کتابوں سے دوری کے اسباب؟

الحمدللہ! ہم مسلمان ہیں اور حضور ﷺ خاتم النبیین کے نام لیوا ہیں۔ اور اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ آپ ﷺ پرآغاز وحی کا سلسلہ ہی ” اقراء” سے ہوا ۔یعنی علم کی اہمیت، لیکن افسوس کہ مسلمان ہی پوری دنیا میں علم میں دیگراقوام سے پیچھے ہیں ۔اس  کے بہت سے اسباب ہیں جن میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں کتاب کو فضول سمجھا جاتا ہے اور اسے خریدنے کے لئے خرچ کی گئی رقم کو مال کا ضیاع سمجھتی ہے۔ہمارے گھروں میں لائبریری تو دور کی بات ہے قرآن مجید کے سوا  دیگر کتب  دیکھنے کوبھی نہیں  ملتیں۔بلکہ اس کے برعکس کتابیں خریدنے اور پڑھنے والے کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اسے خبطی ،کتابی کیڑا ،پاگل کہا جاتا ہے۔

یہ سب اس قوم میں ہو رہا ہے جس کے معلم نے  فرمایا:

مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ، کَانَ فِي سَبِيْلِ اﷲِ حَتّٰی يَرْجِعَ.(الترمذي، الرقم/ 2647)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حصولِ علم کے لئے نکلا وہ اس وقت تک اﷲ کی راہ میں ہے جب تک کہ واپس نہیں لوٹ آتا۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا کہ

مَا مِنْ خَارِجٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَاءِکَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ.(أحمد بن حنبل في المسند، 4/ 239، الرقم/ 18118)

 حضرت زِر بن حُبَیش بیان کرتے ہیں: میں حضرت صفوان بن عسال المرادی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر ہوا۔ انہوں نے مجھ سے دریافت فرمایا: کیسے آنا ہوا؟ میں نے عرض کیا: علم کی تلاش میں آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی اپنے گھر سے طلبِ علم کی نیت سے نکلتا ہے، فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کیلئے اپنے پر بچھاتے ہیں۔

کوئی دورتھا کہ کتاب تنہائی کا بہترین ساتھی تھی ،آج کتاب تنہا ہے اورساتھی کو ترستی ہے۔کبھی کتاب سے دُوری کاتصوربھی محال تھا،آج کتاب قاری کی قربت کو ترستی ہے۔ اِبن رُشدکے بارے میں کہا جاتاہے کہ’’ میں نے زندگی میں صرف دو رَاتیں کتاب کے مطالعہ کے بغیرگزاری ہیں‘‘ اوراَب مطالعہ زندگیوں ہی سے نکل چکاہے۔

اجتماعی طور پر مسلمان اور خاص طور پر ہم پاکستانی کتاب سے کیوں دور ہوتے جا رہے ہیں ،اس کے مختصر اسباب ،غربت ،بے روزگاری،جہالت،علم کی بے وقعتی،شرح خواندگی کی کمی،قوتِ خرید کاکم ہونا،کتب کی اشاعت اورفراہمی میں حکومت کی عدم دل چسپی اور گھروں میں بچوں کو اَچھی کتابوں کے مطالعہ کی عادت نہ ڈالنا وغیرہ جیسے عوامل واسباب کارفرما ہیں۔

نیز انفرادی پر ہم اتنے بدذوق ہوچکے ہیں کہ عموماً کتابوں کا مطالعہ کرنے کو وقت کاضیاع سمجھتے ہیں ۔پاکستان میں ایک تو شرح خواندگی کم ہے اور دوسری طرف مہنگائی کی وجہ سے بھی کتاب بینی میں کمی آئی ہے ۔ پھر جدید طریقوں کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل فونز کے استعمال کی وجہ سے بھی کتاب کی اہمیت متاثر ہوئی ہے ۔

ہم جتنا ٹیکنالوجی کے قریب جا رہے ہیں ُاتنا ہی کتابوں سے دوستی دم توڑتی جا رہی ہے،نوجوان نسل میں کتابوں سے دوری کا رجحان سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ تیزرفتاردُنیاکی نت نئی ایجادات بالخصوص انٹرنیٹ ،سوشل میڈیا اورموبائل فون نے کتب بینی کے ذوق کو تشویشناک حدتک کم کردیاہے ۔اگرچہ انٹرنیٹ معلومات کی فوری فراہمی کاآسان اور تیزترین ذریعہ ہے،مگرصرف معلومات کے حصول نے علم ودانش سے محرومی کی صورت پیداکردی ہے۔مادیت کی دوڑ اورآسائشات نے بھی ہماری زندگی سے کتاب کونکال باہرپھینکاہے۔اب کتاب ہماری ترجیحات سے نکل چکی ہے۔ماضی میں کتاب پڑھنے کا ذوق اتنا تھا کہ کتاب پڑھے بنا نیند نہیں آتی تھی لیکن آج کل کی نسل لائبریری جانے کا تکلف بھی نہیں کرتی بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ موبائل فون میں ہی کتاب کو پڑھا جا سکتا ہے وقت نہ ملنے کی وجہ سے وہ لائبریری نہیں جا سکتے مزید یہ کہنا ہے کہ کتابیں مہنگی ہونے کی وجہ سے اب وہ خرید نہیں سکتے۔نصاب کی بھی اگر بات کی جائے تو دور جدید کی نسل صرف نوٹس پر ہی اتفاق کرتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتابوں سے رجحان ہٹتا جا رہا ہے۔اس کی جگہ اب سوشل میڈیا نے لے لی ہے۔ نوجوان اپنا زیادہ وقت موبائل اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گنوا دیتے ہیں۔ کتب بینی کے لیے ان کے پاس وقت ہی نہیں بچتا ۔ عام طور پر والدین شکایت کرتے ہیں کہ بچوں کو مطالعے کا شوق نہیں ہے ، غیر نصابی کیا وہ تونصابی کتب کا مطالعہ کرنا بھی گوارا نہیں کرتے ، لیکن اس میں قصور وار کون ہے ؟نسلِ نو؟ نہیں ! بنیادی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کیونکہ انھوں نے ہی نئی نسل کے ہاتھ سے کتاب چھین کر پہلے ٹی وی کا ریموٹ اور اب ٹیبلٹ اور اسمارٹ فون تھمادیا ہے۔ جس سے نہ صرف اس نسل کی آنکھیں کمزور ہورہی ہیں بلکہ ان کی ذہنی وجسمانی صلاحیتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں ۔ اس سے ایک بہت بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ اس سے انسان کی سوچ محدود سے محدود تر ہوتی جا رہی ہے۔اس میں وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ویسی نہیں رہی جیسے کہ مطالعے کے بعد ُاس کا کسی موضوع پر سوچنا ہوتا ہے۔کتابوں سے دوری در حقیقت علم سے دوری ہے۔

 بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں بچوں کو سکولوں میں داخل کروانے سے پہلے مطالعے کی عادت ڈالی جاتی ہے سکولز میں ایک مخصوص کردہ وقت پر بچوں کو لائبریری لے جایا جاتا ہے بچے اپنی مرضی سے کتابیں پڑھتے ہیں یوں ُان میں مطالعے کا شوق بھی پروان چڑھتا ہے۔ یورپی اقوام میں کتابیں پڑھنا ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے لیکن یہ وصف تو ہمارا تھا جسے ہم نے جانے انجانے میں چھوڑ دیا ہے جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے جنگ کی ضرورت نہیں بلکہ علم سے دوری ہی کافی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ علم کبھی ہماری ترجیح رہا ہی نہیں ہماری لائبریروں میں پڑی کتابیں بھی افسوس کر رہی ہوں گئی۔

شاید ان ہی امور کی جانب علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں اشارہ کیا تھا :

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہيں سکتی

کہ تو گفتار وہ کردار ، تو ثابت وہ سیارا

گنوا دي ہم نے جو اسلاف سے ميراث پائی تھی

ثريا سے زميں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کيا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی

نہيں دنيا کے آئين مسلم سے کوئی چارا

مگر وہ علم کے موتي ، کتابيں اپنے آبا کی

جو ديکھيں ان کو يورپ ميں تو دل ہوتا ہے سيپارا

کتب بینی پر چندکہاوتیں

ایک چینی کہاوت:

کتاب ایک کھڑکی ہے جس سے ہم دنیا کو دیکھتے ہیں۔

اقوالِ زریں برائے کتب بینی

  • Francis Bacon
    "Some books are to be tasted, others to be swallowed, and some few to be chewed and digested."


ترجمہ: کچھ کتابیں چکھنے کے لیے ہوتی ہیں، کچھ نگلنے کے لیے، اور کچھ کو چبا کر ہضم کرنا پڑتا ہے۔


  • René Descartes
    "The reading of all good books is like a conversation with the finest minds of past centuries."

  • ترجمہ: اچھی کتابوں کا مطالعہ گزشتہ صدیوں کے بہترین اذہان سے گفتگو کے مترادف ہے۔

  • Mark Twain
    "The man who does not read has no advantage over the man who cannot read."

  • ترجمہ: جو شخص پڑھتا نہیں، اسے اس پر کوئی برتری حاصل نہیں جو پڑھ نہیں سکتا۔

  • Voltaire
    "Judge a man by his questions rather than by his answers."

  • ترجمہ: کسی انسان کو اس کے سوالات سے پہچانو، نہ کہ اس کے جوابات سے۔

  • Cicero
    "A room without books is like a body without a soul."

  • ترجمہ: کتابوں کے بغیر کمرہ ایسا ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔

  • Imam Al-Shafi'i
    "من تعلم القرآن عظمت قيمته، ومن تكلم في الفقه نما قدره، ومن كتب الحديث قويت حجته."
    ترجمہ: جس نے قرآن سیکھا اس کی قدر بڑھی، جس نے فقہ میں بات کی اس کا مقام بلند ہوا، اور جس نے حدیث لکھی اس کی دلیل مضبوط ہوئی۔

  • Ibn Khaldun
    "القراءة هي غذاء العقل."
    ترجمہ: مطالعہ عقل کی غذا ہے۔

  • Abbas Mahmoud al-Aqqad
    "أنا أقرأ لأعيش أكثر من حياة واحدة."
    ترجمہ: میں اس لیے پڑھتا ہوں کہ ایک سے زیادہ زندگیاں جی سکوں۔

  • Jorge Luis Borges
    "I have always imagined that Paradise will be a kind of library."

  • ترجمہ: میں ہمیشہ یہ تصور کرتا رہا ہوں کہ جنت ایک قسم کی لائبریری ہوگی۔

  • George R. R. Martin
    "A reader lives a thousand lives before he dies."

  • ترجمہ: ایک قاری مرنے سے پہلے ہزار زندگیاں جیتا ہے۔

  • Harper Lee
    "Until I feared I would lose it, I never loved to read. One does not love breathing."

  • ترجمہ: جب تک مجھے یہ خوف نہ ہوا کہ میں پڑھنے کی صلاحیت کھو دوں گا، مجھے پڑھنے سے محبت نہ تھی؛ جیسے سانس لینے سے محبت نہیں کی جاتی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post