قرآن حکیم اپنا
تعارف واضح کتاب کی حیثیت سے کرواتا ہے، پھر اکثر لوگوں کو کیوں لگتا ہے کہ وہ اس
کو خود پڑھیں گے تو سمجھ نہیں سکیں گے؟
قرآنِ حکیم اپنی
ذات اور اپنے پیغام کا تعارف بار بار ایک واضح، روشن اور ہدایت دینے والی کتاب کے
طور پر کرواتا ہے۔ وہ خودکو کتابٌ مبین، نور، ھدی، اور
تبیانًا لکل شیء کہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن یہ دعویٰ بھی کرتا ہے
کہ اسے یاد دہانی اور نصیحت کے لیے آسان بنایا گیا ہے۔ بظاہر یہ دعوے اس تصور سے
متصادم معلوم ہوتے ہیں جو مسلم معاشروں میں عام ہے کہ ’’ہر شخص
قرآن کو خود پڑھ کر نہیں سمجھ سکتا، بلکہ ایسا کرنا گمراہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔‘‘
یہ سوال کہ جب
قرآن خود کو واضح کہتا ہے تو پھر عدمِ فہم اور گمراہی کا تصور کیوں پیدا ہوا، محض
عوامی نفسیات کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا علمی و اصولی مسئلہ ہے، کیونکہ اس میں
قرآنی آیات کی تعبیر کرنے اور ان کے معنی متعین کرنے کے اصول و طریقے کا فہم شامل
ہے۔ دوسرے رخ سے، یہ مسئلہ قرآن کی وضاحت نہیں بلکہ قاری کی اہلیت کا مسئلہ بھی
ہے۔
قرآن کا دعویٰ:
وضاحت اور آسانی
قرآن حکیم اپنے
بارے میں واضح دعویٰ کرتا ہے۔
- ذٰلِكَ
الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ
- كِتَابٌ
مُّبِينٌ
- وَلَقَدْ
يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
یہ آیات اس بنیادی
حقیقت کو واضح طور پر ثابت کرتی ہیں کہ قرآن حکیم محض ایک مقدس متن نہیں بلکہ
ہدایت دینے کے لیے نازل کیا گیا عملی رہنما ہے۔ اس کا بنیادی پیغام اس قدر صاف اور
واضح ہے کہ وہ ہر طالبِ حق کے لیے راہ دکھاتا ہے، اور اسی وجہ سے اسے نصیحت اور
یاد دہانی کے لیے قابلِ فہم بنایا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کی وضاحت کا اصل مقصد انسان
کو ایمان، عمل اور اخلاق کے راستے پر گامزن کرنا ہے، نہ کہ اسے پیچیدہ علمی
الجھنوں میں مبتلا کرنا۔
لیکن یہاں ایک
بنیادی نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ وضاحت کا
تعلق مقصد سے ہوتا ہے، نہ کہ ہر ممکنہ علمی سوال سے۔قرآن کی وضاحت کا مطلب یہ نہیں
کہ ہر قاری، ہر سطح پر، ہر قسم کے مسائل کا حل خود بخود نکال لے؛ بلکہ اس کا مطلب
یہ ہے کہ جو شخص ہدایت کا طالب ہو، وہ اس کتاب سے راہ ہدایت پاسکتا ہے۔
مچھر کی مثال:
ہدایت اور گمراہی کا اصول
سورۂ بقرہ میں
اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰهَ
لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا
فَوْقَهَاؕ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ
رَّبِّهِمْۚ-وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ
اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًاۘ-یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًاۙ-وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًاؕ-وَ
مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ(البقرۃ: 26)
بیشک اللہ اس سے حیا
نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کے لئے کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے
بڑھ کر۔ بہرحال ایمان والے تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور رہے
کافر تو وہ کہتے ہیں ، اس مثال سے اللہ کی مراد کیا ہے؟ اللہ بہت سے لوگوں کواس کے
ذریعے گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت عطا فرماتا ہے اور وہ اس کے ذریعے
صرف نافرمانوں ہی کو گمراہ کرتا ہے۔
یہ آیت فہمِ قرآن
کا ایک بنیادی اصول واضح کرتی ہے:
قرآن کا متن بذاتِ
خود ہدایت اور گمراہی کو لازم نہیں کرتا بلکہ ایک ہی مثال اہلِ ایمان کے لیے حق کی
پہچان بنتی ہے اور کج دل لوگوں کے لیے اعتراض اور انکار کا ذریعہ بن جاتی ہے۔گویا
گمراہی کا سبب قرآن نہیں، بلکہ قاری کی نیت، مزاج اور قلبی کیفیت ہے۔ یہی وجہ ہے
کہ قرآن خود واضح ہونے کے باوجود ہر شخص کے لیے یکساں نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔
محکم اور متشابہ:
فہم کی درجہ بندی
سورۂ آلِ عمران کی
آیت 7 فہمِ قرآن کی بنیاد فراہم کرتی ہے:
هُوَ الَّذِیْۤ
اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ
اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌؕ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ
مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ ﳘ وَ مَا
یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ﳕ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ
اٰمَنَّا بِهٖۙ-كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاۚ-وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا
الْاَلْبَابِ(آل عمران:7)
وہی ہے جس نے تم
پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری
وہ ہیں جن کے معنی میں اِشتباہ ہے تووہ لوگ جن کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے وہ (لوگوں
میں ) فتنہ پھیلانے کی غرض سے اور ان آیات کا (غلط) معنیٰ تلاش کرنے کے لئے ان
متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑتے ہیں حالانکہ ان کا صحیح مطلب اللہ ہی کو معلوم ہے اور
پختہ علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے
اورعقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں۔
محکم آیات:
قرآنِ حکیم خود اس
حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ محکم آیات وہ آیات ہیں جو معنی کے اعتبار سے صاف، بنیادی
اور فیصلہ کن ہوتی ہیں۔ انہی آیات میں ایمان کی اساس، عبادات کے اصول، اخلاقی
اقدار اور عملی ہدایات بیان کی گئی ہیں۔ یہی آیات دین کی اصل بنیاد اور معیار کی حیثیت
رکھتی ہیں، اسی لیے قرآن نے انہیں “اُمُّ الکتاب” قرار دیا ہے، یعنی وہ آیات جن پر
فہمِ دین اور ہدایت کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔
متشابہ آیات:
قرآنِ حکیم میں
بعض آیات ایسی ہیں جن میں معنی کی گہرائی پائی جاتی ہے، بعض میں متعدد احتمالات
ہوتے ہیں، اور بعض پہلو ایسے ہوتے ہیں جو انسانی عقل کی محدود رسائی سے ماورا ہوتے
ہیں۔ یہی وہ آیات ہیں جنہیں قرآن نے متشابہات کے زمرے میں رکھا ہے۔ یہ تقسیم اس حقیقت
کی واضح دلیل ہے کہ قرآن فہم کے مختلف درجات رکھتا ہے اور ہر شخص کو ہر درجے کے
فہم کا مکلف نہیں بناتا۔ اس طرح قرآن خود قاری کی علمی سطح اور ذمہ داری کی حد متعین
کر دیتا ہے، تاکہ فہم ہدایت کا ذریعہ بنے، فتنہ کا نہیں۔
دل کی کجی اور
متشابہات کا فتنہ:
اسی آیت میں آگے
فرمایا گیا:
فَأَمَّا
الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ
الْفِتْنَةِ
یہاں قرآن واضح
طور پر بتاتا ہے کہ گمراہی کی جڑ علم کی کمی نہیں بلکہ قلبی کجی ہے۔ایسے لوگ محکم
آیات کو چھوڑ دیتے ہیں اور متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد ہدایت
نہیں بلکہ فتنہ اور تاویل بازی ہوتا ہے۔ لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ عوام قرآن پڑھیں
یا نہ پڑھیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کون سا حصہ، کس نیت اور کس حد تک پڑھا جائے۔
الراسخون فی
العلم: فہم کا معیار
اسی آیت میں ایک
متوازن طبقہ بھی متعارف کروایا گیا:
وَالرَّاسِخُونَ
فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا
الراسخون فی العلم
کی خصوصیات:
الراسخون فی العلم
وہ لوگ ہیں جن میں علم کی گہرائی، تقویٰ اور خشیتِ الٰہی جمع ہوتی ہے۔ ان کا طریقہ
یہ ہوتا ہے کہ وہ محکم آیات پر پورے یقین کے ساتھ عمل کرتے ہیں اور متشابہ امور میں
حد سے آگے بڑھنے کے بجائے توقف اور احتیاط اختیار کرتے ہیں۔ وہ تاویل آرائی اورعقل
کے بجائے تسلیم اور اطاعت کو ترجیح دیتے ہیں۔
اسی اعتدال کی وجہ سے یہ طبقہ نہ قرآن کو عوام سے دور کرتا ہے اور نہ اسے بے لگام
اور من مانی تشریح و تعبیر کا اکھاڑہ بننے دیتا ہے، بلکہ یہی رویہ فہمِ قرآن کا حقیقی
قرآنی توازن ہے۔
کیا ہر شخص محض
ترجمہ پڑھ کر فلاح پا سکتا ہے؟
اس کا جواب نفی
اور اثبات دونوں پر مشتمل ہے:
اثبات:
محکم آیات کے
تراجم سے ایمان مضبوط ہوتا ہے،اخلاق سنورتے ہیں اور عمل کی ترغیب ملتی ہے۔
نفی:
ہر
ترجمہ یکساں مستند نہیں نہ ہی ترجمہ اصل متن کا مکمل بدل ہوسکتا ہے۔نیز متشابہات اور احکامی باریکیوں میں
خود رائے خطرناک ہے۔لہٰذا فلاح ترجمہ پڑھنے سے نہیں، بلکہ صحیح ترجمہ، صحیح نیت
اور صحیح حدود کے ساتھ پڑھنے سے ملتی ہے۔
عوام کا قرآنی
دائرۂ کار
قرآن حکیم جہاں مسلمان
کو تدبر اور غور و فکر کے ذریعے نصیحت اور
ہدایت حاصل کرنے کی تعلیم دیتا ہے، وہیں یہ بھی واضح کرتا ہے کہ مشکل اور متشابہ امور میں
اہلِ علم سے رجوع کرنا ضروری ہے، تاکہ قرآن کی صحیح تفہیم ممکن ہو اور یہ فہم ہدایت
کا ذریعہ بنے، گمراہی کا نہیں۔جیسا کہ سورہ النحل میں ہے:
فَسْــٴَـلُـوْۤا
اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ (النحل:43)
اے لوگو!اگر تم
نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔
اس کا
مطلب یہ نہیں کہ عام مسلمان قرآن مع ترجمہ نہ پڑھیں، بلکہ یہ کہ رشد و ہدایت محکم آیات سے لیں،مشکل اور متشابہ
امور میں رک جائیں اور مستند علماء اور اساتذہ کی رہنمائی اختیار کریں۔
استاد اور معلم کی
ناگزیریت
قرآن خود نبی ﷺ کے
منصب کو یوں بیان کرتا ہے:
رَبَّنَا وَ
ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ
یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ
الْحَكِیْمُ۠ (البقرۃ:129)
اے ہمارے رب! اور
ان کے درمیان انہیں میں سے ایک رسول بھیج جواِن پر تیری آیتوں کی تلاوت فرمائے اور
انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب پاکیزہ فرمادے۔ بیشک تو ہی
غالب حکمت والاہے۔
یہ آیت
اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قرآن محض ایک تحریری متن کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک
زندہ تعلیمی و تربیتی نظام ہے۔ اس نظام میں متنِ قرآن کے ساتھ معلم کی رہنمائی اور
تزکیۂ نفس کی عملی تربیت لازم جزو کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی امتزاج کے ذریعے قرآن
دلوں کی اصلاح کرتا، فہم کو درست سمت دیتا اور علم کو عمل اور کردار میں ڈھالتا
ہے۔ یوں قرآن کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ انسان کی فکری، اخلاقی اور
روحانی تشکیل کرنا ہے۔اسی لیے بہترین صورت یہ ہے کہ قرآن، ایسے استاد سے پڑھا جائے
جو علم اور تقویٰ دونوں کا حامل ہو۔
خلاصہ:
ان تمام مباحث کی
روشنی میں حتمی نتیجہ یہ ہے:
- قرآن حکیم
ہدایت کے لیے واضح اور آسان ہے
- مگر ہر ذہن،
ہر نیت اور ہر سطح کے لیے یکساں نتیجہ نہیں دیتا
- محکم آیات
عوام و خواص سب کے لیے ہیں
- متشابہات
اہلِ رسوخ کا میدان ہیں
- دل کی کجی کے
ساتھ پڑھا جانے والا قرآن خود فتنہ بن جاتا ہے
یوں یہ تصور کہ’’قرآن
واضح ہے مگر ہر شخص اسے خود پڑھ کر فلاح نہیں پا سکتا‘‘ کوئی تضاد نہیں، بلکہ عین
قرآنی منہج ہے۔
قرآن نے نہ فہم پر
پابندی لگائی ہے، نہ بے قید آزادی دی ہے، بلکہ علم، تقویٰ ،اخلاص اور ترتیب کے
ساتھ فہم کا راستہ دکھایا ہےاور یہی راستہ نجات اور فلاح کا ضامن ہے۔
Post a Comment