ایک حکم، ایک انکار اور توبہ کا دروازہ
حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے میں انسان کی عزت، تکبر کا انجام اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پیغام

قرآنِ مجید میں حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ انسانی زندگی کے کئی اہم پہلو سامنے لاتا ہے۔ اس میں انسان کے مقام اور علم کا ذکر ہے، ابلیس کے تکبر کا انجام ہے اور لغزش کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا راستہ بھی۔ ابلیس نے اپنی بڑائی کو حق کے مقابلے میں رکھا، جبکہ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی لغزش کے بعد اپنے رب سے رجوع کیا۔ ان دونوں رویّوں میں انسان کے لیے غور و فکر کا سامان ہے۔

انسان کی عزت اور اس کی ذمہ داری

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ وہ زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہے۔ فرشتوں نے عرض کیا کہ کیا وہاں ایسی مخلوق پیدا کی جائے گی جو فساد پھیلائے اور خون بہائے، جبکہ ہم تیری حمد و تسبیح کرتے ہیں؟

مفسرین نے فرشتوں کے اس سوال کو فیصلے کی حکمت جاننے کے طور پر بیان کیا ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر اعتراض کے طور پر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ جانتا ہے جو فرشتے نہیں جانتے۔ اس جواب سے واضح ہوا کہ اس کا علم اور حکمت ان پہلوؤں کو بھی محیط ہے جو فرشتوں کے علم میں نہ تھے۔

سورۃ البقرہ: 30

انسان کو زمین میں ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسے عقل، صلاحیتیں اور اختیار عطا ہوئے ہیں، مگر ان کے استعمال کے بارے میں وہ جواب دہ بھی ہے۔ زندگی کو محض اپنے فائدے کے لیے گزارنے کے بجائے اس ذمہ داری کو سمجھنا ضروری ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان پر عائد کی ہے۔

علم کی فضیلت اور عاجزی

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کرکے ان کے نام پوچھے۔ فرشتوں نے عرض کیا کہ ہمیں اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھایا ہے۔

سورۃ البقرہ: 31–33

یہاں علم کی فضیلت کے ساتھ اپنی حدود پہچاننے کا سبق بھی ملتا ہے۔ فرشتوں نے اپنے علم کا اعتراف کیا اور جو بات ان کے علم میں نہ تھی، اس کے بارے میں اپنی لاعلمی تسلیم کی۔

انسان بھی علم حاصل کرتے ہوئے یہ بات یاد رکھے کہ بہت کچھ جان لینے کے باوجود اس کا علم محدود ہے۔ علم کی اصل قدر صرف معلومات جمع کرنے میں نہیں، بلکہ حق کو قبول کرنے، غلطی کی اصلاح کرنے اور دوسروں کے ساتھ انصاف کرنے میں بھی ہے۔ اگر علم انسان میں عاجزی پیدا کرنے کے بجائے غرور پیدا کرے تو وہ اپنے حقیقی مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔

ابلیس کا انکار اور تکبر کا انجام

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ فرشتوں نے حکم کی تعمیل کی، مگر ابلیس نے انکار کیا اور تکبر کیا۔ قرآنِ مجید واضح کرتا ہے کہ ابلیس جنوں میں سے تھا۔

سورۃ البقرہ: 34؛ سورۃ الکہف: 50

ابلیس نے اپنی تخلیق کو حضرت آدم علیہ السلام سے برتر سمجھا اور اسی خیال کی بنیاد پر حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کی مثال بتاتی ہے کہ تکبر انسان کی سوچ کو کس طرح بدل دیتا ہے: وہ اپنی بڑائی کو اتنی اہمیت دینے لگتا ہے کہ حق کے سامنے جھکنا بھی اسے گوارا نہیں ہوتا۔

یہ رویہ صرف کسی ایک زمانے یا شخصیت تک محدود نہیں۔ عہدہ، علم، عبادت یا صلاحیت انسان میں برتری کا احساس پیدا کر سکتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ان نعمتوں کے باوجود انسان حق قبول کرنے اور اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار رہتا ہے یا نہیں۔

نعمتیں اور ان کی حدود

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ کو جنت میں رہنے اور وہاں کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی، لیکن ایک مخصوص درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا۔

سورۃ البقرہ: 35

اس واقعے میں نعمت اور پابندی دونوں ساتھ موجود ہیں۔ انسان کو بہت کچھ عطا کیا گیا ہے، لیکن ہر خواہش پوری کرنا اس کے اختیار کا لازمی حق نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی بھی بندگی کا حصہ ہے۔ کسی چیز سے منع کیا جانا بسا اوقات انسان کے لیے آزمائش بن جاتا ہے، کیونکہ اس وقت اسے اپنی خواہش اور حکم کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا ہے۔

شیطان کی دشمنی اور انسان کی ذمہ داری

شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ کو بہکایا، جس کے نتیجے میں انہیں اس مقام سے نکلنا پڑا۔ قرآنِ مجید اس واقعے کے ذریعے انسان کو شیطان کی دشمنی اور اس کے فریب سے خبردار کرتا ہے۔

سورۃ البقرہ: 36؛ سورۃ الاعراف: 19–22

لیکن شیطان کی دشمنی کو پہچاننے کا مطلب اپنی ذمہ داری سے بری ہونا نہیں۔ انسان کو اپنے فیصلوں پر بھی غور کرنا چاہیے: کہاں اس نے کمزوری دکھائی، کس بات نے اسے غلط راستے پر ڈالا اور آئندہ اس سے بچنے کے لیے کیا کر سکتا ہے۔ دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا ہی زیادہ مفید ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے کلمات حاصل کیے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔

سورۃ البقرہ: 37

ان کلمات کی تعیین کے بارے میں مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ سورۃ الاعراف میں حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ کی یہ دعا بھی بیان ہوئی ہے:

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ(سورۃ الاعراف: 23)

ترجمہ: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

اس دعا میں اپنی غلطی کا اعتراف ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید بھی۔ انسان سے لغزش ہو سکتی ہے، مگر اپنی غلطی پر اصرار کرنے اور اسے تسلیم کرکے اصلاح کی طرف آنے میں بڑا فرق ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ ہمیں اپنی کوتاہیوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی اہمیت سمجھاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونے کے بجائے اس کی طرف لوٹنا چاہیے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ(سورۃ الزمر: 53)

ترجمہ: کہہ دیجیے: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

اس آیت سے امید ملتی ہے، مگر یہ امید انسان کو عمل سے غافل نہیں کرتی۔ سچی توبہ میں اپنی غلطی کا اعتراف، معافی کی طلب اور اصلاح کا عزم شامل ہے۔ اگر کسی دوسرے کا حق متاثر ہوا ہو تو اس کی تلافی کی کوشش بھی ضروری ہے۔

قرآن سے تعلق: تلاوت سے کردار تک

قرآنِ مجید کی تلاوت باعثِ ثواب ہے۔ اس کے ساتھ ترجمہ اور معتبر تفسیر پڑھنے سے آیات کا مفہوم سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ جب قاری کسی واقعے پر ٹھہر کر غور کرتا ہے تو وہ اپنے رویّوں کو بھی اس کی روشنی میں دیکھ سکتا ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے سے انسان کے مقام، علم، اطاعت، آزمائش اور توبہ کے پہلو سامنے آتے ہیں۔ یہ دیکھنا ہمارے اپنے لیے اہم ہے کہ علم ہمیں عاجزی سکھاتا ہے یا غرور، اختیار ہمیں ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے یا خودسری، اور غلطی کے بعد ہم اصلاح کی طرف آتے ہیں یا اپنی کوتاہی چھپانے لگتے ہیں۔

قرآن کی ہدایت کا اثر صرف ہماری زبان تک محدود نہیں رہنا چاہیے؛ اسے ہمارے فیصلوں اور معاملات میں بھی جگہ ملنی چاہیے۔

دعا

اے اللہ! ہمیں حق پہچاننے اور اسے قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو تکبر سے محفوظ رکھ، ہماری لغزشوں کو معاف فرما اور ہمیں سچی توبہ کے ساتھ اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا۔ ہمارے علم کو ہمارے لیے نفع بخش بنا اور ہمیں اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

ابلیس نے اپنی بڑائی پر اصرار کیا، جبکہ حضرت آدم علیہ السلام نے لغزش کے بعد اپنے رب کی طرف رجوع کیا۔ اس واقعے کا ایک اہم سبق یہی ہے کہ انسان اپنی بڑائی کے بجائے حق کو ترجیح دے، غلطی پر اصرار نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید وابستہ رکھے۔

مراجع

  • القرآن الکریم، سورۃ البقرہ: 30–37
  • القرآن الکریم، سورۃ الاعراف: 11–23
  • القرآن الکریم، سورۃ الکہف: 50
  • القرآن الکریم، سورۃ الزمر: 53
  • ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، تفسیر سورۃ البقرہ، آیات 30–37؛ سورۃ الاعراف، آیات 19–23
  • طبری، جامع البیان عن تأویل آی القرآن، تفسیر سورۃ البقرہ، آیات 30–37

 

 


Post a Comment

Previous Post Next Post

Featured Post