حفظ قرآن کریم کے مفید نکات (مختصر مگر ضروری)


 ایک لطیف قرآنی اشارہ

آیتِ مبارکہ:
﴿أفلم يسيروا في الأرض﴾
قرآنِ مجید میں چار سورتوں میں وارد ہوئی ہے۔ اس کو یاد رکھنے کے لیے اساتذۂ قرآن نے ایک نہایت بلیغ جملہ ترتیب دیا ہے:

"غفر الله للحج محمد يوسف"

جس میں:

  • غفر سورة غافر
  • الحج سورة الحج
  • محمد سورة محمد
  • يوسف سورة يوسف

یوں ایک جملہ چار سورتوں کو ذہن نشین کرا دیتا ہے۔

 فاكهة اور فواكۃ کا امتیاز

اکثر حفاظ تلاوت کے دوران اس مقام پر متردد ہو جاتے ہیں کہ آیت میں فاكهة آئے گا یا فواكه؟
اس اشکال کے حل کے لیے ایک نہایت آسان قاعدہ بیان کیا جاتا ہے:

  • اگر سورة کا نام واحد ہو
    مثلاً: الرحمن، الواقعة، الطور
    تو عموماً لفظ فاكهة آتا ہے۔
  • اور اگر سورة کا نام جمع ہو
    مثلاً: المؤمنون، الصافات، المرسلات
    تو اکثر فواكه استعمال ہوا ہے۔

یہ قاعدہ اگرچہ کلی نہیں، مگر عملی حفظ میں نہایت مفید ہے۔

سَبَّحَ اور يُسَبِّحُ کی پہچان

بعض سورتیں سبح سے اور بعض يسبح سے شروع ہوتی ہیں۔
ان کے فرق کو یاد رکھنے کے لیے یہ لطیف نکتہ بیان کیا جاتا ہے:

  • اگر سورۃ کے نام کے پہلے حرف پر نقطہ ہو آغاز يُسَبِّحُ
  • اگر پہلا حرف بے نقطہ ہو آغاز سَبَّحَ

مثلاً:

  • الحديد (ح بے نقطہ سبح لله
  • التغابن (ت پر نقطہ يسبح لله

 

خماسیاتِ قرآن: قرآن کی اعجازی ترتیب

قرآنِ حکیم کی فصاحت و بلاغت کا ایک حسین پہلو یہ بھی ہے کہ اس کی بعض سورتیں پانچ پانچ کے منظم مجموعوں میں ایک ہی طرز پر شروع ہوتی ہیں، جنہیں اہلِ علم نے خماسیاتِ قرآن کا نام دیا ہے۔ یہ سات ہیں:

 تحمید سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں

الفاتحة، الأنعام، الكهف، سبأ، فاطر (سب مکی)

تسبیح سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں

الحديد، الحشر، الصف، الجمعة، التغابن (سب مدنی)

"الم/الر" سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں

يونس، هود، يوسف، إبراهيم، الحجر

 نداء (يا أيها) سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں

النساء، المائدة، الحج، الحجرات، الممتحنة

 نداءِ رسول ﷺ سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں

الأحزاب، الطلاق، التحريم، المزمل، المدثر

 استفہام سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں

الإنسان، الغاشية، الشرح، الفيل، الماعون

 "قل" سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں

الجن، الكافرون، الإخلاص، الفلق، الناس

خلاصہ مضمون:

 آیت: ﴿أفلم يسيروا في الأرض﴾
یہ آیت یا اس کے قریب الفاظ واقعی چار سورتوں میں آئے ہیں:

  • سورة غافر (40:21, 40:82)
  • سورة الحج (22:46)
  • سورة محمد (47:10)
  • سورة يوسف (12:109)

"غفر الله للحج محمد يوسف" والافارمولہ درست اور مفید ہے۔

 فاكهة / فواكه کا قاعدہ
یہ قاعدہ تجرباتی اور تعلیمی یادداشتی ترکیب  mnemonic ہے، فقہی یا اصولی قانون نہیں، مگر
عملی طور پر حفاظ کے لیے بہت حد تک مفید ثابت ہوتا ہے، اگرچہ چند استثنائی مقامات موجود ہیں۔

يُسَبِّح / سَبَّحَ کا فرق
یہ بھی ایک ذہنی سہولت (memory aid) ہے، مکمل ضابطہ نہیں،
مگر ابتدائی حفاظ کے لیے یادداشت مضبوط کرنے میں معاون ہے۔

 خماسیاتِ قرآن (Seven Quintets)
یہ تقسیم مشہور تعلیمی اسلوب ہے، جس کا مقصد سورۃ کے آغاز یاد کروانا ہے،یہ کوئی توقیفی یا وحی پر مبنی تقسیم نہیں،مگر درست، منظم اور فائدہ مند ہے۔

 قرآنِ حکیم کی یادداشت میں معاون اصول

قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جس کا ہر لفظ حکمت، ہر حرف نور اور ہر آیت ہدایت کا خزانہ ہے۔ اس کی حفاظت کا وعدہ خود ربِّ کائنات نے فرمایا، اور اسی وعدے کی عملی صورت وہ خوش نصیب بندے ہیں جنہیں حفاظِ قرآن کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ قرآنِ مجید میں بعض مقامات ایسے ہیں جہاں الفاظ کی مشابہت یا آیات کی تکرار حفاظ کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔

اسی ضرورت کے پیشِ نظر اہلِ علم نے مختلف تعلیمی نکات اور ذہنی سہولتیں مرتب کی ہیں، جو نہ صرف حفظ کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ دورانِ تلاوت اطمینان بھی عطا کرتی ہیں۔

 اختتامیہ

یہ تمام نکات حفظِ قرآن میں سہولت، تلاوت میں اعتماد اور ذہنی الجھن کے ازالے کے لیے مرتب کیے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ اصول توقیفی نہیں، مگر تجربے کی کسوٹی پر پورا اترتے ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو قرآن کو یاد کرتے، سمجھتے اور آگے منتقل کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کا سچا حافظ، عامل اور خادم بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔

 

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post