فضیل بن عیاضؒ کا
شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جن کے چند الفاظ بھی انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے
پر مجبور کر دیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا:
خمس من علامات
الشقاوة: القسوة في القلب، وجمود العين، وقلة الحياء، والرغبة في الدنيا، وطول
الأمل۔
’’شقاوت
کی پانچ نشانیاں ہیں: دل کی سختی، آنکھ کا خشک ہوجانا، حیا کی کمی، دنیا کی رغبت
اور طولِ اَمل۔‘‘
یہ پانچوں چیزیں
بظاہر الگ الگ محسوس ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
ان میں شاید سب سے زیادہ خطرناک طولِ اَمل ہے۔ انسان جب یہ سمجھنے لگتا ہے
کہ ابھی بہت وقت باقی ہے تو آخرت کی فکر کو مؤخر کرنے لگتا ہے۔ توبہ کل پر، اصلاح
کل پر، نیکی کل پر اور اللہ کی طرف واپسی بھی کل پر ڈال دیتا ہے۔ پھر وہ کل آتا
نہیں، اور زندگی کا آج گزرتا چلا جاتا ہے۔
طولِ اَمل کا مطلب
یہ نہیں کہ انسان مستقبل کے لیے منصوبہ نہ بنائے یا اپنی ضروریات کے لیے جدوجہد نہ
کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے دل میں دنیا کی زندگی کو اتنا طویل سمجھ لے کہ
موت اور آخرت کا احساس کمزور پڑ جائے۔ وہ اپنے آپ سے کہتا رہتا ہے: ابھی عمر پڑی
ہے، پہلے یہ کام ہوجائے، بچوں کی ذمہ داریاں پوری ہوجائیں، حالات بہتر ہوجائیں،
کچھ آسودگی حاصل ہوجائے، پھر عبادت کی طرف پوری توجہ دوں گا۔
مگر انسان یہ بھول
جاتا ہے کہ مستقبل اس کا منصوبہ تو ہوسک
تا ہے، اس کی ملکیت نہیں۔
فضیل بن عیاضؒ ہی
کا ایک اور نہایت معنی خیز قول ہے:
إنما أمس مثل،
واليوم عمل، وغداً أمل
’’گزرا
ہوا کل ایک مثال ہے، آج عمل کا وقت ہے اور آنے والا کل محض امید ہے۔‘‘
گزرا ہوا وقت واپس
نہیں آسکتا۔ جو وقت ہمارے ہاتھ میں ہے، وہی حقیقت ہے۔ اور جو آنے والا ہے، اس کے
بارے میں ہمیں صرف امید ہے، یقین نہیں۔
طولِ اَمل کی عجیب
بات یہ ہے کہ یہ انسان کو ایک ایسے ’’کل‘‘ میں زندہ رکھتا ہے جو کبھی آتا ہی نہیں۔
جوانی میں آدمی کہتا ہے: ابھی پڑھائی باقی ہے۔ پھر روزگار آجاتا ہے، شادی ہوجاتی
ہے، بچے ہوجاتے ہیں، ان کی تعلیم اور تربیت سامنے آجاتی ہے۔ پھر ان کی شادی کی فکر
شروع ہوجاتی ہے۔ آدمی ہر مرحلے پر یہی سوچتا رہتا ہے کہ ایک دن ذمہ داریاں ختم ہوں
گی اور پھر اطمینان سے اللہ کی طرف متوجہ ہوجاؤں گا۔
مگر کبھی ذمہ
داریاں ختم ہونے سے پہلے ہی زندگی ختم ہوجاتی ہے، اور کبھی ذمہ داریاں کم ہوتی ہیں
تو صحت ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔
یوں آدمی ساری
زندگی اللہ کے لیے وقت نکالنے کا ارادہ کرتا رہتا ہے، مگر اللہ کے لیے وقت نکالنے
کا دن مقرر نہیں کرتا۔
یہی طولِ اَمل ہے۔
دنیا کی رغبت بھی
اسی سے بڑھتی ہے۔ جب انسان کو یقین ہونے لگتا ہے کہ اسے یہاں بہت عرصہ رہنا ہے تو
وہ دنیا کو سنوارنے میں زیادہ اور آخرت کو سنوارنے میں کم مشغول ہوجاتا ہے۔ گھر،
مال، منصب، کاروبار، عزت اور خواہشات اہم سے اہم تر ہوتی جاتی ہیں، یہاں تک کہ
دنیا ہاتھ میں رہنے کے بجائے دل میں اتر جاتی ہے۔
دنیا رکھنا مسئلہ
نہیں؛ دنیا کا دل پر قابض ہوجانا مسئلہ ہے۔
جس شخص کے ہاتھ
میں مال ہے، وہ مال کا مالک ہے، لیکن جس کے دل میں مال ہے، وہ مال کا غلام ہے۔
دنیا کی یہی بڑھتی
ہوئی رغبت رفتہ رفتہ دل کو سخت کردیتی ہے۔ جو چیز پہلے انسان کو پریشان کرتی تھی،
اب وہ معمولی لگنے لگتی ہے۔ جس گناہ پر کبھی شرمندگی ہوتی تھی، اس پر اب کوئی
ندامت نہیں ہوتی۔ قرآن کی آیت سنی، نصیحت ہوئی، موت کا ذکر آیا، کسی کا جنازہ
دیکھا، قبرستان سے گزرے، مگر دل پر کوئی خاص اثر نہ ہوا۔
یہی قساوتِ قلب
ہے۔
دل کا سخت ہونا
اچانک نہیں ہوتا۔ یہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے۔ گناہ بار بار کیا جاتا ہے، ضمیر کی
آواز کو دبا دیا جاتا ہے، توبہ کو مؤخر کیا جاتا ہے، دنیا کی محبت بڑھتی جاتی ہے
اور آخرت کا خیال کم ہوتا جاتا ہے۔ آخرکار وہ باتیں بھی دل کو نہیں ہلاتیں جو کبھی
انسان کو رلا دیا کرتی تھیں۔
یہاں فضیل بن
عیاضؒ کی اپنی زندگی ایک عجیب مثال بن کر سامنے آتی ہے۔
جوانی میں ان کی
زندگی آج کے فضیل بن عیاضؒ جیسی نہ تھی۔ وہ راہ زنی کرتے تھے۔ ایک رات وہ ایک عورت
کے پاس جانے کے ارادے سے دیوار پر چڑھے ہوئے تھے کہ کسی قاری کی زبان سے قرآن کی
یہ آیت سنی:
﴿أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ
تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ﴾
’’کیا
ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے جھک
جائیں؟‘‘
یہ آیت ان کے دل
میں ایسی اتری کہ وہ وہیں رک گئے اور کہا:
بلى يا رب، قد
آن
’’ہاں،
اے میرے رب! وقت آچکا ہے۔‘‘
ایک آیت، ایک لمحہ
اور ایک جاگتا ہوا دل۔
وہ شخص جو کبھی
لوگوں کی راہ روکتا تھا، آگے چل کر اپنے زمانے کے بڑے عابد و زاہد لوگوں میں شمار
ہوا۔
یہ واقعہ ہمیں یہ
بھی بتاتا ہے کہ دل اگر زندہ ہو تو ایک آیت انسان کی پوری زندگی بدل سکتی ہے، اور
اگر دل سخت ہوجائے تو سینکڑوں نصیحتیں بھی اس پر اثر نہیں کرتیں۔
اسی لیے فضیل بن
عیاضؒ نے جمودِ عین کو بھی شقاوت کی علامت قرار دیا۔
جمودِ عین، یعنی
آنکھ کا خشک ہوجانا، صرف یہ نہیں کہ انسان کی آنکھ سے آنسو نہ نکلیں۔ ہر شخص کا
مزاج یکساں نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ دل پر اثر باقی رہے۔ انسان موت کا ذکر سنے
تو اپنے انجام کو یاد کرے، قرآن پڑھے تو اپنے آپ کو اس کے مخاطبین میں محسوس کرے،
اپنی کوتاہی سامنے آئے تو شرمندگی پیدا ہو، کسی مصیبت زدہ انسان کو دیکھے تو دل
میں درد اٹھے۔
خطرہ اس وقت ہے جب
انسان کی آنکھ کے ساتھ اس کا دل بھی خشک ہوجائے۔
وہ گناہ کرتا ہے
اور اسے گناہ محسوس نہیں ہوتا۔
کسی کا حق مارتا
ہے اور اسے شرمندگی نہیں ہوتی۔
اللہ کی نعمت
استعمال کرکے اللہ ہی کی نافرمانی کرتا ہے اور دل میں کوئی خلش پیدا نہیں ہوتی۔
یہاں پہنچ کر حیا
بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔
حیا صرف لوگوں کے
سامنے شرمانے کا نام نہیں۔ حیا کا ایک بڑا مفہوم یہ ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں کو
دیکھے، اپنی کمزوری کو پہچانے اور اپنے رب کے سامنے شرمندگی محسوس کرے۔
جس نے آنکھ دی،
اسی آنکھ سے نافرمانی کرتے ہوئے اگر یہ احساس نہ رہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے؛
جس نے زبان دی، اسی زبان سے کسی کی دل آزاری کرتے ہوئے اگر کوئی شرمندگی نہ ہو؛ جس
نے رزق دیا، اسی رزق سے پل کر اس کی نافرمانی کرتے ہوئے اگر دل نہ کانپے، تو یہ حیا
کے کمزور ہونے کی علامت ہے۔
حیا کم ہوتی ہے تو
گناہ آسان ہوجاتا ہے، گناہ آسان ہوتا ہے تو دل سخت ہوتا ہے، دل سخت ہوتا ہے تو
آنکھ خشک ہوجاتی ہے، اور آنکھ خشک ہوجائے تو نصیحت کا اثر کم ہونے لگتا ہے۔
یوں فضیل بن عیاضؒ
کے یہ پانچوں الفاظ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔
طولِ اَمل دنیا کی
رغبت پیدا کرتا ہے، دنیا کی رغبت دل کو سخت کرتی ہے، دل کی سختی آنکھوں کو خشک
کرتی ہے، اور جب دل میں اللہ کا احساس کم ہوجاتا ہے تو حیا بھی کمزور پڑنے لگتی
ہے۔
پھر انسان بظاہر
زندہ رہتا ہے، لیکن اس کے اندر سے آخرت کی فکر کم ہوتی چلی جاتی ہے۔
اس کا علاج دنیا
چھوڑ دینا نہیں بلکہ دنیا کو اس کی اصل جگہ پر رکھنا ہے۔ گھر ہو، مال ہو، کاروبار
ہو، اولاد ہو، منصب ہو، سب کچھ ہو، مگر دل میں یہ یقین بھی ہو کہ یہ سب عارضی ہے۔
انسان اپنے آپ سے
کبھی یہ سوال کرے:
اگر آج میری زندگی
کا آخری دن ہو تو کیا میں یہی کام کرنا چاہوں گا؟
جس توبہ کو میں کل
پر چھوڑ رہا ہوں، کیا مجھے معلوم ہے کہ وہ کل میرے نصیب میں ہوگا؟
جس شخص سے مجھے
معافی مانگنی ہے، کیا مجھے یقین ہے کہ کل اس سے ملاقات ہوگی؟
جس حق کو میں ادا
نہیں کر رہا، کیا مجھے یقین ہے کہ مجھے اس کی مہلت دوبارہ ملے گی؟
یہ سوال انسان کو
مایوس کرنے کے لیے نہیں بلکہ غفلت سے جگانے کے لیے ہیں۔
موت کو یاد کرنا
زندگی سے فرار نہیں، زندگی کی حقیقت کو سمجھنا ہے۔
انسان کے پاس
حقیقت میں صرف وہی وقت ہے جو اس کے ہاتھ میں ہے۔ کل گزر گیا، اس سے صرف سبق لیا
جاسکتا ہے۔ آنے والا کل ابھی آیا نہیں، اس پر صرف امید کی جاسکتی ہے۔ عمل کے لیے
جو لمحہ موجود ہے، وہی اصل سرمایہ ہے۔
اسی لیے فضیل بن عیاضؒ
کا یہ قول محض پانچ اخلاقی کمزوریوں کی فہرست نہیں، بلکہ انسان کے اندر ہونے والی
ایک پوری تبدیلی کی تصویر ہے۔
دل کو دیکھو، کہیں
سخت تو نہیں ہوگیا؟
آنکھ کو دیکھو،
کہیں خشک تو نہیں ہوگئی؟
حیا کو دیکھو،
کہیں کم تو نہیں ہوگئی؟
دنیا کو دیکھو،
کہیں وہ دل پر قابض تو نہیں ہوگئی؟
اور اپنے ارادوں
کو دیکھو، کہیں تم نے اپنی پوری زندگی ’’کل‘‘ کے حوالے تو نہیں کردی؟
اگر ان سوالوں میں
سے کسی ایک کا جواب بھی انسان کو اندر سے بے چین کردے تو اس بے چینی سے گھبرانا
نہیں چاہیے۔ ہوسکتا ہے یہی بے چینی دل کے زندہ ہونے کی علامت ہو۔
شاید یہی وہ لمحہ
ہو جب انسان اپنے رب کی طرف متوجہ ہو کر کہہ سکے:
اے میرے رب! اب
میں کل کا انتظار نہیں کرنا چاہتا۔ جو وقت باقی ہے، اسے تیرے لیے سنوارنا چاہتا
ہوں۔

Post a Comment