چھ کلموں کی شرعی حیثیت
احادیث
کی روشنی میں ایک وضاحت
برصغیر کے
مسلمانوں میں چھ کلمے بہت معروف ہیں۔ ہمارے گھروں، مکتبوں اور مدارس میں بچوں کو
ابتدائی دینی تعلیم کے طور پر یہ کلمے یاد کرائے جاتے ہیں۔ ان کے ذریعے بچوں کے
ذہن میں توحید، رسالت، اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح، استغفار اور شرک و کفر سے بچنے
کے بنیادی مضامین ابتدا ہی سے بیٹھ جاتے ہیں۔
یہ چھ کلمے ہمارے
دینی ماحول کا ایک معروف حصہ ہیں اور ان میں موجود مضامین نہایت اہم ہیں۔ البتہ جب
ان کی شرعی حیثیت کے بارے میں گفتگو کی جائے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ چھ
کلمے اپنی موجودہ تعداد، ناموں اور ترتیب کے ساتھ کسی ایک حدیث میں جمع نہیں ہیں۔
ان کے الفاظ اور مضامین مختلف احادیث اور مسنون دعاؤں میں موجود ہیں، جنہیں بعد کے
زمانے میں تعلیم اور یادداشت کی سہولت کے لیے ایک جگہ جمع کرکے معروف ترتیب دی
گئی۔
اس لیے چھ کلموں
کے بارے میں درست بات یہ ہے کہ ان کے اندر موجود کلمات اور دعائیں احادیث سے
ماخوذ ہیں، جبکہ ان کا موجودہ مجموعہ اور ترتیب تعلیمی ترتیب ہے۔ یہی وجہ ہے
کہ ان کو یاد کرنا، پڑھنا اور بچوں کو سکھانا درست ہے، البتہ ان کی موجودہ ترتیب
کو رسول اللہ ﷺ کی مقرر کردہ لازمی ترتیب سمجھنا درست نہیں۔
جامعہ علوم
اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کی شائع کردہ تحقیق میں بھی یہی تفصیل بیان کی
گئی ہے کہ چھ کلموں کے مضامین احادیث میں مختلف مقامات پر موجود ہیں اور ان کو ایک
ترتیب میں جمع کرنا تعلیم کی سہولت کے لیے ہے۔
پہلا کلمہ: کلمۂ
طیبہ
لَا إِلٰهَ
إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ
ترجمہ:
اللہ کے سوا کوئی
معبود نہیں، محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
یہ کلمہ اسلام کے
بنیادی عقیدے کا خلاصہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی
رسالت دونوں کا اقرار ہے۔
پہلا کلمہ ’’کنز
العمال‘‘ اور ’’مستدرک حاکم‘‘ میں مختلف روایات کے ضمن میں ملتا ہے۔
کنز العمال میں
’’کنز
العمال‘‘ میں ہے:
لما خلق
اللّٰه جنة عدن وهي أول ما خلق اللّٰه قال لهما: تكلمي، قالت: لا إله إلا اللّٰه
محمد رسول اللّٰه، قد أفلح المؤمنون، قد أفلح من دخل فيها، وشقي من دخل النار۔
ترجمہ:
جب اللہ تعالیٰ نے
جنت عدن کو پیدا فرمایا، اور وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ابتدائی مخلوقات میں
سے تھی، تو اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا: کلام کرو۔ اس نے کہا: ’’لا إله إلا الله
محمد رسول الله‘‘، اہل ایمان کامیاب ہوگئے، جو اس میں داخل ہوا وہ کامیاب ہوگیا
اور جو جہنم میں داخل ہوا وہ بدبخت ہوگیا۔
حوالہ:
کنز
العمال، ج ۱، ص ۵۵،
باب في فضل الشهادتين، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت۔
اسی میں ایک اور
روایت ہے:
مكتوب على العرش
"لا إله إلا اللّٰه محمد رسول اللّٰه" لا أعذب من قالهما۔
ترجمہ:
عرش پر لکھا ہوا
ہے: ’’لا إله إلا الله محمد رسول الله‘‘، جو شخص ان دونوں کلمات کو کہے گا میں اسے
عذاب نہیں دوں گا۔
حوالہ:
کنز
العمال، ج ۱، ص ۵۷،
باب في فضل الشهادتين، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت۔
مستدرک حاکم میں
’’المستدرک
علی الصحیحین‘‘ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
حدثنا علي بن
حمشاذ العدل إملاءً ثنا هارون بن العباس الهاشمي، ثنا جندل بن والق، ثنا عمرو بن
أوس الأنصاري، ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة، عن سعيد بن المسيب عن ابن عباس رضي
اللّٰه عنه قال: أوحى اللّٰه إلى عيسى عليه السلام يا عيسى! آمن بمحمد وأمر من
أدركه من أمتك أن يؤمنوا به، فلولا محمد ما خلقت آدم، ولولا محمد ما خلقت الجنة
ولا النار، ولقد خلقت العرش على الماء فاضطرب فكتبت عليه لا إله إلا اللّٰه محمد
رسول اللّٰه فسكن. هذا حديث صحيح الإسناد۔
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی
اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی
فرمائی: اے عیسیٰ! محمد ﷺ پر ایمان لاؤ اور اپنی امت میں سے جو لوگ ان کا زمانہ
پائیں انہیں بھی ان پر ایمان لانے کا حکم دو۔ اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں آدم کو
پیدا نہ کرتا، نہ جنت کو پیدا کرتا اور نہ جہنم کو۔ میں نے عرش کو پانی پر پیدا
کیا تو وہ ہلنے لگا، چنانچہ میں نے اس پر ’’لا إله إلا الله محمد رسول الله‘‘ لکھ
دیا، تو وہ ٹھہر گیا۔
امام حاکم نے اسے صحیح
الاسناد کہا ہے۔ یہ روایت مستدرک حاکم میں حدیث 4227 کے طور پر موجود ہے۔
البتہ حدیثی تحقیق
میں یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ اس روایت کی سند پر بعض محدثین نے کلام کیا
ہے، اس لیے اسے نقل کرتے وقت امام حاکم کی تصحیح کے ساتھ اس اختلاف کی طرف بھی
اشارہ کرنا زیادہ محتاط طریقہ ہے۔ بہرحال کلمۂ طیبہ کا بنیادی عقیدہ کسی ایک
روایت پر موقوف نہیں؛ قرآن و حدیث میں توحید اور رسالت کی تعلیم جگہ جگہ موجود
ہے۔
دوسرا کلمہ: کلمۂ
شہادت
أَشْهَدُ أَنْ
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ
مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
ترجمہ:
میں گواہی دیتا
ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں
گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
سنن ابن ماجہ میں
حضرت انس بن مالک
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
حدثنا موسى بن
عبد الرحمن قال: حدثنا الحسين بن علي وزيد بن الحباب ح وحدثنا محمد بن يحيى قال:
حدثنا أبو نعيم قالوا: حدثنا عمرو بن عبد الله بن وهب أبو سليمان النخعي، قال
حدثني زيد العمي عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من توضأ فأحسن
الوضوء، ثم قال ثلاث مرات: أشهد أن لا إله إلا اللّٰه وحده لا شريك له وأشهد أن
محمدًا عبده ورسوله، فتح له ثمانية أبواب الجنة، من أيها شاء دخل۔
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا، پھر تین
مرتبہ کہا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس
کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں‘‘،
اس کے لیے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔
حوالہ:
سنن
ابن ماجہ، ج ۱، ص ۱۵۹، حدیث ۴۶۹،
دار إحیاء الکتب العربیۃ۔
یہ روایت سنن ابن
ماجہ میں موجود ہے، لیکن اس کی سند میں زید العمی ہیں، اسی وجہ سے اس سند
کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ البتہ وضو کے بعد شہادتین پڑھنے کی اصل دوسری صحیح
روایات سے ثابت ہے؛ اس لیے یہاں سند کے درجے اور اصل ذکر کے ثبوت میں فرق کرنا
چاہیے۔
صحیح بخاری میں
صحیح بخاری میں
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے تشہد کے بارے میں روایت ہے:
حدثنا مسدد
قال: حدثنا يحيى عن الأعمش، حدثني شقيق عن عبد اللّٰه، قال: كنا إذا كنا مع النبي
ﷺ في الصلاة، قلنا: السلام على اللّٰه من عباده، السلام على فلان وفلان، فقال
النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: لا تقولوا السلام على اللّٰه؛ فإن اللّٰه هو السلام،
ولكن قولوا: التحيات للّٰه والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة
اللّٰه وبركاته، السلام علينا وعلى عباد اللّٰه الصالحين، فإنكم إذا قلتم أصاب كل
عبد في السماء أو بين السماء والأرض، أشهد أن لا إله إلا اللّٰه وأشهد أن محمدًا
عبده ورسوله، ثم يتخير من الدعاء أعجبه إليه فيدعو۔
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز میں ہوتے تو کہتے:
اللہ کے بندوں کی طرف سے اللہ پر سلام ہو، فلاں اور فلاں پر بھی سلام ہو۔ نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: اللہ پر سلام نہ کہا کرو، کیونکہ اللہ خود سلام ہے، بلکہ یوں کہو:
تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام، اللہ
کی رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔ جب تم یہ کہو گے
تو آسمان میں اور زمین و آسمان کے درمیان ہر نیک بندے کو اس دعا کا فائدہ پہنچے
گا۔ پھر کہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی
دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، پھر اسے جو دعا پسند ہو مانگے۔
حوالہ:
صحیح
البخاری، ج ۱، ص ۱۶۷، حدیث ۸۳۵،
باب ما یتخیر الدعاء بعد التشہد، دار طوق النجاة۔
اس روایت سے کلمۂ
شہادت کے دونوں حصوں کی مضبوط شرعی بنیاد واضح ہوتی ہے۔
تیسرا کلمہ: کلمۂ
تمجید
سُبْحَانَ
اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ،
وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ
ترجمہ:
اللہ پاک ہے، تمام
تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اور
نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ
میں
حضرت عبداللہ بن
ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
حدثنا أبو
أسامة عن مسعر عن إبراهيم السکسي عن عبد اللّٰه بن أبي أوفى قال: أتى رجلٌ النبي
صلى الله عليه وسلم فذكر أن لا يستطيع أن يأخذ من القرآن وسأله شيئاً يجزئ من
القرآن فقال له: قل سبحان اللّٰه والحمد للّٰه ولا إله إلا اللّٰه واللّٰه أكبر
ولا حول ولا قوة إلا باللّٰه۔
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن
ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا
کہ میں قرآن میں سے کچھ یاد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، آپ ﷺ سے ایسی چیز طلب کی
جو قرآن کی جگہ کافی ہوجائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: ’’سبحان اللہ، والحمدللہ، ولا إله
إلا اللہ، واللہ اکبر، ولا حول ولا قوة إلا باللہ۔‘‘
حوالہ:
مصنف
ابن ابی شیبہ، ج ۶، ص ۵۴، حدیث ۲۹۴۱۹، مکتبۃ الرشد، ریاض۔
سنن ابن ماجہ میں
حضرت عبادہ بن
صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
حدثنا عبد
الرحمن بن إبراهيم الدمشقي قال: حدثنا الوليد بن مسلم قال: حدثنا الأوزاعي قال:
حدثني عمير بن هانئ قال: حدثني جنادة بن أبي أمية عن عبادة بن الصامت قال: قال
رسول اللّه صلى الله عليه وسلم: من تعار من الليل فقال حين يتقيظ: لا إله إلا
اللّٰه وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، سبحان اللّٰه
والحمد للّٰه ولا إله إلا اللّٰه واللّٰه أكبر، ولا حول ولا قوة إلا باللّٰه العلي
العظيم، ثم دعا رب اغفر لي! غفر له. قال الوليد: أو قال: دعا استجيب له، فإن قام
فتوضأ ثم صلى قبلت صلاته۔
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: جو شخص رات کو بیدار ہو اور بیدار ہوتے وقت کہے: ’’اللہ کے سوا کوئی معبود
نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اسی کے لیے تمام
تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ پاک ہے، تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ
کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے اور نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی
طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے‘‘، پھر دعا کرے: ’’اے میرے رب! مجھے بخش دے‘‘ تو اسے
بخش دیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ وضو کرکے نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے۔
حوالہ:
سنن
ابن ماجہ، ج ۲، ص ۱۲۷۶، حدیث ۳۸۷۸، دار إحیاء الکتب العربیۃ۔
اس طرح تیسرے کلمے
میں جمع کیے گئے تمام بنیادی اذکار احادیث میں مختلف مواقع پر موجود ہیں۔
چوتھا کلمہ: کلمۂ
توحید
لَا إِلٰهَ
إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ،
يُحْيِي وَيُمِيتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ:
اللہ کے سوا کوئی
معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے
تمام تعریف ہے، وہی زندہ کرتا اور موت دیتا ہے، ہر بھلائی اسی کے اختیار میں ہے
اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
مصنف عبدالرزاق
میں
عن إسماعيل بن
عياش قال: أخبرني عبد اللّٰه بن عبد الرحمن بن أبي حسين وليث عن شهر بن حوشب عن
عبد الرحمن بن غنم عن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أنه قال: من قال دبر كل
صلاة -قال ابن أبي حسين في حديثه: وهو ثاني رجله- قبل أن يتكلم-: لا إله إلا
اللّٰه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيي ويميت بيده الخير وهو على كل
شيءٍ قدير عشر مرات، كتب اللّه له بكل واحدة عشر حسنات، وحط عنه عشر سيئات، ورفع
له عشر درجات۔
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: جو شخص ہر نماز کے بعد، بات کرنے سے پہلے، دس مرتبہ کہے: ’’اللہ کے سوا
کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی
کے لیے تمام تعریف ہے، وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے، ہر بھلائی اسی کے ہاتھ میں
ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر مرتبہ دس نیکیاں لکھتا
ہے، دس گناہ مٹا دیتا ہے اور دس درجات بلند فرماتا ہے۔
حوالہ:
مصنف
عبدالرزاق، ج ۲، ص ۲۳۴، حدیث ۳۱۹۲، المکتب الاسلامی، بیروت۔
مصنف ابن ابی شیبہ
میں
أبو بكر قال:
حدثنا وكيع، عن البصير بن عدي، عن ابن أبي حسين قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه
عليه وسلم: أكبر دعائي ودعاء الأنبياء قبلي بعرفة لا إله إلا اللّٰه وحده لا شريك
له، له الملك وله الحمد بيده الخير يحيي ويميت، وهو على كل شيءٍ قدير۔
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: عرفہ کے دن میری اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی سب سے بڑی دعا یہ
ہے: ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی
بادشاہی ہے، اسی کے لیے تمام تعریف ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے، وہ زندہ کرتا اور
موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
حوالہ:
مصنف
ابن ابی شیبہ، ج ۳، ص ۳۸۲، حدیث ۱۵۱۳۶، مکتبۃ الرشد، ریاض۔
چوتھے کلمے کے
الفاظ توحید، اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اس کی کامل قدرت کا بہت جامع بیان ہیں۔
مختلف روایات میں ان کے الفاظ میں معمولی فرق کے ساتھ یہی مضمون منقول ہے۔
پانچواں کلمہ:
کلمۂ استغفار
پانچویں کلمے کے
تمام الفاظ ایک ہی حدیث میں اسی موجودہ ترتیب کے ساتھ نہیں ملتے، بلکہ اس کے مختلف
حصے متعدد مسنون دعاؤں سے لیے گئے ہیں۔ اس کلمے کا مرکزی مضمون اللہ تعالیٰ سے
مغفرت طلب کرنا، اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر
کرنا ہے۔
صحیح بخاری میں
سید الاستغفار
حضرت شداد بن اوس
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
حدثنا أبو
معمر حدثنا عبد الوارث حدثنا الحسين، حدثنا عبد اللّٰه بن بريدة قال: حدثني بشير
بن كعب العدوي قال: حدثني شداد بن أوس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم
"سيد الاستغفار" أن تقول: اللّٰهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا
عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء لك بنعمتك علي
وأبوء لك بذنبي فاغفرلي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت۔
ترجمہ:
اے اللہ! تو میرا
رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔
جہاں تک مجھ سے ہوسکتا ہے، میں تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے ہوئے
اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اپنے اوپر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں
اور اپنے گناہ کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی
گناہوں کو بخشنے والا نہیں۔
حوالہ:
صحیح
البخاری، ج ۸، ص ۶۷، حدیث ۶۳۰۶، باب أفضل الاستغفار، دار طوق النجاة۔
یہ استغفار صحیح
بخاری میں موجود ہے اور استغفار کی عظمت اور جامعیت کا بہت روشن نمونہ ہے۔
’’فاكنزوا
هذه الكلمات‘‘ والی روایت
پانچویں کلمے کے
سلسلے میں حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ہی کی ایک نہایت جامع روایت ہے۔ ’’مصنف
ابن ابی شیبہ‘‘ میں ہے:
حدثنا عيسى بن
يونس، عن الأوزاعي، عن حسان بن عطية عن شداد بن أوس، أنه قال: احفظوا عني ما أقول:
سمعت رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم يقول: إذا كنز الناس الذهب والفضة فاكنزوا
هذه الكلمات، اللّٰهم إني أسألك شكر نعمتك وأسألك حسن عبادتك، وأسألك قلبًا سليمًا
وأسألك لسانًا صادقًا، وأسألك من خير ما تعلم، وأعوذ بك من شر ما تعلم، وأستغفرك
لما تعلم، إنك أنت علام الغيوب۔
ترجمہ:
حضرت شداد بن اوس
رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو کچھ میں کہتا ہوں اسے یاد رکھو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو
فرماتے ہوئے سنا: جب لوگ سونے اور چاندی کے خزانے جمع کرنے لگیں تو تم ان کلمات کو
خزانہ بنا لینا: اے اللہ! میں تجھ سے تیری نعمت کا شکر ادا کرنے کی توفیق مانگتا
ہوں، اچھی طرح تیری عبادت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں، پاکیزہ دل مانگتا ہوں، سچی
زبان مانگتا ہوں، اور اس خیر کا سوال کرتا ہوں جسے تو جانتا ہے۔ جس شر کو تو جانتا
ہے اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور جن گناہوں کو تو جانتا ہے ان کی مغفرت چاہتا
ہوں۔ بے شک تو ہی تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔
یہ دعا حضرت شداد
بن اوس رضی اللہ عنہ سے مختلف کتب حدیث میں منقول ہے؛ مسند احمد، ترمذی اور نسائی
میں بھی اس کے طرق موجود ہیں۔ مسند احمد کی روایت میں اس کے آغاز میں الثبات في
الأمر اور العزيمة على الرشد کے الفاظ بھی موجود ہیں۔ شعیب ارناؤوط نے
اس کے رجال کو ثقہ قرار دیا ہے۔
یعنی مکمل روایت
کے الفاظ یوں ہیں:
اللهم إني
أسألك الثبات في الأمر، والعزيمة على الرشد، وأسألك شكر نعمتك، وأسألك حسن عبادتك،
وأسألك قلبًا سليمًا، وأسألك لسانًا صادقًا، وأسألك من خير ما تعلم، وأعوذ بك من
شر ما تعلم، وأستغفرك لما تعلم، إنك أنت علام الغيوب۔
یہ الفاظ پانچویں
کلمے کے مضمون کو سمجھنے میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے دین پر
ثابت قدمی، ہدایت پر استقامت، نعمت کا شکر، اچھی عبادت، پاکیزہ دل، سچی زبان، خیر
طلب کرنے، شر سے بچنے اور گناہوں کی مغفرت کی جامع دعا ہے۔
’’لا حول
ولا قوة إلا بالله‘‘
سنن ابن ماجہ میں
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
حدثنا محمد بن
الصباح قال: أنبأنا جرير عن عاصم الأحول، عن أبي عثمان عن أبي موسى قال: سمعني
النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أقول: لا حول ولا قوة إلا باللّٰه، قال: يا عبد
اللّٰه بن قيس! ألا أدلك على كلمة من كنوز الجنة؟ قلت: بلى يا رسول اللّٰه! قال:
قل: لا حول ولا قوة إلا باللّٰه۔
ترجمہ:
حضرت ابوموسیٰ رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے ’’لا حول ولا قوة إلا باللہ‘‘ کہتے
ہوئے سنا تو فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک
خزانے کی طرف رہنمائی نہ کروں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے
فرمایا: ’’لا حول ولا قوة إلا باللہ‘‘ کہا کرو۔
یہ ذکر انسان کی
اپنی بے بسی اور اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت کا اقرار ہے، اسی لیے احادیث میں اسے
جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ قرار دیا گیا ہے۔
چھٹا کلمہ: کلمۂ
ردِّ کفر
چھٹے کلمے کا
مرکزی مضمون اللہ تعالیٰ سے شرک، کفر اور مختلف ظاہری و باطنی برائیوں سے پناہ
مانگنا ہے۔ اس کے تمام الفاظ بھی ایک ہی حدیث میں موجودہ ترتیب کے ساتھ نہیں آئے،
بلکہ مختلف مسنون دعاؤں سے لیے گئے ہیں۔
شرک سے بچنے کی
دعا
’’الأدب
المفرد‘‘ میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
قال: سمعت
معقل بن يسار يقول: انطلقت مع أبي بكر الصديق إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال:
يا أبا بكر! الشرك فيكم أخفى من دبيب النمل! فقال أبو بكر: وهل الشرك إلا من جعل
مع اللّٰه إلٰهًا آخر! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: والذي نفسي بيده الشرك أخفى
من دبيب النمل! ألا أدلك على شيء إذا قلته ذهب عنك قليله وكثيره! قال: قل: اللّٰهم
إني أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم وأستغفرك لما لا أعلم۔
ترجمہ:
حضرت معقل بن یسار
رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم ﷺ
کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! تم لوگوں میں شرک چیونٹی کے
چلنے سے بھی زیادہ پوشیدہ ہوسکتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا
شرک یہی نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود بنایا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس
ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، شرک چیونٹی کے چلنے سے بھی زیادہ پوشیدہ
ہے۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کہو تو اس کا تھوڑا اور زیادہ
دونوں تم سے دور ہوجائیں؟ فرمایا: کہو: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ
جانتے ہوئے کسی کو تیرا شریک بناؤں، اور جس چیز کا مجھے علم نہیں اس کے لیے تجھ سے
مغفرت چاہتا ہوں۔
حوالہ:
الأدب
المفرد، ج ۱، ص ۲۵۰،
باب فضل الدعاء، دار البشائر الاسلامیۃ۔
یہ دعا واقعی بہت
معنی خیز ہے۔ اس میں انسان اپنے معلوم شرک سے بھی اللہ کی پناہ مانگتا ہے اور اس
شرک سے بھی جس کا اسے خود علم نہیں۔ ’’الأدب المفرد‘‘ میں یہ روایت حدیث 716 کے
طور پر موجود ہے۔
اسی دعا کے الفاظ
’’کنز العمال‘‘ میں بھی آئے ہیں:
الصدّيق رضي
اللّٰه عنه عن معقل بن يسار … قل: اللّٰهم إني أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم
وأستغفرك لما لا أعلم۔
حوالہ:
کنز
العمال، ج ۳، ص ۸۱۶،
الباب الثاني في الاختلاف المذموم، ط: مکتبة المدینة۔
کفر اور فقر سے
پناہ
’’الأدب
المفرد‘‘ میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ کا اپنے والد حضرت ابوبکرہ رضی
اللہ عنہ کے بارے میں بیان ہے:
قال حدثني عبد
الرحمن بن أبي بكرة أنه قال لابنه: يا أبت إني أسمعك تدعو كل غداة: اللّٰهم عافني
في بدني، اللّٰهم عافني في سمعي … وتقول: اللّٰهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر…
الخ۔
ترجمہ:
حضرت عبدالرحمن بن
ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے عرض کیا: ابا جان! میں آپ کو ہر صبح یہ
دعا کرتے سنتا ہوں: اے اللہ! میرے بدن کو عافیت عطا فرما، اے اللہ! میرے کانوں کو
عافیت عطا فرما۔۔۔ اور آپ یہ بھی کہتے ہیں: اے اللہ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ
مانگتا ہوں۔۔۔
حوالہ:
الأدب
المفرد، ج ۱، ص ۲۴۴،
باب الدعاء عند الکرب، دار البشائر الاسلامیۃ، بیروت۔
گناہ اور قرض سے
پناہ
’’المعجم
الأوسط‘‘ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
عن عروة عن
عائشة رضي الله عنها أن رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم كان يدعو في الصلاة:
اللّٰهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم، فقالوا: ما أكثر ما تستعيذ من المغرم؟
فقال: إن الرجل إذا غرم حدث فكذب ووعد فأخلف۔
ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ!
میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ
قرض سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی جب مقروض ہوجاتا ہے تو
بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔
حوالہ:
المعجم
الأوسط، ج ۵، ص ۳۹،
باب من اسمه عبد الله، دار الحرمین، قاہرہ۔ یہ روایت المعجم
الأوسط میں موجود ہے۔
مختلف ظاہری و
باطنی برائیوں سے پناہ
’’الدعاء‘‘
للطبرانی میں حضرت علقمہ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں:
عن علقمة عن
عبد اللّٰه قال: كان رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم إذا صلى أقبل علينا بوجهه
كالقمر، فيقول: اللّٰهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والذل والصغار
والفواحش ما ظهر منها وبطن… الخ۔
ترجمہ:
حضرت عبداللہ رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تو ہماری طرف چاند جیسے روشن
چہرے کے ساتھ متوجہ ہوتے اور فرماتے: اے اللہ! میں غم و پریشانی، عاجزی، سستی، ذلت
و خواری اور ظاہری و باطنی فواحش سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔۔۔
حوالہ:
الدعاء
للطبرانی، ج ۱، ص ۲۱۰، باب القول عند الأذان، دار الکتب
العلمیۃ، بیروت۔
ایک اور جامع دعا
’’المستدرک
للحاکم‘‘ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت کے ضمن میں آتا ہے:
عن ابن عباس
رضي الله عنه أنه بينما هو جالس عند رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم إذ جاءه علي
بن أبي طالب … ثم قل آخر ذلك: اللّٰهم ارحمني أن تكلفني ما لا يعنيني وارزقني حسن
النظر فيما يرضيك عني…
ترجمہ:
حضرت ابن عباس رضی
اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت علی
رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے۔۔۔ پھر آخر میں یہ دعا کہو: اے اللہ! مجھ پر رحم فرما کہ
تو مجھے ایسی چیز کا مکلف نہ کرے جو میرے لیے مناسب نہیں، اور مجھے اس بات کی اچھی
سمجھ عطا فرما جس سے تو مجھ سے راضی ہوجائے۔۔۔
حوالہ:
المستدرک
للحاکم، ج ۱، ص ۳۱۵،
بیروت۔
اس طرح چھٹے کلمے
کے اندر بھی مختلف نبوی دعاؤں اور ایمانی مضامین کو جمع کیا گیا ہے۔
چھ کلمے کس معنی
میں شرعی ہیں؟
اب ان تمام روایات
کو سامنے رکھنے کے بعد بات کافی واضح ہوجاتی ہے۔
چھ کلمے اپنی
موجودہ ترتیب، نام اور تعداد کے ساتھ کسی ایک حدیث میں نہیں آئے۔ رسول اللہ ﷺ
نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’یہ چھ کلمے ہیں‘‘ اور نہ آپ ﷺ نے انہیں پہلے، دوسرے،
تیسرے، چوتھے، پانچویں اور چھٹے کلمے کے عنوان سے مرتب فرمایا۔
لیکن اس کا مطلب
یہ بھی نہیں کہ یہ کلمات بے اصل ہیں یا ان کی دینی بنیاد نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ان
میں شامل کلمات اور دعائیں مختلف احادیث میں موجود ہیں۔ بعض بالکل صحیح احادیث
میں، بعض دوسری اسانید میں، اور بعض روایات کے درجے میں محدثین کے درمیان کلام بھی
ہے۔ بعد کے اہل علم نے ان معروف کلمات کو تعلیم کے مقصد سے ایک جگہ جمع کیا، ان کے
لیے نام مقرر کیے اور انہیں ایک آسان ترتیب میں رکھ دیا۔
یہی وجہ ہے کہ
ہمارے مدارس اور مکاتب میں بچوں کو یہ کلمات یاد کرائے جاتے ہیں۔
اس ترتیب کو تعلیمی
ترتیب سمجھنے میں کوئی حرج نہیں۔ جس طرح قرآن مجید کی تعلیم کے لیے مختلف
دعائیں، سورتیں اور مسائل ایک نصاب میں ترتیب دیے جاتے ہیں، اسی طرح عقائد اور
مسنون اذکار کی تعلیم کے لیے ان کلمات کو ایک جگہ جمع کرنا بھی ایک مفید تعلیمی
طریقہ ہے۔
چھ کلموں میں کیا
کچھ جمع ہوگیا ہے؟
اگر غور کیا جائے
تو یہ چھ کلمے بہت خوبصورت انداز میں ایک مسلمان کے بنیادی ایمانی سفر کو سامنے
رکھتے ہیں۔
پہلے کلمے میں توحید
اور رسالت ہے۔
دوسرے میں شہادت
اور اقرارِ ایمان ہے۔
تیسرے میں تسبیح،
حمد، تہلیل، تکبیر اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اقرار ہے۔
چوتھے میں اللہ
تعالیٰ کی وحدانیت، بادشاہی، حیات و موت اور کامل قدرت کا بیان ہے۔
پانچویں میں توبہ،
استغفار، شکر، پاکیزہ دل اور سچی زبان کی دعائیں ہیں۔
چھٹے میں شرک،
کفر، فقر، گناہوں، پریشانیوں اور مختلف ظاہری و باطنی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی
پناہ مانگی گئی ہے۔
اس اعتبار سے
دیکھا جائے تو چھ کلمے محض چند جملے نہیں بلکہ ایک مسلمان کے لیے ایمان، ذکر، حمد،
توحید، توبہ اور حفاظت کے اہم مضامین کو ایک جگہ جمع کردیتے ہیں۔
بچوں کو چھ کلمے
کیوں یاد کرائے جاتے ہیں؟
ہمارے بزرگوں نے
جب بچوں کی دینی تعلیم کے لیے چھ کلموں کا نصاب بنایا تو ان کا مقصد یہ نہیں تھا
کہ ایک نئی عبادت ایجاد کی جائے، بلکہ مقصد یہ تھا کہ بچے ابتدا ہی سے اسلام کے
بنیادی کلمات اور دعائیں یاد کرلیں۔
ایک بچہ جب بار
بار کہتا ہے:
لا إله إلا
الله محمد رسول الله
تو اس کے دل میں
توحید اور رسالت کا عقیدہ بیٹھتا ہے۔
جب وہ پڑھتا ہے:
سبحان الله
والحمد لله والله أكبر
تو اسے اللہ
تعالیٰ کی پاکی، حمد اور بڑائی کا شعور ملتا ہے۔
جب وہ استغفار
پڑھتا ہے تو اسے اپنے گناہوں پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کی عادت پڑتی ہے۔
اور جب وہ شرک سے
بچنے کی دعا پڑھتا ہے تو اسے اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر پیدا ہوتی ہے۔
اس لیے چھ کلموں
کی اصل قدر ان کے معانی اور مضامین میں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ان کا بچوں
کی دینی تربیت میں ایک خاص مقام بن گیا ہے۔
ایک ضروری وضاحت
چھ کلموں کے بارے
میں گفتگو کرتے ہوئے ہمیں نہ تو ان کے بارے میں ایسی بات کہنی چاہیے جو حدیث سے
ثابت نہیں، اور نہ ایسی بات کہنی چاہیے جس سے عام مسلمانوں میں ان کلمات کی قدر و
منزلت کم ہوجائے۔
درست اور متوازن
بات یہی ہے کہ:
چھ کلمے اپنی
موجودہ ترتیب اور تعداد کے ساتھ ایک مرتب شدہ تعلیمی مجموعہ ہیں، لیکن ان میں
موجود بنیادی کلمات، اذکار اور دعائیں قرآن و حدیث اور مسنون دعاؤں سے ماخوذ ہیں۔
لہٰذا ان کو یاد
کرنا، پڑھنا اور بچوں کو سکھانا درست ہے۔ البتہ اگر کسی حدیث کا حوالہ دیا جائے تو
یہ بھی دیکھا جائے کہ وہ روایت کس درجے کی ہے اور اس میں مذکور الفاظ کس موقع پر
نبی کریم ﷺ سے منقول ہوئے ہیں۔
اسی طرح یہ سمجھنا
بھی ضروری ہے کہ پانچواں اور چھٹا کلمہ اگر مختلف احادیث اور دعاؤں کے الفاظ کو
جمع کرکے مرتب کیا گیا ہے تو اس سے ان دعاؤں کی قدر و منزلت کم نہیں ہوتی۔ بلکہ
بعض اوقات مختلف مسنون دعاؤں کو ایک جگہ جمع کرنے سے ان کے معانی زیادہ آسانی سے
سمجھ میں آتے ہیں۔
آخرکار اصل مقصد
یہ ہے کہ یہ کلمات صرف زبان سے نہ پڑھے جائیں بلکہ ان کے معنی دل میں اتریں اور
ان کے تقاضے زندگی میں نظر آئیں۔
کلمۂ توحید پڑھنے
والا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانے، کلمۂ شہادت پڑھنے والا رسول اللہ ﷺ کی
رسالت پر دل سے ایمان رکھے، تسبیح و حمد پڑھنے والا اللہ تعالیٰ کی عظمت کو
پہچانے، استغفار پڑھنے والا اپنے گناہوں سے توبہ کرے اور شرک و کفر سے پناہ مانگنے
والا اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر رکھے۔
یہی چھ کلموں کی
اصل روح ہے۔
اور شاید اسی لیے
ہمارے اکابر نے انہیں بچوں کی ابتدائی دینی تعلیم میں اتنی اہمیت دی کہ نسل در نسل
مسلمان گھرانوں میں یہ کلمات منتقل ہوتے چلے آئے۔
پس چھ کلموں کی
موجودہ ترتیب کو سنتِ نبوی کی مقرر کردہ ترتیب کہنا درست نہیں، لیکن ان کلمات کو
بے اصل قرار دینا بھی درست نہیں۔ ان کے اندر موجود ایمان و ذکر کے کلمات احادیث
اور مسنون دعاؤں سے لیے گئے ہیں، اور انہیں تعلیم و تربیت کے لیے ایک جگہ جمع کرنا
ایک مفید اور معروف دینی طریقہ ہے۔

Post a Comment