دل کی سختی سے موت کی یاد تک: دنیا کی محبت اور آخرت کی تیاری

دل کی زندگی آنسوؤں سے نہیں، اللہ کی محبت، اس کے خوف، توبہ اور بندوں کے ساتھ رحمت سے پہچانی جاتی ہے۔

انسان کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب ایک معمولی سی بات دل کے بند دروازوں پر دستک دیتی ہے۔ کبھی کسی جنازے کو دیکھ کر، کبھی کسی عزیز کی جدائی پر، کبھی قرآن کی کوئی آیت سن کر اور کبھی رات کی خاموشی میں اپنے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرکے دل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے۔ آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، دنیا کی رونقیں بے معنی محسوس ہونے لگتی ہیں اور انسان سوچتا ہے کہ جس زندگی کے لیے ہم دن رات دوڑ رہے ہیں، آخر اس کا انجام کیا ہے؟

لیکن افسوس کہ دل پر غفلت کی تہیں جم جائیں تو یہی مناظر ہمارے سامنے سے گزرتے رہتے ہیں اور ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جنازے اٹھتے ہیں، قبریں آباد ہوتی ہیں، جوان بوڑھے ہوجاتے ہیں، صحت کمزور پڑتی ہے، دوست احباب رخصت ہوجاتے ہیں، مگر انسان اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے کے لیے وقت نہیں نکالتا۔ گویا موت سب کے لیے حقیقت ہے، لیکن اپنے لیے ابھی ایک دور کا واقعہ!

اہلِ حکمت کا ایک مشہور مقولہ دل کی اسی کیفیت اور اس کے اسباب کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کرتا ہے:

«جُمُودُ الْعَيْنِ مِنْ قَسْوَةِ الْقَلْبِ، وَقَسْوَةُ الْقَلْبِ مِنْ كَثْرَةِ الذُّنُوبِ، وَكَثْرَةُ الذُّنُوبِ مِنْ نِسْيَانِ الْمَوْتِ، وَنِسْيَانُ الْمَوْتِ مِنْ طُولِ الْأَمَلِ، وَطُولُ الْأَمَلِ مِنْ حُبِّ الدُّنْيَا، وَحُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ»۔

مفہوم: آنکھوں کا خشک رہنا دل کی سختی سے، دل کی سختی گناہوں کی کثرت سے، گناہوں کی کثرت موت کو بھلا دینے سے، موت کو بھلا دینا لمبی امیدوں سے، لمبی امیدیں دنیا کی محبت سے، اور دنیا کی محبت خطاؤں کی ایک بڑی جڑ سے تعلق رکھتی ہے۔

یہ ایک معروف حکیمانہ کلام ہے۔جس کی بنیاد یہ روایت ہے:

امام بزارؒ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے:

«أَرْبَعَةٌ مِنَ الشَّقَاءِ: جُمُودُ الْعَيْنِ، وَقَسَاءُ الْقَلْبِ، وَطُولُ الْأَمَلِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الدُّنْيَا»۔( مسند البزار، رقم 6442، جلد 13، صفحہ 87–88۔)اس روایت کی صحت میں کلام ہے۔ لیکن اس کے مفہوم سے کوئی تعارض نہیں ۔

دل کی سختی اور آنکھوں کی خشکی

آنکھوں کے آنسو دل کی کیفیت کا اظہار ہوسکتے ہیں۔ کبھی کسی کی مظلومیت دیکھ کر آنکھیں بھر آتی ہیں، کبھی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کرکے دل شکر سے لبریز ہوجاتا ہے، کبھی اپنی کوتاہیوں کا احساس انسان کو رلا دیتا ہے اور کبھی آخرت کی فکر سے آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ یہ آنسو محض پانی کے قطرے نہیں رہتے، بلکہ دل کے اندر پیدا ہونے والی ندامت، محبت، خوف اور رحمت کی ترجمانی کرتے ہیں۔

اس کے برعکس، جب انسان دوسروں کے دکھ سے بے نیاز ہوجائے، گناہ پر اصرار کرے، نصیحت کو حقارت سے سنے اور اپنی اصلاح کی فکر چھوڑ دے تو دل کی سختی کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔

تاہم آنسو نہ آنا بذاتِ خود دل کی سختی کا قطعی ثبوت نہیں۔ بعض لوگ طبعی طور پر کم روتے ہیں، بعض اپنی تکلیف آنسوؤں میں ظاہر نہیں کرسکتے اور بعض کی آنکھوں میں طبی وجوہ سے بھی خشکی ہوسکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ دل حق کے سامنے جھکتا ہے یا نہیں، گناہ پر ندامت ہوتی ہے یا نہیں، کسی مظلوم کی تکلیف محسوس ہوتی ہے یا نہیں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے کی خواہش باقی ہے یا نہیں۔

قرآن مجید دل کی سختی سے خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے:

﴿ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً﴾

’’پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے، پس وہ پتھروں کی طرح، بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔‘‘ (البقرۃ: 74)

یہ آیت ہمیں اپنے دل کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دوسروں کی غلطیاں فوراً دیکھ لیتے ہیں، مگر اپنی کوتاہیوں کے اعتراف سے بچتے رہتے ہیں؟ دوسروں کے لیے سخت الفاظ استعمال کرنا آسان سمجھتے ہیں، لیکن اپنے لہجے کی تلخی محسوس نہیں کرتے؟ عبادت کرتے ہیں، مگر ہمارے معاملات میں نرمی، دیانت اور انصاف کم ہوتا جارہا ہے؟

دل کی زندگی یہ ہے کہ انسان حق بات سن کر ضد پر قائم نہ رہے، غلطی ہوجائے تو معافی مانگ لے، کسی کا حق مارا ہو تو واپس کرے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا احساس ہو تو توبہ کے لیے دیر نہ کرے۔

گناہوں کی کثرت اور دل پر پڑنے والا زنگ

گناہ صرف کسی ایک حکم کی خلاف ورزی کا نام نہیں؛ گناہ پر اصرار اور اس کے احساس سے محرومی انسان کے باطن کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ابتدا میں ضمیر ملامت کرتا ہے، انسان بے چین ہوتا ہے اور اصلاح کا خیال پیدا ہوتا ہے، لیکن اگر وہ بار بار اپنے ضمیر کی آواز کو دباتا رہے تو رفتہ رفتہ غلطی معمول بن سکتی ہے۔ پھر جس بات پر پہلے شرمندگی ہوتی تھی، اسی پر بے پروائی ہونے لگتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے گناہوں کے دل پر اثر کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا:

«إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَتْ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ...»

مفہوم: جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگایا جاتا ہے۔ اگر وہ باز آجائے، توبہ کرے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے، اور اگر گناہ بڑھتے رہیں تو وہ سیاہی بھی بڑھتی جاتی ہے۔

اس حدیث میں دل کے زنگ کا ذکر ہے، اور اسی کے ضمن میں قرآن مجید کی یہ آیت بھی بیان کی گئی ہے:

﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾

’’ہرگز نہیں، بلکہ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔‘‘ (المطففین: 14)

(جامع الترمذی، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ المطففین؛ حدیث 3334)

یہ تعلیم مایوسی کے لیے نہیں، بیداری کے لیے ہے۔ اگر گناہ دل پر اثر ڈالتے ہیں تو توبہ، استغفار، نیک اعمال اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع بھی دل کی اصلاح کا راستہ ہیں۔ کسی انسان کو اپنے ماضی کی تاریکی کی وجہ سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اب اس کے لیے واپسی کا دروازہ بند ہوگیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا خود قرآن کی تعلیم ہے:

﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾

’’کہہ دیجیے: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔‘‘ (الزمر: 53)

کتنی محبت بھری دعوت ہے! بندہ اپنی غلطیوں کے بوجھ تلے دبا ہو، اپنے اعمال پر شرمندہ ہو، اسے اپنی کمزوریوں کا احساس ہو، تب بھی اس کا رب اسے اپنی رحمت سے مایوس نہیں ہونے دیتا۔ شرط یہ ہے کہ انسان پلٹنے کا ارادہ کرے، گناہ سے بچنے کی کوشش کرے اور اپنے رب کے سامنے سچے دل سے توبہ کرے۔

موت کو بھول جانا اور لمبی امیدوں کا فریب

انسان امید کے سہارے زندہ رہتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے سوچتا ہے، گھر بنانے کی کوشش کرتا ہے، علم حاصل کرتا ہے، روزگار کے لیے محنت کرتا ہے اور آنے والے دنوں کو بہتر بنانے کے خواب دیکھتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ فطری اور جائز باتیں ہیں۔ اسلام ہمیں ذمہ داریوں سے بھاگنا نہیں سکھاتا، بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کا شعور دیتا ہے۔

خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب امیدیں انسان کو غفلت میں مبتلا کردیں۔ وہ سمجھنے لگے کہ ابھی بہت وقت پڑا ہے؛ توبہ بڑھاپے میں کرلیں گے، عبادت کے لیے فرصت بعد میں نکالیں گے، کسی کا حق کل ادا کردیں گے، رشتے دار سے معافی کسی اور وقت مانگ لیں گے۔ اسی ’’بعد میں‘‘ کے انتظار میں زندگی کا بڑا حصہ گزر جاتا ہے۔

قرآن مجید متنبہ کرتا ہے:

﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾

’’اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقین آجائے۔‘‘ (الحجر: 99)

مفسرین نے یہاں ’’یقین‘‘ سے مراد موت بیان کی ہے۔ یعنی بندگی کا سفر آخری سانس تک جاری رہنا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ نے موت کو کثرت سے یاد کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:

«أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ»

’’لذتوں کو توڑ دینے والی چیز، یعنی موت، کو کثرت سے یاد کیا کرو۔‘‘ (جامع الترمذی، کتاب الزہد، حدیث 2307)

موت کی یاد زندگی سے فرار کا نام نہیں۔ یہ زندگی کو صحیح سمت دینے کا نام ہے۔ جو شخص موت کو یاد رکھتا ہے، وہ اپنے گھر والوں کے حقوق بھی بہتر طور پر ادا کرسکتا ہے، اپنے روزگار میں دیانت بھی اختیار کرسکتا ہے، بچوں کی تربیت کو بھی اہمیت دیتا ہے اور لوگوں کے ساتھ معاملات میں بھی احتیاط کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ مال، عہدہ، شہرت اور قوت سب عارضی ہیں، لیکن ان کے استعمال کے بارے میں جواب دہی باقی ہے۔

دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت

دنیا سے فائدہ اٹھانا اور دنیا کو اپنا آخری مقصد بنالینا دو الگ باتیں ہیں۔ مال کمانا، اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنا، جائز طریقے سے عزت حاصل کرنا اور معاشرے کے لیے مفید کام کرنا کوئی مذموم بات نہیں۔ دنیا کی نعمتیں بھی اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ان نعمتوں کی محبت انسان پر اس قدر غالب آجائے کہ وہ حلال و حرام، حق و باطل اور جائز و ناجائز کی تمیز کھونے لگے۔

کسی شخص کے پاس مال ہو تو وہ اس مال کے ذریعے نیکی کرسکتا ہے؛ لیکن اگر مال ہی اس کی محبت، اس کی عزت، اس کا غرور اور اس کی زندگی کا آخری مقصد بن جائے تو یہی نعمت اس کے لیے آزمائش بن سکتی ہے۔ اسی طرح علم، منصب اور شہرت بھی خیر کا ذریعہ ہیں، بشرطیکہ ان کے ساتھ اخلاص، تواضع اور خدا خوفی باقی رہے۔

قرآن مجید دنیا اور آخرت کے تعلق کو واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے:

﴿وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا﴾

’’اور جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے، اس کے ذریعے آخرت کا گھر تلاش کرو، اور دنیا میں سے اپنا حصہ بھی نہ بھولو۔‘‘ (القصص: 77)

یہ آیت زندگی کا متوازن تصور پیش کرتی ہے۔ دنیا کو بالکل چھوڑ دینا مقصود نہیں، بلکہ دنیا کی نعمتوں کو آخرت کی کامیابی کا وسیلہ بنانا مقصود ہے۔ انسان اپنے اہل و عیال سے محبت کرے، ان کے لیے محنت کرے، رزقِ حلال کمائے، علم حاصل کرے، دوسروں کے کام آئے، لیکن اس سب میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو فراموش نہ کرے۔

دنیا کی محبت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان عارضی چیزوں کے لیے دائمی کامیابی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ چند لمحوں کے فائدے کے لیے جھوٹ بولتا ہے، معمولی مال کے لیے رشتے توڑتا ہے، عزت کے خیال سے حق بات چھپاتا ہے، حسد میں مبتلا ہوکر دوسروں کی نعمتوں سے جلتا ہے اور اپنے نفس کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ضمیر کی آواز دبا دیتا ہے۔

اسی تناظر میں ’’حب الدنیا رأس کل خطیئۃ‘‘ کا حکیمانہ مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ اس جملے کو صحیح حدیث قرار دینے کے بجائے ایک مشہور زاہدانہ مقولے کے طور پر نقل کرنا زیادہ محتاط ہے۔ اس کا مقصد دنیا کی ہر جائز محبت کی مذمت نہیں، بلکہ اس محبت سے خبردار کرنا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور آخرت کی فکر سے غافل کردے۔

دنیا کی بے ثباتی اور موت کی اٹل حقیقت

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک مشہور قصیدے کے اشعار میں دنیا کی ناپائیداری اور انسان کی طویل امیدوں کا نہایت درد انگیز نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ان اشعار کی نسبت مشہور ہے، تاہم اسے قطعی طور پر ثابت شدہ نسبت سمجھنے میں احتیاط مناسب ہے۔

النَّفْسُ تَبْكِي عَلَى الدُّنْيَا وَقَدْ عَلِمَتْ
أَنَّ السَّلَامَةَ فِيهَا تَرْكُ مَا فِيهَا

لَا دَارَ لِلْمَرْءِ بَعْدَ الْمَوْتِ يَسْكُنُهَا
إِلَّا الَّتِي كَانَ قَبْلَ الْمَوْتِ بَانِيهَا

فَإِنْ بَنَاهَا بِخَيْرٍ طَابَ مَسْكَنُهَا
وَإِنْ بَنَاهَا بِشَرٍّ خَابَ بَانِيهَا

ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ نفس دنیا کے لیے روتا ہے، حالاں کہ وہ جانتا ہے کہ اس کی حقیقی سلامتی دنیا کی فانی دل چسپیوں میں اسیر ہوجانے کے بجائے ان سے بے نیاز رہنے میں ہے۔ موت کے بعد انسان کا اصل ٹھکانا وہی ہوگا جس کی تعمیر اس نے اپنی زندگی کے اعمال سے کی ہوگی۔ اگر اس نے نیکی کی بنیاد رکھی تو اس کا انجام اچھا ہوگا، اور اگر اس نے برائی کے ذریعے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا تو وہ خسارے میں رہے گا۔

یہاں ’’گھر بنانے‘‘ کی تعبیر دل کو چھو لیتی ہے۔ انسان دنیا میں ایک گھر بنانے کے لیے کتنی محنت کرتا ہے! زمین تلاش کرتا ہے، اینٹیں جمع کرتا ہے، دیواریں اٹھاتا ہے، چھت ڈلواتا ہے اور گھر کو اپنی پسند کے مطابق سجانے میں برسوں لگا دیتا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اس گھر میں رہنے کی مدت کتنی ہے؟ ایک دن اسے چھوڑ کر جانا ہے، اور جو کچھ اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں، وہ مال و اسباب نہیں بلکہ اعمال ہیں۔

اسی لیے اصل دانش مندی یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کا گھر آباد کیا جائے۔ نماز، روزہ، صدقہ، حسنِ اخلاق، والدین کے حقوق، اہل و عیال کی ذمہ داریاں، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک، مظلوم کی مدد اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی—یہ سب اس تعمیر کا حصہ ہیں۔

قصیدے کے اگلے اشعار دنیا کی سلطنتوں اور دولت کی بے ثباتی کو یوں بیان کرتے ہیں:

أَيْنَ الْمُلُوكُ الَّتِي كَانَتْ مُسَلْطَنَةً
حَتَّى سَقَاهَا بِكَأْسِ الْمَوْتِ سَاقِيهَا

أَمْوَالُنَا لِذَوِي الْمِيرَاثِ نَجْمَعُهَا
وَدُورُنَا لِخَرَابِ الدَّهْرِ نَبْنِيهَا

کہاں گئے وہ بادشاہ جن کی حکومتیں قائم تھیں، جن کے حکم پر فیصلے ہوتے تھے اور جن کے سامنے بڑے بڑے لوگ سر جھکاتے تھے؟ آخر موت نے انہیں بھی اپنی آغوش میں لے لیا۔ ہم مال جمع کرتے ہیں، مگر ایک دن وہ وارثوں کے حصے میں چلا جاتا ہے؛ ہم عمارتیں بناتے ہیں، مگر زمانہ بالآخر انہیں بھی بوسیدہ کردیتا ہے۔

کتنے لوگ تھے جنہیں اپنی طاقت پر ناز تھا، کتنے مال دار تھے جنہیں اپنے خزانوں پر بھروسا تھا، کتنے حکمران تھے جنہیں اپنی حکومت ہمیشہ قائم رہنے کا گمان تھا۔ مگر آج ان میں سے بہت سے صرف تاریخ کے صفحات میں باقی ہیں، اور ان کے محلات، خزانے اور اقتدار کسی دوسرے کے قبضے میں جاچکے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مال جمع نہ کرے یا اپنے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی نہ کرے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ مال کو مقصدِ حیات نہ بنائے، اسے اپنی ابدی کامیابی کی ضمانت نہ سمجھے اور اس کی محبت میں اپنے خالق کو فراموش نہ کرے۔

قصیدے کے آخری اشعار انسان کی امیدوں اور موت کی حقیقت کے درمیان فرق کو نمایاں کرتے ہیں:

لِكُلِّ نَفْسٍ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى وَجَلٍ
مِنَ الْمَنِيَّةِ آمَالٌ تُقَوِّيهَا

فَالْمَرْءُ يَبْسُطُهَا وَالدَّهْرُ يَقْبِضُهَا
وَالنَّفْسُ تَنْشُرُهَا وَالْمَوْتُ يَطْوِيهَا

ہر انسان کے دل میں امیدیں ہوتی ہیں، حتیٰ کہ موت سے ڈرنے والے انسان کے دل میں بھی مستقبل کے کتنے منصوبے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی امیدوں کو پھیلاتا رہتا ہے، لیکن وقت انہیں سمیٹتا جاتا ہے؛ نفس نئے خواب بنتا ہے، مگر موت ایک دن اس کے سارے منصوبوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔

انسان سوچتا ہے کہ یہ کام مکمل کرلوں، پھر توبہ کروں گا؛ بچوں کو بڑا کرلوں، پھر عبادت میں زیادہ وقت دوں گا؛ کچھ مال جمع ہوجائے، پھر صدقہ کروں گا؛ فلاں سے تعلقات درست ہوجائیں، پھر اپنے دل کو صاف کروں گا۔ لیکن زندگی ہمیشہ ہماری ترتیب کے مطابق نہیں چلتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ نیکی کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرتے کرتے نیکی ہی کو مؤخر نہ کردیا جائے۔

دل کو زندہ کیسے رکھا جائے؟

دل کی اصلاح کے لیے سب سے پہلے اپنی حالت کا سچا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انسان دوسروں کے عیب گننے کے بجائے اپنے اعمال کو دیکھے، اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے۔ اگر کسی کا حق ادا کرنا ہے تو ادا کرے، کسی کو تکلیف پہنچائی ہے تو معافی مانگے، کسی گناہ کی عادت بن گئی ہے تو اس سے نکلنے کی عملی کوشش کرے۔

قرآن مجید کی تلاوت محض زبان سے پڑھ لینے کا نام نہیں؛ اس کے معانی پر غور کرنا، اس کی ہدایات کو اپنی زندگی پر منطبق کرنا اور اس کے سامنے اپنے رویوں کا محاسبہ کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح نماز میں حاضریِ قلب، دعا میں عاجزی، تنہائی میں استغفار اور لوگوں کے ساتھ رحمت کا معاملہ دل کی اصلاح میں مددگار ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ»

’’آدم کی تمام اولاد خطاکار ہے، اور خطاکاروں میں بہترین وہ ہیں جو بہت توبہ کرتے ہیں۔‘‘ (جامع الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ؛ حدیث 2499)

یہ حدیث انسان کو امید بھی دیتی ہے اور ذمہ داری کا احساس بھی۔ ہم فرشتے نہیں ہیں کہ ہم سے کبھی خطا نہ ہو، لیکن ہمیں اپنی خطا پر اصرار کرنے کے بجائے توبہ کرنے والا بننا ہے۔ بار بار لغزش ہوجائے تو بار بار اللہ کی طرف رجوع کیا جائے؛ توبہ کے ساتھ گناہ چھوڑنے کی کوشش بھی جاری رہے۔

اپنی زندگی میں کچھ وقت خاموشی کے ساتھ محاسبے کے لیے نکالنا چاہیے۔ آج میں نے کس کا دل دکھایا؟ کیا کسی کا حق میرے ذمے ہے؟ کیا میری زبان سے کسی کی عزت مجروح ہوئی؟ کیا میری کمائی میں دیانت ہے؟ کیا میرے گھر والے میرے اخلاق سے راحت پاتے ہیں؟ کیا میری عبادت میرے کردار میں بہتری پیدا کررہی ہے؟ اور اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہو تو کون سا کام ہے جس پر مجھے ندامت ہوگی اور کون سا کام ہے جس پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں گا؟

یہ سوال انسان کو مایوس کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اسے بیدار کرنے کے لیے ہیں۔

اختتامیہ: ابھی وقت باقی ہے

زندگی کی سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ انسان کے پاس مال کم ہو، اس کی شہرت محدود ہو یا اس کی خواہشات پوری نہ ہوں؛ اصل محرومی یہ ہے کہ اس کے پاس دل ہو مگر وہ حق کے سامنے نہ جھکے، آنکھیں ہوں مگر وہ عبرت حاصل نہ کرے، زبان ہو مگر ذکرِ الٰہی سے غافل رہے، اور زندگی ہو مگر وہ اپنی اصلاح کی فکر نہ کرے۔

لیکن جب تک سانس باقی ہے، امید باقی ہے۔ انسان اپنے رب کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرسکتا ہے، اپنی زبان کو نرم کرسکتا ہے، اپنے معاملات درست کرسکتا ہے، کسی ضرورت مند کی مدد کرسکتا ہے اور اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی ملاقات کی تیاری کو جگہ دے سکتا ہے۔

ہمیں دنیا میں رہنا ہے، اپنے فرائض ادا کرنے ہیں، اپنے بچوں کی تربیت کرنی ہے، اپنے اہل و عیال سے محبت کرنی ہے اور جائز ضروریات کے لیے محنت بھی کرنی ہے۔ مگر ان سب کے درمیان اپنے اصل سفر کو نہیں بھولنا۔ یہ دنیا قیام گاہ نہیں، گزرگاہ ہے؛ یہاں کی ہر خوشی عارضی ہے، ہر غم عارضی ہے، ہر منصب عارضی ہے اور ہر انسان کو ایک دن اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔

کتنا اچھا ہو کہ ہماری آنکھوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت کے آنسو بھی ہوں، اس کی نافرمانی پر ندامت بھی ہو، اس کی رحمت سے امید بھی ہو اور اس کی مخلوق کے لیے دل میں شفقت بھی۔ ہم موت کو یاد کریں، مگر زندگی سے مایوس نہ ہوں؛ آخرت کی فکر کریں، مگر دنیا کی ذمہ داریوں سے منہ نہ موڑیں؛ اپنی خطاؤں پر شرمندہ ہوں، مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں۔

اے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے زندہ فرما، ہماری خطاؤں کو معاف فرما، ہمیں سچی توبہ کی توفیق عطا فرما، دنیا کی ایسی محبت سے محفوظ رکھ جو ہمیں تیری اطاعت سے غافل کردے، اور ہماری زندگی کو ایسے نیک اعمال سے آباد فرما جو آخرت میں ہمارے لیے راحت، نور اور نجات کا ذریعہ بنیں۔ آمین۔

حوالہ جات اور علمی احتیاط

  • قرآن مجید: البقرۃ 74؛ الزمر 53؛ الحجر 99؛ القصص 77؛ المطففین 14۔
  • دل پر گناہوں کے اثر سے متعلق حدیث: جامع الترمذی، کتاب التفسیر، حدیث 3334۔
  • موت کو یاد کرنے کی ترغیب: جامع الترمذی، کتاب الزہد، حدیث 2307۔
  • توبہ کرنے والوں کی فضیلت: جامع الترمذی، حدیث 2499۔
  • یہ قصیدہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب مشہور کلام کے طور پر ملتا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post