الیکشن (انتخابات) کچھ مغربی مفکرین کی آراء(کڑوا
سچ)
انتخابات قریب آ
رہے ہیں، ہوتے ہیں یا نہیں اللہ رب العزت
ہی جانتا ہےلیکن :
تین مشہور مغربی
دانشوروں سے منسوب کچھ اقوال الیکشن کے
سلسلے میں یہاں پیش کئے جاتے ہیں ۔
1۔ اِس میں سے
پہلا "کارل مارکس " سے منسوب ہے
کہ
ہر کچھ سالوں بعد
"مظلوموں"کو یہ
فیصلہ کرنے کیاجازت دی جاتی ہے کہ "ظالموں" کا
کون سا "طبقہ" اب اُن کا نمائندہ ٹھہرے گا ،اور
پانچ سال اُن کا استحصال کرے گا۔
2- دوسرا "مارک
ٹوین" سے منسوب ہے کہ
اگر ووٹنگ سے واقعی
کوئی فرق پڑتا تو وہ ہمیں کبھی ووٹ نہ ڈالنے دیتے
3- تیسرا "رالف
نیڈر" کی مشہور بات کہ
جب آپ دو برائیوں
میں سے کم تر برائی کا انتخاب کرتے ہیں تو بھی آپ برائی ہی چن رہے ہوتے ہیں.
یہاں اسی سلسلے ایک تمثیل پیش خدمت ہے:
روزانہ ہاسٹل کینٹین
میں ناشتے میں کھچڑی کھا کر پریشان طلباء نے ہاسٹل وارڈن سے شکایت کی اور ناشتہ میں
دوسری چیز دینے کا مطالبہ کیا۔
وہاں 100 میں سے
صرف 20 طالب علم ہی ایسے تھے جن کو کھچڑی پسند تھی اور وہ طلباء چاہتے تھے کہ
روزانہ کھچڑی ہی بنائی جائے۔
جبکہ باقی کے 80
طلباء تبدیلی چاہتے تھے۔
اب وہ 20 طلباء
جنہیں کھچڑی پسند تھی ان سب نے کھچڑی کے لیے ووٹ دیا۔
باقی کے 80 افراد
میں کوئی ہم آہنگی نہیں تھی۔ مزید کوئی بات چیت بھی نہیں تھی اور اپنی عقل اور ضمیر
سے کچھ فیصلہ بھی نہیں کیا۔ نہ آپس میں کوئی صلاح مشورہ کیا اور ہر ایک نے اپنی
اپنی پسند کے مطابق ووٹ دیا۔
اب ووٹنگ کا نتیجہ
کچھ ایسا آیا
کھچڑی |
20 |
انڈہ پراٹھا |
18 |
پراٹھا چائے |
16 |
روٹی سالن |
14 |
روٹی مکھن |
12 |
نوڈلز |
10 |
پوری سبزی |
10 |
اب کیا ہوا، اس کینٹن
میں آج بھی وہ 80 طلباء ہر روز کھچڑی کھاتے ہیں۔
انتخابات کچھ ایسی ہی مثال ہیں۔
آپ 80 ہیں آپ کا
اتحاد کیا کر سکتا ہے آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ 20 سے شکست صرف متحد نہ ہونے کی
وجہ سے ہے۔ ایک بن کے رہو، منظم رہو اور جدوجہد کرتے رہو ۔تب ہی کچھ تبدیلی ممکن
ہے ۔
Post a Comment