حضور اکرم ﷺ کا بچوں سے
تعلق
محمدسعد
نبی کریم ﷺ کی زندگی کے جس گوشے پر بھی نظر ڈالیں آپ ﷺ کامل ، مکمل واکمل نظر آئیں گے ۔ آپ ﷺ کی مربیانہ زندگی پر نظر ڈالیں تو دنیا کے تمام ہی معلمین آپ کے خوشہ چین آئیں۔آپ کی ازدواجی زندگی کا جائزہ لے تو آپ ﷺ اپنی بیویوں کے لیے بہترین شوہر ہیں ۔آپ ﷺ کی مجاہدانہ زندگی پر نظر۔ کریں تو دنیا کے تمام بہادر آپ سے کوسوں دور ہیں۔اسی طرح بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کے حسنِ سلوک کاجائزہ لیں تو آپ ﷺ بہترین مربی بھی ہیں ۔نیز آپ سے زیادہ کوئی بچوں پر رحم کرنے والا بھی نہ ہوگا ۔آپ ﷺ نے بچوں کے ساتھ نرمی ،محبت،عاطفت،ملاطفت،کا درس نہ صرف اپنی تعلیمات ہی کے ذریعے دیا ۔بلکہ اپنے عمل سے بھی اسکا ثبوت پیش فرمایا ۔آپ ﷺ کا فرمان ہے جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں[1]۔
اسی
طرح آپ ﷺ نے ایک اور جگہ فرمایا جو نرمی سے محروم ہے وہی تمام خیر سے محروم ہے۔[2]
ہمیں
آپ ﷺ کی زندگی میں بچوں کے حوالے سے ہر طرح کا پیغام ملتا ہے۔مثلا:
(۱)بطور حسنِ سلوک(۲) بطور تعلیم و تربیت (۳)بطور نفسیات(۴)بطور حقوق۔
حسنِ
سلوک:
حضور اکرم ﷺکا بچوں سے حسنِ
سلوک کا عالم یہ کہ بعض دفعہ خواتین اپنے بچوں کے ساتھ مسجد نبوی میں نماز کے لیے
آتی تھی ۔تو بعض۔ دفعہ بچے اپنی عادت کے مطابق رونے لگتے تھے۔تو اس وقت آپ ﷺ نماز
کو مختصر کردیتے تھے۔ایک موقعے پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا،بعض دفعہ میں طویل قرات
کرنا چاہتا ہوں لیکن جب بچوں کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو مختصر کردیتا ہوں،کہ اس
سے ان کی ماؤں کو تکلیف نے ہو۔[3]
آپ
ﷺ کا حسنِ عمل یہی رہا کہ بچوں کو بلکل اپنے سے قریب رکھا یہاں تک کہ ان کے کھیل
کا بھی لحاظ کیا۔آپ ﷺ نے اپنے نواسوں سے بھی بھرپور محبت کا مظاہرہ فرمایا ۔حضرت
عبداللہ بن شداد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ ﷺ مسجد میں حضرت حسن
یا حضرت حسین کولے کے آئیں۔ آپ ﷺ نے نماز
پڑھائی ۔درمیان نماز آپ ﷺ نے سجدہ طویل فرمایا ،حضرت شداد فرماتے ہیں کہ میں نے سر
اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں بچہ آپ ﷺ کی پشت پر سوار ہے ۔ اور آپ ﷺ سجدے میں ہیں۔لہٰذا میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا ۔جب نماز مکمل ہوئی
،تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ اے اللہ کے پیارے رسولِ آپ
نے دورانِ نماز سجدہ طویل فرمایا ۔ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ کوئی معاملہ در پیش
آیا ہے یاآپ پر کوئی وہی نازل ہورہی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:ان
میں سے کوئی بات نہیں بلکہ میرا نواسہ میری پشت پر سوار تھا ۔میں نے مناسب نہ
سمجھا کے بچہ کی ضرورت کی تکمیل سے پہلے سجدہ ختم کروں ۔[4]
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہے، کہ
اقرع بن حابس نے دیکھا کہ آپ ﷺ حضرت حسن کو چوم رہے ہیں یہ دیکھ کر کہنے لگا اے
اللہ کے رسول:میرے
دس بچے ہیں ۔میں نے کبھی انہیں نہیں چوما ۔تو آپ صلی علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا؛جو
شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا[5]۔
آپ ﷺ نے نہ صرف اپنے بچوں سے
شفقت فرمائی بلکہ امت کو بھی اس کی تعلیم دی اور بچوں سے مشفقانہ سلوک نہ کرنے
والے کے لیے فرمایا کہ ایسا شخص عنداللہ بھی قابلِ رحم نہیں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ کو
اپنا وطیرہ بنائیں ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں
نبی پاک ﷺ سے زیادہ کسی کو اپنی اولاد پر شفیق نہیں دیکھا ،(آپ ﷺ کے صاحبزادے)حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ کی بالائی بستی
میں بغرض رضاعت قیام پذیر تھے،آپ ﷺ تشریف لے جاتے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہوتے،آپ
ﷺ گھر کے اندر تشریف لے جاتے دراں حال یہ کہ وہاں دھواں ہوتا کیوں کہ اس دایہ کا خاوند لوہار تھا ،آپ ﷺ
انہیں گود میں اٹھاتے،بوسا دیتے اور پھر لوٹ آتے".[6]۔یہ حدیث متّفق علیہ ہے مذکورہ الفاظ مسلم کے
ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ
تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ ﷺ حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا
کے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے ۔تو آپ ﷺ نے حضرت حسن کے بارے میں دریافت کیا
تھوڑی ہی دیر میں وہ آگے۔تو آپ ﷺ نے انہیں بوسا دیا اور گلے سے لگا لیا ،اور
فرمایا :اے
اللہ! میں
حسن سے محبت رکھتا ہوں تو بھی حسن سے محبت رکھنے والوں سے محبت رکھ [7]۔
بعض دفعہ آپ ﷺ نے اپنے نواسوں
کے پاس آتے انہیں چومتے اُن کے لیے دعا فرماتے۔آپ نے اپنے نواسوں کے ذریعے اپنی آل
اولاد کے ساتھ رہنے کا طریقہ سکھلایا ۔
دیگر
بچوں سے آپ کا حسنِ سلوک:
ہم صرف اپنے بچوں سے ہی محبت کرتے ہیں.لیکن دوسروں کے بچوں کے لیے
محبت نہ پید ہے۔آپﷺ نے اس تفریق کہ خاتمہ کیا۔ جہاں آپ ﷺ نے اپنے بچوں کے ساتھ
محبت کا اظہار فرمایا ،تو وہیں آپ ﷺ نے دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم
اجمعین کے بچوں سے محبت فرمائی۔
ایک دفعہ آپ ﷺ نے ام خالد کو
بلایا بذاتِ خود اس لڑکی کو آپ ﷺ قمیص پہنائی ۔اور فرمایا :اس
وقت تک کہ پہنو کہ یہ پرانی نہ۔ ہوجائے۔[8]
آپ ﷺ نے ایک بچے کو گود
میں اٹھایا ،بچے نے کپڑے پر پیشاب کردیا ،آپ ﷺ اس پر پانی نہ کر صاف کرلیا۔[9]
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ
تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے گھر میں ایک لڑکا تولد۔ ہوا،تو میں اسے آپ ﷺ کے پاس
لے آیا ،تو آپ ﷺ نے اس کا نام ابراہیم رکھا ،کجھور سے اس کی تھنیک (گٹھی)فرمائی،اور اس بچے کے لیے برکت
کی دعا فرمائی[10]۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ
فرماتے ہیں، کہ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا ۔اس کا نام ابو عمیر تھا۔اس کے پاس ایک
چڑیا تھی۔جس کے ساتھ وہ کھیلا کرتا تھا ،آپ ﷺ آئے اور ابّو عمیر سے فرمانے لگے (یا ابّو عمیر!ما
فعل التغير ؟)یعنی:اے
ابّو عمیر تمہاری چڑیا کو کیا ہوا؟[11]
آپ ﷺ نے مشغولیت مصروفیت کے با
وجود صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بچوں سے محبت ،نرمی ،اور شفقت
کا اظہار فرمایا،اور انہیں خوش کرنے کی ترکیبں سوچتے۔
یہودی
بچے کے ساتھ آپ ﷺ کا طرزِ عمل:
مسلمان بچوں کے ساتھ ہم کسی
طرح محبت کرلیتے ہیں۔ مگر کفار کے بچوں کے ساتھ ہمارا رویّہ نہ قابلِ بیان ہوتا
ہے۔قربان جائیے،سرکار دو عالم سرورِ کونین محمد مصطفیٰ ﷺ پر جنہوں نے کفار کے بچوں
کے ساتھ بھی نرمی اور محبت کی تلقین دی ۔
ایک
دفعہ ایک یہودی شخص کا بچہ آپ ﷺ کی خدمت میں تھا،وہ ایک دفعہ۔شدید بیمار ہوگیا،تو
آپ ﷺ بذاتِ خود تشریف لے جا کر اس کی عیادت فرمائی ،اس بچے کے سرہانے بیٹھ گئے،پھر
اس سے فرمایا:اسلام
قبول کرو۔اس بچے نے اپنے والد کی طرف نظر ڈالی۔والد نے کہا:ابّوالقاسم
کی اطاعت کر!لہٰذا
وہ بچہ مسلمان ہوگیا ۔آپ ﷺ یہ کہتے ہوئے نکلے ،(الحمدلله الذي أنقذه من النار.)،[12]یعنی: کہ
تمام تعریفیں اللہ کہ لیے جس نے اس کو آگ سے بچا لیا۔تو حدیث سے ثابت ہے کہ بچے پر
نرمی ،شفقت کی جائے چاہے وہ بچہ کافر کا ہی کیوں نہ ہو۔
تعلیم
و تربیت:
تربیت انسانی
اخلاق کو سنوارنے والی چیز ہے ،جس سے انسان دوسروں کی نظروں میں معزز بن جاتا ہے
۔ویسے توتربیت کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا،لیکن خاص طور پر بچے کی تربیت بہت اہم
ہوتی ہے۔کیوں کہ بچے کا ذہن کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے ۔اس پر جو لکھا جائے وہ پتھر
پر لکیر ہوتی ہے یعنی شروع سے ہی جو بات اس کو سکھائی جائے وہ اس کے دل و دماغ میں
مضبوط اور مستحکم ہوجاتی ہے۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کے بچوں کی تربیت پر خاص توجہ
دیں۔اس کےلیے ہمارے پیارے آقا ﷺ کی تعلیمات ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔"
آپ
ﷺ کا بچوں کی تربیت کا انداز /طرزِ
عمل:
حضور پاک ﷺ بچوں کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے ،جس سے بچوں کی دل جوئی کے ساتھ ساتھ تربیت کا سامان بھی ہوتا تھا۔ایک مرتبہ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ کبھی اِدھر پڑتا کبھی اُدھر،حضور پاک ﷺ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس محبت کے ساتھ سمجھایا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو محسوس بھی نہ ہوا کہ انہیں کسی غلطی پر ٹوکا جا رہا ہے ،یا ادب سکھائے جا رہے ہیں،آپ ﷺ نے فرمایا:(يا
غلام ،سم الله ،و كل بيمينك،وكل مما یلیك)یعنی:اے
بچے!جب
کھانا کھاؤ تو اللہ کا نام لو ،اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ،اور اپنے سامنے سے کھاؤ[13]۔
تربیت کرنے والوں کے لیے اس
فرمان میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے،کہ ابتداً ٹوکنے کے بجائے کچھ اداب بیان کرنے
کی وجہ سے انداز بھی مثبت رہا اور امقصود بھی حاصل ہوگیا،یہی وجہ ہے کہ حضرت ابی
سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں،کہ اس کے بعد میرا کھانے کا انداز ویسا ہی
رہا جیسا آپ ﷺ نے بیان فرمایا تھا۔
"ضرورت کے وقت ڈانٹ ڈپٹ بھی کی جائے اور سزا بھی دی جائے:"
اگر تربیت کے معاملے میں پیار و محبت سے کام نہیں ہو
رہا ہو اور اگر معاملہ فرائض کا ہو تو ادھر ڈانٹ ڈپٹ بھی کے جائے اور سزا بھی دی
جائے،حضور پاک ﷺ کا ارشاد ہے:
(مروا
اولادكم بصلاة وهم أبناء سبع سنين،واضربهم عليها، وهم أبناء عشر) [14]۔
یعنی: اپنی
اولاد کو نماز کا حکم دو،جب وہ دس سال کے ہوجائے تو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے انہیں
مارو۔
حضور پاک ﷺ نے خاص طور پر بچوں کے ساتھ رحم کی تلقین دی ہے،اور اپنی زندگی میں
اس کی مثالیں بھی دی،بچے مستقبل کے روشن ستارے ہوتے ہیں ،ان کی سہی اور اچھی تربیت
کرنا ہمارا فرض ہوتا ہے،ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی بچوں کی تربیت میں کوتاہی سے
پرہیز کریں،ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی زندگی میں بے شمار مثالیں ملتی ہیں،آپ ﷺ کا
فرمان پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم ایک ہی نسل کی پرورش کریں،تو یہی بچے محبّ وطن بھی
بنے گے،اور آخرت میں ہماری نجات کا ذریعہ بھی،(انشاءاللہ).
دعا ہے کہ ہمیں اپنی اولادوں کی پرورش نبی کریم ﷺ کے
فرمان کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرما:امین۔
نفسیات:
نبی کریم ﷺ نے بچوں کی نفسیات پر بھی خاص توجہ دی ہے،اس
حوالے سے سیرت طیبہ کی تعلیمات سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے،کہ آپ ﷺ نے اس حقیقت
کو یوں بیان کیا ہے۔
(كل مولود يولدو على
الفطرة،فابواه يهودانه او ينصرانه او يمجسانه كمثل البهيمة تنتج البهيمة، هل تري فيها
جدعاء.[15]۔
یعنی: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے،پھر
اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں،جس طرح کہ جانور صحیح
سالم بچہ جنتا ہے،کیا تم نےکوئی کان کٹاہوا
بچہ بھی دیکھا ہے؟اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہے انساں کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے،پھر
معاشرتی عوامل میں سے ایک عامل اس کی نفسیات پر اثر انداز ہوکر اس کی طرزِ زندگی کو بدل کے رکھ دیتا ہے۔
بچوں
کو اہمیت دینا:
بچوں کے ساتھ میل جول رکھنا
انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔جب اُن کےساتھ خوش گوار انداز میں میل جول رکھا
جائے،اور انہیں اہمیت دی جائے،تو بچہ پر اس کی عمدہ اثرات پڑتے ہیں،چناچہ حضرت
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمروی ہے،کہ جب آپ ﷺ سفر سے تشریف لاتے تو
اپنے گھر کے بچوں سے ملتے،ایک مرتبہ جب آپ ﷺ سفر سے واپس تشریف لائے تو مجھے آپ ﷺ
کی خدمت میں حاضر کیا گیا،تو آپ ﷺ نے مجھے اپنی سواری پر آگے بیٹھا لیا اور اپنے
نواسوں میں سے کسی ایک کو پیچھے بیٹھا لیا۔[16]
دیکھئے اس موقع پر آپ ﷺ نے
حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وہی اہمیت دی جو اپنے نواسوں کو دیا کرتے تھے۔جس
کا اثر یہ ہوا کہ وہ زندگی بھر اس واقع کو
نہ بھولے ،اور اسے بہت خوشی خوشی بیان کرتے ہیں۔
بچوں
کے سر پر دست شفقت پھیرنا:
بچوں کی فطرت ہے کہ جب اُن سے
پیار کیا جاتا ہے، مثلا سر پر ہاتھ پھیرا
جائے ،تو وہ بہت زیادہ خوشی اور اپنائیت محسوس کرتے ہیں۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ
سے روایت ہے کہ جب آپ انصاریوں کے ہاں آتے تو بچوں کو بھی سلام کرتے،اور اُن کے سر
پر دستے شفقت رکھتے۔[17]
اسی طرح سر پر ہاتھ پھیرنے کے ساتھ کبھی کبھار بچوں کے رخساروں پر بھی دست شفقت پھیرتے اس سے بچوں کو اور بھی زیادہ دلی محبت کا احساس ہوتا ،حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک مرتبہ آپ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی ،جب آپ صلی علیہ وآلہ وسلّم مسجد سے نکلنےلگے تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ نکلا باہر آکر بچے آپ ﷺ سے ملنے لگے ،آپ ﷺ سب بچوں سے ملے اور اُن کے چہروں پر ہاتھ پھیرا پھر میرے چہرے پر بھی آپ ﷺ نے ہاتھ پھیرا تو مجھے آپ ﷺ کے ہاتھوں میں ایسی خوشبو اور ٹھنڈک محسوس ہوئی گویا کہ عطار کا عطر دان ہو۔[18]
بچوں
کو کچھ نہ کچھ تحفہ دینا:
کسی بھی معاشرے کے دوسرے فرد
کی محبت اور توجہ حاصل کرنے کا آسان طریقہ اسے ہدیہ دینا ہے،چناچہ اسی انسانی فطرت
کا لحاظ کرتے ہوئے آپ ﷺ کا فرمان ہے:(نهادوا
تحابوا)
یعنی:آپس میں ایک دوسرے کو تحفہ دیا
کرو،اس سے تمہارے درمیان محبت بڑھے گی[19]۔
آپ
ﷺ نے بچوں کے حوالے سے اسی اصول پر عمل کیا،چناچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ
عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ خدمت میں موسم کا پھل پیش کیا جاتا،تو آپ ﷺ برکت کی دعا فرماتے ،پھر وہ پھل اس مجلس میں موجود سب سے کم
عمر بچے کو بطور ہدیہ دیتے تھے[20]۔
بچوں
کے ساتھ کھیل کود کرنا:
اچھلنا، کودنا،دوڑنا،اور کھیل
کود کسی بھی بچے کے لیے لازمی ہے۔ظاہری طور پر یہ ساری سر گرمیاں فضول دکھائیں
دیتی ہیں۔حقیقتاً یہی چیزے بچوں کی جسمانی اور نفسیاتی قوتوں کی تکمیل کا ذریعہ
بنتی ہے،تو والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ کھیل کود میں شرکت
کرے، بچوں کی شخصیت نکھارنے اور ان مناسب تربیت کے لیئے ان کے ساتھ کھیل کُود ایک
بنیادی امر ہے،اپنی اولاد کے ساتھ کھیلنے کا ایک نفسیاتی فائدہ یہ ہوتا ہے،اولاد
کی خوشی اور فرحت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے کام کی اہمیت کا اندازہ ہوتا
ہے،والدین سے تعلق مظبوط ہوجاتا ہے،دوسرا نفسیاتی فائدہ یہ ہوتا ہے،کہ بچے فطرتاً
کمزور ہوتے ہیں،لیکن جب وہ بڑوں میں قوّت کا مشاہدہ کرتے ہیں،تو وہ بھی بڑوں جیسا
بننا پسند کرتے ہیں،تو اس لیئے والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کے ساتھ کھیل کود میں
شرکت کریں۔آپ ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے اپنی اُمت کو عملاً کر کہ دکھایا،جو درج
ذیل ہیں۔
آپ ﷺ عبداللہ بن عباس اور عبید
اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما:کو
ایک قطار میں کھڑا کرتے اور اُن سے فرماتے،جو پہلے مجھ تک پہنچے گا اسے یہ انعام
ملے گا،تو دونوں دور پڑتے،آپ ﷺ کے سینہ مبارک اور پیٹھ پر چڑھ جاتے،تو آپ ﷺ انہیں
بوسا دیتے اور اپنے چمٹالیتے۔[21]
اسی طرح حضرت علی کرم اللہ
وجہہ سے مروی ہے،کہ ایک مرتبہ حضرت حسن اور حضرت حسین آپس میں اُلجھ رہے تھے،کہ آپ
ﷺ نے ارشاد فرمایا:شاباش! حسین حسن کو پکڑیے ،حضرت علی
رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ حسن کی مخالفت کررہے
ہیں،جبکہ وہ تو حسین سے بڑے ہیں،تو آپ ﷺ نے انہیں جواب دیاکہ دراصل جبرائیل حسن کو شاباش دے رہے ہیں،اس لیئے
میں نے حسین کو شاباشی دی[22]۔
بچوں
کا آپس میں مقابلہ کروانّا :
کسی بھی انسان میں تحریک اور
فعالیت پیدا کرنے کہ آسان طریقہ یہ ہے کہ اُن کا ایک دوسرے سے مقابلہ کروایا
جائے،اور چھوٹے بچوں پر اس کا اثر اور بھی زیادہ ہوتا ہے،اُن میں سے مختلف قوّتیں
اور جذبات پوشیدہ ہوتی ہیں،اور یہ چیزے اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب بچوں کا ایک دوسرے
سے مقابلہ کروایا جائے، آپ ﷺ مختلف مواقع پر بچوں میں مقابلہ بازی کہ جذبے اُبھارا
کرتے تھے،اور اور مقابلہ کبھی فکری سورۃ میں ہوتا یہ کبھی جسمانی دوڑ وغیرہ کی
صورت میں ہوتا،مقابلہ بازی کا ایک نفسیاتی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اجتماعیت پسندی کو
پروان چڑھاتی ہے،اور زندگی کے مسائل سمجھنے اور اسے حل کرنے کے طریقے بھی سکھلاتی ۔[23]
لڑکیوں
کو بھی لڑکوں کے برابر توجہ دینا:
آج کل کے اس جدید دور میں
لڑکیاں عموماً کمزور سمجھی جاتی ہیں،جب کہ
جھیت کے اس دور میں تو لڑکیوں پر اور بھی زیادہ مظالم ڈھائے جاتے تھے،عرب کے کئی
علاقوں میں لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا،لڑکیوں کی پیدائش پر غمگین ہونا تو
آج بھی ہمارے معاشرے میں عام بات ہے،جاہلیت کے اس دور میں جب کسی شخص کو بیٹی کے
پیدائش کی خبر دی جاتی تو باپ کے تاثرات کو قرآن کریم میں کچھ یوں بیان کیا گیا
ہے،
(واذا
بشر أحدهم بلانثي ظل وجحه مسودا وهو كظيم.يتواراي
من الثوم من سوء ما بشر به ايمسكه على هون ام يديه في التراب الا ساء ما يحكمون۔[24]
ترجمہ:جب
ان میں سے کسی شخص کو لڑکی کی خوش خبری دی جاتی ہے،تو سارا دن اس کا چہرہ بے رونق
رہتا ہے۔اور دل ہی دل گھٹا رہتا ہے،اور جس چیز کی اس کو خبر دی ہوتی ہے اس کی عار
میں لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے،آیا اسے ذلت کے حالت میں لیے پھرتا ہے،یہ مٹی میں گاڑ
دیے۔خبر اُن کی تجویز کیسی بری ہے۔
تو اس لیے آپ ﷺ نے والدین کو لڑکیوں کی متعلق صحیح تعلیمات سے روشناس کرایا،اُن سے محبت کرنے کا حکم دیا، بچوں کی پیدائش پر تنگ دل ہونے کو مشرکانہ طرزِ عمل قرار دیا۔لہٰذا بچوں کی پیدائش پر ناگواری کا اظہار جائز نہیں ہے،کیوں کہ ایسا کرنے سے انسان اپنے رب کی ناشکری کرتا ہے۔[25]
لڑکیوں
کی پرورش پر اجرو ثواب:
عربوں کے معاشرے میں لڑکیوں کو
زندہ دفن کردیا جاتا تھا، آپ ﷺ نے اس مشرکانہ طرزِ عمل کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئی
بچیوں کی پرورش کی حوصلہ افزائی کی ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے۔
(من
عال جاريتين حتي تبلغا،جاء يوم القيامة
أنا وهو وضم اصابعه.(
یعنی:جس کسی نے دو لڑکیوں کہ بالغ
ہونے تک پرورش کی تو روزِ قیامت وہ اور میں ان دو انگلیوں کی طرح اکھٹے ہونگے۔[26] پھر
آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو باہم مل دیا۔
خلاصہ
بحث:
آن تمام مباحث کا خلاصۃ یہ ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بچوں کی نفسیات کا وافر علم عطا کیا ہے،آپ ﷺ نے بچوں کی
جیسی رعایت رکھی ہے کوئی اور نہیں رکھ سکتا۔آج کے اس جدید دور میں بچے کئی نفسیاتی
بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔اگر ہم آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرے تو اُن مختلف
نفسیاتی بیماریوں سے بچوں کی حفاظت ممکن ہو سکے گی۔اور ہمیں مستقبل میں ایسی
نوجوان نسل ملے گی جو ذہنی طور پر توانا اور تندرست ہوگی۔
بچوں
کے حقوق:
آج تمام تر تنازعات کا حل حقوق کی ادائیگی پر موقوف ہے۔آج ہر کوئی
اپنے حقوق کا طلب گار ہے لیکن دوسروں کے حقوق ادا کرنے سے تنگ ہے۔آپ ﷺ نے نہ صرف اکابر کے حقوق بلکہ اصاغر کے حقوق پر بھی
خاص توجہ دلائی ہے۔اور اُمت کی توجہ اس جانب مبذول فرمائی کہ ہر ایک کے حقوق کی
ادائیگی ضروری ہے
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ
تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا گیا۔تو
آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ نوش فرمایا ،اور وہ پیالہ (صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں تقسیم
کرنے لگے تو) آپ ﷺ
کے دائیں جانب ایک لڑکا تھا۔ جو اس وقت موجود لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا۔اور عمر
رسیدہ حضرات بائیں جانب تھے،آپ نے فرمایا،اے لڑکے!کیا
تم اجازت دیتے ہو کہ میں یہ (تبرک) عمر
رسیدہ لوگوں کو پہلے دے دوں؟وہ لڑکا عرض
گزار ہوا:یہ
رسولِ اللہ! میں آپ
سے بچی ہوئی (متبرک) چیز
کسی دوسرے کو اپنے اوپر ترجیح نہیں دے
سکتا،سو آپ ﷺ نے وہ پیالہ اس بچے کو پہلے عنایت فرمایا [27]۔
امام نووی نےفرمایا کہ وہ بچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی
اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔[28]
اس حدیث میں اس بات کی طرف
اشارہ فرمایا کہ حقوق کی ادائیگی کا اہتمام ہو بچوں کے حقوق معلوم کرکے انہیں ادا
کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے ،آج ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے میں بچوں کے ساتھ ہونے
والی زیادتی کا خاتمہ کیا جائے،سیرت کی روشنی میں بچوں کے حقوق کی ادائیگی کا
اہتمام کیا جائے!.
حواشی
[1] سنن ابی داؤد: باب فی الرحمۃ،حدیث:۴۹۴۳.
[2] مسلم: باب فی فضل الرفق،حدیث:۲۵۹۲.
[3] بُخاری: باب من آخف الصلاۃ الخ،حدیث:۴۷۷.
[4] مسند احمد: ۱۶۰۳۳،حدیث شداد بن الہاد۔
[5] بُخاری: باب الرحمۃ الولد و تقبیلہ،حدیث:۵۹۹۷.
[6] اخرجه البخاري في الصحيح كتاب
جناءز،باب قول النبي ﷺ:أنا بك لمحزونون،۱/۴۳۹,الرقم:۱۲۴۱
[7] بُخاری: باب مناقب الحسن،حدیث:۳۷۴۹.
[8] بُخاری: باب الخمیصۃ السودا،حدیث:۵۸۲۳.
[9] بُخاری: باب وضع الصبی فی الحجر،حدیث:۶۰۰۲.
[10] بُخاری: باب تسمیہ المولود،حدیث:۵۴۶۷.
[11] بُخاری: باب النبساط الی الناس،حدیث:۶۱۲
[12] بُخاری:باب اذا اسلم الصبی فمات،حدیث:۱۳۵۶
[13] صحیح البخاری:کتاب الاطعمۃ: باب تسمیۃ علیٰ الطعام والا کل بليمین:۵۳۷۶
[14] سنن ابی داؤد:کتاب الصلاۃ، حدیث:۴۹۵
[15] امام بخاری:ابو عبداللہ محمد بن اساعیل (ف۲۵۶ ھ) الجامع
الصحیح ،ج ۲،ص۱۰۰,در طوق النجاۃ بیروت،۲۰۰۱۔
[16] مسلم:مسلم بن حجاج ابو الحسن القشیری(المتوفی ۲۶۱ھ) الجامع الصحیح ج۴, ص ۱۸۸۵,در احیاء التراث العربی۔
[17] ابنِ ماجہ،ابو عبداللہ محمد بن یزید(ف ۲۷۳ھ)،السنن،ج۲, ص۱۲۲۰, دار احیاء الکتب العربیہ بیروت،۲۰۰۱
[18] مسلم: الجامع الصحیح،ج۴, ص۱۸۱۴
[19] بُخاری: محمد بن اساعیل (المتوفی: ۲۵۶ھ)الآداب المفرد،ج ۱،ص۲۰۸, دار الشائر لاسلامیہ بیروت،۱۹۸۹.
[20] (۲۰)مسلم: الجامع الصحیح،ج ۲،ص ۱۰۰۰.
[21] آپ ۳ھجری کو پیدا ہوئے،حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور جلیل القدر صحابی ہیں۔ حبر الا مۃ اور ترجمان قرآن
جیسے القاب سے نوازے گئے ہیں طائف میں سکونت پذیر تھے۔اور وہیں ۶۸ھجری کو وفات
پائی۔ ابن الاثیر،اسد الغابۃ ج۳, ص ۲۹۱
[22] جمعہ،احمد خلیل جمعہ،اولاد کی تربیت
قرآن و حدیث کی روشنی میں ص ۳۵۱, بیت العلوم ٢٠٠٣
[23] ايضاء،ص,۲۰۴.
[24] القران الکریم،سورۃ النحل:۵۸/۵۹
[25] القران الکریم ،سورۃ الشوریٰ:۴۹/۵۰
[26] مسلم: الجامع الصحیح،ج۴،ص۲۰۲۷
[27] بُخاری: باب من رائی ان صاحبِ الحوض الخ،حدیث:۲۳۶۶
[28] وّالنوّوی فی ریاض الصالحین/۱۶۲
Post a Comment