اسلام اور عیسائیت میں ہم آہنگ  بنیادیں

 

جارج برنارڈ شاہ:

میں  جانتا ہوں کہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان باہم کافی مماثلت اور مطابقت ہے۔

مولانا صدیقی :

اور یہ مماثلت محض برائے نام یا ظاہری نہیں ہے اس لیے کہ قران کریم نے صراحت کے ساتھ اعلان فرمایا ہے کہ جب کسی الہام یا وحی اور آسمانی مذہب کا حتمی اور قطعی ماخذ و مصدر ذات باری تعالی ہو اس وحی پر ایمان لانا ناگزیر ہوتا ہے اسلام ایک جدید مذہب تصور کیا جاتا ہے جبکہ قران کے مطابق یہ وہی مذہب ہے جس کی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام تک تمام انبیاء کرام نے تشہیر کی اللہ تعالی نے انہیں یکے بعد دیگرے ایک جیسی تعلیمات کے تبلیغی فرائض کی انجام دہی کے لیے بھیجا تھا۔

اللہ تعالی نے آخری کتاب کے ساتھ آخری نبی اس وقت بھیجا، جب دین کی اصل تعلیمات میں چھیڑ خانی کی گئی۔ ان میں بگاڑ پیدا کیا گیا اور جب ان تعلیمات کی صداقت مشکوک ہو کے رہ گئی۔ جس کا مقصد دین حنیف کا احیائے نو کرنا، اس کی تصدیق اور تکمیل کرنا تھا۔ قران مقدس نے اس بات کی وضاحت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 

شَرَعَ لَـكُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوۡحًا وَّالَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهٖۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰى وَعِيۡسٰٓى اَنۡ اَقِيۡمُوا الدِّيۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِيۡهِ‌ؕ ۞

ترجمہ :

تمہارے لیے دین کی وہ راہ ڈالی جس کا حکم اس نے نوح علیہ السلام کو دیا اور جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسی اور عیسی علیہ السلام کو دیا کہ دین کو ٹھیک رکھیں اور اس میں پھوٹ نہ پڑھنے دیں۔

(سورہ شوری: 13)

اسلام کے متعلق یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اسلام ایک نومولود مذہب ہے ۔حالانکہ قرآن مجید کی رو سے اللہ تعالیٰ کے ہاں دین صرف اسلام روز اول سےہے ۔ حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء کرام نے دین اسلام ہی کی دعوت دی ۔کیونکہ انبیاء کو مبعوث کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

شَرَعَ لَـكُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوۡحًا وَّالَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهٖۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰى وَعِيۡسٰٓى اَنۡ اَقِيۡمُوا الدِّيۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِيۡهِ‌ؕ كَبُـرَ عَلَى الۡمُشۡرِكِيۡنَ مَا تَدۡعُوۡهُمۡ اِلَيۡهِ‌ ؕ اَللّٰهُ يَجۡتَبِىۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يُّنِيۡبُ ۞

ترجمہ:

(اے مسلمانو ! ) اللہ نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح ( علیہ السلام) کو کی تھی اور جس کی وحی ہم نے (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آپ کی طرف کی ہے  اور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو کہ قائم کرو دین کو۔ اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بہت بھاری ہے مشرکین پر یہ بات جس کی طرف آپ ان کو بلا رہے ہیں اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف (آنے کے لیے) ُ چن لیتا ہے اور وہ اپنی طرف ہدایت اسے دیتا ہے جو خود رجوع کرتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

          قُلۡ يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۢ بَيۡنَـنَا وَبَيۡنَكُمۡ اَلَّا نَـعۡبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهٖ شَيۡــئًا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ؕ

            ترجمہ:

(اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کہہ دیجیے : اے اہل کتاب ! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان بالکل برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب ٹھہرائے

دیگر اقوام نے وقت گزرنے کے ساتھ انبیاء  کی تعلیمات بھلا دیں۔ خواہشات کی  آڑ میں الہامی کتب میں ردوبدل کر دیں نتیجتاً انکی تحریف نے کتب کو مشکوک بنا دیا۔ان تمام  اعمال کے باوجود اسلام اور عیسائیت میں جو ہم آہنگ عقائد ونظریات مدرجہ ذیل ہیں۔

·       الہامی مذاہب :

اگر ہم وسیع پیمانے پر مذاہب عالم کو دیکھیں تو  انہیں  دو بڑے زمروں میں تقسیم کیا جائیگا ۔

سامی مذاہب : ان سے مراد الہامی مذاہب  ہیں ۔انجیل کے مطابق  حضرت نوح علیہ السلام کے ایک بیتے کا نام سام تھاان کی نسلیں سامی کہلائیں ۔چنانچہ سامی مذاہب سے مراد اسلام ، عیسائیت اور یہودیت ہے۔ تینوں  مذاہب ایک خدا کی  عبادت کرتے ہیں

جبکہ غیر سامی مذاہب سے مراد تمام غیر الہامی مذاہب ہیں  جو انسانی نظریا ت و افکار کی مروجہ صورت اختیار کر چکے ہیں۔ غیر سامی مذاہب میں کئی خداوں کی پرستش کی جاتی ہے۔

·       انبیاءو رسل پر ایمان :

دین اسلام میں انبیاء و رسل پر ایمان کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔مسلمان کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل پر ایمان رکھتے ہیں۔جنہیں اللہ نے اپناپیغامِ ہدایت انسانیت تک پہنچانے کے لیئے منتخب فرمایا۔اکثر انبیاء کرام پر اللہ تعالیٰ نے صحائف نازل فرمائے جبکہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر تورات ، حضرت سیدنا داوٗد علیہ  السلام پر زبور، حضرت سیدنا  عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل مقدس  اور آنحضرت محمد ﷺقرآن مجید کے ساتھ اس سلسلہ  نبوت کے خاتم ہیں۔

عیسائیت کے بنیادی عقائدمیں بھی انبیاء و رسل پر ایمان رکھنا ضروری   ہے۔بائبل مقدس میں  متعدد بار رسولوں پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ کے رضا و خوشنودی اور کامیابی کا موجب قرار دیا ہے۔

“Believe in the LORD your God, so shall ye be established; believe his prophets, so shall ye prosper”.   

( 2 Chronicles 20:20)

          ترجمہ:

            رب اپنے خدا پر بھروسا رکھیں تو آپ قائم رہیں گے۔ اُس کے نبیوں کی باتوں کا یقین کریں تو آپ کو کامیابی حاصل ہو گی۔

بائبل مقدس میں متعدد انبیاء کرام کے واقعات بالاسماء درج ہیں حضرت موسیٰ ،ؑ عیسیٰؑ ، داؤد ؑ،  ابراھیمؑ، اسماعیل ؑاور دیگر انبیاء کرام اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کرآئے۔

·       آخرت  :

موت ایک عالمی سچ ہے جس اس کائنات میں ہر نظروفکر رکھنے والا شخص بلاتشکیک تسلیم کرتا ہے ۔البتہ مرنے کے بعد مختلف مذاہب میں آخرت کا تصور الگ ہے۔ یہاں اسلام اور عیسائیت کا تصور آخرت درج ذیل ہے۔

 اسلام کا تصور آخرت:

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

            كُلُّ نَفْسٍۢ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ ۗ

ترجمہ:

          ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔

آخرت پرایمان لانا مسلمان کے بنیادی عقائد میں شامل ہے "یوم آخرت " سے مراد روز قیامت ہے۔اس دن لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب اور جزا کے لیے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔اس دن کا نام "یوم آخرت" اس لیے ہے کہ اس کے بعد کوئی دوسرا دن نہ ہو،کیونکہ تمام اہل جنت اور جہنم اپنے اپنے ٹھکانوں میں قرار پا چکے ہوں گے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
كَمَا بَدَأْنَآ أَوَّلَ خَلْقٍۢ نُّعِيدُهُۥ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَآ ۚ إِنَّا كُنَّا فَٰعِلِينَ ﴿104﴾
ترجمہ:

جس طرح ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا دوبارہ بھی پیدا کریں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے بے شک ہم پورا کرنے والے ہیں

 (سورۃ الانبیاء،آیت104 )

عیسائیت میں تصور آخرت:

            عیسائیت چونکہ ایک الہامی مذہب ہےاسلیئے اسلامی عقائد اور عیسائیت کے  کافی اعتقادات میں ہم اہنگی پائی جاتی ہے۔ آخرت کے متعلق بایبل میں

 John 6:40 

For this is the will of my Father, that everyone who looks on the Son and believes in him should have eternal life, and I will raise him up on the last day.”

 

 

ترجمہ:

کِیُونکہ کہ میرے باپ کی مرضی یہ ہے کہ جو کوئی بَیٹے کو دیکھے اور اُس پر اِیمان لائے ہمیشہ کی زِندگی پائے اور مَیں اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں۔

اسی طرح ایک اور جگہ بائبل میں آتا ہے۔

John 11:24 

Martha said to him, “I know that he will rise again in the resurrection on the last day.”

ترجمہ:

            مرتھا نے اُس سے کہا : مَیں جانتی ہُوں کہ قِیامت(آخِری دِن)   یہ  جی اُٹھے گا۔

 

·       شیطان/ابلیس : Devil

لفط ”شیطان “مادہ ”شطن “سے ہے اور” شاطن “کے معنی ہیں ”خبیث وپست “اور شیطا ن وجود سرکش و متمرد کو کہاجاتا ہے چاہے وہ انسان ہو یاجن یاکوئی اور حرکت کر نے والی چیز۔رو ح شریر اور حق سے دور کو بھی شیطان کہتے ہیں جو حقیقت میں ایک قدر مشترک رکھتے ہیں     

شیطان ہر موذی ،گمراہ ،باغی اور سرکش کو کہتے ہیں وہ ا نسان ہو یاغیر انسان لیکن ابلیس اس شیطان کانام ہے جس نے آدم کو ورغلایاتھا اور اس وقت بھی وہ اپنے لاوٴ لشکرکے ساتھ اولاد آدم کے شکار کے لئے متحرک ہے ۔

قرآن میں اس لفظ کے استعمال کے مواقع سے معلو م ہو جاتا ہے کہ شیطان موذی و مضر چیز کو کہتے ہیں ۔جو راہ راست سے ہٹ چکاہو،جو دوسروں کو آزار پہنچانے کے درپے ہو ،اختلا ف اور تفرقہ پیدا کرنا جس کی کو شش ہو اور جو اختلاف وفساد کو ہوا دیتا ہو ،جیسا قرآن میں ہے :

انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوةوالبغضاء

ترجمہ:

شیطا ن چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی ، بغض اورکینہ پیدا کرے ۔ (مائدہ،۹۱)

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں  کئی مقامات پر شیطان کی عداوت اور دشمنی کی پہچان کروائی ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ لوگ شیطان کے دشمن ہونے پر ایمان لائیں  اور ا س کے شر سے بچنے کی کوشش کریں 

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ

ترجمہ: بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

اسی  طرح عیسائیت میں بھی شیطان کو

"Whoever makes a practice of sinning is of the devil, for the devil has been sinning from the beginning. The reason the Son of God appeared was to destroy the works of the devil." 1 John 3:8 ESV

ترجمہ:

جو کوئی گناہ کرنے کی مشق کرتا ہے وہ شیطان سے ہے، کیونکہ شیطان شروع سے ہی گناہ کرتا رہا ہے۔ خدا کے بیٹے کے ظاہر ہونے کی وجہ شیطان کے کاموں کو تباہ کرنا تھا۔


Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post