر تادیبا فمات قال مالک واحمد لاضمان و قال ابو حنیفۃ یجب الضمان.

( نزل الابرار، ص ٣٠٤، جلد ٢، فصل فی التعزیر ناشر جمعیت اہل سنت لاہور)

والد اور استاد جب بچے کو ادب سکھاتے ہوئے ماریں اور بچہ مر جائے تو امام مالک ؒو امام احمدؒ کے نزدیک کوئی تاوان نہیں جب کہ امام ابو حنیفہ ؒنے فرمایا کہ تاوان لینا واجب ہے۔

امام شمس الدین محمد الخراسانی القھستانی لکھتے ہیں:

ان المعلم لو ضرب الصبی لم یھدردمہ الا ان یاذنہ الاب الا ان یضرب ثلاثا اواقل ولا یضرب بالخشب وان اذنہ الاب و علیہ ان یضربہ اذابلغ عشرسنین للصلوٰہ بالید لا بالخشب۔

( جامع الرموز،ص ٥٣٧ ،جلد ٤،فصل فی القذف ،قبیل کتاب السرقہ ایچ ایم سعید)

اگر استاد بچے کو مارے تو اس کا خون معاف نہیں( بلکہ بدلہ لیا جائے گا) مگر یہ کہ اس کے باپ نے اجازت دی ہو( تو پھر خون معاف ہے) مگر یہ مارنا تین تھپڑ یا اس سے کم ہو۔ استاد بچے کو ڈنڈے سے نہیں مارے گا اگرچہ باپ نے اجازت دی ہو۔ اور باپ پر لازم ہے کہ اپنے د س سالہ بچے کو نماز کے خاطر مارے مگر ہاتھ سے مارے ڈنڈے سے نہیں۔

درج بالا تحقیق و تفصیل اور فقہاء کی عبارات کی تائید پر اردو فتاویٰ و کتب کے چند اقتباسات پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔

علامہ ابن خلدون بے جا تشدد اور سخت گیری کے مضر اور نقصان دہ نتائج کے بارے میں لکھتے ہیں:

جس کا طریق تربیت غلاموں، بچوں یا خادموں کے ساتھ تشدد آمیز اور قہر آلود ہوتا ہے، ان کے زیر تربیت لوگوں پر خوف مسلط ہوجاتا ہے، وہ تنگ دل ہوجاتے ہیں اور ان کی طبیعت کا نشاط ختم ہوجاتا ہے پھر اس کی وجہ سے اس کے اندر سستی اور کسل پیدا ہوجاتا ہے اور یہ چیز اس کے لیے جھوٹ اور مختلف برائیوں کا محرک ثابت ہوتی ہے۔۔۔۔ وہ مکروفریب اور حیلہ جوئی سیکھتا ہے یہاں تک کہ یہی رفتہ رفتہ اس کی عادت اور طبیعت بن جاتی ہے۔

 ( مقدمہ ابن خلدون، ص ٥٤٠، الفصل الثانی والثلاثون۔بحوالہ حلال و حرام)

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دیوبندی لکھتے ہیں:

جسمانی سرزنش کے سلسلہ میں ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کا استعمال آخری طریقِ کار کے طور پر اس وقت کرنا چاہیے جب فہمائش ، پندوموعظت اور ڈانٹ ڈپٹ وغیرہ سے کام نہ چل سکے۔ اس وقت نہیں مارنا چاہیے جب آدمی بہت جذباتی ہو، غصہ میں ہو یا غیر معتدل حالت میںہو۔ جیسا کہ حدیث میں اس طرح بیوی کو مارنے کی ممانعت آئی ہے کہ اس کی گردن کی رگیں ( مارے غصے کے) پھولی ہوئی ہوں، چہرہ اور جسم کے نازک حصّوں پر نہیں مارنا چاہیے، حدیث میں چہرہ پر مارنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے، اس طرح نہ مارنا چاہیے کہ جسم کا کوئی حصّہ ٹوٹ جائے یا بچہ کی صحت متاثر ہو جائے۔ اس ممانعت کا ثبوت وہ حدیث اور اسلامی شریعت کا اصول ہے کہ ''لاضرر ولا ضرار''نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ نقصان پہنچاؤ۔

بسا اوقات مدرسین و اساتذہ اس معاملہ میں حد سے گزر جاتے ہیں اور تعذیب کی حد تک بچوں کی سرزنش کرتے ہیں، یہ طریقہ نفسیاتی اعتبار سے نہایت نقصان دہ اور مضر ہے، اس لئے کہ اس سے طلبہ میں بسا اوقات خود تعلیم ہی سے نفرت کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے ، نیز وہ سزاؤں کے اس قدر خوگر اور عادی ہو جاتے ہیں کہ نہ ان کے اندر پندوموعظت سے کوئی بیداری پیدا ہوتی ہے اور نہ سزاؤں کا خوف باقی رہتا ہے فقہاء نے لکھا ہے کہ استاذ نا مناسب حد تک سزا دے تو خود استاد کی تعزیر کی جائے گی۔

 ( حلال و حرام ص ٤٦٨۔ مکتبہ العلم لاہور)

مفتی محمد کفایت اللہ دھلوی دیو بندی لکھتے ہیں:

چہرہ اور مذاکیر کے علاوہ سارے بدن پر تاوقتیکہ تجاوز عن الحدنہ ہو مارنا جائز ہے یعنی اس طرح مارنا کہ بدن کہیں سے زخمی ہوجائے یا کہیں کی ہڈی ٹوٹ جائے یا بدن پر سیاہ داغ پڑجائیں یا ایسی ضرب ہو جس کا اثر قلب پر پڑتا ہو جائزنہیں اگر مارنے میں حد معلومہ سے تجاوز ہو یا چہرہ اور مذاکیر پر خواہ ایک ہی ہاتھ چلائے گہنگار ہوگا۔ استاذکو بشرط اجازت والدین اس قدر مارنے کا اختیار ہے جو مذکور ہوا، اور وہ بھی جب کہ مارنے کے لیے کوئی صحیح غرض تادیب یا تنبیہ یا کسی بری بات پر سزا دینی ہو، بے قصور مارنا یا مقدار قصور سے زیادہ مارنا جائز نہیں بلکہ استاذ خود مستحق تغریر ہوگا،

ضربہ علی الوجہ اوعلی المذاکیر یجب الضمان بلا خوف ولوسوطا واحدالانہ اتلاف ( ردالمحتار) ضرب المعلم الصبی ضربا فاحشا (وھوالذی یکسرالعظم و یخرق الجلد اویسودہ (ردالمحتار) فانہ یعزرہ ویضمنہ لومات شمنی.(درمختار)ضرب معلم صبیا اوعبدابغیر اذن ابیہ اومولاہ فالضمان علی المعلم اجماعا۔ وان ضرب باذنھما لاضمان علی المعلم اجماعا.( درمختار)

 ( کفایت المفتی، ص ١٦٣ جلد ٢۔ حقانیہ ملتان)

مفتی محمود حسن گنگوہی صدر مفتی دارالعلوم دیو بند لکھتے ہیں:

چھوٹے بچوں کو بغیر چھڑی وغیرہ کے صرف ہاتھ سے وہ بھی ان کے تحمل کے موافق تین چپت تک مارسکتا ہے وہ بھی سر اور چہرہ کو چھوڑ کر یعنی گردن اور کمر پر، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں ورنہ بچے قیامت میں قصاص لیں گے، بچوںپر نرمی اور شفقت کی جائے۔ اب پیٹنے کا دور تقریباً ختم ہوگیا ، اس کے اثرات اچھے نہیں ہوتے، بچے بے حیا اور نڈر ہوجاتے ہیں، مار کھانے کے عادی ہوکر یاد نہیں کرتے، بلکہ اکثر تو پڑھنا ہی چھوڑدیتے ہیں۔ شامی میں یہ مسئلہ مذکور ہے، اس سلسلہ میں حدیث بھی نقل کی ہے فقط واللہ تعالیٰ اعلٰم

 ( فتاویٰ محمودیہ ص ١٠٢ جلد ١٦۔ کتب خانہ مظہری گلشن اقبال کراچی)

مفتی موصوف دوسری جگہ لکھتے ہیں:

بقدر ضرورت ایک دو تین چپت تحمل کے موافق گردن اور کمر پر مارنے کی گنجائش ہے، لکڑی یا کوڑے یا جوتے وغیرہ سے اجازت نہیں، حق سے زائد مارنے پر یہ بچے قیامت میں قصاص لیں گے۔

 ( فتاویٰ محمودیہ، ص ١٢٦ جلد ١٤)

مفتیان دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک لکھتے ہیں:

شریعت مقدسہ نے اپنی اور اہل و عیال کو تعلیم و تہذیب سکھانے کی ترغیب دلائی ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ اے ایمان والو! تم خود بھی جہنم کی آگ سے بچو اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچاؤ، اور یہ تب ہوگا کہ جب بچوں کو تعلیم و تہذیب اور ادب سکھایا جائے اور ظاہر ہے کہ تعلیم و تعلم کے لیے بعض اوقات بچوں پر سختی بھی کرنی پڑتی ہے، لہذا اگر بچے کا تعلیم میں جی نہیں لگتا اور وقت ضائع کرتا ہے تو زجرا اس کو سزا دینا مرخص ہے بلکہ اس میں ثواب کی بھی امید ہے، تاہم سزا میں اتنا مبالغہ نہ ہو کہ جسمانی نقصان یا دل شکنی کا ذریعہ بن جائے،

لما قال اللہ تبارک و تعالیٰ، یا ایھا الذین امنوا قواانفسکم و اھلیکم نارا. ( التحریم : ٦)

قال العلامۃ الحصکفی: وفی القنیۃ لہ اکراہ طفلہ علی تعلیم قرآن وادب و علم لفریضۃ علی الوالدین.

 ( الدر ص ٧٨ ج ٤ ، باب التعزیر)

(و مثلہ فی احکام الصغار علی ھامش جامع الفصولین ص ١٠ جلد١۔ مطلب لیس للمعلم ان یضرب)

استاذ کا اپنے شاگرد کو مارنے ( سزا دینے) کا حق حاصل ہے، کیوں کہ اہل خانہ نے تعلیم و تادیب کے واسطے بچے کو استاد کے حوالہ کیا ہوتا ہے لیکن استاذ کو سزا دینے میں اتنا مبالغہ نہیں کرنا چاہیے کہ شاگرد کو جسمانی نقصان پہنچے یا استاد کی سختی کی وجہ سے بچہ تعلیمی میدان ہی چھوڑ دے بلکہ شاگرد کی اصلاح کے لیے استاد اسے معمولی سزا دے سکتا ہے۔

 ( فتاویٰ حقانیہ ،ص ١١٧، جلد دوم ، حقانیہ اکوڑہ نوشہرہ)

مفتی محمد و قارالدین رضوی بریلوی لکھتے ہیں:

اگر زید و بکر میں دوستی یا رشتہ داری کے ایسے تعلقات ہیں کہ ایک دوسرے کے بچوں کو غلطیوں پر تنبیہہ کرتے رہتے ہیں تو ادب سکھانے کے لیے جس طرح تنبیہ کرسکتے ہیں اسی طرح معمولی طور پر مار بھی سکتے ہیں۔ یہ صرف تادیب کے لیے ہی کرسکتے ہیں۔ تکلیف دینے کے لیے تو باپ بھی نہیں مارسکتا ۔

 ( وقارالفتاویٰ ص ٢٣٢ جلد ٣)

اعلحضرت مولانا احمد رضا خان محدث بریلوی لکھتے ہیں:

مارنا ہاتھ سے ہو نہ کہ لکڑی سے، اور تین بار سے زائد نہ ہو اور منہ پر نہ ہو۔

 ( فتاویٰ رضویہ جدید ، ص ٤١٩ جلد ١٦۔ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

موصوف دوسری جگہ لکھتے ہیں:

ضرورت پیش آنے پر بقدر حاجت تنبیہ ا صلاح اور نصیحت کے لیے بلاتفریق اجرت وعدم اجرت استاد کا بدنی سزا دینا اور سرزنش سے کام لینا جائز ہے مگر یہ سزا لکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہیے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائے۔۔۔۔۔۔ یونہی استاد کے لیے روا نہیں کہ تین مرتبہ سے تجاوز کرے حضور اکرم ﷺ نے مدرسہ کے استاذ مرد اس سے فرمایا: تین مرتبہ سے زائد ضربیں لگانے سے پرہیز کرو کیوں کہ اگر تم نے تین مرتبہ سے زیادہ سزا دی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تم سے بدلہ لے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم ( فتاویٰ رضویہ، ص ٦٥٢ جلد ٢٣، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

طالب علم کو گالی دینا

 عزیز مدرسین و قراء دوستو! آج کل آپ دینی مدارس اور دیگر تعلیمی اداروںمیں تعلیم و تربیت اور خاص کر شعبہ حفظ میں دیکھیں گے کہ جب استاد بچے کو وحشیانہ اور ظالمانہ مارمارتا ہیں تو اوپر سے منہ بھی گالی گلوچ کے پھول برساتا ہے۔ استادوں کی یہ گالی صرف طالب علم کی ذات تک نہیں بلکہ ان کے آباواجداد اور دیگرخواتین تک پہنچتی ہے۔ حالاں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

سباب المسلم فسوق. ( مشکوٰۃ ص ٤١١۔ باب حفظ اللسان)

 مسلمان کو گالی دینافسق ہے۔

مفتی محمد کفایت اللہ دھلوی لکھتے ہیں:

سب و شتم میں ایسے الفاظ جن کا تعلق صرف لڑکے تک محدود ہے مثلاً بے وقوف ، گدھا ، پاجی، نالائق، الّو وغیرہ اور زیادہ فحش نہ ہواستعمال کرنے کا مضائقہ نہیں، لیکن ایسے الفاظ جن کا تعلق لڑکے سے متجاوز ہوکر اس کے والدین یا اور کسی تک پہنچے مثلاً گدھے کا بچہ سور(خنزیر) کا بچہ، حرامی یا اور فحش الفاظ اور گالیاں استعمال کرنا ناجائز اور حرام ہے۔

الضابط انہ متی تسبہ الی فعل اختیاری محرم شرعاً ویعد عارا عرفایعزروالا لا ابن کمال۔ ( درمختار)

 ( کفایت المفتی ص ١٦٤ جلد دوم۔ حقانیہ ملتان)

 خلاصہ کلام یہ ہے کہ شریعت کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوئی کہ استاد کو بچے کو مارنے کی اجازت ہے۔ ایسا نہیں کہ استاد کو بالکل اجازت ہی نہیں۔ لیکن جس مار کی اجازت ہے وہ دلائل کی روشنی میں بیان کردی گئی اور جس کی شریعت نے اجازت نہ دی اس کی بھی وضاحت کی گئی۔اس لیے مدرسین ، قراء حضرات اور خاص کر مھتممین حضرات اس بات کاخیال رکھیں کہ بچوں کی تربیت اصلاحی، اسلامی ہو نہ کہ ظالمانہ، وحشیانہ اور نفرت آمیز،پڑھاتے وقت حدود توڑنے، گالی دینے، عیوب نکالنے، حقارت سے دیکھنے اور نفرت سے پڑھانے سے بالکل پرہیز اور اجتناب کرنا چاہیے۔

 اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر استقامت نصیب فرمائے اور ہمیں احسن طریقے سے تربیت کی توفیق عطا فرمائے، ( آمین)

 سید محمد منور شاہ سواتی،حال کراچی

 اگست،ئ٢٠٠٧.....شعبان ١٤٢٨ھ

 

 

 

 

 

 

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post