فتن و ملاحم — روایت اور حقیقت

مصر، شام، فارس، خراسان اور آبنائے ہرمز سے متعلق مشہور اخبار کی وضاحت

فتن و ملاحم اور قیامت کی علامات کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں ایک اہم موضوع ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو آنے والے بعض بڑے فتنوں، آزمائشوں اور اہم واقعات سے آگاہ فرمایا، تاکہ مسلمان غفلت میں نہ رہیں، اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھیں۔ نیز یہ بھی بتایا کہ جب فتنے رونما ہوں تو مسلمان اس دور میں کس طرح زندگی گزاریں، اپنے ایمان و دین کی حفاظت کیسے کریں اور فتنوں اور ان کے شر سے کس طرح محفوظ رہیں۔ ان احادیث کا مقصد فتنے کے وقت حق کو پہچاننا، صحیح طرزِ عمل اختیار کرنا اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھنا ہے۔

فتن کے باب میں بہت سی باتیں مشہور ہیں۔ بعض صحیح احادیث میں موجود ہیں، بعض حسن یا ضعیف روایات میں ملتی ہیں، بعض صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعینِ عظام رحمہم اللہ تعالیٰ کے آثار ہیں، جبکہ بعض باتوں کا حدیث کی معتبر کتابوں میں واضح ثبوت نہیں ملتا۔ اس لیے ہر مشہور بات یا واقعے کو رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی قرار دینا یا اسے احادیثِ نبویہ کا مصداق سمجھ لینا درست نہیں۔ کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر بات ہمارے لیے سراپا صدق و یقین ہے۔ آپ ﷺ نے جو خبر دی وہ حق ہے، لیکن محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کی طرف صرف وہی بات منسوب کی جائے جو واقعی آپ ﷺ سے ثابت ہو۔ آپ ﷺ کے ارشاد میں اپنی طرف سے کوئی لفظ، واقعہ یا تعبیر بغیر ثبوت اور دلیل کے شامل کرنا درست نہیں۔

دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں بعض واقعات کسی قدیم روایت سے بظاہر مشابہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن صرف مشابہت سے یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ یہی وہ واقعہ ہے جس کی رسول اللہ ﷺنے خبر دی تھی۔ حدیث کا موجود ہونا ایک بات ہے اور کسی موجودہ واقعے کو اس کا مصداق قرار دینا دوسری بات۔اس کے لئے دلیل و قرائن درکار ہیں۔

اسی لیے مصر، شام، زرد اور سیاہ جھنڈوں، فارس، خراسان، مشرقی سمندر، آبنائے ہرمز، ایران، اصفہان، تہران، عرب اور بیت المقدس سے متعلق مشہور باتوں کو اصل روایات کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔ اگر کسی روایت میں مصر کا ذکر ہے تو اس کے اصل الفاظ دیکھے جائیں؛ اگر شام کے جھنڈوں کا ذکر ہے تو اسے مصر کے جھنڈوں سے نہ ملایا جائے؛ اگر مشرقی سمندر کا ذکر ہے تو یہ الگ سوال ہے کہ کیا اسے لازماً آبنائے ہرمز کہا جاسکتا ہے؛ اور فارس کے ذکر سے موجودہ ایران کے کسی خاص شہر کو قطعی مصداق قرار دینا بھی ایک الگ دعویٰ ہے۔

اسی طرح شام کی موجودہ جنگ، مہاجرین، شہداء اور یتیم بچوں کی تعداد کو کسی حدیث سے جوڑنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ اعداد خود حدیث میں ہیں یا بعد کی تعبیر ہیں۔ مصر میں پیلے جھنڈوں اور شام میں زیرِ زمین بنکر بنانے کی بات، نیز ایران، اصفہان، تہران اور بندر کی تباہی کے دعوے بھی اسی طرح اصل روایت کے الفاظ سے پرکھے جائیں گے۔

یہ احتیاط احادیثِ فتن و ملاحم کی اہمیت کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ان کی حفاظت کے لیے ہے۔ صحیح حدیث کو صحیح، حسن کو حسن، ضعیف کو ضعیف اور صحابی یا تابعی کے قول کو اثر ہی کہا جائے گا؛ اور جس بات کا معتبر ثبوت نہ ہو اسے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں کہا جائے گا۔ ہمیں ان روایات کو سنسنی اور خوف کے بجائے ایمان کی حفاظت، عبرت، بیداری اور اصلاح کے لیے پڑھنا چاہیے۔

مصر کے بارے میں کیا فرمایا گیا ہے؟

مصر کے بارے میں ایک صحیح حدیث موجود ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  نے فرمایا:

مَنَعَتِ الْعِرَاقُ دِرْهَمَهَا وَقَفِيزَهَا، وَمَنَعَتِ الشَّأْمُ مُدْيَهَا وَدِينَارَهَا، وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا، وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ

"عراق اپنے درہم (چاندی کا اُس زمانے کا سکہ) اور اپنے قفیز (غلّے یا اناج کی ایک قدیم پیمائش) کو روک دے گا، شام اپنی مُدّ (غلّے وغیرہ کی ایک قدیم پیمائش) اور دینار (سونے کا سکہ) کو روک دے گا، اور مصر اپنا اِردب (غلّے کی ایک  قدیم پیمائش) اور دینار روک دے گا، اور تم اسی حالت کی طرف لوٹ آؤ گے جہاں سے تم نے ابتدا کی تھی۔"( صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، حدیث 2896)

یہ حدیث بالکل واضح ہے، لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ "دنیا کی تباہی سب سے پہلے مصر سے شروع ہوگی۔" اس لیے مصر کے بارے میں یہ بات کہ دنیا کی تباہی لازماً مصر سے شروع ہوگی، اس  حدیث مبارکہ سے ثابت نہیں ہوتی۔

البتہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک قول منقول ہے: أَمَا إِنَّهَا أَوَّلُ الْأَرْضِ خَرَابًا، ثُمَّ أَرْمِينِيَةُ"خبردار! یہ سب سے پہلے خراب ہونے والی سرزمین ہوگی، پھر ارمینیہ۔"جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے یہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  سے سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:لَا۔یعنی "نہیں۔" (المستدرك على الصحيحين، حدیث 8558)

اس لیے اسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  کی حدیث کہنا درست نہیں؛ یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔اسی طرح مصر کے خراب ہونے اور نیل کے خشک ہونے کے بارے میں بھی ایک عبارت بعض کتابوں میں منقول ہے:وَخَرَابُ مِصْرَ مِنْ جَفَافِ النِّيلِ۔"مصر کی خرابی نیل کے خشک ہونے سے ہوگی۔"

لیکن اسے  مرفوع حدیث کے طور پر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔لہٰذا مصر کے بارے میں صحیح بات یہی ہے کہ مصر کا ذکر  حدیث مبارکہ میں موجود ہے، لیکن "دنیا کی تباہی سب سے پہلے مصر سے شروع ہوگی" کو حدیث رسول   صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم   قرار نہیں دیا جاسکتا۔

کیا مصر میں پیلے یا زرد جھنڈے نکلیں گے؟

اس بارے میں جو عبارت مشہور ہے وہ یہ ہے:إِذَا الْتَقَتِ الرَّايَاتُ السُّودُ وَالرَّايَاتُ الصُّفْرُ فِي سُرَّةِ الشَّامِ فَبَطْنُ الْأَرْضِ خَيْرٌ مِنْ ظَهْرِهَا

"جب سیاہ اور زرد جھنڈے شام کے وسط میں آپس میں ملیں گے تو زمین کا اندرونی حصہ اس کی سطح سے بہتر ہوگا۔"( نعیم بن حماد، کتاب الفتن، اثر 792)

یہ عبارت موجود ہے، لیکن اسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  کی صحیح حدیث نہیں کہا جاسکتا۔ یہ کعب الاحبار کا قول ہے۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اصل عبارت میں مصر کا ذکر نہیں بلکہ "سُرَّةُ الشام" یعنی شام کے وسط کا ذکر ہے۔لہٰذا یہ کہنا کہ:"جب مصر میں پیلے جھنڈے نکلیں تو شام میں زیرِ زمین بنکر بنا لو"حدیث کے الفاظ نہیں ہیں۔

یہ ایک بعد کی تعبیر یا موجودہ حالات کے تناظر میں دیا گیا مشورہ ہوسکتا ہے، لیکن اسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  کی حدیث کہہ کر بیان کرنا درست نہیں۔

شام کے بارے میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  کی احادیث

شام کے بارے میں احادیث میں بہت اہم فضیلت اور آخری زمانے سے متعلق بعض روایات موجود ہیں۔ حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  نے فرمایا: سَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَى أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً، جُنْدٌ بِالشَّامِ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ پھر فرمایا:عَلَيْكَ بِالشَّامِ، فَإِنَّهَا خِيَرَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ۔"عنقریب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا کہ تم مختلف لشکروں میں تقسیم ہوجاؤ گے؛ ایک لشکر شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں ہوگا۔ تم شام کو لازم پکڑو، کیونکہ وہ اللہ کی زمین میں اس کی منتخب سرزمین ہے۔"( سنن ابی داود، کتاب الجهاد، حدیث 2483؛ مسند احمد، حدیث 17005)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شام کی اہمیت کے بارے میں واقعی معتبر حدیث موجود ہے۔ اسی طرح بڑی جنگ کے زمانے میں شام کے علاقے کا ذکر ایک حدیث میں آیا ہے۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺنے فرمایا:إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ، إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ"بڑی جنگ کے دن مسلمانوں کا مرکز غوطہ میں ہوگا، ایک شہر کے قریب جسے دمشق کہا جاتا ہے۔" ( سنن ابی داود، کتاب الملاحم، حدیث 4298)

اور صحیح مسلم کی ایک طویل حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں دمشق کا ذکر بھی آتا ہے:

عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ "دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس۔"( صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، حدیث 2937)

یہ احادیث شام کی اہمیت کو ضرور واضح کرتی ہیں، لیکن شام کے موجودہ حالات کے بارے میں 60 لاکھ مہاجر، 6 لاکھ مقتول اور 10 لاکھ یتیم ہونے کے اعداد حدیث کے الفاظ نہیں ہیں۔ یہ اگر موجودہ جنگ کے اعداد و شمار ہیں تو ان کا حوالہ الگ تاریخی یا شماریاتی ماخذ سے دینا ہوگا۔

 

آبنائے ہرمز، مشرقی سمندر اور ایران

یہ بات آج کل بہت زور سے بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  نے فرمایا تھا:"مشرقی سمندر بند ہوجائے گا، کشتیاں چلنا بند ہوجائیں گی، پھر ایران تباہ ہوجائے گا۔"یہ بات سننے میں چونکہ ایک بڑی پیش گوئی معلوم ہوتی ہے، اس لیے اس کی حقیقت جاننا بہت ضروری ہے۔

معتبر کتبِ حدیث میں آبنائے ہرمز کا نام لے کر اس طرح کی کوئی صحیح یا حسن مرفوع حدیث معلوم  نہیں ہے۔ صحیح مسلم میں عراق، شام اور مصر کے وسائل کے رکنے کا ذکر ضرور ہے، لیکن اس حدیث میں: آبنائے ہرمز، بندر عباس،بحری جہازوں کا رکنا،مشرقی سمندر کا بند ہونا،یا جدید ایران کی تباہی کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص اسے حدیث کہتا ہے تو اس سے اصل عربی متن، کتاب اور حدیث کا حوالہ پوچھنا چاہیے۔

فارس کے بارے میں ایک روایت

فارس کے بارے میں ایک روایت واقعی قدیم کتابوں میں ملتی ہے۔ اس کے الفاظ ہیں:فَارِسُ نَطْحَةٌ أَوْ نَطْحَتَانِ، ثُمَّ لَا فَارِسَ بَعْدَهَا أَبَدًا

"فارس ایک یا دو ضربوں کا شکار ہوگا، پھر اس کے بعد فارس باقی نہیں رہے گا۔"

یہ روایت: نعیم بن حماد، کتاب الفتن، حدیث 1346 اور مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث 19342 میں منقول ہے۔یہ روایت مرفوع تو ہے، لیکن مرسل اور ضعیف ہے؛ اسے صحیح حدیث قرار نہیں دیا جاسکتا۔( مرسل حدیث وہ ہے جس میں تابعی براہِ راست رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  سے حدیث روایت کرے، یعنی تابعی اور نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  کے درمیان صحابی کا واسطہ ذکر نہ کیا جائے۔)

اس لیے یہاں بھی انصاف کا راستہ یہی ہے کہ نہ اسے بالکل جھوٹ کہا جائے کہ ایسی کوئی روایت ہے ہی نہیں، اور نہ اسے صحیح حدیث قرار دیا جائے۔ بلکہ اتنا کہا جائے کہ فارس کے بارے میں یہ روایت موجود ہے، مگر ضعیف ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حدیث میں آنے والے قدیم لفظ "فارس" کو موجودہ سیاسی ریاست ایران کے تمام موجودہ جغرافیہ کے ساتھ لازماً ایک ہی چیز قرار دینا بھی احتیاط کا تقاضا رکھتا ہے۔

عربوں کے بارے میں قریب آنے والا شر

اس موضوع پر ایک حدیث موجود ہے۔حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  نے فرمایا:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ۔"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آچکا ہے۔"

صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا:أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟"کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے جبکہ ہمارے درمیان صالح لوگ بھی موجود ہوں گے؟"

آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  نے فرمایا: نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ"ہاں، جب برائی بہت زیادہ ہوجائے گی۔"( صحیح بخاری، حدیث 7059؛ صحیح مسلم، حدیث 2880)

یہ نہایت فکر انگیز حدیث ہے۔ لیکن اس میں ایران، پھر عرب، پھر کسی خاص ملک کی جنگی ترتیب بیان نہیں ہوئی۔

بیت المقدس، یثرب، بڑی جنگ، قسطنطنیہ اور دجال

اس سلسلے میں ایک مشہور روایت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ، وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ، وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ

"بیت المقدس کی آبادی یثرب کی خرابی کے وقت ہوگی، یثرب کی خرابی بڑی جنگ کے خروج کے وقت ہوگی، بڑی جنگ کا خروج قسطنطنیہ کی فتح کے وقت ہوگا، اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے خروج کے وقت ہوگی۔"( سنن ابی داود، حدیث 4294؛ مسند احمد، حدیث 22121)

اس روایت کی صحت کے بارے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ بعض اہلِ علم، خصوصاً علامہ البانی، نے اسے حسن قرار دیا، جبکہ بعض محدثین نے اس کی سند پر کلام کیا ہے۔

اس روایت کو موجودہ سیاسی حالات سے جوڑتے وقت بھی احتیاط ضروری ہے۔ اس میں موجودہ اسرائیلی ریاست، اس کی موجودہ سرحدوں یا مدینہ سے کسی مخصوص جدید علاقے تک اسرائیل کی حکومت کا ذکر نہیں ہے۔

80 جھنڈے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار

یہاں ایک بہت واضح صحیح حدیث موجود ہے جس میں ایک خاص عدد بیان ہوا ہے۔ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  نے قیامت سے پہلے کئی واقعات بیان فرمائے۔ ان میں بنی الاصفر کے ساتھ صلح اور پھر ان کی عہد شکنی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:فَيَغْدِرُونَ فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا"پھر وہ عہد شکنی کریں گے اور تمہارے مقابلے میں اسی جھنڈوں کے نیچے آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔"( صحیح بخاری، کتاب الجزية والموادعة، حدیث 3176)

یہاں حساب بہت آسان ہے:80 × 12,000 = 960,000یعنی کل تعداد:نو لاکھ ساٹھ ہزار۔

لہٰذا 57 لاکھ 70 ہزار کا عدد اس حدیث سے نہیں نکلتا۔ اگر کسی اور روایت سے یہ عدد لیا گیا ہے تو اس کا الگ حوالہ دینا ہوگا۔

خراسان کے سیاہ جھنڈے

خراسان سے سیاہ جھنڈوں کے نکلنے کے بارے میں روایات مشہور ہیں۔ایک روایت میں ہے:تَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ رَايَاتٌ سُودٌ، لَا يَرُدُّهَا شَيْءٌ حَتَّى تُنْصَبَ بِإِيلِيَاءَ "خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے، انہیں کوئی چیز واپس نہیں کرسکے گی یہاں تک کہ وہ ایلیاء میں نصب کیے جائیں گے۔"( جامع ترمذی، حدیث 2269)

یہ روایت موجود ہے، لیکن اس کی سند میں ضعف کی بات کی گئی ہے۔ اسی لیے خراسان کے سیاہ جھنڈوں والی روایات کو صحیح اور قطعی حدیث کے طور پر بیان کرنا درست نہیں۔

اسی طرح کسی موجودہ ملک، حکومت، فوج یا کسی موجودہ تنظیم کو قطعی طور پر ان سیاہ جھنڈوں کا مصداق قرار دینا بھی درست نہیں جب تک اس پر واضح دلیل موجود نہ ہو۔

اصفہان کے ستر ہزار افراد

اصفہان کے بارے میں ایک صحیح حدیث موجود ہے، لیکن اس کا مطلب وہ نہیں جو بعض تحریروں میں بیان کردیا جاتا ہے۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  نے فرمایا:يَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ يَهُودِ أَصْبَهَانَ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ الطَّيَالِسَةُ۔"دجال کی پیروی اصفہان کے یہودیوں میں سے ستر ہزار افراد کریں گے، جن پر طیالسہ (بڑی چادر یا اوڑھنی) ہوں گے۔"( صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة، حدیث 2944)

یہ حدیث صحیح ہے۔ لیکن حدیث میں "یہودِ اصفہان" ہے، نہ کہ "ایران کے ستر ہزار یہودی"۔ نیز اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ اصفہان تباہ ہوگا، نہ تہران کی تباہی کا ذکر ہے اور نہ بندر عباس کی تباہی کا۔ لہٰذا صحیح حدیث کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے جس حد تک رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  نے فرمایا ہے۔

تہران، بندر عباس اور ایران کی تباہی کے دعوے

آج بعض تحریروں میں اصفہان، تہران اور بندر عباس کے نام لے کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان شہروں کی تباہی کی پیش گوئی احادیث میں موجود ہے۔لیکن صحیح مسلم کی اصفہان والی حدیث میں صرف دجال کے ساتھ اصفہان کے ستر ہزار افراد کے اتباع کا ذکر ہے۔اس حدیث میں:تہران کی تباہی، بندر عباس کی تباہی یا اصفہان کی تباہی کا ذکر نہیں ہے۔اس لیے ان شہروں کے بارے میں اگر کوئی شخص رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  کی پیش گوئی بیان کرتا ہے تو اسے اصل عربی حدیث اور معتبر حوالہ پیش کرنا چاہیے۔

تو پھر اس پوری بات کو کیسے سمجھا جائے؟جب ہم ان تمام روایات کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں تویہ حقیقت سامنے آتی ہے: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  نے آخری زمانے کے فتنوں سے اپنی امت کو ضرور خبردار فرمایا ہے۔ جس میں  مصر، شام، عراق، عجم اور روم کے ذکر کے ساتھ عربوں پر آنے والے شر، بڑی جنگ، دجال اور قسطنطنیہ وغیرہ کے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔ خراسان اور سیاہ جھنڈوں کے بارے میں روایات بھی موجود ہیں۔ فارس کے بارے میں بھی ایک روایت منقول ہے۔ لیکن ان سب کو ملا کر ایک ایسی مسلسل داستان بنانا جس میں پہلے مصر تباہ ہو، پھر پیلے جھنڈے نکلیں، پھر شام میں بنکر بنیں، پھر ہرمز بند ہو، پھر ایران تباہ ہو، پھر عرب تباہ ہوں، پھر اسرائیل مدینہ کے اوپر تک حکومت کرے، پھر 57 لاکھ 70 ہزار فوج آئے اور آخر میں اصفہان، تہران اور بندر عباس تباہ ہوں، اس مکمل ترتیب کو رسول اللہ  ﷺ  کی ایک حدیث یا مکمل نبوی پیش گوئی کہنا درست نہیں۔ یہ مختلف احادیث، ضعیف روایات، آثار اور موجودہ حالات کی بعض تطبیقات کو آپس میں ملا کر بنائی گئی ایک تعبیر ہے۔


 

خلاصہ کلام:

آخر میں زیرِ بحث اہم باتوں کو بہت سادہ الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے:

مصر کے وسائل رکنے کا ذکر

صحیح حدیثصحیح مسلم 2896۔

مصر سب سے پہلے خراب ہوگا

حضرت ابو ہریرہؓ سے منقول قول، مرفوع حدیث نہیں۔

مصر کی خرابی نیل کے خشک ہونے سے

منقول ہے، لیکن صحیح مرفوع حدیث کے طور پر ثابت نہیں۔

مصر سے دنیا کی تباہی شروع ہوگی

صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

سیاہ اور زرد جھنڈے

روایت/اثر موجود ہے، مگر کعب الاحبار کا قول ہے، صحیح مرفوع حدیث نہیں۔

مصر میں پیلے جھنڈے

اس اثر کے اصل الفاظ سے ثابت نہیں۔

شام کی اہمیت

معتبر حدیثسنن ابی داود 2483۔

ملحمہ کے وقت غوطۂ دمشق

حدیثسنن ابی داود 4298۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دمشق کے مشرق میں نزول

صحیح حدیثصحیح مسلم 2937۔

شام کے 60 لاکھ مہاجر، 6 لاکھ مقتول اور 10 لاکھ یتیم

یہ اعداد حدیث کے الفاظ نہیں ہیں۔

آبنائے ہرمز بند ہونا

اس مخصوص شکل میں صحیح یا حسن حدیث ثابت نہیں۔

کشتیاں رکنا اور ایران تباہ ہونا

صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

فارس نطحة أو نطحتان

روایت موجود ہے، لیکن ضعیف/مرسل ہے۔

عربوں پر قریب آنے والا شر

صحیح حدیثصحیح بخاری 7059، صحیح مسلم 2880۔

بیت المقدس، یثرب، ملحمہ، قسطنطنیہ اور دجال

روایت موجود ہے، صحت میں اختلاف ہے سنن ابی داود 4294۔

80 جھنڈے، ہر جھنڈے کے نیچے 12 ہزار

صحیح حدیثصحیح بخاری 3176۔

کل تعداد: 80 × 12,000 = 9 لاکھ 60 ہزار

57 لاکھ 70 ہزار:اس حدیث سے ثابت نہیں۔

خراسان کے سیاہ جھنڈے

متعدد روایات موجود ہیں، مگر ضعف اور اختلاف پایا جاتا ہے۔

اصفہان کے 70 ہزار

صحیح حدیثصحیح مسلم 2944۔

اصفہان کی تباہی

صحیح مسلم 2944 میں نہیں۔

تہران اور بندر عباس کی تباہی

اس مضمون میں زیرِ بحث معتبر احادیث سے ثابت نہیں۔

نوٹ:

فتنوں کے زمانے میں سب سے بڑی ضرورت خوف پھیلانا نہیں بلکہ ایمان کو بچانا ہے۔ ہمیں آنے والے واقعات کی فکر ضرور ہونی چاہیے، لیکن اس سے بھی زیادہ اپنے آج کی فکر ہونی چاہیے۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  نے فتنوں کی خبر ہمیں اس لیے نہیں دی کہ ہم ہر نئے واقعے کو کسی حدیث پر چسپاں کرتے پھریں، بلکہ اس لیے کہ ہم فتنے کے وقت حق کو پہچانیں، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، نماز اور تقویٰ کو مضبوط پکڑیں اور افواہوں کے پیچھے نہ چلیں۔

دنیا میں حالات بدلتے رہتے ہیں۔ سلطنتیں آتی اور جاتی ہیں، شہر آباد ہوتے اور اجڑتے ہیں، جنگیں ہوتی ہیں اور ختم ہوجاتی ہیں۔ لیکن رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  کی بات ہمیشہ سچی ہے۔ اسی لیے آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم  کی طرف کسی بات کو منسوب کرتے ہوئے ہمیں بہت محتاط ہونا چاہیے۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post