ذہانت، ہدایت اور معاشرتی اصلاح 

معاشرہ کن بنیادوں پر سنورتا ہے؟ کیا اس کی تعمیر صرف ذہین افراد کے ذریعے ممکن ہے؟ یا پھر محض ذہانت کو معیارِ قابلیت قرار دینا ایک فکری مغالطہ ہے؟ یہ سوالات آج کے تعلیمی، دینی اور سماجی تناظر میں نہایت اہمیت اختیار کر چکے ہیں، خصوصاً جب ہم مدارس، جامعات اور جدید نظامِ تعلیم کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ "ذہانت" کیا ہے؟ عام طور پر ذہانت سے مراد تیز فہمی، قوتِ استدلال، مسائل کو جلد سمجھنے اور ان کا حل نکالنے کی صلاحیت لی جاتی ہے۔ یہ ایک خداداد صلاحیت ہے جو ہر انسان میں مختلف درجوں میں پائی جاتی ہے۔ قرآنِ کریم میں بارہا تعقل، تدبر اور تفکر کی دعوت دی گئی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ عقل اور ذہانت انسانی زندگی میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ لیکن یہاں ایک نہایت اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن نے محض عقل کو کافی نہیں سمجھا، بلکہ اسے ہدایت کے تابع رکھنے کی تاکید کی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ذہانت ایک اعلیٰ صلاحیت ہے، اس لیے اسے ہی قابلیت اور فضیلت کا معیار بنا دینا چاہیے۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات اس نظریے کی مکمل تائید نہیں کرتیں۔ آقائے نامدار حضور اکرم  ﷺ کی سیرتِ طیبہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی محض ذہانت کو معیارِ فضیلت نہیں بنایا، بلکہ تقویٰ، اخلاص اور ہدایت کو اصل معیار قرار دیا۔

اس سلسلے میں ایک مشہور دعا بھی قابلِ غور ہے، جس میں نبی کریم ﷺ نے دو افراد کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی: ایک ابو جہل اور دوسرے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔ دونوں اپنے زمانے کے نہایت ذہین اور بااثر افراد تھے۔ اس دعا سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ذہانت بذاتِ خود نہ خیر ہے نہ شر، بلکہ اس کی سمت (direction) اہم ہے۔ اگر یہی ذہانت ہدایت کے تابع ہو جائے تو وہ خیر کا ذریعہ بن جاتی ہے، اور اگر وہ نفس یا مفاد کے تابع ہو جائے تو شر کا سبب بن سکتی ہے۔

یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ذہین انسان لازماً مفاد پرست ہوتا ہے؟ بعض حضرات کا یہ خیال ہے کہ عقل چونکہ مفاد کے گرد گھومتی ہے، اس لیے ذہین انسان خود غرض ہو جاتا ہے۔ اس میں کچھ حد تک حقیقت ضرور ہے، لیکن یہ مکمل سچ نہیں۔ دراصل یہ مسئلہ ذہانت کا نہیں بلکہ تزکیۂ نفس اور اخلاقی تربیت کا ہے۔ اگر ایک ذہین انسان کو صحیح دینی و اخلاقی تربیت نہ دی جائے تو وہ اپنی ذہانت کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرے گا، لیکن اگر اسی ذہانت کو ہدایت اور تقویٰ کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو وہ انسان معاشرے کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

مدارس کے نظام کے حوالے سے بھی یہی سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر ذہین افراد اس نظام کو چلائیں گے تو کیا وہ اسے مفاد پرستی کی طرف نہیں لے جائیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ افراد کی ذہانت کا نہیں بلکہ نظام کی بنیادوں کا ہے۔ اگر کسی بھی ادارے کی بنیاد اخلاص، دیانت اور دینی اقدار پر ہو تو وہاں ذہانت ایک مثبت قوت بن جاتی ہے۔ لیکن اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو پھر ذہانت بھی ایک ہتھیار بن جاتی ہے، جسے غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مزید برآں، جدید "pro-state" تعلیمی نظام کے تحت پیدا ہونے والی دانش وری پر بھی تنقید کی جاتی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اس نظام میں تیار ہونے والا عالم یا پی ایچ ڈی ذہن ایک خاص انداز میں سوچنے لگتا ہے، جو سرمایہ دارانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سوچ میں ایک قسم کا تکبر بھی پیدا ہو جاتا ہے، جس کے تحت انسان خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتا ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے، کیونکہ جب علم کا مقصد محض دنیاوی ترقی، منصب یا معاشی فائدہ بن جائے تو اس کے ساتھ تکبر، خود پسندی اور طبقاتی تقسیم بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

لیکن یہاں بھی ہمیں اعتدال کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہر جدید تعلیم یافتہ فرد کو اسی نظر سے دیکھنا درست نہیں، بلکہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کی فکری بنیاد کیا ہے۔ اگر اس کی تعلیم کے ساتھ اخلاقی و روحانی تربیت بھی ہو تو وہ معاشرے کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بن سکتا ہے۔

اسلام ہمیں ایک متوازن تصور دیتا ہے:

  • ذہانت + ہدایت = خیر و اصلاح
  • ذہانت - ہدایت = فساد و گمراہی

لہٰذا اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ذہانت کو رد نہ کریں، بلکہ اسے صحیح سمت میں استعمال کرنے کی تربیت دیں۔ مدارس ہوں یا جامعات، ہر جگہ اس بات پر توجہ دی جانی چاہیے کہ طلبہ کی ذہانت کو محض علمی برتری کے لیے نہیں، بلکہ خدمتِ دین، اصلاحِ معاشرہ اور رضائے الٰہی کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ معاشرے کی اصلاح نہ صرف ذہین افراد سے ممکن ہے اور نہ ہی صرف سادہ لوح افراد سے، بلکہ اس کے لیے ایسے انسان درکار ہیں جو عقل و دل، علم و عمل، اور ذہانت و ہدایت کا حسین امتزاج ہوں۔ یہی وہ افراد ہیں جو نہ صرف خود کو سنوارتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو بھی ایک مثبت سمت عطا کرتے ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب۔

 

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post