ڈاکٹرفیصل احمد سرفراز

اقوام و ملل اور شخصیات کا مطالعہ بھی انسان کو وسیع النظر، اولوالعزم اور صاحب استقامت بناتاہے۔ وہ اپنے لئے راہ ہدایت متعین کرکے، ماضی کی غلط فہمیوں سے بچتے ہوئے اپنے آپ کو ایک مثالی اور مفرد شخصیت میں ڈھالتا ہے۔ ڈاکٹر انصاری بھی ملک و قوم اور ان کے رہنماؤں کی تاریخ کے اوراق سے اپنے لئے رہنمائی کے موتی منتخب کرتے تھے۔ خود قرآن کریم میں بھی اللہ رب العزت نے جابجا انبیاء کرام ، صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) اور دیگر صالحین کی حیات مبارکہ میں غور وفکر کی دعوت دی ہے تاکہ ہم  منزل متعین کرسکیں  اور دنیا و آخرت میں سرخرو ہوسکیں۔

ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر و تقریر میں بھی انبیاء کرم علیہم السلام ، صحابہ کرام رضو ا ن اللہ علیہم اجمعین ، اولیاء کرام، ائمہ اربعہ ، مفسرین ومحدثین ، دیگر مسلم رہنما اور یہاں تک کہ غیر مسلم مفکرین اور قائدین کے بھی اقوال و افعال کی مثالیں بھی بکثرت نظر آتی ہیں۔

ذیل میں ڈاکٹر انصاری کی تحریر و تقریر میں آنے والی شخصیات کا اجمالی تعارف پیش کیاجارہا ہے تاکہ ان شخصیات سے متعلق فکرِ انصاری اور تجزیہ انصاری کا مطالعہ کیاجاسکے۔

مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ :

ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ  کے نائب  و جانشین تھے۔ ڈاکٹر انصاری اپنے پیرو مرشد مولانا عبدالعلیم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات زندگی اور دینی وسماجی خدمات کو اکثر فخریہ پیش کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔

ڈاکٹر انصاری کے نزدیک، مولانا صدیقی کے ہم عصرمیں کوئی ایسا نہ تھا جنہوں نے دینِ اسلام کی ترقی و ترویج میں مولانا صدیقی کی طرح نمایاں خدمات انجام دیں ہوں۔ آپ کے بقول مولانا صدیقی نے اپنی زندگی کے ۴۰ سال دین اسلام کے سپاہی کی حیثیت سے مشرق و مغرب اور جنوب و شمال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا پیغام اپنے سحر انگیز خطاب اور پُراثر کردار سے دنیا کے کونے کونے میں پہنچایا ۔ جن کی پکار "قرآن و سنت کی طرف واپس پلٹنا" تھی، جن کا مقصد "اتحاد اسلام" تھا اور جن کا دعویٰ تھا کہ

“The More religious Muslims became the better will they succeed in solving all their problems”

"مسلم جتنے زیادہ دین سے قریب ہونگے ، اتنا ہی زیادہ وہ اپنے مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہونگے"

مولانا صدیقی کے انداز تبلیغ سے ہر شخص خواہ وہ کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھتا ہو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا جیسا کہ ڈاکٹر انصاری لکھتے ہیں:

Before the greatness of his works as also of his personality bowed princes and governess judges and barristers , students and professors , business magnates and government officers the Ulema and doctors, as also those classes which go to constitute the masses. His disciples form today a body of nearly one hundred thousand 504/8 while his admirers and friends number by the millions.

 "آپ (مولانا صدیقی ) کی شخصیت کی طرح ، آپ کی عظیم خدمات کے سامنے بھی شہزادوں اور گورنروں ، ججوں اور وکیلوں ، طلبہ اور پروفیسروں ، تاجروں اور سرکاری افسروں، علماء کرام اور ڈاکٹروں اور عامۃ الناس نے سرتسلیم خم کیا ہے۔ آج آپ کے مقلدین کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے جب کہ آپ کے معتقدین اور چاہنے والے کی تعداد لاکھوں میں ہے۔"

اس عظیم رہنما نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ راہ خدا میں وقف کردیا تھا۔ ڈاکٹر انصاری کے نزدیک آپ تبلیغ اسلام کے معاملے میں کافی حساس اور ذمہ دار تھے۔ کبھی بیماری کی حالت میں بھی آپ نے اپنے فرائض سے کنارہ کشی نہیں کی۔ اس حوالے سے ڈاکٹرانصاری مولانا صدیقی کی بیماری کا ایک واقعہ تحریر کرتے ہیں کہ جب مولانا صدیقی نے اپنا یادگار عالمی تبلیغی دورہ (1948-51)  کا آغاز  کیا تو اس وقت آپ نہ صرف جسمانی طور پر کمزور تھے بلکہ آپ اپنی ایک آنکھ کی بینائی کھوچکے تھے اور دوسری آنکھ موتیے میں مبتلا تھی۔ چنانچہ آپ کے ڈاکٹروں نے آپ کوآرام کرنے کا مشورہ دیا ۔ مگرآپ کا کہنا تھا۔

This body of mine is a trust from God and is meant to be exhausted in God’s way- How, therefore , can I suspend my activity even for a day for considerations of bodily comfort. No, no gentle even that is not possible.

میرا جسم اللہ کی طرف سے امانت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی کی راہ میں یہ جسم ہمہ تن مصروف رہے۔ پھر کیسے میں اپنے جسم کے آرام کی خاطر ایک دن کے لئے بھی اپنا کام چھوڑ سکتا ہوں۔ نہیں، نہیں برخوردار!یہ ممکن نہیں ہے۔

حج باسعادت کے بعد ، میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے اور جنت البقیع میں ان کی تدفین کی گئی۔ ڈاکٹر انصاری ان کے وصال کے حوالے سے تین خاص قابل غور باتوں کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔

 زندگی کے آخری دن تک آپ تبلیغ اسلام میں مصروف رہے حالانکہ اپنے وصال سے تقریباً ایک سال قبل سے آپ شدید بیمار رہے۔

آپ کا وصال اور تدفین مدینہ منورہ میں ہوئی جو اللہ رب العزت کی ایک قابل رشک نعمت ہے ہر ایک سچے مسلمان کے لئے۔

آپ کا وصال ایسے موقع پر ہوا جب پوری دنیا سے مسلمان حج اداکرنے کے بعد مدینہ منورہ میں جمع ہوتے ہیں۔ آپ نے پوری دنیا میں دین اسلام کی خدمت کی تھی۔ آپ عالمی مبلغ اسلام تھے۔ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بھی آپ کو (اس خدمت کے صلے میں ) آپ کی نماز جنازہ کے لئے عالمی جماعت سے نوازا۔

ڈاکٹر انصاری رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا عبدالعلیم صدیقی کی حیات و خدمات پر درج ذیل مضامین تحریر کئے ہیں:

جمال الدین افغانی :

ڈاکٹر انصاری سید جمال الدین افغانی سے بھی کافی متاثر تھے اور اکثر ان کا تذکرہ خیر اپنی تحریر و تقریر میں کرتے رہتے تھے۔ آپ کے نزدیک جمال الدین افغانی اپنے ہم عصر کے مقابلے میں ایک منفرد مقام حاصل تھا۔ کیونکہ دوسرے معاصرین کی توجہ علاقائی  تھی جب کہ جمال الدین افغانی کا مشن بین الاقوامی تھا اور جغرافیائی حدود ان کی فکر اور جدوجہد کو روک نہ سکتی بلکہ آپ ایک عالمی مبلغ ، مصلح اور رہنما بن کر ابھرے۔

ڈاکٹر انصاری ، جمال الدین افغانی اور مولانا عبدالعلیم صدیقی کے حالات زندگی اور خدمات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جمال الدین افغانی جن حالات اور زمانے میں پیدا ہوئے وہ مولانا صدیقی کے مقابلے میں کچھ مختلف تھے۔ جمال الدین افغانی کے زمانےمیں  مسلم دنیا  علم  وفنون میں اور مذہب و تہذیب میں ایک منفرد اور قابل افتخار مقام رکھتی تھی، اسلام کی روح کے قریب تھی اور کسی حد تک سیاسی خود مختاری بھی تھی جب کہ مولانا صدیقی کو یہ فائدے حاصل نہ تھے بلکہ مسلم دنیامغربی فکری یلغار کا شکار تھی۔

ائمہ اربعہ

ڈاکٹر انصار ائمہ اربعہ سے بھی گہری عقیدت رکھتے تھے۔ ان نفوس قدسیہ کی حیات و خدمات کو اجاگر کرنے کے لئے آپ نے منارٹ مئی ۱۹۷۹ء میں بزبان انگریزی ایک مضمون بنام   Lives of the Four Imams of Sunni Law تحریر کیا جن میں بڑے ہی جامع انداز میں ان کی تعلیم و تربیت، پاکیزہ کردار، ابتلاء و آزمائش اور فروغ علم بالخصوص فقہ میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔

ان ائمہ اربعہ میں بلاشبہ و بلامبالغہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اس امت کے وہ چراغ ہیں جن کی روشنی میں علم کے دیئے مشرق و مغرب اور جنوب و شمال میں جلتے گئے اور آج بھی ظلمت کدہ میں نورہدایت بنے ہوئے ہیں۔ آپ ایک عظیم فقیہ تھے جنہوں نے مسلک حنفیہ کی بنیاد ڈالی اور امام ابویوسف اورامام محمد جیسے موتی اس امت کوعطاکیے۔ آپ  ایک عظیم محدث تھے، اگرچہ آپ نے حدیث کی کتابیں تو مرتب نہیں کیں مگر آپ کا شمار ان مجتہدین میں سے ہوتاہے جنہوں نے اصول حدیث کے قوانین مرتب کئے جسے آج بھی پوری دنیا میں تسلیم کیاجاتاہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر انصاری لکھتے ہیں:

In those days, the exponents of Hadith were divided in two groups, viz. (1) those who collected the Hadith (sayings of the Prophet) from various sources, and (2) those who critically examined the authenticity of those sources and interpreted them according to their knowledge. Those of the second group ware called Mujtahids and Imam Abu Hanifa belonged to their ranks.

ڈاکٹر انصاری اپنے ایک دوسرے مضمون “Importance of Scientific Education”  میں بیان کرتے ہیں کہ پیرس کی لائبریری میں "علم ہیئت" (Astronomy)  کے موضوع پر امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کتاب موجود ہے جو کہ خالصاًسائنسی موضوع پر ہے مگر افسوس آج صرف آپ کی فقہی نظریات کی اتباع کی جاتی ہے اور سائنس کی مخالفت۔

"ان دنوں (امام ابوحنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں) حدیث کی شرح کرنے والے دوگرہوں میں تقسیم تھے۔

۱۔ وہ لوگ جو مختلف ذرائع سے حدیث جمع کرتے تھے۔

۲۔ وہ لوگ جو ان ذرائع کی صحت کو تنقیدی نظریہ سے پرکھتے تھے۔ اور اپنے علم کے مطابق ان کی تشریح کرتے تھے۔ ان دوسری قسم کے لوگوں کو مجتہد کہاجاتا تھا اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا شمار بھی اسی دوسری قسم کے گروہ یعنی مجتہدین میں ہوتاہے"۔

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ڈاکٹر انصاری صاحب لکھتے ہیں:

He occupies a unique place among the galaxy of talented scholars like Imam Bukhari and Imam Muslim

"انھیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ جیسے عظیم علماء کے کہکشاں میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔"

ڈاکٹر انصاری لکھتے ہیں کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے علم دین حاصل کرنے میں بڑے مصائب و تکالیف کاسامنا کیا اور بقول امام مالک کوئی شخص غربت اور تکالیف کے بغیر علم و فراست کے اعلیٰ منصب پر فائز نہیں ہوسکتا۔

جیسا کہ ڈاکٹر انصاری لکھتے ہیں:

 

He used to say that one does not attain the heights of intellectual glory unless he is faced with poverty. Poverty is the real test of a man which awakens the hidden energies in him and enables him to surmount ad difficulties.

"آپ (امام مالک رحمۃ اللہ علیہ) فرمایاکرتے تھے کہ کوئی شخص فہم و فراست کی اعلیٰ منزل پر اس وقت تک  نہیں پہنچتا جب تک وہ غربت کا سامنا نہ کرے۔ انسان کی حقیقی آزمائش غربت میں ہوتی ہے جو اس کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہیں اور مصائب پر غلبہ حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔"

درحقیقت یہ قرآنی اصول بھی ہے کہ انسان جب مشقت اٹھاتاہے تو اللہ رب العزت اس پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اس کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتاہے۔

جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

"ان مع العسریسرا"

امام محمد شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ نہ صرف علمی میدان میں منفرد مقام رکھتے تھے بلکہ اپنے اعلیٰ تقوی اور بے مثال کردار میں بھی بے نظیر تھے۔

 جیسا کہ آپ لکھتے ہیں:

He use to pass whole nights in meditation and prayers and in his relations with men he was most sweet and large hearted. As a scholar, he possessed a broad mindedness and spirit of tolerance which was of the highest type and which can be hardly imagined today.

 

"آپ (اما م شافعی رحمۃ اللہ علیہ) راتیں ذکر الٰہی اور نمازوں میں بسر کیا کرتے تھے جب کہ لوگوں کے ساتھ تعلقات میں نہایت شیریں اور وسیع القلب تھے۔ آپ وسعت نظری اور استقلال کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے جس کا آج کل تصور بھی مشکل ہے"۔

اسی طرح ڈاکٹر انصاری رحمۃ اللہ علیہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات کو بیان کرتے ہوئے بالخصوص "خلق قرآن" کے معاملے میں آپ کے کردار اورصبر و استقامت کوسراہتے ہیں۔ ڈاکٹر انصاری  کے مطابق حنبلی مذہب اصول و ضوابط میں شافعی مذہب سے زیادہ قریب ہے۔

سوائے درج ذیل دوباتوں میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے اختلاف رکھتے ہیں:

a.      He did not accept the principle of Ijma

b.     He gave preference to the saying of the companions (Sahaba) on Qiyas.

۱۔         وہ اجماع کے اصول کو قبول نہیں کرتے تھے۔

۲۔        وہ صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے اقوال کو قیاس پر ترجیح دیتے تھے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post