مکافات عمل 

What goes around comes around

مکافاتِ عمل — فطرت اور شریعت کا قانون

مکافاتِ عمل ایک ایسی حقیقت ہے جسے دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب کسی نہ کسی انداز میں تسلیم کرتا ہے۔ 

انگریزی میں کہا جاتا ہے “What goes around comes around” یعنی انسان جو کچھ کرتا ہے وہی کسی نہ کسی صورت میں اس کی طرف واپس آتا ہے۔ اسلام میں بھی یہ تصور بہت واضح انداز میں موجود ہے، بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہے کہ اسلام نے اس حقیقت کو سب سے زیادہ متوازن اور مکمل انداز میں بیان کیا ہے۔

انسان اس کائنات میں جو کچھ بھی دوسروں کو دیتا ہے — چاہے وہ محبت ہو، نفرت ہو، عزت ہو، ذلت ہو، آسانی ہو یا تکلیف — وہی چیز کسی وقت اس کی اپنی زندگی میں واپس آتی ہے۔ جو شخص دوسروں کے معاملات میں بلاوجہ مداخلت کرتا ہے، لوگ بھی اس کے معاملات میں مداخلت کرنے لگتے ہیں۔ جو دوسروں کی عزت کرتا ہے، لوگ اس کی عزت کرتے ہیں۔ جو دوسروں پر طنز کرتا ہے، وہ خود طنز کا نشانہ بنتا ہے۔ اور جو بغیر کسی صلہ اور توقع کے دوسروں سے محبت کرتا ہے، اسے بھی بے لوث محبت ملتی ہے۔ یہی مکافاتِ عمل ہے۔

اسلام میں اس کی بہت خوبصورت مثال حدیث مبارکہ میں ملتی ہے۔حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

آدمی کی اپنے بھائی کے حق میں پیٹھ پیچھے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے سر پر ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تمہارے لیے بھی اسی جیسا ہو۔صحیح مسلم

گویا آپ کسی کے لیے خیر مانگتے ہیں تو وہ خیر آپ کو بھی ملتی ہے۔ آپ کسی کے لیے آسانی چاہتے ہیں تو اللہ آپ کے لیے آسانی پیدا فرماتا ہے۔ یہ شریعت کا اصول بھی ہے اور فطرت کا قانون بھی۔

فطرت اور شریعت — دو قانون

1.      قانونِ فطرت

2.       قانونِ شریعت

اس دنیا میں دو طرح کے قانون چل رہے ہیں: شریعت میں رحم ہے، فطرت میں رحم نہیں۔ جو دنیا میں کرو گے ویسا بھرو گے، یہ قانونِ فطرت ہے۔ باپ کو گالیاں دو گے تو آپ کا بیٹا آپ کو گالیاں بھی دے گا اور جوتے بھی مارے گا، یہ قانونِ فطرت ہے۔ ماں یا باپ کو گھر سے نکالو گے تو آپ کی اولاد یقیناً آپ کو گھر سے نکالے گی۔ شراب پیو گے تو گھر اور گروہ خراب ہوگا، ایسا نہیں ہو سکتا کہ شراب بھی پیو اور صحت مند بھی رہو۔

فطرت کے قانون میں بخشش اور رحم نہیں ہے، شریعت کے قانون میں مغفرت اور رحم ہے۔ وہ کیا ہے؟ یہ کہ آپ کے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں، یہ شریعت کا قانون ہے۔ فطرت کے قانون میں معافی نہیں، سزا ہے۔

فطرت کے نظام میں اگر کوئی قوم غافل ہے، سست ہے، جاہل ہے تو جان لیں کہ کل وقت انتقام لے گا، اس لیے زمین سستی کو برداشت نہیں کرتی، وہ پیچھے رہ جاتے ہیں جو سستی سے چلتے ہیں۔ یہ قانونِ فطرت ہے۔

اس دنیا میں جینے کا حق اسی کو ہے جو کام کرنے والا ہو۔ جو محنتی ہوگا وہی جئے گا۔ ناکارہ لوگوں کے سروں پر تاج نہیں رکھا جاتا۔ جن کی ٹانگیں کانپتی ہوں انہیں تخت پر نہیں بٹھایا جاتا۔ یہ دنیا بڑی خطرناک ہے میاں، غفلت کی سزا موت ہے۔

قانونِ فطرت

قانونِ فطرت میں رحم نہیں ہوتا، صرف نتیجہ ہوتا ہے۔جو بوؤ گے وہی کاٹو گے۔

  • والدین کی بے ادبی کرو گے تو اولاد سے بے ادبی دیکھو گے
  • لوگوں کو تکلیف دو گے تو تکلیف ملے گی
  • سستی کرو گے تو پیچھے رہ جاؤ گے
  • محنت کرو گے تو آگے بڑھو گے
  • بری صحبت اختیار کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے

یہ فطرت کا قانون ہے، اس میں معافی نہیں، صرف نتیجہ ہے۔

قرآن کا اصول ہے:ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسهم
اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔

یعنی محنت کرو گے تو حالات بدلیں گے، سستی کرو گے تو زوال آئے گا۔ یہ قانونِ فطرت ہے۔

قانونِ شریعت

قانونِ شریعت میں اللہ کی رحمت، مغفرت اور معافی ہے۔اگر انسان گناہ کرے، پھر سچی توبہ کر لے تو اللہ معاف فرما دیتا ہے۔
یہ شریعت کی رحمت ہے کہ انسان اپنی غلطیوں کے باوجود بخشا جا سکتا ہے۔

یعنی:

  • فطرت کہتی ہے: جو کرو گے وہ بھرو گے
  • شریعت کہتی ہے: توبہ کرو، اللہ معاف کر دے گا

یہی اسلام کی خوبصورتی ہے کہ وہ صرف قانون نہیں بلکہ رحمت بھی ہے۔

دنیا کا اصول

یہ دنیا محنت کرنے والوں کی ہے، سستی کرنے والوں کی نہیں۔جو لوگ مسلسل محنت کرتے ہیں وہ آگے بڑھتے ہیں، اور جو غفلت میں رہتے ہیں وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔غفلت کی سزا زوال ہے، محنت کا انعام کامیابی ہے۔یہ بھی مکافاتِ عمل ہی کی ایک شکل ہے۔

نتیجہ

آخر میں بات بہت سادہ ہے:

  • عزت دو گے تو عزت ملے گی
  • محبت دو گے تو محبت ملے گی
  • آسانی کرو گے تو آسانی ملے گی
  • تکلیف دو گے تو تکلیف ملے گی
  • دعا دو گے تو دعا ملے گی

اس لیے فیصلہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ دنیا میں کیا بانٹنا چاہتا ہے — محبت یا نفرت، آسانی یا تکلیف، دعا یا بددعا۔

یاد رکھئے:

یہ زندگی بہت مختصر ہے، اس میں لوگوں کو دعائیں دیں، آسانیاں دیں، محبت دیں، کیونکہ یہی سب کچھ کسی نہ کسی دن آپ کی طرف واپس آنا ہے۔ یہی مکافاتِ عمل ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post