رات،صُبح میں کس وقت ڈھلتی ہے؟

محمد جنید



ایک صبح مرشد اپنے چند مریدوں کے درمیان بیٹھے تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے اچانک پوچھا:

"بتاؤ، رات صبح میں کس وقت ڈھلتی ہے؟"

ایک مرید نے ادب سے سر جھکایا اور عرض کیا:

"حضرت! جب اتنی روشنی ہو جائے کہ سفید اور سیاہ دھاگے میں فرق دکھائی دینے لگے، اس وقت صبح ہو جاتی ہے۔"

مرشد نے مسکرا کر دوسرے مرید کی طرف دیکھا۔

اس نے عرض کیا:

"حضور! جب دور کھڑے درختوں کو دیکھ کر یہ پہچاننے میں فرق نہ رہے کہ کون سا بیری کا درخت ہے اور کون سا شیشم کا، تو سمجھ لینا چاہیے کہ صبح ہو گئی۔"

مرشد نے دونوں جواب سنے اور کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر انہوں نے مجلس میں بیٹھے دوسرے لوگوں کی طرف دیکھا، جیسے کسی اور جواب کے منتظر ہوں۔ مگر سب خاموش تھے۔

مرشد نے آہستہ سے کہا:

"تم دونوں نے روشنی کی علامتیں تو بتا دیں، مگر صبح کی اصل پہچان ابھی باقی ہے۔"

سب متوجہ ہو گئے۔

مرشد نے فرمایا:

"جب اتنی روشنی ہو جائے کہ تم اپنے سامنے بیٹھے ہوئے ضرورت مند کے چہرے کو دیکھ کر اس کی ضرورت پڑھ سکو، تب سمجھنا کہ رات واقعی گزر گئی اور صبح ہو گئی۔"

مجلس پر خاموشی چھا گئی۔

یہ بات صرف دن کے طلوع ہونے کی نہیں تھی۔ مرشد یہ سمجھا رہے تھے کہ آنکھوں کو روشنی مل جانا کافی نہیں، دل میں بھی روشنی پیدا ہونی چاہیے۔ درختوں کی پہچان آسان ہے، مگر کسی انسان کے چہرے پر چھپی ہوئی پریشانی، خاموشی میں چھپی ہوئی مدد کی پکار اور عزتِ نفس کے باعث زبان پر نہ آنے والی ضرورت کو پہچان لینا ایک بڑی بصیرت ہے۔

بسا اوقات سورج ہمارے سروں پر ہوتا ہے، مگر ہمارے اندر رات باقی رہتی ہے۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کسی محتاج کی خاموش ضرورت کو محسوس کر لیتا ہے تو اس کے لیے وہی لمحہ حقیقی صبح بن جاتا ہے۔

 


Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post