غلو سے پاک معاشرہ
اسلام
کا اعتدال، اختلافِ رائے اور معاشرتی توازن
غلو انسان کے مزاج
میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ کسی بات کو اس کی جائز حد سے آگے لے جاتا ہے۔ دین
ہو یا دنیا، فکر ہو یا عمل، محبت ہو یا نفرت حد سے بڑھ جانا انسان کے لیے نقصان کا
سبب بن سکتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایک شخص کسی بات میں سخت رویہ اختیار کرتا
ہے؛ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ اپنی رائے کو آخری حق سمجھ کر دوسروں کے
لیے بھی وہی معیار مقرر کرنے لگے۔
اسلام نے انسانی
زندگی کو اسی لیے اعتدال اور توازن کی بنیاد پر قائم کیا ہے۔ قرآن مجید نے اس امت
کو
«أُمَّةً وَسَطًا»
قرار
دیا:
﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾( البقرۃ:
143)
“اور
اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا۔”
یہاں اعتدال سے
مراد محض دو انتہاؤں کے درمیان کھڑا ہونا نہیں، بلکہ حق پر قائم رہتے ہوئے حدود کی
رعایت کرنا ہے۔ اعتدال کبھی حق سے دست برداری کا نام نہیں اور نہ ہر معاملے میں
درمیانی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ بعض مواقع پر حق واضح ہوتا ہے اور اس پر
مضبوطی سے قائم رہنا ہی اعتدال ہے۔ غلو وہاں شروع ہوتا ہے جہاں انسان حق کے نام پر
ایسی زیادتی کرنے لگے جس کی اجازت حق خود نہیں دیتا۔
قرآن مجید نے اہلِ
کتاب کو دین کے معاملے میں غلو سے منع کرتے ہوئے فرمایا:
﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي
دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ﴾( المائدۃ: 77)
“اے اہل
کتاب! اپنے دین میں ناحق حد سے نہ بڑھو۔”
اسی مضمون کی
تنبیہ سورۃ النساء میں بھی آئی ہے:
﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي
دِينِكُمْ﴾(
النساء: 171)
یہ دونوں آیات خاص
طور پر اہلِ کتاب سے خطاب کرتی ہیں، اس لیے انہیں سیاق سے ہٹا کر ہر مسئلے کی
براہِ راست دلیل بنانا درست نہیں؛ البتہ دین میں غلو کی قباحت کے بارے میں ان سے
ایک واضح اصول ضرور سامنے آتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس
معاملے کو اور زیادہ صراحت سے بیان فرمایا۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ
نے فرمایا:
«وَإِيَّاكُمْ
وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ
فِي الدِّينِ» (سنن
النسائی: 3057)
“دین
میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے ہلاک کیا۔”
یہ مختصر حدیث دین
میں غلو کے بارے میں نبوی تعلیم کو بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ دین انسان کو
اللہ سے قریب کرنے کے لیے ہے، اسے ایسی سختی میں مبتلا کرنے کے لیے نہیں کہ وہ دین
ہی کو ناقابلِ برداشت سمجھنے لگے۔
صحیح بخاری کی ایک
اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ
الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا
وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا» (صحیح
البخاری: 39)
“بے شک
دین آسان ہے، اور جو شخص دین میں اپنے اوپر غیر معمولی سختی کرے گا وہ اس پر غالب
آ جائے گا؛ لہٰذا درست راستہ اختیار کرو، قریب رہو اور خوش رہو۔”
اس حدیث کا مطلب
یہ نہیں کہ دین کے احکام میں اپنی مرضی کی نرمی پیدا کرلی جائے۔ اصل بات یہ ہے کہ
انسان ایسی غیر ضروری شدت اختیار نہ کرے جو شریعت کے مطلوبہ توازن کو بگاڑ دے۔
اس کی ایک نہایت
خوب صورت مثال خود رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ملتی ہے۔ تین آدمیوں نے آپ ﷺ کی عبادت
کے بارے میں معلوم کیا۔ جب انہیں آپ ﷺ کی عبادت کا بتایا گیا تو انہوں نے اسے اپنے
لیے کم سمجھا۔ ایک نے کہا کہ میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا، دوسرے نے کہا کہ میں
ہمیشہ روزہ رکھوں گا، اور تیسرے نے کہا کہ میں کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ رسول اللہ
ﷺ نے انہیں روکا اور فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں، لیکن
میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی
ہوں، اور نکاح بھی کرتا ہوں۔ پھر فرمایا:
«فَمَنْ
رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي»( صحیح البخاری: 5063)
“جو
میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔”
یہ واقعہ ہمیں
بتاتا ہے کہ نیکی کی خواہش بھی اگر صحیح رہنمائی سے محروم ہوجائے تو غلو کی شکل
اختیار کرسکتی ہے۔ اس لیے ہر شدت قابلِ تعریف نہیں اور ہر زیادہ عبادت بھی لازماً
زیادہ تقویٰ کی علامت نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اللہ کی مقرر کردہ حدود اور
رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے اندر رہ کر عمل کر رہا ہے یا اپنی طرف سے ایک ایسا راستہ
بنا رہا ہے جسے وہ دوسروں پر بھی لازم سمجھنے لگے۔
یہاں ایک اور فرق
سمجھنا ضروری ہے: ہر مضبوط رائے غلو نہیں اور ہر اختلاف انتہا پسندی
نہیں۔ انسانوں کے درمیان علمی، فقہی اور فکری اختلاف فطری ہے۔ صحابۂ کرامؓ کے
درمیان بھی بعض مسائل میں اختلاف ہوا، لیکن اختلاف نے انہیں ایک دوسرے کی تحقیر،
ظلم یا دشمنی پر آمادہ نہیں کیا۔ خرابی اختلاف میں نہیں، اختلاف کے آداب کھو دینے
میں ہے۔
آج ہمارے معاشرے
میں ایک شخص کسی مسئلے میں اپنی رائے کو درست سمجھتا ہے تو یہ بذاتِ خود کوئی
برائی نہیں۔ لیکن اگر وہ اپنی رائے کو حق کا واحد معیار سمجھ کر دوسروں کی نیتوں
پر حکم لگانے لگے، ہر مخالف کو گمراہ یا دشمن سمجھنے لگے، دلیل کے بجائے تحقیر کو
اختیار کرے اور عدل بھی اپنے پسندیدہ لوگوں کے لیے الگ اور مخالفین کے لیے الگ
رکھے، تو معاملہ صرف اختلافِ رائے کا نہیں رہتا۔
غلو کی ایک خطرناک
شکل یہ بھی ہے کہ انسان اپنے پسندیدہ شخص، جماعت، مکتبِ فکر یا نظریے کے ساتھ اتنی
وابستگی پیدا کرلے کہ اس کی غلطی بھی اسے درست دکھائی دینے لگے۔ دوسری طرف مخالف
کی درست بات بھی صرف مخالفت کی وجہ سے ناقابلِ قبول محسوس ہو۔ یہ رویہ علم سے زیادہ
تعصب کی علامت ہے۔
قرآن مجید عدل کے
بارے میں ایک ایسا اصول دیتا ہے جو اختلاف کے زمانے میں خاص طور پر قابلِ توجہ ہے:
﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ
عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾( المائدۃ:
8)
“کسی
قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی
تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”
یہ آیت انسان کے
باطن کی ایک بڑی کمزوری کی طرف اشارہ کرتی ہے: ہم اپنے محبوب کے لیے عذر تلاش
کرلیتے ہیں اور ناپسندیدہ شخص کی معمولی لغزش بھی ناقابلِ معافی سمجھ لیتے ہیں۔
حقیقی اعتدال یہ ہے کہ انسان اپنے تعلقات اور جذبات سے اوپر اٹھ کر حق اور انصاف
کو دیکھ سکے۔
اسی طرح اسلام
اجتماعی زندگی میں تفرقے اور باہمی نفرت کے بجائے اجتماعیت کی دعوت دیتا ہے:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا
وَلَا تَفَرَّقُوا﴾( آل عمران: 103)
لیکن اتحاد کا
مطلب یہ نہیں کہ ہر اختلاف ختم ہوجائے یا سب لوگ ایک ہی رائے اختیار کرلیں۔ اتحاد
کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے حقوق، عزت اور انسانیت کو تسلیم
کیا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے
مسلمان کے اخلاقی کردار کو بھی اسی زاویے سے بیان فرمایا:
«الْمُسْلِمُ
مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»( صحیح البخاری: 10)
“مسلمان
وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
یہ تعلیم صرف تشدد
سے بچنے تک محدود نہیں۔ زبان بھی انسان کو زخمی کرتی ہے۔ طعنہ، تحقیر، بہتان، گالی
اور کسی کی نیت پر بے دلیل حملہ معاشرتی تعلقات کو اسی طرح نقصان پہنچاتے ہیں جیسے
کوئی ظاہری زیادتی۔
غلو کا اثر صرف
مذہبی یا فکری بحثوں تک محدود نہیں رہتا۔ جب معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کو سننے کے
بجائے صرف رد کرنے لگیں، اختلاف کو دشمنی سمجھنے لگیں اور انصاف کو اپنی وابستگیوں
کے تابع کردیں تو اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ خاندانوں میں فاصلے پیدا ہوتے ہیں، اداروں
میں گروہ بندی بڑھتی ہے اور اجتماعی قوت اندرونی کشمکش میں صرف ہونے لگتی ہے۔ لیکن
ان تمام نتائج کو صرف غلو کا لازمی نتیجہ کہنا بھی درست نہیں؛ ان کے پیچھے
ناانصافی، جہالت، سیاسی کشمکش، معاشی محرومی اور دوسرے عوامل بھی ہوسکتے ہیں۔ اس
لیے کسی بھی معاشرتی مسئلے کو ایک ہی سبب سے جوڑ دینا حقیقت پسندانہ رویہ نہیں۔
غلو کے اسباب میں
علم کی کمی ضرور اہم ہے، لیکن صرف کم علمی ہی اس کی وجہ نہیں۔ کبھی جذباتی وابستگی
انسان کو متوازن سوچ سے محروم کردیتی ہے، کبھی مسلسل اشتعال انگیز ماحول، گروہی
تعصب یا ظلم و ناانصافی کے تجربات اسے سخت رویے کی طرف دھکیلتے ہیں۔ اسی طرح مذہب
کی ناقص یا جزوی سمجھ بھی مسئلہ پیدا کرسکتی ہے، جب انسان دین کے ایک حکم کو پورے
دینی مزاج سے الگ کرکے دیکھنے لگے۔
یہاں جدیدیت کا
مسئلہ بھی احتیاط چاہتا ہے۔ جدید سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم یا نئے سماجی مسائل کا
وجود بذاتِ خود غلو پیدا نہیں کرتا، اور نہ ہر جدید فکر قابلِ قبول ہے۔ درست رویہ
یہ ہے کہ ہر نئے خیال کو دلیل اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے۔ جو چیز
انسانی فائدے اور شرعی اصولوں سے ہم آہنگ ہو اسے صرف “جدید” ہونے کی وجہ سے رد
کرنا بھی ایک طرح کی فکری تنگی ہے، اور جو چیز صرف جدید ہونے کی وجہ سے درست مان
لی جائے وہ بھی اعتدال نہیں۔
غلو کا علاج محض
یہ کہنا نہیں کہ “اعتدال اختیار کرو”۔ اعتدال ایک تربیت ہے۔ اس کے لیے علم چاہیے،
تحقیق چاہیے، اپنے جذبات پر قابو چاہیے اور سب سے بڑھ کر اپنے لیے بھی وہی انصاف
چاہیے جو ہم دوسروں سے چاہتے ہیں۔ علمی اختلاف میں دلیل کو شخصیت پر مقدم رکھنا،
خبر کو تحقیق کے بغیر آگے نہ بڑھانا، مخالف کی بات پوری سننا اور اپنے پسندیدہ
لوگوں کی غلطی کو بھی غلط کہنے کا حوصلہ پیدا کرنا اسی تربیت کا حصہ ہے۔
دینی رہنماؤں،
اساتذہ اور اہلِ علم کی ذمہ داری اس لیے زیادہ ہے کہ عام لوگ ان کی باتوں سے اپنا
دینی مزاج تشکیل دیتے ہیں۔ دین کی تعلیم ایسی ہونی چاہیے جو ایمان اور تقویٰ کے
ساتھ فہم، حکمت، عدل اور ذمہ داری بھی پیدا کرے۔ نوجوانوں کو صرف یہ بتانا کافی
نہیں کہ کیا ماننا ہے؛ انہیں یہ بھی سکھانا ضروری ہے کہ دلیل کیسے سمجھی جاتی ہے،
اختلاف کیسے کیا جاتا ہے اور جذبات کے باوجود انصاف کیسے قائم رکھا جاتا ہے۔
آخرکار غلو کا
مسئلہ صرف چند سخت مزاج افراد کا مسئلہ نہیں۔ یہ ہر انسان کے اندر کسی نہ کسی درجے
میں پیدا ہوسکتا ہے۔ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی سیاست کے نام پر، کبھی قوم، جماعت،
شخصیت یا اپنی ذات کی محبت میں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ انسان اپنی وابستگی کے باوجود
حق کو حق کہہ سکے۔
کیا ہم اپنے
پسندیدہ شخص کی غلطی تسلیم کرسکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی ناپسندیدہ شخصیت کی اچھی بات
مان سکتے ہیں؟ کیا ہم اختلاف کے باوجود انصاف کرسکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے جذبات کو حق
کا معیار بنانے کے بجائے حق کو اپنے جذبات پر حاکم بنا سکتے ہیں؟
شاید غلو سے بچنے
کی ابتدا یہیں سے ہوتی ہے۔
اعتدال محض درمیان
کا راستہ نہیں؛ حق، عدل اور حکمت کے ساتھ اپنی حد میں قائم رہنے کا نام ہے۔

Post a Comment