سُئِلَ رَجُلٌ: مَا هي أجملُ حِكمة قرأتها؟

فقال: لي 70 عامًا أقرأ،ما وجدتُ أجمل مِن هذه:


إنَّ مشقة الطاعة تذهب ويبقى ثوابها،
 وإنَّ لذَّة المعصية تذهب ويبقى عقابها

 

ایک آدمی سے پوچھا گیا: آپ نے آج تک سب سے خوبصورت حکمت(دانائی) کی بات کیا پڑھی ہے؟

اس نے کہا: میں 70 سال سے پڑھ رہا ہوں،مجھے اس سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں مل سکی:

اطاعت کی مشقت ختم ہو جاتی ہے لیکن اس کا اجر باقی رہتا ہے۔

  نافرمانی کی لذت ختم ہو جاتی ہے لیکن اس کی سزا باقی رہتی ہے۔

اس قول کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب نیکی کرتا ہے نیکی کرنے میں اسے جس مشقت ، تنگی ، اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ نیکی کرنے کے اس  مشقت کا اثر ختم ہوجاتاہے ۔  اس کا اثر  نہ اس کے جسم پر رہتا ہے نہ ہی ذہن پر لیکن اس نیکی کرنے کا ثواب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے  باقی رہتاہے۔ جس کی لذت وہ جنت الفردوس میں پائے گا۔

اسی طرح  گناہ کرنے کی لذت بھی عارضی اور جھوٹی ہوتی ہے ( اس کا اثرفوری ختم ہوجاتاہے )اور اس کی سزا دنیا میں ندامت،حسرت، شرمندگی اورذہنی اذیت (بعض اوقات جسمانی  ) کے طور پر اور آخرت میں عذاب کی صورت میں  دائمی  باقی رہتی ہے۔






کسی بے وقوف کا کہنا  ہے کہ عورت جوتی کی مانند ہے جب تک تمہیں صحیح  ناپ  کی جوتی نہ ملے اسے بدلتے رہو یہاں تک صحیح ناپ کی جوتی مل جائے

جب کہ کسی دانا کا قول ہے عورت جوتی اس کے لئے جو خود کو پاؤں سمجھتا ہے  لیکن جو خود کو بادشا ہ سمجھتا ہے اس کے لئے تاج کی طرح ہے

یعنی یہ انسان کی اپنی حیثیت کے مطابق ہے جو شخص خود ذلیل ہے ،احساس کمتری کا مریض ہے، وہ شخص اپنی بیوی کو بھی ذلیل سمجھے گا ۔اگر وہ اپنی بیوی کو پاؤں کی جوتی سمجھتا ہے تو اس کے معانی ہیں کہ وہ خود کو پاؤں سمجھ رہا جو جسم کا پست ترین مقام ہے  پھر بھی اس کی  بیوی تو  اس سے اعلیٰ ہوئی وہ اس پاؤں کی حفاظت کررہی ہے۔

 لیکن اس کے برعکس جو شخص عالی کردار و دماغ کا مالک ہوگا(تہذیب یافتہ اور پڑھا لکھا ہوگا) وہ  اپنی بیوی کو ملکہ بنا کررکھے گا یعنی وہ خود بادشاہ ہوگا اور اس کی بیوی ملکہ۔




بہترین عطر وہ نہیں جو آپ اپنے جسم اور کپڑوں پر لگاتے ہیں بلکہ بہترین عطر وہ ہے جو آپ اپنی زبان پر رکھتے ہیں اور دوسرے آپ کی زبان(الفاظ و لہجہ کی چاشنی ) سے جانتے ہیں

اپنی گفتار کو معطر کریں




Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post