دنیا کے سب سے زیادہ آئی کیو رکھنے والے شخص کا دعویٰ: کیا ریاضی کے ذریعے خدا کا وجود ثابت کیا جا سکتا ہے؟





دنیا بھر میں عقل و دانش، سائنس اور مذہب کے مابین تعلق پر بحث صدیوں سے جاری ہے۔ حال ہی میں جنوبی کوریا کے سائنسدان اور ریسرچر ینگ ہون کم (YoungHoon Kim) نے اس بحث کو ایک نئے زاویے سے زندہ کیا ہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ ریاضی اور منطق کی بنیاد پر خدا کا وجود ۱۰۰ فیصد ثابت کیا جا سکتا ہے۔ یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوا اور لوگوں میں نہ صرف دلچسپی بلکہ مختلف ردِ عمل بھی پیدا کیے۔

نگاہِ عمومی: کون ہیں ینگ ہون کم؟

ینگ ہون کم ایک جنوبی کوریا کے ۳۶ سالہ ماہرِ مصنوعی ذہانت (AI researcher) ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُن کا آئی کیو ۲۷۶ ہےجو دنیا میں سب سے زیادہ درج کیا گیا ہے۔ بہت سے ذرائع نے نوٹ کیا ہے کہ عام سطح پر ۱۴۰ سے زیادہ IQ کو “جینیئس” سمجھا جاتا ہے، جبکہ سٹیفن ہاکنگ اور البرٹ آئن اسٹائن جیسے عظیم سائنسدانوں کا تخمینہ IQ تقریباً ۱۶۰ تھا۔

کم نے اپنی تعلیم سیونسی یونیورسٹی (Yonsei University) سے تھیالوجی (Theology) میں بھی حاصل کی ہے، جس نے ان کی سائنسی سوچ کو مذہبی مطالعے کے ساتھ جوڑنے میں مدد دی ہے۔ ((Yonsei University))

ینگ ہون کم کے تین بنیادی ریاضیاتی اصول اور ان کا خدا کے وجود سے تعلق

ینگ ہون کم نے تین سادہ مگر بنیادی ریاضیاتی و منطقی اصول پیش کیے ہیں جن کے ذریعے وہ خدا کے وجود کو ثابت کرنا چاہتے ہیں:

۱. لکیر نقطے کے بغیر شروع نہیں ہوسکتی

کم کہتے ہیں کہ جیومیٹری میں کسی بھی خط (line) کے وجود کے لیے ایک ابتدائی نقطہ ضروری ہوتا ہے۔ اگر نقطہ نہ ہو تو خط بنانا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق یہ اصول صرف ریاضی تک محدود نہیں ہے بلکہ وجود (existence) کی ہر چیز کے آغاز کے لیے ایک نقطہ ہونا لازمی ہے۔ یہی نقطہ خدا ہے جس نے کائنات اور زندگی کو وجود میں لایا۔

یہ دلیل فلسفے میں “پہلا سبب (First Cause)” یا “ابتدائی محرک (Unmoved Mover)” کے تصور سے ملتی جلتی ہے، جسے تین صدی قبل مسیح کے زمانے سے مختلف فلسفیوں نے بیان کیا ہے۔

۲. لامحدود ماضی کو عبور نہیں کیا جا سکتا

کم کا دوسرا اصول وقت اور لامتناہی ماضی سے متعلق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر وقت بغیر کسی آغاز کے ہمیشہ پیچھے کی طرف جاتا جاتا تو ہم کبھی بھی “آج” تک نہیں پہنچ سکتے۔ اُن کے ہاں یہ بات ریاضی کی مثال سے بیان کی جاتی ہے کہ منفی لامتناہی سے صفر تک گنتی مکمل نہیں کی جا سکتی جب تک کوئی “پہلا عدد” موجود نہ ہو۔ اسی طرح کائنات کے وجود کے لیے بھی ایک آغاز ہونا لازمی ہے جو خود وقت و وجود کی بنیاد رکھتا ہے۔

یہ دلیل اسی بنیاد پر ہے کہ لامحدود رجوع (infinite regress) حقیقی وجود میں ممکن نہیں۔

۳. طاقت ہمیشہ کسی نہ کسی ذریعے سے آتی ہے

تیسرا اصول طاقت و توانائی (power/source of energy) کے بارے میں ہے۔ کم کہتے ہیں کہ ریاضی میں ضرب (multiplication) کی مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ کچھ نہ کچھ طاقت یا منبع ہونا چاہیے تاکہ چیزیں بڑھیں یا بدلیں۔ خودبخود کوئی چیز تبدیل نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کے آغاز اور بڑھوتری کے لیے ایک عظیم طاقت (prime mover / divine power) کی موجودگی ضروری تھی۔

یہ استدلال فلسفہ میں “مطلق طاقت (Absolute Power)” یا “بے نیاز محرک (Necessary Being)” کے تصور کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو کہ کلاسیکی تھیولوجیکل دلائل میں اکثر پیش کیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا ردِ عمل اور مذہبی نظریات

ینگ ہون کم کی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ خدا ۱۰۰ فیصد حقیقت ہے اور حضرت عیسیٰؑ دوبارہ تشریف لائیں گے, جو کہ اسلام اور عیسائیت دونوں میں مشترکہ عقیدہ ہے۔

اس بات نے مذہبی حلقوں میں خاصی بحث پیدا کی، کیونکہ ایک انتہائی ذہین شخص کا ایمان اور مذہبی اظہار دونوں طرح کے مذاہب کے پیروکاروں تک پہنچ رہا ہے۔

سائنس، فلسفہ اور نظریۂ خدا: اہم تنقیدیں

اگرچہ ینگ ہون کم کے دلائل سادہ اور متاثر کن ہیں، مگر بہت سے فلسفیوں اور سائنسدانوں نے اس طرح کے دعووں پر تنقید بھی کی ہے:

۱. آئی کیو کے دعوے پر سوالات: کچھ ماہرین کے مطابق انہی دعووں میں تضاد یا عدم توثیقیت (verification) پائی جاتی ہے؛ کچھ ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ IQ اس سطح تک صحیح طور پر قابلِ پیمائش نہیں ہے یا ۲۷۶ جیسا نمبَر معیاری ٹیسٹنگ میں ممکن نہیں سمجھا جاتا۔ (Wikipedia)

۲. ریاضی و فلسفہ میں فرق: وہ دلائل جو آج ہم ریاضی کی مثال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، وہ فلسفے میں مختلف تشریحات کے ساتھ پیش ہو سکتے ہیں۔ جسے ریاضی میں منطقی درجہ دیا جائے، وہ فلسفیانہ دلیل کے طور پر مکمل “سائنسی ثبوت” نہیں بن سکتی۔

۳. سائنس اور مذہب کے مابین فرق: سائنس عام طور پر تجرباتی مشاہدے اور قابلِ جانچ علم تک محدود ہوتی ہے، جبکہ مذہبی عقائد ایمان، روحانیت اور فلسفہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ریاضیاتی دلائل ایک فلسفیانہ استدلال ہو سکتے ہیں، لیکن یہ سائنسی طور پر خدا کے وجود کا یقینی ثبوت نہیں ہیں۔

نتیجہ: ایک نئی بحث اور قدیم سوالات

ینگ ہون کم کا دعویٰ ایک بحث کو دوبارہ زندہ کرتا ہے: کیا عقل و منطق خدا کے وجود کو ثابت کر سکتی ہے؟ اگرچہ ریاضی اور منطق سے لے کر فلسفے تک مختلف دلائل پیش کیے جا چکے ہیں، مگر اس موضوع پر ایک متفقہ سائنسی ردعمل آج بھی موجود نہیں ہے۔

کم کے دلائل نے دنیا بھر میں لوگوں کو سوچنے، بحث کرنے اور مذہب و سائنس کے تعلق پر نئی نگاہ سے غور و فکر کرنے پر مجبور کیا ہے۔ چاہے کوئی ان کے دلائل سے متفق ہو یا نہ ہو، ان کی گفتگو نے یقینی طور پر عوامی بیانیے میں ایک معتبر اور دلچسپ مقام حاصل کیا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post