حضرت امام الائمہ سراج الامہ

نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ

حضرت علامہ غلام رسول سعیدی  رحمۃ اللہ علیہ

 

حضرت امام الائمہ سراج الامہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ تمام فقہاء اور مجتہدین کے رئیس، ماہرین حدیث کے امام اور استاذ ،ه وارفتگان شوق کے قبلہ، عابدوں کے رہنما، زاہدوں کے قافلہ سالار، صوفیوں کے پیشوا الغرض نبوت و صحابیت کے بعد ایک انسان میں جس قدر محاسن اور فضائل ہو سکتے ہیں۔ وہ ان سب کے جامع تھے بلکہ ان اوصاف میں سب کے لیے بادی اور مقتدی تھے۔

عبادات دریاضات :

امام اعظم رضی اللہ عنہ عبادت و ریاضت میں قدم راسخ رکھتے ۔ تھے ، ان کی عبادت وریاضت کا جو حال غیر حنفی علماء نے بیان کیا ہے وہ عادت سے اس قدر بعید اور حیرت انگیز ہے کہ آج  کی عیش کوش اور تن آسان دنیا اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی ،حنفی شافعی بلکہ ملت اسلامیہ کے علماء کے درمیان یہ بات حد استنفاضہ سے زیادہ معروف ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ۴۰ نے سال تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھتے تھے ۔

فضل بن وکیل کہتے ہیں کہ میں نے تابعین میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی طرح کسی شخص کو شدت خشوع سے نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ دعا مانگتے وقت خوف خداوندی سے آپ کا چہرہ زرد ہو جاتا تھا اور کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کا بدن کسی سالخوردہ بدن کی طرح مرجھایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ ایک بار آپ نے رات کو نماز میں قرآن کریم کی آیت مبارکہ:

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ (پاره : ۲۷، سورۃ القمر، آیت نمبر: ۴۶)

 کی تلاوت کی ، پھر اس قرآت سے آپ پر ایسا کیف طاری ہوا کہ بار بار اس آیت کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ مؤذن نے صبح کی اذان کہہ دی۔ (امام ابن حجر ہیتمی مکی متوفی ۹۷۳ھ، الخیرات الحسان ص: ۸۳)

امام اعظم رضی اللہ عنہ کی خصوصیات:

امام اعظم رضی اللہ عنہ کو اللہ عزو جل نے وہبی اور کسبی بے شمار خصوصیات سے نوازا تھا۔ علم و حکمت میں دیکھیے تو وہ ایک بحر نا پیدا کنار زہد و تقویٰ کے لحاظ سے دیکھیے تو نادر روزگار، فراست و فطانت کے اعتبار سے پرکھیں تو اپنا ثانی نہیں رکھتے ، استنباط مسائل اور فقاہت کے لحاظ سے دیکھیں تو اعمش اور سفیان ثوری بھی ان سے سوال پوچھتے دکھائی دیتے ہیں۔

امام اعظم کو بے شمار ایسے محاسن اور فضائل حاصل تھے ، جن کی وجہ سے اپنے معاصرین اور بعد کے آئمہ اور مجتہدین سے ممتاز اور فائق تھے ۔ ان تمام کا احصاء تو مشکل ہے، بعض ازاں یہ ہیں :

1۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ خیرالقرون علی الاطلاق قرن اول میں پیدا ہوئے ، جس قرن کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا : اس قرن کے لوگ تمام زمانہ کے لوگوں سے بہتر ہیں۔

2۔ آپ نے حضرت انس عبد اللہ بن ابی اوفی رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر متعددصحابہ کی زیارت کی جس کی وجہ سے آپ تابعی کہلائے

3۔ حضرت انس ، عبد اللہ بن ابی اوفی ، عائشہ بنت حجرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین و غیر ہم صحابہ کرام سے آپ کو شرف روایت بھی حاصل ہے۔

۴۔ آپ کے اساتذہ و تلامذہ کی تعداد دیگر تمام آئمہ کے اساتذہ و تلامذہ سے زیادہ ہے۔

۵۔ آپ نے سب سے پہلے علم فقہ کو مدون کیا اور ابواب و کتب کے لحاظ سے اس کو مرتب کیا۔ چنانچہ موطا میں امام مالک رضی اللہ عنہ نے آپ کے طرز تدوین کی اتباع کی ہے۔ آپ کے طریق اجتہاد سے تمام آئمہ اور مجتہدین نے استفادہ کیا۔ چنانچہ امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

الفقهاء كلهم عيال ابى حنيفة فى الفقه

امام اعظم کا مسلک ان ممالک میں پہنچا، جہاں آپ کے مسلک کے سوا اور کوئی مسلک نہیں پہنچا۔ جیسے ہند، پاکستان  روم ، ترکی اور ماوراء النہر وغیرہ۔

8۔ ملا علی قاری کی تصریح کے مطابق اس وقت دنیا کے مسلمانوں میں دو تہائی مسلک حنفی کے حاملین ہیں اور باقی ایک تہائی دوسرے آئمہ کے مقلدین ہیں۔

9 ۔ آپ نے کبھی کسی کا صلہ اور انعام قبول نہیں کیا۔ اپنے ہاتھ کی کمائی سے خود بھی کھاتے تھے اور دوسرے علماءوفقراء پر بھیخرچ کرتے تھے ۔

تصانيف:

امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی مندرجہ ذیل کتب اہل علم کے نزدیک شہرت اور تواتر سے ثابت ہیں ۔

کتاب العالم والمتعلم : امام اعظم رضی اللہ عنہ کی یہ تصنیف عقائد  اور نصائح کے موضوع پر متعلم کے سوال اور عالم کے جواب کے طور پر تالیف کی گئی ہے۔ (کشف الظنون ، ج: ۲، ص: ۷ ۱۴۳)

کتاب الفقہ الاکبر :عقائد کے موضوع پر امام اعظم رضی اللہ عنہ کی اس تصنیف کو ابومطیع بلخی نے آپ سے روایت کیا ہے اس کتاب کی متعدد شروح لکھی گئی ہیں ۔ (کشف الظنون ، ج:۲، ص: ۱۲۸۷)

کتاب الوصايا ( کشف الظنون ، ج : ۲ ص : ۱۴۷۰)

قاضی ابوزید، ابوسہل غزالی ، ابو علی الدقاق، ابو منصور ماتریدی اور ابواللیث سمرقندی نے اپنی ان کتابوں کے رواۃ اور ناسخین کی امام اعظم تک پوری سند بیان کی ہے ۔ ( حدائق حنفیہ ص: ۷۱)

امام الائمہ محدث کبیر، حضرت ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ  میں ،اللہ عزوجل نے علم و عمل کی تمام خوبیاں جمع کر دی تھیں۔ وہ میدان علم میں تحقیق و تدقیق کے شاہسوار، مسائل فقہیہ میں ان کی سطوت اور اجتہاد میں ان کا سکہ ہر ایک نے مانا ہے ۔ البتہ بعض اہل ہوا ، کوتاہ بین اور متعصب حضرات فن حدیث میں امام اعظم کی بصرت پر نقطہ چینی کرتے اور کچھ بے لگام لوگ تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ کو صرف ۱۷  حدیثیں یاد تھیں ۔ حق تو یہ ہے کہ امام اعظم اسلامی علوم و فنون کے تمام شعبوں میں امام اور مجتہد تھے۔ روایت اور درایت کے میدان میں سابقیت کا عَلم بھی انہی کا نصب کردہ ہے۔ فنِ حدیث میں یہ بہارانہی کی کاوشوں کاثمرہ ہے۔ شافعی و مالک فقہا میں ان کے پروردہ ہیں اور صحاح ستہ کے شیوخ ان کے فیض یافتہ ہیں ۔ آپ نہ ہوتے تو نہ فقہا کو یہ عروج ہوتا اور نہ بخاری و مسلم کو یہ جو بن نصیب ہوتا ۔

 فن حدیث میں امام اعظم کی بصیرت پر اجمالی نظر:

امام اعظم نے اگر چہ بنیادی طور پر علم کی خدمت کی ہے اور اپنی عمر کا تمام حصہ اسی میں صرف کیا ہے تا ہم علم حدیث میں بھی ان کا نہایت اونچا مقام ہے۔ انہوں نے فاضل صحابہ اور اکابر تابعین سے احادیث کا سماع کیا، پھر ان روایات کو کامل حزم و احتیاط کے ساتھ اپنے تلامذہ تک پہنچایا۔ امام اعظم چونکہ علم حدیث میں مجتہدانہ بصیرت کے حامل تھے ، اس لیے محض نقل روایت پر ہی اکتفاء نہیں کرتے تھے بلکہ قرآن کریم کی نصوص

صریحہ اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں روایات کی جانچ پڑتال کرتے  کرتے تھے۔ راویوں کے احوال اور ان کی صفات پر زبردست تنقیدی نظر رکھتے تھے اور کسی حدیث پر اعتماد کرنے سے پہلے اس کی سند اور متن کو پوری طرح پر کھ لیتے تھے۔ جو لوگ سوچے سمجھے بغیر یہ کہہ دیتے ہیں کہ امام اعظم کو علم حدیث میں دسترس نہیں تھی ، وہ اس امر پر غور نہیں کرتے کہ امام اعظم نے عبادات و معاملات ، معاشیات و عمرانیات اور قضاء یا عقوبات کے ان گنت احکام بیان کیے ہیں ۔ حیات انسانی کا کوئی گوشہ امام اعظم کے بیان کردہ احکام سے خالی نہیں ہے لیکن آج تک کوئی یہ ثابت نہیں کر سکا کہ امام اعظم کا بیان کردہ فلاں حکم حدیث کے خلاف تھا ۔ امام اعظم کی مہارت حدیث پر اس سے بڑھ کر اور کیا سند ہو سکتی ہے کہ ان کا بیان کردہ ہر مسئلہ حدیث نبوی کے موافق اور ہر حکم سنت رسول کے مطابق ہے۔ بسا اوقات ایک ہی مسئلہ میں متعدد اور متعارض روایات ہوتی ہیں مثلاً نماز پڑھتے پڑھتے کوئی شخص رکعات کی تعداد بھول جائے تو بعض روایات میں یہ ہے کہ وہ از سرِ نونماز پڑھے، بعض روایات میں یہ ہے کہ وہ رکعات کو کم سے کم تعداد پر محمول کرے اور بعض میں ہے کہ وہ غور و فکر کر کے راجح جانب پر عمل کرے، اسی طرح سفر میں روزہ کے بارے میں بھی مختلف احادیث ہیں ، بعض میں اثناء سفر میں روزہ کو نیکی کے منافی قرار دیا ہے اور بعض میں عین ثواب ایسی صورت میں  امام اعظم منشاء رسالت تلاش کر کے ان روایات میں با ہم تطبیق کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کام وہی شخص کر سکتا ہے جو منشاء وحی اور مزاج رسالت کو پہچانتا ہو، روایات کے تمام طرق پر حاوی درایت کے کل اصولوں پر محیط اور روایوں کے احوال پر ناقدانہ نظر رکھتا ہو۔

وصال:

حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا :

 اشد الناس بلاء الانبياء ثم الامثل فالا مثل ( الترمذي، كتاب الزهد، باب ما جاء في الصبر على البلاء، برقم ٢٣٩٨)

 سب سے زیادہ تکالیف انبیاء علیہم  السلام   ) پر وارد ہوتی ہے پھر جوان کے قریب ہو اور جو اس کے قریب ہو۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عزت و حرمت اور ان کا مقام کون نہیں جانتا ، اس کے باوجود جس مظلومیت سے آپ دشتِ کربلا میں شہید کیے گئے وہ کسی شخص سے مخفی نہیں ہے۔ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کی عظمت کا آفتاب عرصہ دراز تک آسمان علم و فضل پر جگمگا تا رہا۔ یہاں تک کہ اخیر عمر میں خلیفہ ابو جعفر منصور نے اپنے دربار میں آپ کو عہدہ قضاء کے لیے طلب کیا ۔ آپ نے اس پیش کش کو قبول نہیں کیا ، جس کی وجہ سے آپ پر شاہی عتاب نازل کیا گیا۔ بغداد کے قید خانہ میں آپ کو مقید کر دیا گیا۔ مؤرخین کی ردایات کے مطابق آپ پر روزانہ کوڑے لگائے جاتے تھے۔ تا آنکہ ایک دن (ماور جب یا شعبان ۱۵۰ھ ) بحالت سجدہ آپ کا انتقال ہو گیا۔ پہلی مرتبہ پچاس ہزار افراد نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی،  اس کے بعد قبر پر نماز پڑھی جاتی رہی۔

 امام موفق نے لکھا ہے کہ: خیزران میں آپ کو دفن کیا گیا اور دفن کے بعد ۲۰ دن تک لوگ آپ کی قبر پر نماز جنازہ پڑھتے رہے ۔ خلیفہ ابو جعفر منصور نے قبر پر آکر نماز پڑھی اور سب سے آخر میں آپ کے صاحبزادے حماد بن ابی حنیفہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی۔(صدر الائمه موفق بن احدمکی متوفی ۵۶۸ء، مناقب امام اعظم ، ج:۲، ص:۱۷۹)

 

 

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post