قرآن اور انسانی نفسیات: کیا انسان کو اس کے خالق سے بہتر کوئی جان سکتا ہے؟
قرآنی رہنمائی اور جدید نفسیات کے چند مشترک موضوعات
انسان دنیا کو سمجھنے کے لیے بہت
کچھ کرتا ہے۔ وہ فطرت کے راز دریافت کرتا ہے، انسانی رویّوں کا مطالعہ کرتا ہے اور
اپنے تجربات سے زندگی کے اصول اخذ کرتا ہے۔ لیکن ایک سوال ایسا ہے جس کا جواب تلاش
کرنا آسان نہیں: کیا انسان خود اپنے آپ کو پوری طرح جانتا ہے؟
ہم اپنی نیتوں، خواہشوں اور فیصلوں
کو سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر کبھی اپنی غلطی ماننے سے گریز کرتے ہیں، کبھی
دوسروں کی رائے کو اپنی قدر کا پیمانہ بنا لیتے ہیں اور کبھی اندیشوں میں اس قدر
الجھ جاتے ہیں کہ مسئلے کا حل بھی دکھائی نہیں دیتا۔
جدید نفسیات انسانی رویّوں کے ان
پہلوؤں کو تحقیق اور تجربے کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ قرآن مجید بھی
انسان کے باطن، اس کی کمزوریوں، اخلاقی ذمہ داریوں اور اصلاحِ نفس کے بارے میں
رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان دونوں کا مطالعہ بعض ایسے مقامات سامنے لاتا ہے جہاں
نفسیاتی تحقیقات کے نتائج اور قرآنی تعلیمات میں معنوی مطابقت دکھائی دیتی ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق پیشِ نظر رہنا
چاہیے: نفسیاتی تحقیق اور قرآن کی تعلیمات کا کسی موضوع پر ہم آہنگ ہونا، قرآن کی
حقانیت کا قطعی سائنسی ثبوت نہیں۔ البتہ یہ مطابقتیں انسانی رویّوں کو سمجھنے اور
قرآنی رہنمائی پر غور کرنے کا مفید موقع ضرور فراہم کرتی ہیں۔
1۔ اپنی غلطی تسلیم کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟
کامیابی ملے تو ہم اپنی محنت،
قابلیت اور ذہانت کو اس کا سبب سمجھتے ہیں۔ ناکامی ہو تو کبھی حالات کو، کبھی
دوسروں کو اور کبھی وسائل کی کمی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بیرونی حالات
واقعی ناکامی کا سبب بن سکتے ہیں، لیکن ہر بار سارا قصور دوسروں پر ڈال دینا بھی
حقیقت پسندی نہیں۔
نفسیات میں اس رجحان کو اپنے حق
میں انتسابی تعصب
(Self-serving Attributional Bias) کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کامیابی کی وجوہ اپنی ذات سے
منسوب کرنے اور ناکامی کی ذمہ داری بیرونی عوامل پر ڈالنے کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔
Mezulis اور ان کے رفقا نے 2004ء میں 266 مطالعات اور 503 آزاد
اثراتی پیمانوں پر مشتمل میٹا اینالیسس شائع کی۔ اس تحقیق میں اپنے حق میں انتسابی
تعصب کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اپنی کامیابی کو ذاتی خوبیوں اور
ناکامی کو بیرونی عوامل سے منسوب کرنے کا رجحان مختلف گروہوں میں پایا جاتا ہے،
تاہم اس کی شدت عمر، ثقافت اور نفسیاتی کیفیت کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص اپنی
غلطیوں سے انکار کرتا ہے، بلکہ یہ کہ اپنی ذات کے بارے میں ہمارا فیصلہ ہمیشہ غیر
جانب دار نہیں ہوتا۔
قرآن مجید انسان کو اپنی حقیقت اور
جواب دہی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
﴿بَلِ
الْإِنْسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ﴾(القیامۃ 75:14–15)
مفہوم: ’’بلکہ انسان خود اپنے اوپر
گواہ ہے، اگرچہ وہ اپنے عذر پیش کرے۔‘‘
ان آیات کا اصل سیاق قیامت اور
جواب دہی ہے۔ انسان اپنے اعمال کے بارے میں عذر پیش کرسکتا ہے، لیکن محض عذر پیش
کردینا اسے اپنی ذمہ داری سے بری نہیں کردیتا۔ یہی پہلو خود احتسابی کی اہمیت کو
نمایاں کرتا ہے۔
ذرا اپنی زندگی کے چند معاملات پر
نظر ڈالیے۔ کسی سے سخت بات کہہ دی تو کیا فوراً اس کی غلطی گنوانا شروع کردی؟ کسی
کام میں کوتاہی ہوئی تو کیا حالات کو مکمل ذمہ دار قرار دے دیا؟ کسی اختلاف میں
کیا کبھی یہ سوچا کہ ممکن ہے دوسرے کی بات میں بھی کچھ وزن ہو؟
خود احتسابی کا آغاز اپنی ذات کو
ہر حال میں مجرم ٹھہرانے سے نہیں، بلکہ اپنے بارے میں بھی وہی انصاف کرنے سے ہوتا
ہے جو ہم دوسروں سے چاہتے ہیں۔
2۔ دوسروں کی رائے ہماری قدر کا پیمانہ کیوں بن جاتی ہے؟
کسی کی تعریف انسان کو خوش کرتی
ہے، جبکہ بے توجہی یا تنقید کبھی دل پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ یہ فطری بات ہے کہ
انسان چاہتا ہے اسے قبول کیا جائے اور اس کی قدر کی جائے۔ مشکل اس وقت پیدا ہوتی
ہے جب وہ اپنی پوری خود اعتمادی دوسروں کے رویّوں کے حوالے کردیتا ہے۔
ماہرِ نفسیات مارک لیری نے 2007ء
کے اپنے جائزہ جاتی مقالے میں خود سے متعلق محرکات، جذبات اور سماجی قبولیت کے
باہمی تعلق پر بحث کی۔ اس موضوع پر ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں کی
قبولیت یا ردّ کیے جانے کا تجربہ انسانی جذبات پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
Blackhart اور ان کے رفقا نے 2009ء میں 192
مطالعات پر مشتمل میٹا اینالیسس شائع کی۔ اس میں سماجی ردّ کیے جانے کے جذباتی
اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے تجربات جذبات کو متاثر کرسکتے
ہیں، تاہم یہ ضروری نہیں کہ ہر صورت میں انسان کی خود اعتمادی فوراً کم ہوجائے۔
اس لیے نہ ہر تنقید کو اپنی توہین
سمجھنا درست ہے، نہ ہر تعریف کو اپنی عظمت کی دلیل۔ کبھی دوسروں کی تنقید ہماری
اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے اور کبھی ان کی تعریف محض ایک وقتی تاثر ہوتی ہے۔
قرآن مجید فرماتا ہے:
﴿إِلَيْهِ
يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ﴾(فاطر 35:10)
مفہوم: ’’پاکیزہ کلمات اسی کی طرف
بلند ہوتے ہیں اور نیک عمل انہیں بلند کرتا ہے۔‘‘
آیت کا اصل موضوع پاکیزہ کلام اور
نیک عمل ہے، براہِ راست نفسیاتی خود اعتمادی نہیں۔ تاہم اس کی روشنی میں یہ سوال
ضرور اٹھتا ہے کہ ہم اپنی قدر کا معیار کس چیز کو بناتے ہیں: لوگوں کی وقتی پسند
کو یا اپنے کردار، نیت اور عمل کی اصلاح کو؟
دوسروں کی رائے کو بالکل نظر انداز
کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ اصل توازن یہ ہے کہ حق بات قبول کی جائے، غلط تنقید سے
اپنی ذات کو بے قدر نہ سمجھا جائے اور اپنی زندگی کو محض لوگوں کی خوشنودی کے لیے
نہ گزارا جائے۔
3۔ مسلسل پریشانی مسئلے کا حل مشکل کیوں بنا دیتی ہے؟
جب کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس پر
غور کرنا ضروری ہے۔ لیکن کبھی سوچنے کا عمل ایک دائرے میں گھومنے لگتا ہے: کیا
ہوگا؟ اگر ایسا ہوگیا تو؟ اگر حالات مزید خراب ہوگئے تو؟ انسان بار بار انہی
اندیشوں کی طرف لوٹتا ہے، مگر عملی طور پر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پاتا۔
نفسیات میں اس مسلسل تشویش اور
مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کے تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔ Llera اور Newman کے 2020ء کے تجرباتی مطالعے میں
شرکا کو اپنے کسی حقیقی مسئلے کے بارے میں تشویش کے انداز میں یا نسبتاً غیر جانب
دار اور معروضی انداز میں سوچنے کو کہا گیا۔ اس کے بعد ان کے تجویز کردہ حلوں کا
جائزہ لیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ تشویش کے
انداز میں سوچنے کے بعد ماہرین نے شرکا کے حلوں کو معروضی انداز میں سوچنے والے
گروہ کے مقابلے میں کم مؤثر قرار دیا۔ مزید یہ کہ زیادہ مستقل طور پر پریشان رہنے
والے شرکا نے اپنی تجویز کردہ تدبیر پر نسبتاً کم اعتماد ظاہر کیا، جبکہ اس وقت کی
تشویش کی شدت حل پر عمل کرنے کے کم ارادے سے بھی وابستہ تھی۔ یہ ایک مخصوص تجرباتی
مطالعے کے نتائج ہیں؛ انہیں ہر قسم کی فکر یا ہر فرد پر یکساں طور پر لاگو نہیں
کیا جاسکتا۔
سنجیدہ غور و فکر اور اضطرابی سوچ
میں فرق ہے۔ پہلی انسان کو صورتِ حال سمجھنے اور مناسب قدم اٹھانے میں مدد دیتی
ہے، جبکہ دوسری اسے ممکنہ خطرات کے تصور میں الجھائے رکھ سکتی ہے۔
قرآن مجید دلوں کے اطمینان کے بارے
میں فرماتا ہے:
﴿أَلَا
بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾(لرعد 13:28)
مفہوم: ’’سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے
دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔‘‘
یہ آیت اللہ تعالیٰ کے ذکر کی
روحانی اہمیت بیان کرتی ہے۔ اسے کسی مخصوص نفسیاتی تجربے کا براہِ راست سائنسی
نتیجہ قرار دینا درست نہیں۔ ذکر، دعا اور عبادت مومن کے لیے روحانی سہارا ہیں،
جبکہ توکل اسے کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔
عملی زندگی میں بھی ایک چھوٹا سا
قدم مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ مسئلے کو واضح الفاظ میں لکھ لیجیے، ان امور کو الگ
کرلیجیے جو آپ کے اختیار میں ہیں، کسی قابلِ اعتماد شخص سے مشورہ کیجیے اور ممکن
ہو تو ایک قابلِ عمل قدم اٹھائیے۔ ہر مسئلے کا حل فوراً نہیں ملتا، مگر مسلسل
اندیشوں میں رہنے سے بھی مسئلہ خود بخود حل نہیں ہوتا۔
4۔ جذبات کو دبانا اور انہیں سنبھالنا ایک بات نہیں
غصہ، خوف، حسد اور مایوسی انسانی
جذبات ہیں۔ ان کا پیدا ہونا ہمیشہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا، لیکن ان کے زیرِ
اثر کیے جانے والے اعمال کی ذمہ داری اہم ہے۔
ماہرِ نفسیات جیمز گراس نے 1998ء
کے ایک معروف مقالے میں جذبات کو منظم کرنے کے مختلف طریقوں کا مطالعہ کیا۔ ان میں
ایک طریقہ کسی صورتِ حال کے بارے میں اپنی تعبیر بدلنا ہے، جبکہ دوسرا پیدا ہونے
والے جذبے کے ظاہری اظہار کو دبانا ہے۔ یہ دونوں طریقے ایک جیسے نہیں اور ان کے
اثرات بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔
مثلاً کسی کی سخت بات سن کر فوراً
یہ نتیجہ نکال لینا کہ وہ میری توہین کرنا چاہتا ہے، غصے کو بڑھا سکتا ہے۔ اگر
انسان فوری نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے کچھ توقف کرے اور صورتِ حال کے دوسرے ممکنہ
پہلوؤں پر غور کرے تو اسے اپنے ردِعمل کا بہتر انتخاب کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس
کا مطلب یہ نہیں کہ غصہ لازماً ختم ہوجائے گا، بلکہ یہ کہ انسان اپنے عمل کے بارے
میں زیادہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرسکتا ہے۔
اس تحقیق سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا
چاہیے کہ ہر جذبے کو دبانا نقصان دہ ہے یا ایک ہی طریقہ ہر حالت میں بہتر ہوتا ہے۔
اصل ضرورت یہ سمجھنے کی ہے کہ جذبات کو پہچاننا، ان کی وجہ پر غور کرنا اور ان کے
زیرِ اثر نامناسب عمل سے بچنا سیکھا جاسکتا ہے۔
قرآن مجید متقی لوگوں کی صفات بیان
کرتے ہوئے فرماتا ہے:
﴿وَالْكَاظِمِينَ
الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾(آل عمران 3:134)
مفہوم: ’’اور وہ جو غصہ پی جاتے
ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں، اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
یہ تعلیم انسان کو غصے کے بے قابو
اظہار سے بچنے، درگزر کرنے اور احسان کا رویہ اختیار کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کا
مطلب یہ نہیں کہ ظلم کو قبول کرلیا جائے یا اپنے جائز حق کے لیے آواز نہ اٹھائی
جائے۔ انسان ناانصافی کے خلاف مناسب قدم اٹھاتے ہوئے بھی اپنے الفاظ اور عمل کو
قابو میں رکھ سکتا ہے۔
کبھی جواب دینے سے پہلے چند لمحے
رک جانا، غصے کی حالت میں فیصلہ مؤخر کرنا یا اختلاف کو پُرسکون انداز میں بیان
کرنا ایک بڑے نقصان سے بچا سکتا ہے۔
5۔ نفسیاتی تحقیق اور قرآنی رہنمائی: ہم کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں؟
ان مثالوں سے یہ نتیجہ نہیں نکالا
جاسکتا کہ جدید نفسیات نے قرآن کی تمام تعلیمات کی سائنسی توثیق کردی ہے۔ نفسیاتی
تحقیق انسانی رویّوں کے مخصوص پہلوؤں کا مشاہدے اور تجربے کے ذریعے جائزہ لیتی ہے،
جبکہ قرآن مجید کا دائرۂ ہدایت اس سے کہیں وسیع ہے۔ اس میں ایمان، عبادت، اخلاق،
عدل، تزکیۂ نفس اور جواب دہی سمیت زندگی کے بنیادی موضوعات بیان ہوئے ہیں۔
اس کے باوجود دونوں کا مطالعہ مفید
ہوسکتا ہے۔ نفسیاتی تحقیق ہمیں اپنے بعض رویّوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ
قرآن کی تعلیمات ہمیں اپنی اخلاقی اور روحانی اصلاح کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
جب ہم اپنی ناکامیوں کے لیے بہانے
تلاش کرتے ہیں تو خود احتسابی کی قرآنی تعلیم پر غور کرسکتے ہیں۔ جب دوسروں کی
رائے ہماری زندگی پر حد سے زیادہ حاوی ہوجاتی ہے تو اپنے کردار اور عمل کی اہمیت
کو یاد رکھ سکتے ہیں۔ جب تشویش بڑھتی ہے تو ذکر، توکل اور عملی تدبیر کے تعلق پر
غور کرسکتے ہیں۔ اور جب غصہ بے قابو ہونے لگتا ہے تو ضبطِ نفس، درگزر اور احسان کی
قرآنی تعلیم کو سامنے رکھ سکتے ہیں۔
یہاں مقصد ہر نفسیاتی نظریے کا
کوئی قرآنی متبادل تلاش کرنا نہیں، بلکہ علم کو انسان کی بہتری کے لیے استعمال
کرنا ہے۔ قرآنی آیات کو ان کے سیاق میں سمجھنا اور نفسیاتی نتائج کو ان کے شواہد
اور حدود کے مطابق بیان کرنا، دونوں علمی دیانت کے تقاضے ہیں۔
قرآن کی حقانیت کا سوال چند
نفسیاتی مطابقتوں سے طے نہیں ہوتا۔ اس کے لیے قرآن کے اپنے پیغام، اس کے دعووں،
تاریخی شواہد اور عقلی دلائل سمیت وسیع تر امور کا جائزہ درکار ہے۔ کسی نفسیاتی
نظریے میں تبدیلی آجائے تو اس سے خود بخود قرآن کے بارے میں کوئی فیصلہ لازم نہیں
آتا، اور نہ کسی موضوعاتی مماثلت کو تنہا فیصلہ کن ثبوت کہا جاسکتا ہے۔
اختتامیہ: علم کا اصل فائدہ
انسان دوسروں کی غلطیاں دیکھنے میں
تیز ہوسکتا ہے، مگر اپنی کوتاہی تسلیم کرنے میں اسے دشواری پیش آتی ہے۔ وہ عزت
چاہتا ہے، مگر کبھی اپنی قدر کا فیصلہ دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ وہ سکون کا
خواہش مند ہے، مگر اپنی سوچ کے دائرے میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ عملی قدم اٹھانا
بھول جاتا ہے۔
اپنے آپ کو سمجھنا محض ذہنی مشق
نہیں؛ یہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ انسان جب اپنی سوچ کا جائزہ لیتا ہے، اپنی غلطی
ماننے کے لیے تیار ہوتا ہے اور اپنے جذبات کو بہتر انداز میں سنبھالتا ہے تو اس کی
اصلاح کا راستہ کھلتا ہے۔
جدید نفسیات انسانی رویّوں کو
سمجھنے کے لیے مفید علمی وسائل فراہم کرتی ہے، جبکہ قرآن مجید انسان کو اپنے
کردار، نیت اور عمل کی اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔ ان سے فائدہ اٹھانے کا بہترین طریقہ
یہ ہے کہ علم کو محض معلومات جمع کرنے تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے اپنی زندگی
بہتر بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔
آخرکار، علم کی قدر صرف اس میں
نہیں کہ ہم اپنے بارے میں کتنا جانتے ہیں، بلکہ اس میں بھی ہے کہ اس علم کے بعد ہم
اپنے آپ کو بہتر بنانے کے لیے کیا کرتے ہیں۔
حوالہ جات و مراجع
قرآن مجید
- سورۃ القیامۃ، آیات 14–15۔
- سورۃ فاطر، آیت 10۔
- سورۃ الرعد، آیت 28۔
- سورۃ آل عمران، آیت 134۔
نفسیاتی تحقیقات
1. Mezulis, A. H., Abramson, L. Y.,
Hyde, J. S., & Hankin, B. L. (2004). “Is There a Universal Positivity Bias
in Attributions? A Meta-Analytic Review of Individual, Developmental, and
Cultural Differences in the Self-Serving Attributional Bias.” Psychological
Bulletin, 130(5), 711–747. https://doi.org/10.1037/0033-2909.130.5.711
2. Leary, M. R. (2007).
“Motivational and Emotional Aspects of the Self.” Annual Review of
Psychology, 58, 317–344. https://doi.org/10.1146/annurev.psych.58.110405.085658
3. Llera, S. J., & Newman, M. G.
(2020). “Worry Impairs the Problem-Solving Process: Results from an
Experimental Study.” Behaviour Research and Therapy, 135, Article
103759. https://doi.org/10.1016/j.brat.2020.103759
4. Gross, J. J. (1998). “Antecedent-
and Response-Focused Emotion Regulation: Divergent Consequences for Experience,
Expression, and Physiology.” Journal of Personality and Social Psychology,
74(1), 224–237. https://doi.org/10.1037/0022-3514.74.1.224

Post a Comment