عدت کے
مسائل
چالیس سال
سے زیادہ عمر کی مطلقہ کی عدت کا حکم
کیا فرماتے
ہیں علمائے کرام کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر چالیس سال کی عمر کے بعد کسی عورت کو طلاق
ہوجائے تو وہ عدت کے دوران دوسرا نکاح کرسکتی ہے؟ کیا یہ بات درست ہے؟ سائل: محمد نصراللہ گلشن حدید
الجواب
باسمہ تعالیٰ
صورتِ مسؤلہ
میں ہروہ عورت جس کو طلاق ہوجائے عدت گزارنا لازمی ہے خواہ وہ عورت جوان ہو یا بوڑھی
،کیونکہ عدت کے معاملہ میں عمر کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ حکم
قرآنی ہے لہذا عدت کے دوران کسی عورت کو کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔
اور علامہ شہاب الدین شلبی لکھتے ہیں:لا یجوز نکاح المعتدۃ من غیرہ علی أی
وجہ لزمتہا العدۃ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق وحاشیۃ الشلبی، کتاب النکاح،
فصل فی المحرمات، جلد٢، ص٤٧٤، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
معتدہ
(عدت والی)عورت کا نکاح کسی بھی صورت میں کسی دوسرے شخص سے جائز نہیں ہے بلکہ اس کو
عدت گزارنا لازم ہے۔
الحاصل
یہ کہ مطلقہ عورت کو ہر حال میںعدت گزارنا لازم ہے یعنی طلاق ہونے کے بعد سے تین حیض
تک وہ دوسرا نکاح نہیں کرسکتی۔
واللہ اعلم
بالصواب
طلاق کی
عدت میں شوہر مرگیا اب کونسی عدت پوری کرے
کیافرماتے
ہیں علماء دین کہ ایک عورت طلاق کی عدت دو ماہ سے گز اررہی ہے ابھی وہ عدت سے نہیں
نکلی تھی اس سے قبل ہی اس کے شوہر کا ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا اب اس عورت کے لئے
کیا حکم ہوگا؟
جواب ایسی
صورت عورت پر دونوں میں سے طویل مدت والی عدت گزارنے کا حکم لگایا جائیگا جوکہ یقیناعدت
وفات ہے جس کی مدت شریعت نے چار مہینے دس دن کی مختص کی ہے جیسا کہ اللہ فرماتاہے:
والذین
یتوفون منکم ویذرون ازوجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا۔(سورۃ البقرہ
ع٢٣)۔۔۔۔۔اور اسکی وجہ یہ ہے کہ اس میں احتیاط زیادہ ہے جیساکہ علامہ الحصکفی رقمطرازہیں:وفی حق
امراۃ القارمن الطلاق البائن ان مات وھی فی العدۃ ابعد الاجلین من عدت الوفات وعدت
الطلاق احتیاط۔(الدرالمختارمع
درالمختار کتبہ الطلاق باب العدۃ صفحہ ١٩٦جلد ٥ مکتبہ امدادیہ)
واللّٰہ
اعلم بالصواب
حاملہ کی
عدت
اللہ تعالیٰ
نے فرمایا :
والمطلقات
یتر بصن بانفسھن ثلاثۃ قروء ۔( البقرہ:٢٢٨ )
واولات
الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن ۔( الطلاق :٤)
عدت ختم
ہونے سے پہلے جو نکاح کیا جائے اس کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عدت میں
معتدہ سے نکاح کرنا تو کیا اس کے ساتھ نکاح کرنے کا وعدہ کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا
ہے جب کہ صورت مسؤلہ میں تو نکاح بھی ہوگیا ہے ۔

Post a Comment