قرآنی اسلوب سے اقتباس اور آیات کے استعمال میں احتیاط
قرآنِ مجید اللہ
تعالیٰ کا وہ مقدس کلام ہے جس کے الفاظ بھی وحی ہیں اور معانی بھی وحی ہیں۔
مسلمانوں کے نزدیک قرآن صرف ہدایت کی کتاب نہیں بلکہ ادب، تعظیم اور روحانی نسبت
کا سرچشمہ بھی ہے۔ اسی لیے اہلِ علم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ قرآن کے
الفاظ، اسلوب اور انداز کے استعمال میں عام گفتگو کے مقابلے میں زیادہ احتیاط کی
جائے۔ کبھی یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن کی کسی آیت کو قرآن کے طور
پر پیش نہ کرے بلکہ صرف اس کے جملے کی ساخت یا اسلوب لے کر کسی دوسرے شخص یا کسی
اور موقع پر استعمال کرے تو کیا اس کی اجازت ہے؟ یہ مسئلہ فقہی اعتبار سے باریک
بھی ہے اور ادبی اعتبار سے حساس بھی۔
فقہاء نے بعض
مواقع پر یہ اجازت دی ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن کی آیت کو تلاوت کی نیت سے نہ پڑھے
بلکہ دعا یا ذکر کی نیت سے پڑھے تو یہ تلاوتِ قرآن کے حکم میں نہیں آئے گا۔ مثال
کے طور پر کوئی شخص "رَبَّنَا آتِنَا
فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً" دعا کی
نیت سے پڑھے تو یہ جائز ہے، کیونکہ یہاں قرآن کے اصل الفاظ اپنی جگہ برقرار رہتے
ہیں۔ اسی اصول کی بنا پر بعض اہلِ علم نے حائضہ عورت کے لیے بھی بعض آیات کو دعا
کی نیت سے پڑھنے کی گنجائش ذکر کی ہے۔ اس صورت میں قرآن کے الفاظ میں کوئی تبدیلی
نہیں ہوتی بلکہ صرف نیت بدلتی ہے۔
لیکن دوسری صورت
میں معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن کے اسلوب کو لے کر اس میں نام یا
بعض الفاظ تبدیل کر دے، جیسے حضرت شعیب علیہ السلام کے بارے میں آنے والی آیت:
﴿يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا
تَقُولُ﴾
کے انداز پر کسی
دوسرے شخص سے کہے:
"يا
فلان ما نفقه كثيرا مما تقول"
تو یہاں صرف نیت
نہیں بدلی بلکہ قرآنی اسلوب میں انسانی تصرف شامل ہوگیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اہلِ
علم نے زیادہ احتیاط کی بات کی ہے۔ اگرچہ اسے قرآن بنا کر پیش نہیں کیا جا رہا،
لیکن قرآن کے مخصوص انداز کو عام گفتگو میں منتقل کرنا بعض اہلِ علم کے نزدیک
مناسب نہیں، خصوصاً جب اس سے قرآن کی شان میں کمی کا اندیشہ ہو۔
عربی بلاغت میں اس
فن کو "اقتباس" کہا
جاتا ہے۔ اقتباس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ادیب یا خطیب اپنے کلام میں قرآن یا حدیث
کے الفاظ یا اسلوب سے فائدہ اٹھائے۔ بہت سے بلاغت کے علماء نے اس کی اجازت دی ہے،
بشرطیکہ مقصد وعظ، نصیحت، اصلاح یا حکمت ہو۔ اگر کسی سنجیدہ دینی یا اخلاقی مقصد
کے لیے قرآنی انداز سے فائدہ لیا جائے تو بعض اہلِ علم اس کی گنجائش دیتے ہیں۔
لیکن اگر یہی اسلوب ہنسی مذاق، دنیاوی مزاح یا غیر ضروری گفتگو میں استعمال ہو تو
یہی چیز ناپسندیدہ بن سکتی ہے۔ کیونکہ قرآن کا مقام عام ادبی عبارت سے بلند ہے۔
اس مسئلے میں خاص
طور پر بعض آیات کے استعمال میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ
وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا﴾
یہ آیت خاص طور حضرت
عیسی علیہ السلام کی زبان سے ان کی ولادت، وفات اور
دوبارہ زندہ اٹھائے جانے کے بارے میں ایک عظیم اور مخصوص بیان ہے۔ اگر کوئی کسی
نیک شخصیت کے بارے میں اسی اسلوب میں تبدیل شدہ جملہ ادا کرے ۔اگرچہ
مقصد تعظیم یا محبت ہو، لیکن ایسی آیات میں خصوصی احتیاط ضروری ہے، کیونکہ یہ
الفاظ ایک نبی کے مخصوص مقام اور ان کے معجزاتی حال سے متعلق ہیں۔ اس قسم کی آیات
کو کسی اور کے لیے اسی انداز میں استعمال کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ اس
سے ایک خاص قرآنی مقام کو عام انسانی تعظیم میں منتقل کرنے کا تاثر پیدا ہو سکتا
ہے۔ اس لیے ایسے استعمال سے بچنا بہتر بلکہ زیادہ مناسب ہے۔
یہ فرق بھی سمجھنا
چاہیے کہ قرآن کے الفاظ کو بعینہٖ دعا کے طور پر پڑھنا اور قرآن کے اسلوب میں نیا
جملہ بنانا ایک جیسی چیز نہیں ہیں۔ پہلی صورت میں اللہ کا اصل کلام محفوظ رہتا ہے،
جبکہ دوسری صورت میں انسان اپنے الفاظ کو قرآنی سانچے میں ڈھالتا ہے۔ اسی وجہ سے
پہلی صورت میں زیادہ آسانی ہے اور دوسری میں زیادہ احتیاط۔ اگرچہ ہر اقتباس کو
مطلق ناجائز نہیں کہا جا سکتا، لیکن بعض مخصوص آیات، خصوصاً انبیاء علیہم السلام
کے خصوصی مقامات سے متعلق آیات، عام ادبی استعمال کے لیے مناسب نہیں ہوتیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے
کہ اگر کوئی شخص قرآن مجید کے اسلوب سے فائدہ اٹھائے، قرآن کے طور پر پیش نہ کرے،
سامع بھی جانتا ہو کہ یہ قرآن نہیں، اور مقصد نصیحت یا اصلاح ہو تو بعض اہلِ علم
نے اس کی گنجائش دی ہے۔ لیکن انبیاء علیھم السلام کے خصوصی فضائل سے متعلق آیات کو
کسی اورسیاق و سباق میں استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ فقہی جواز سے
بڑھ کر قرآن کے ساتھ ادب اور تعظیم کا تعلق ہے، اور مؤمن کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ
قرآن کے اسلوب کو بھی اسی احترام کے ساتھ برتے جس احترام کے ساتھ قرآن کے الفاظ کو
برتا جاتا ہے۔

Post a Comment