توحید، معرفتِ الٰہی اور قدرتِ خداوندی

انسان جب آسمان کی وسعت، زمین کی ساخت، رات اور دن کی آمدورفت، بارش کی بوندوں، زندگی کے بے شمار رنگوں اور اپنے وجود کی پیچیدگی پر غور کرتا ہے تو اس کے سامنے صرف ایک حیرت انگیز دنیا نہیں آتی، بلکہ کئی بنیادی سوال بھی جنم لیتے ہیں: یہ سب کس نے پیدا کیا؟ اس منظم نظام کے پیچھے کیا حکمت ہے؟ خود انسان کا مقصدِ زندگی کیا ہے؟

قرآن مجید انسان کو انہی سوالات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ اسے کائنات سے آنکھیں بند کرنے کے بجائے آنکھیں کھول کر دیکھنے، عقل سے سوچنے اور اپنے خالق کو پہچاننے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اسی غور و فکر کا مرکزی نتیجہ توحید ہے: اس پوری کائنات کا حقیقی خالق، مالک اور معبود صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

توحید: ایمان کی بنیاد

قرآن مجید اعلان کرتا ہے:

وَإِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ(البقرۃ 2:163)
"
اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ نہایت مہربان، بے حد رحم فرمانے والا ہے۔"

توحید کا مطلب محض یہ مان لینا نہیں کہ خدا ایک ہے۔ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ عبادت اسی کے لیے ہو، حقیقی بھروسا اسی پر ہو اور انسان اپنے آخری جواب دہ ہونے کو اسی کے سامنے محسوس کرے۔

یہ یقین انسان کے اندر ایک خاص آزادی پیدا کرتا ہے۔ جو شخص سمجھتا ہے کہ اصل اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، وہ ہر طاقتور انسان کے سامنے بے جا جھکنے سے بچتا ہے۔ وہ توہمات، باطل خدشات اور مخلوق کی غیر ضروری ہیبت سے آزاد ہونے لگتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ رزق، زندگی اور موت کے فیصلے کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں۔

لیکن توحید انسان کو بے عمل نہیں بناتی۔ اللہ پر بھروسا کرنے والا شخص اسباب اختیار کرتا ہے، محنت کرتا ہے، علاج کراتا ہے، منصوبہ بناتا ہے اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کرتا ہے۔

کائنات: معرفتِ الٰہی کی ایک کھلی کتاب

قرآن انسان کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا احاطہ کرنے کا دعویٰ نہیں سکھاتا۔ انسانی عقل محدود ہے، جبکہ اللہ کی ذات اور اس کی صفات انسانی ادراک سے کہیں بلند ہیں۔ قرآن ہمیں اس کی ذات کی حقیقت میں بے مقصد الجھانے کے بجائے اس کی صفات، اس کی وحی اور اس کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اسی لیے سورۃ البقرۃ میں توحید کے بیان کے فوراً بعد کائنات کی متعدد نشانیوں کا ذکر آتا ہے:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ... لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ(البقرۃ 2:164)
"
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات اور دن کے باہم بدلنے... میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"
آسمان و زمین، رات اور دن، بارش، ہوائیں، سمندر، انسان اور دوسرے جاندار—یہ سب قرآن کے نزدیک محض دیکھنے کی چیزیں نہیں بلکہ نشانات ہیں۔

سورۃ آل عمران میں یہی کیفیت اولوالالباب کے بارے میں بیان ہوئی ہے:

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ(آل عمران 3:191)
یہاں ذکر اور فکر ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ زبان اللہ کو یاد کرتی ہے اور عقل اس کی مخلوق میں غور کرتی ہے۔

قدرت کے نظام کو سمجھنا بھی غور و فکر کا حصہ ہے

قرآن نے کائنات میں غور کی دعوت دی ہے، اس لیے قدرتی دنیا کا مطالعہ دین سے متصادم نہیں۔ فلکیات، موسمیات، حیاتیات اور دوسرے علوم ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ دنیا کے مختلف مظاہر کس طرح وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

مثلاً زمین اپنے محور کے گرد گردش کرتی ہے اور اس کا محوری جھکاؤ موسموں کے نظام میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ زمین کا ایک شمسی دن تقریباً 24 گھنٹے کا ہوتا ہے، جبکہ اس کا محوری جھکاؤ تقریباً 23.4 درجے ہے۔

یہ معلومات اپنی جگہ سائنسی حقائق ہیں۔ ان سے قرآن کی ہر آیت میں کوئی مخصوص سائنسی فارمولہ تلاش کرنا ضروری نہیں۔ قرآن کا بنیادی مقصد انسان کو ہدایت دینا ہے، فلکیات یا طبیعیات کی نصابی کتاب فراہم کرنا نہیں۔

یہ فرق برقرار رکھنا بہت اہم ہے۔ اگر کسی عارضی سائنسی نظریے کو قرآن کی قطعی تفسیر بنا دیا جائے اور بعد میں وہ نظریہ تبدیل ہو جائے تو غیر ضروری مشکل پیدا ہوتی ہے۔ قرآن کی ہدایت کو مضبوط رکھنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ثابت شدہ علمی حقائق کو ان آیات کے ساتھ تدبر کے معاون کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ آیات کے معنی کا واحد معیار بنایا جائے۔

بارش: ایک نعمت، ایک نظام

بارش قرآن مجید میں بار بار اللہ تعالیٰ کی نعمت اور قدرت کی نشانی کے طور پر سامنے آتی ہے۔ انسان کے لیے پانی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے اور زمین پر زندگی کے بہت سے نظام براہِ راست یا بالواسطہ پانی سے وابستہ ہیں۔

جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ پانی بخارات بن کر فضا میں جاتا ہے، پھر مناسب حالات میں تکاثف کے ذریعے بادل بنتے ہیں اور بارش کے ذریعے پانی دوبارہ زمین تک پہنچتا ہے۔ اس کے بعد پانی دریاؤں، جھیلوں، مٹی، زیرِ زمین ذخائر اور دوسرے راستوں سے گردش کرتا رہتا ہے۔

یہ طبیعی وضاحت اللہ تعالیٰ کو نظامِ کائنات سے خارج نہیں کرتی۔ سوال یہ نہیں کہ بارش کیسے ہوتی ہے اور اس لیے اللہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں؛ بلکہ ایک مسلمان اسباب کے نظام کو سمجھتے ہوئے یہ بھی پوچھتا ہے کہ یہ قابلِ فہم نظام، اس کے قوانین اور اس میں زندگی کے لیے موجود امکانات آخر کس کے پیدا کردہ ہیں؟

سبب کو ماننا مسبب کو جھٹلانا نہیں۔

انسان دوا لیتا ہے، لیکن شفا اللہ دیتا ہے۔ کسان زمین میں بیج ڈالتا ہے، لیکن اس بیج کے اندر زندگی کی صلاحیت کس نے رکھی؟ ماہرِ موسمیات بارش کے امکانات کا اندازہ لگاتا ہے، لیکن بارش کے پورے نظام کو وجود کس نے بخشا؟

یہی وہ مقام ہے جہاں علم انسان کو غرور کے بجائے شکر تک پہنچا سکتا ہے۔

قدرت اور اسباب میں کوئی تضاد نہیں

اسلام انسان کو دنیا کے اسباب سے کنارہ کش ہونے کا حکم نہیں دیتا۔ نوح علیہ السلام کے واقعے میں کشتی بنانا بھی ہے اور اللہ کی ہدایت بھی۔ انسان کوشش کرتا ہے، لیکن اپنی کوشش کو خدا کا متبادل نہیں بناتا۔

کشتی کا پانی پر تیرنا طبیعی قوانین کے مطابق ہے۔ اس کا تعلق اس کی ساخت، حجم، کثافت اور پانی کے ابھار سے ہے۔ لیکن ان قوانین کی دریافت اللہ کی قدرت کی نفی نہیں کرتی۔

اسی طرح ایک ڈاکٹر بیماری کے جسمانی اسباب تلاش کرتا ہے۔ دوا کی کیمیائی تاثیر بھی ہوتی ہے۔ لیکن ایک مسلمان کے لیے یہ سب اسباب ہیں، مستقل بالذات طاقتیں نہیں۔

یہ تصور انسان کو دو انتہاؤں سے بچاتا ہے: ایک طرف اسباب کو خدا کا متبادل سمجھنے سے اور دوسری طرف اسباب کو نظر انداز کرکے بے عملی اختیار کرنے سے۔

انگلیوں کے نشانات: انسانی انفرادیت کی ایک مثال

انسانی جسم میں انفرادیت کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ انگلیوں کے نشانات ان میں سے ایک نمایاں مثال ہیں۔ جدید forensic science میں fingerprints انسانی شناخت کے لیے اہم شواہد میں شمار ہوتے ہیں۔ انگلیوں کی سطح پر موجود ridge patterns افراد میں امتیاز پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں اور عام حالات میں طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔

قرآن مجید قیامت کے منکر انسان کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے:

بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ(القیامۃ 75:4)
"
کیوں نہیں، ہم تو اس کی انگلیوں کے پور تک درست کرنے پر قادر ہیں۔"

آیت کا اصل موضوع قیامت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر اللہ کی قدرت ہے۔ انگلیوں کے پور کا ذکر انسانی جسم کی باریک ساخت اور اللہ کی قدرت کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔

البتہ یہاں بھی مبالغے سے بچنا چاہیے۔ یہ کہنا کہ قرآن نے جدید fingerprint technology کا مکمل سائنسی نظریہ بیان کر دیا تھا، آیت کے اصل سیاق سے آگے بڑھنا ہے۔ زیادہ مضبوط بات یہ ہے کہ انسانی جسم کی باریک انفرادیت انسان کو دوبارہ اللہ کی قدرت پر غور کرنے کا موقع دیتی ہے۔

توحید کا اصل امتحان کردار میں ہے

اگر توحید صرف زبان کا اقرار بن کر رہ جائے اور انسان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو اس کے عملی اثرات ظاہر نہیں ہوتے۔

ایک خدا کو ماننے کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اپنے لیے ایک ہی اخلاقی معیار تسلیم کرے۔ وہ گھر میں کچھ اور، کاروبار میں کچھ اور اور تنہائی میں کچھ اور نہ ہو۔ اسے معلوم ہو کہ لوگوں کی نظروں سے چھپ جانا اللہ کی نظر سے چھپ جانا نہیں۔

یہ احساس امانت داری پیدا کرتا ہے۔

وعدہ پورا کرنا، حلال کمائی کی کوشش کرنا، کمزور کے ساتھ رحم کرنا، کسی کا حق نہ مارنا، تنہائی میں بھی گناہ سے بچنا—یہ سب توحید کے عملی ثمرات ہیں۔

ایک شخص اگر اللہ کو رب العالمین مانتا ہے تو اس کے لیے دنیا محض استعمال اور استحصال کی جگہ نہیں رہتی۔ اسے زمین، پانی، جانوروں اور قدرتی وسائل کے بارے میں بھی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔

توحید انسان کو مالک نہیں، امانت دار بناتی ہے

انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی طاقت میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ اس نے سمندروں کا سفر آسان کیا، فضا کو مسخر کیا، بیماریوں کے علاج دریافت کیے اور بے شمار قدرتی وسائل استعمال کرنا سیکھے۔

لیکن یہ طاقت انسان کو کائنات کا مالکِ مطلق نہیں بناتی۔

سیلاب، خشک سالی، زلزلے، بیماری اور دوسری قدرتی تبدیلیاں اسے بار بار اس کی حدود یاد دلاتی ہیں۔ انسان کو اختیار ضرور دیا گیا ہے، مگر اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی ہے۔

اسی احساس سے ایک اسلامی ماحولیاتی اخلاق جنم لیتا ہے: پانی ضائع نہ کیا جائے، زمین کو بلا ضرورت خراب نہ کیا جائے، جانوروں کے ساتھ ظلم نہ ہو اور قدرتی وسائل کو بے دریغ استعمال نہ کیا جائے۔

قرآن کہتا ہے:

وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا(الاعراف 7:56)
"
اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ پھیلاؤ۔"
یہ آیت ماحولیات کی کوئی جدید درسی کتاب نہیں، لیکن زمین کے ساتھ ذمہ دارانہ رویے کے لیے ایک اہم اخلاقی اصول ضرور فراہم کرتی ہے۔

آفاق سے انفس تک

قرآن کبھی انسان کو آسمان کی طرف متوجہ کرتا ہے اور کبھی خود انسان کے وجود کی طرف۔

وہ آسمان و زمین، رات و دن، سمندر، بارش، ہواؤں اور بادلوں کا ذکر کرتا ہے، پھر انسان کو اس کی اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کا استدلال محض فلسفیانہ بحث نہیں۔ وہ انسان سے کہتا ہے کہ اپنے اردگرد دیکھو، اپنے اندر دیکھو اور پھر سوچو۔

سورۃ ص میں مشرکین کا اعتراض نقل کیا گیا:

أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ(ص 38:5)
"
کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا دیا؟ بے شک یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔"

توحید کا پیغام اسی بنیادی سوال کو چیلنج کرتا ہے کہ کیا اس منظم کائنات کے پیچھے متعدد مستقل خدائی طاقتیں ہیں، یا ایک ہی خالق و مالک ہے؟قرآن کا جواب واضح ہے: معبود ایک ہے۔

علم اگر عاجزی نہ دے تو ادھورا ہے

کائنات کا مطالعہ انسان کو دو مختلف راستوں پر لے جا سکتا ہے۔ ایک راستہ اسے غرور کی طرف لے جاتا ہے کہ اس نے بہت کچھ جان لیا ہے؛ دوسرا اسے عاجزی کی طرف لے جاتا ہے کہ جس کائنات کا ایک معمولی حصہ بھی پوری طرح سمجھنا مشکل ہے، اس کا خالق کس قدر عظیم ہوگا۔

قرآن کے نزدیک علم کا مقصد صرف معلومات میں اضافہ نہیں۔ علم انسان کے اندر خشیت، شکر اور ذمہ داری بھی پیدا کرے۔

اسی لیے قرآن کے اہلِ علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ(فاطر 35:28)
"
اللہ کے بندوں میں سے وہی لوگ اس سے حقیقی طور پر ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔"
یہاں علم اور اخلاق کا تعلق نمایاں ہوجاتا ہے۔جتنا انسان حقیقت کو سمجھتا جائے، اتنا ہی اسے اپنے محدود ہونے کا احساس بھی ہونا چاہیے۔

توحید: حیرت سے ذمہ داری تک

کائنات کو دیکھ کر حیران ہونا آغاز ہے، اختتام نہیں۔

بارش دیکھ کر صرف یہ جان لینا کہ پانی بخارات، تکاثف اور بارش کے مراحل سے گزرتا ہے، سائنسی معلومات ہے۔ اسی بارش کو اللہ کی نعمت سمجھ کر پانی کی قدر کرنا، اس کا ضیاع روکنا اور ضرورت مند کے ساتھ پانی بانٹنا اخلاقی شعور ہے۔

ستاروں کا مطالعہ علم ہے؛ ان کے خالق کو یاد کرنا معرفت ہے۔

انسانی جسم کی پیچیدگی کو سمجھنا سائنس ہے؛ اپنی صحت کو اللہ کی امانت سمجھنا شکر ہے۔

قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانا انسانی ضرورت ہے؛ انہیں ذمہ داری سے استعمال کرنا اخلاق ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں علم، ایمان اور عمل ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔

زندگی کے لیے چند عملی سبق

توحید اور قدرتِ الٰہی کی یہ بحث صرف کتاب کے صفحات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اس کے چند سادہ عملی اثرات ہماری روزمرہ زندگی میں ظاہر ہوسکتے ہیں:

  • روزانہ کسی ایک نعمت پر شعوری طور پر اللہ کا شکر ادا کریں۔
  • پانی، بجلی اور دوسری نعمتوں کو بلا ضرورت ضائع نہ کریں۔
  • کسی غیر ثابت شدہ سائنسی دعوے کو صرف اس لیے آگے نہ پھیلائیں کہ وہ مذہبی تصور کے موافق دکھائی دیتا ہے۔
  • قرآن کی آیات کو ان کے سیاق و سباق کے ساتھ پڑھیں۔
  • علم کو دوسروں پر برتری کا ذریعہ بنانے کے بجائے خدمت کا وسیلہ بنائیں۔
  • اسباب اختیار کریں، مگر دل کا آخری بھروسا اللہ پر رکھیں۔
  • قدرت کو صرف استعمال کرنے کی چیز نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھیں۔

اختتامیہ

توحید کا پیغام صرف یہ نہیں کہ "اللہ ایک ہے"؛ بلکہ یہ بھی ہے کہ پوری زندگی اسی ایک رب کے سامنے جواب دہ ہے۔

کائنات ہمیں اس کی قدرت کی نشانیاں دکھاتی ہے، وحی ہمیں اس کی معرفت کا راستہ بتاتی ہے، عقل ان نشانیوں پر غور کرتی ہے اور ایمان انسان کو عمل کی طرف لے جاتا ہے۔

قرآن ہمیں نہ تو علم سے دور کرتا ہے اور نہ ہر سائنسی دریافت کو آیات کا پوشیدہ مطلب قرار دینے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کا راستہ زیادہ متوازن ہے: کائنات کو دیکھو، عقل سے سوچو، وحی سے رہنمائی لو اور پھر اپنے کردار کو درست کرو۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان قدرت کے کتنے راز جان لیتا ہے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ان رازوں کے سامنے اس کا دل کتنا جھکتا ہے اور اس کا کردار کتنا سنورتا ہے۔

کائنات کی نشانیاں اگر انسان کو شکر، عاجزی، توکل، امانت اور ذمہ داری تک پہنچا دیں تو علم بھی عبادت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔

اور یہی توحید کا ایک عظیم عملی اثر ہے:

انسان کائنات کو دیکھتے ہوئے خالق کو پہچانے، خالق کو پہچانتے ہوئے اپنی حقیقت سمجھے، اور اپنی حقیقت سمجھ کر اپنی زندگی کو ذمہ داری کے ساتھ گزارے۔

بنیادی مراجع

  • القرآن الکریم: البقرۃ 2:163–164
  • القرآن الکریم: آل عمران 3:190–191
  • القرآن الکریم: القیامۃ 75:3–4
  • القرآن الکریم: ص 38:5
  • القرآن الکریم: الاعراف 7:56
  • القرآن الکریم: فاطر 35:28
  • القرآن الکریم: یٰس 36:33–40
  • تفسیر الطبری
  • تفسیر ابن کثیر
  • NASA، Earth Science resources
  • U.S. Geological Survey، Water Cycle resources
  • NIST، fingerprint-recognition research

 


 

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post