انسانی اعمال کے تکوینی نتائج: ایک قرآنی مطالعہ

 

قرآنِ مجید کا ایک بنیادی اور روشن اصول یہ ہے:

وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورۃ فاطر (35:18)

یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کا گناہ نہیں اٹھائے گی۔

یہ آیت اللہ تعالیٰ کے عدلِ کامل اور قیامت کے محاسبے سے متعلق ہے، جہاں ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوگا، نہ باپ بیٹے کے جرم میں پکڑا جائے گا اور نہ بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا۔ یہ اللہ کے تشریعی نظام (قانونِ حساب) کا بنیادی اصول ہے۔

لیکن اسی کے ساتھ قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دنیا ایک دارالاسباب ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے فطرت اور تخلیق کا ایک منظم نظام قائم فرمایا ہے۔ اسے تکوینی نظام کہا جاتا ہے، جس میں اسباب اور نتائج کا گہرا ربط ہے۔ یہاں ایک انسان کا عمل دوسرے انسانوں، خصوصاً اس کی اولاد، پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ اثر اخلاقی گناہ کی منتقلی نہیں بلکہ فطری نتائج کی صورت میں ہوتا ہے۔

 سبب اختیار کرنے کا صریح حکم

إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا سورۃ الکہف (18:84)

بے شک ہم نے اسے زمین میں اقتدار دیا اور اسے ہر چیز کے حاصل کرنے کے اسباب عطا کیے۔

 یہاں سبب کا لفظ خود قرآن استعمال کر رہا ہے، جو واضح دلیل ہے کہ اللہ نے دنیا کو اسباب کے ذریعے چلنے والا بنایا۔

 پھر سبب اختیار کرنے کا عملی حکم

فَأَتْبَعَ سَبَبًا سورۃ الکہف (18:85)

پس اس نے ایک سبب اختیار کیا۔

 یعنی محض ایمان کافی نہیں، وسائل اور اسباب اختیار کرنا بھی سنتِ الٰہی ہے۔

 رزق بھی سبب سے مشروط ہے

فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ سورۃ الجمعہ (62:10)

جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔

 اگر رزق محض دعا سے ملتا تو “پھیلنے” اور “تلاش کرنے” کا حکم نہ دیا جاتا۔

 نتیجہ عمل کے ساتھ مشروط

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ سورۃ الرعد (13:11)

بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔

 یہ آیت سبب اور نتیجے کا سب سے مضبوط قرآنی قانون ہے۔

 ہر چیز ایک مقرر اندازے سے

إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ سورۃ القمر (54:49)

بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک مقرر اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

 قدر (Measure) کا مطلب: قانون، ترتیب، نظام — یہی تکوینی نظام ہے۔

 انسان کو عمل کا نتیجہ ملتا ہے

وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ سورۃ النجم (53:39)

اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرے۔

 کوشش ۔ سبب ۔نتیجہ۔ اثر

 کھیتی کی مثال (Cause & Effect)

مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ سورۃ الشوریٰ (42:20)

جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی بڑھا دیتے ہیں۔

طبی اور سائنسی حقائق اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ والدین کی جسمانی حالت، طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ، غذائی عادات اور نشہ آور چیزوں کا استعمال اولاد کی صحت پر اثر ڈالتا ہے۔ بعض اوقات یہ اثرات پیدائش ہی سے ظاہر ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات زندگی کے مختلف مراحل میں سامنے آتے ہیں۔ جدید تحقیق اسے ایپی جینیٹکس کا نام دیتی ہے، یعنی وہ عوامل جو جینز کے اظہار کو متاثر کرتے ہیں۔

یہاں یہ بات سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اثر اور سزا میں فرق ہے۔آئیے اسے قرآن سے سمجھتے ہیں:

سزا (عقوبت) ہمیشہ جرم کے بعد، بطور محاسبہ

فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۔وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورۃ الزلزال (99:7–8)

پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی وہ اسے دیکھ لے گا۔

یہاں عمل کے بعد حساب ہے۔ یہ آخرت کا منظر ہے۔ یہ سزا/جزا ہے، فطری اثر نہیں

 سزا ہمیشہ مجرم تک محدود

وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورۃ الانعام (6:164)

کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔

 یہ آیت قانونِ سزا بیان کرتی ہے۔ مجرم = سزا کا واحد مستحق۔ اثرات کا انکار نہیں، صرف عقوبت کی نفی

 اثر (نتیجہ) دنیا میں، بغیر حساب کے

وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ سورۃ الشوریٰ (42:30)

اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ہے، اور اللہ بہت کچھ معاف بھی فرما دیتا ہے۔

 یہاں لفظ مصیبت آیا ہے، نہ کہ عذاب۔ یہ دنیا کا نتیجہ (اثر) ہے۔ اگر یہ سزا ہوتی تو “معافی” کا ذکر بے معنی تھا

 اثر کبھی آزمائش بھی ہوتا ہے، سزا نہیں

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ... سورۃ البقرہ (2:155)

اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف، کچھ بھوک… کے ذریعے

 آزمائش  یا سزا۔ نبی، صالحین بھی آزمائے گئے۔ لہٰذا ہر تکلیف کو سزا کہنا قرآنی منہج کے خلاف ہے

 اجتماعی اثر، انفرادی سزا نہیں

وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً سورۃ الانفال (8:25)

اور اس فتنے سے ڈرو جو تم میں سے صرف ظالموں ہی کو نہیں پہنچے گا۔

 فتنے کے اثر سب تک پہنچتے ہیں۔ مگر سزا آخرت میں صرف ظالم کو ہوگی۔ یہ آیت اثر اور سزا کا فرق واضح کر دیتی ہے

 سزا سے پہلے اتمامِ حجت لازم

وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا سورۃ الاسراء (17:15)

اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک رسول نہ بھیج دیں۔

 سزا = شعوری انکار کے بعد۔ اثر = فطری نظام کے تحت فوراً

 دنیا میں اثر، آخرت میں سزا

ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ سورۃ آل عمران (3:182)

یہ اس وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔

دنیا میں جو کچھ انسان بھگتتا ہے وہ اکثر اسباب کے تحت ہوتا ہے، نہ کہ گناہ کی سزا کے طور پر۔ اگر کسی بچے کو والدین کے غلط طرزِ زندگی کی وجہ سے جسمانی یا نفسیاتی مشکلات کا سامنا ہو، تو یہ اللہ کے عدل کے خلاف نہیں، کیونکہ اس بچے سے قیامت کے دن ان اعمال کا سوال نہیں کیا جائے گا۔ آخرت میں اس کے لیے اللہ کی رحمت، انصاف اور مکمل تلافی موجود ہے۔

قرآنِ مجید ہمیں اس کے برعکس یہ امید افزا حقیقت بھی دکھاتا ہے کہ نیکی کے اثرات بھی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ سورۃ الکہف میں صالح باپ کی نیکی کی وجہ سے یتیم بچوں کے خزانے کی حفاظت کی گئی۔

وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنزٌ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا ۖ فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنزَهُمَا ۚ رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ ۚ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ۚ ذَٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا سورۃ الکہف — آیت 82

اور وہ دیوار دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اس بستی میں رہتے تھے، اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا، اور ان کا باپ نیک آدمی تھا، تو تیرے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنا خزانہ نکال لیں، یہ تیرے رب کی رحمت تھی، اور میں نے یہ کام اپنی طرف سے نہیں کیا۔ یہی ہے اس بات کی حقیقت جس پر تم صبر نہ کر سکے۔

قرآن واضح طور پر بتاتا ہے کہ باپ کے صالح ہونے کا فائدہ اولاد کو ملا۔یہ نیکی کی نسل در نسل تاثیر کی قرآنی دلیل ہے۔اگر نیکی کا اثر منتقل ہوتا ہے تو بدی کے اثرات کا منتقل ہونا بھی تکوینی نظام کے مطابق ہے۔مگر حساب اور سزا پھر بھی ہر فرد کی اپنی ہوگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کے اعمال صرف مشکلات ہی نہیں بلکہ رحمت اور برکت کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔

لہٰذا ایک مومن کے لیے یہ فہم نہایت اہم ہے کہ اس کی زندگی صرف اس کی ذات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اعمال کا دائرہ اس کی آنے والی نسلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ شریعت ہمیں گناہ سے اس لیے روکتی ہے کہ وہ روح کو آلودہ کرتا ہے، اور فطرت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ وہ جسم اور نسل کو کمزور کرتا ہے۔

اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی کو توازن، اعتدال اور ذمہ داری کے ساتھ گزارے۔ پاکیزہ رزق، درست عادات، ذہنی سکون اور اخلاقی پاکیزگی نہ صرف فرد کے لیے بلکہ اس کی اولاد کے لیے بھی رحمت کا سبب بنتی ہے۔

یوں قرآن کا عدل بھی قائم رہتا ہے اور کائنات کا نظام بھی، اور انسان کو یہ شعور ملتا ہے کہ وہ صرف اپنے آج کا نہیں بلکہ اپنی نسلوں کے کل کا بھی امین ہے۔

 

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post