اصحابِ کہف

بڑی سورت ہے لیکن مختصراً یہ کہ چونکہ یہ سورت کہف والوں کی وجہ سے کہف کہی جاتی ہے اس لیے انہی پر کچھ بات کر لیتے ہیں۔
یہ سورت گویا پکارتی ہوئی دکھتی ہے کہ:

کیا تم میں کوئی ہے جو اللہ سے ویسا مخلص ہو جیسا کہ یہ نوجوان ہوئے؟ ایسی محبت کرے جیسی انہوں نے کر دکھائی اور اللہ کے لیے اپنے دین کو بچانے کی خاطر سب کچھ قربان کر گئے؟

کیا منصب، کیا مال و دولت، گھر بار، قوم و وطن—وہ تو اللہ کے لیے سارے رشتے ناطے تک چھوڑ کر نکل گئے اور غار نشین ہوئے۔
مگر جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے بھی ان کی خوب قدر کی۔ جیسا معاشرہ وہ چاہتے تھے اور جیسی دنیا وہ دیکھنا چاہتے تھے، اللہ نے اسی زندگی میں انہیں وہ دکھا دیا اور ان کی خاطر ایک رات میں دنیا ہی بدل دی، اور خود انہیں ہی آیت بنا ڈالا۔

اب ہے کوئی جو ظرف رکھتا ہے کہ وہ اللہ سے ایسی یاری لگائے جیسی غار والوں نے لگائی، اور اللہ سے ایسا ہی مخلص ہو کر دکھائے جیسا انہوں نے دکھایا؟

اگر کوئی ایسا کرے تو اللہ ایسے شخص کو ضائع نہیں کرے گا اور اللہ کو ویسا ہی قدر کرنے والا پائے گا جیسا غار والوں نے پایا۔

اصحابِ کہف کا دور ہمارے اور خود نبی کریم ﷺ کے دور سے بھی مختلف تھا۔ یہ وہ دور تھا جب دین چھپانا پڑتا تھا؛ پتہ چل جانے پر یا تو دین چھوڑنے کا آپشن دیا جاتا تھا اور ڈٹ جانے پر قوم و مذہب کا باغی قرار دے کر زندہ جلانے، آرے سے چیرنے، سنگسار کرنے اور سولی پر چڑھائے جانے جیسی سزائیں دے دی جاتی تھیں۔

یہ بات اصحابِ کہف بیدار ہو کر کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں:

إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فِي مِلَّتِهِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوا إِذًا أَبَدًا

ترجمہ:
بے شک وہ لوگ اگر تمہاری اطلاع پا لیں گے (یعنی اصحابِ کہف کی) تو وہ تمہیں سنگسار کر دیں گے یا اپنے دین کی طرف (یعنی کفر پر) لوٹا لیں گے، پھر تم کبھی فلاح نہ پا سکو گے۔

سورۃ الکہف، آیت 20

ایمان لانا اتنی بڑی آزمائش تھا کہ بس جان کی بازی لگانے جیسا تھا۔ ظاہر ہے اب عموماً ایسا نہیں ہوتا، اور نبی کریم ﷺ کے وقت مکہ میں بھی حالات کم از کم (اصحاب الاخدود) جیسے نہیں تھے کہ پوری بستی یا جماعت کو ایمان لانے کی وجہ سے زندہ جلا دیا گیا ہو۔ اور مکہ میں بھی جب آزمائش بائیکاٹ کے وقت بہت سخت ہو گئی تو پھر آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو بھی ہجرت کرنا پڑی، جو خود ایک بڑی قربانی تھی۔

اصحابِ کہف نے بھی اپنے دین کو بچانے اور اللہ کا ہو کر رہنے کے لیے سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کی۔ یقیناً یہ ان کے لیے بالکل بھی آسان نہیں ہوگا بلکہ بہت مشکل ہونے کے ساتھ نہ جانے کتنا دل کٹا ہوگا، کتنا سینہ جلا ہوگا۔
مگر اللہ کی محبت ہر غم پر حاوی ہو گئی اور یہ حضرات سارے دکھوں کا ظرف کر گئے، اور پھر آخرکار فیصلہ کر کے اللہ کے لیے نکل گئے۔

اللہ اصحابِ کہف پر اپنا خاص انعام فرمائے اور اپنی خاص رحمت ہمیشہ ان پر نازل فرمائے، آمین۔

سید محمد ذوالقرنین

 

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post