حضور قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
تفکر جب گہرا ہوتا
ہے تو بجز اس کے ، کوئی بات سامنے نہیں آتی کہ ہر آدمی جنت اور دوزخ اپنے ساتھ لئے
پھرتا ہے۔ اس کا تعلق طرزِ فکر سے ہے۔ طرز فکر انبیاء کے مطابق ہے تو آدمی کی ساری
زندگی جنت ہے۔ طرز فکر میں ابلیسیت ہے تو تمام زندگی دوزخ ہے۔
حضور قلندر بابا
اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کا یہ ارشاد انسانی زندگی، ذہنی کیفیات اور روحانی حقیقت
کی ایک بہت گہری اور علمی بصیرت پر مبنی ہے۔
اس قول کی وضاحت
درج ذیل اہم نکات سے سمجھی جا سکتی ہے:
۱۔
تفکر کی گہرائی عام طور پر انسان حالات، واقعات اور چیزوں کو بظاہر
اور سطحی سطح پر دیکھتا ہے۔ لیکن جب انسان کا تفکر گہرا ہوتا ہے اور وہ کائنات و
انسانی نفس کے قوانین پر غور کرتا ہے، تو اسے یہ حقیقت نظر آتی ہے کہ انسان کا اصل
وجود اس کی داخلی دنیا (Inner Self) ہے۔
۲۔
جنت اور دوزخ کا ساتھ ہونا قلندر بابا اولیاءؒ یہ واضح فرما رہے ہیں
کہ جنت یا دوزخ صرف مرنے کے بعد کی کوئی جگہ نہیں ہے، بلکہ ان کی بنیاد انسان اس
دنیا میں اپنے ساتھ لے کر گھومتا ہے۔ انسان کا اپنا ذہن، اس کی نیتیں، جذبات اور
تصورات ہی اس کے لیے یہاں اور آگے چل کر راحت (جنت) یا عذاب (دوزخ) بنتے ہیں۔
۳۔
طرزِ فکر کی اہمیت انسان کی ہر بات، ہر عمل اور ہر ردِعمل کا
سرچشمہ اس کی "طرزِ فکر" (Pattern of Thought) ہے۔ انسان جس زاویہ نگاہ سے زندگی کو
دیکھتا ہے، وہی اس کا تجربہ بن جاتی ہے۔
- طرزِ فکرِ
انبیاء (جنت): انبیاء علیہ السلام کی طرزِ فکر کی
بنیاد توحید، رضا باللہ، محبت، خلوص، عفو و درگزر، سچائی اور بے لوث خدمت
پر ہوتی ہے۔ جب انسان اس طرزِ فکر کو اپناتا ہے:
- اس کے اندر
کا خوف اور غم ختم ہو جاتا ہے۔
- وہ ہر حال
میں پرسکون، اطمینانِ قلب اور شرح صدر محسوس کرتا ہے۔
- یہی داخلی
سکون اور اطمینانِ قلب اس دنیا میں "جنت" کی نقد حالت ہے۔
- طرزِ فکرِ
ابلیسی (دوزخ): ابلیسی طرزِ فکر کی بنیاد تکبر،
حسد، خودغرضی، حرص، کینہ، شک اور نا شکری پر ہوتی ہے۔ جب انسان اس فکری
سانچے میں ڈھلتا ہے:
- وہ ظاہری
طور پر کتنا ہی آسودہ کیوں نہ ہو، اس کا اندر حسد، جلن، اور بے چینی کی آگ
میں جلتا رہتا ہے۔
- وہ نہ خود
سکون پاتا ہے نہ دوسروں کو سکون دیتا ہے۔
- یہی اندرونی
کشمکش، بے وسعت اور ذہنی عذاب دراصل "دوزخ" کی وہ کیفیت ہے جو
انسان اپنے ساتھ اٹھائے پھرتا ہے۔
خلاصہ
انسانی زندگی کی کیفیت باہر کے حالات طے نہیں کرتے، بلکہ انسان کا داخلی رویہ اور
فکری ساخت طے کرتی ہے۔ اگر فکر میں انکساری، محبت اور خداترسی ہے تو انسان دنیا ہی
میں جنت کے سکون کا تجربہ کرتا ہے، اور اگر فکر میں حسد، تکبر اور مادہ پرستی ہے
تو انسان ہر وقت اپنے اندر دوزخ کی آگ لیے پھرتا ہے۔

Post a Comment