سوشل میڈیا، الگورتھم اور انسانی دماغ

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب آپ سوشل میڈیا پر کسی خاص موضوع کو تلاش کرتے ہیں تو کچھ ہی دیر بعد اسی موضوع سے متعلق ویڈیوز، پوسٹس اور اشتہارات بار بار آپ کے سامنے آنے لگتے ہیں؟ مثال کے طور پر اگر آپ کارٹون دیکھنا پسند کرتے ہیں اور موبائل پر زیادہ وقت اسی قسم کی ویڈیوز دیکھتے ہیں تو سوشل میڈیا ایپس آپ کو مزید کارٹون، اینی میشن اور ملتا جلتا مواد دکھانے لگتی ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا کا الگورتھم ہے۔ الگورتھم دراصل ایک خودکار نظام ہوتا ہے جو یہ ریکارڈ رکھتا ہے کہ آپ کیا تلاش کرتے ہیں، کون سی ویڈیو کتنی دیر دیکھتے ہیں، کس پوسٹ کو لائک یا شیئر کرتے ہیں۔ پھر یہ نظام آپ کی دلچسپی کے مطابق مواد بار بار آپ کو دکھاتا ہے تاکہ آپ زیادہ سے زیادہ وقت اسی ایپ پر گزاریں۔

اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا سوشل میڈیا واقعی انسانی دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے؟ تحقیق کے مطابق اس کا جواب جزوی طور پر ہاں ہے۔ جب ہمارا دماغ مسلسل نئی ویڈیوز، رنگین تصاویر اور نوٹیفکیشنز دیکھتا ہے تو اس سے دماغ میں ڈوپامین نامی کیمیکل خارج ہوتا ہے، جو ہمیں فوری خوشی اور تسکین کا احساس دلاتا ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب دماغ اس فوری خوشی کا عادی ہو جاتا ہے۔

نتیجتاً انسان کو پڑھائی، گہری سوچ، عبادت یا خاموشی میں بیٹھنا مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔ توجہ کم ہو جاتی ہے، جلدی اکتاہٹ پیدا ہوتی ہے اور معمولی کام بھی بوریت لگنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ضرورت سے زیادہ سوشل میڈیا استعمال کو ذہنی دباؤ اور کمزور توجہ سے جوڑتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ سوشل میڈیا مکمل طور پر نقصان دہ ہے۔ اگر اسے محدود اور سمجھ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ معلومات، تعلیم اور رابطے کا ایک مفید ذریعہ بن سکتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ روزانہ سوشل میڈیا کے لیے ایک مخصوص وقت مقرر کیا جائے، غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند رکھے جائیں اور حقیقی زندگی کے کاموں، مطالعے اور سماجی تعلقات کو ترجیح دی جائے۔

متوازن استعمال ہی ذہنی صحت کی ضمانت ہے۔

 

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post